بند کریں
بدھ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
فرقہ واریت کا خاتمہ
مذہبی وسیاسی رہنما اہم کردار ادا کر سکتے ہیں پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے قیام کی جدوجہد میں شیعہ سنی بوہری اسماعیلی اور احمدی سب شامل تھے۔ اس مملکت خداداد کے قیام کے لئے مقامی عیسائیوں نے بھی قربانیاں دیں
کامران امجد خان :
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے قیام کی جدوجہد میں شیعہ سنی بوہری اسماعیلی اور احمدی سب شامل تھے۔ اس مملکت خداداد کے قیام کے لئے مقامی عیسائیوں نے بھی قربانیاں دیں ہندووٴں نے اس خطے کو چھوڑ کر جانے سے انکار کیا ۔۔۔۔۔ مگر افسوس کہ آج پاک سر زمین میں ان سب باتوں کو بھلا کر مذہبی جنون پرستی کو کھلاچھوڑ دیا گیا ہے۔
فرقہ راریت کا عفریت ملک بھر میں زہر بن کر پھیل چکا ہے جس کی وجہ سے ہمارا ملک آگ و خون میں لتھٹر چکا ہے۔ آئے روز ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ کی بنیاد پر لوگوں کو قتل کیاجارہا ہے اور انتہائی المیہ یہ ہے کہ قتل و غارت گری کرنے والے یہ کام کر کے خود کو جنت کا مستحق بھی تصور کرتے ہیں۔
بلوچستان کے کئی علاقے اور کراچی بالحضوص فر۱ہ واریت ارور مذہب بنیادوں پر کلنگ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
اگرچہ ان بہیمانہ کارروائیوں کے پس پردہ بیرونی ہاتھ کا بھی کردار ہو سکتا ہے مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ فرقہ واریت کے عفریت کو پروان چڑھانے میں ہمارے ملک کے ایسے علمائے سُو کا اہم کر دار ہے جو اپنے مخصوص فرقے سے اختلاف رکھنے والے ہر شخص کو واجب القتل قرار دیتے ہیں اور اپنے پیروکاروں کے لئے فتوے جاری کرتے ہیں کہ مخالف فرقے کے لوگ کافر ہیں اور اُنہیں جہنم واصل کر نے والا جنت کا مستحق ہے ۔
جب دلوں میں اتنی نفرتیں بھر دی جائیں تو ظاہر ہے یہ نفرتیں بے گناہ لوگوں کے قتل پر ہی منتج ہوتی ہیں۔
پاکستان میں فرقہ واریت کی جڑیں خاصی پرانی ہیں۔ یہ لگ بھگ 1980 کی دہائی کے آغاز کی بات ہے جب مذہبی شدت پسند فی کی خود ساختہ چنگاری ایک شعلہ جوالا بن کر ہمارے ملک کے درودیوار کو جلا رہی ہے۔ بعض حلقے فرقہ واریت کو پاکستان کے پیچیدہ سماجی سیاسی اور معاشی مسائل سے جوڑتے ہیں، نیز اس میں مقامی و بیرونی عناصر کو بھی ملوث قرار دیا جاتا ہے۔

ان حلقوں کے مطابق پاکستان میں ہونے والی فرقہ وارنہ وارداتوں اور فرقوں کی بنیاد بڑھتی نفرت کے پس پردہ سعودی عرب ،ایران، لیبیا، قطر، یو اے ای اور امریکہ سمیت دیگر ممالک کا بھی اہم کردار ہے جو گزشتہ تین دہائیوں سے مسلسل پاکستان میں فرقہ واریت کے نیٹ ورک اور مدارس کے ذریعے پھیلائی جانے والی مذہبی منافرت کو مدد فرفاہم کر رہے ہیں۔

کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ برادری کو خاص طور پر فرقہ وارنہ وارداتوں میں نشانہ بنایا گیا ہے اور اس برادری کے درجنوں افراد فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ گزشتہ برس ایسی وارداتوں کے تسلسل کے باعث ہزارہ برادری کے احتجاج اور ملک بھی میں اُن سے ہمدردی کے اظہارکے بعد وقتی طور پر ایسا محسوس ہوا کہ قوم اس معاملے پر متحد ہے اور مل کر اس عفریت کی بیخ کنی کی جائے گئی ،مگر اس کے بعد ایک افسوسناک پہلو یہ سامنے آیا کہ مفاد پرست عناصرنے دونوں جانب کے زخم خوردہ عناصر کے جذبات کو بھڑکانا شروع کر دیا جس کا نتیجہ روالپنڈی میں عاشورہ محرم کے جلوس کے موقع پر دیکھنے میں آیا جب معمولی تکرار ایک بڑے سانحے میں تبدیل ہو گئی۔
دکانوں اور عمارتوں کو آگ لگا دی گئی، گاڑیاں جلا دی گئیں، قتل وغارت گری کا بازار گرم کر دیا گیا۔
پاکستان میں فرقہ واریت کی ایک اہم اور بڑی وجہ بیرونی قوتوں کے ایجنڈے ہیں۔ پاکستان میں مغربی ممالک کا اپنا ایجنڈہ ہے، اسی طرح سعودی عرب ایران اور خلیجی ممالک اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور اس میں نقصان سراسر پاکستان کا ہو رہا ہے ۔
فرقہ وارانہ وارداتوں کی تعداد اور اُن کے تناسب میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ شیعہ شنی منافرت کی بنیاد پر اب دونوں جانب سے ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں۔ ایسی وارداتیں کرنے والے گروہ منظم صورت اختیار کر چکے ہیں جو نہ صرف ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں کرتے ہیں بلکہ اب جب اور جہاں موقع ملے دونوں جانب کے فرقوں کے عام افراد کو بھی نشانہ بنا دیتے ہیں۔
خصوصاََ پچھلے چند برسوں میں یہ گروہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے گئے ہیں اور ہم ان کی روک تھام میں ناکام خاموش تماشائی بنے ہوئی ہیں ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہمارے سکیورٹی نافذ کرنے والے اداروں کو ملک کے اند اور بیرون ملک سے آنے والے دہشت گردوں کے ساتھ فرقہ واریت پر مبنی وارداتیں کرنے والوں سے بھی نپٹنا پڑ رہا ہے اور وہ اس حوالے سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
ہمارے قریبی دوست ممالک بھ اس بڑھتے ہوئے طوفان کو پھیلانے میں سرگرم ہیں۔ ایران ، پاکستان میں شیعہ مسلک سے منسلک مسلح گروہوں کو مدد فراہم کر رہا ہے تو سعودی عرب اور خلیجی ممالک ایران کی دشمنی میں سنی اور دیوبندی فرقوں کو جنڈز فراہم کر رہے ہیں ۔ تیسری جانب امریکہ اور مغربی ممالک اعتدال پسند نظریات رکھنے والوں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔
یہ صورتحال پاکستان میں قومی وحدت اور باہمی اتحاد ویگانگت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے اور آج ہم بحیثیت قوم بکھرے ہوئے اور انتشار کا شکار ہیں۔
اس وقت اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم قومی سطح پر اُن بیرونی عناصر کو بے نقاب کریں جو ہمارے ملک میں ایسے مفادات کی خاطر فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ ہماری حکومت مختلف مسائل اور مجبوریوں کی وجہ سے اُن بیرونی عناصر کے خلاب لب کشائی نہیں کرتی اور نتیجةََ ملک فرقہ واریت کی دلد ل میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔
حکومت کا ملک میں مختلف فرقوں کے درمیان ہم آہنگی کے لئے موثر اقدامات کرنے چاہیں۔ نیز اندرونی اور بیرونی خطروں کے قلع قمع کے لئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہماری کمزوریوں اور مسائل سے چشم پوشی کا ہی نتیجہ ہے کہ ملک دشمن عناصر فرقہ وارانہ جذبات بھڑکا کر پاکستان میں آگ وخون کا کھیل کھیل رہے ہیں اور اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہیں۔
وہ فنڈز اور وسائل مہیا کر کے مذہبی تفریق اور فرقہ وارانہ نفرت کے جذبات پھیلا رہے ہیں، جس سے ملک میں امن وامان کی صورتحال انتہائی خطر ناک سطح پر پہنچ گئی ہے۔
اس بات کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ مساجد مدارس اور مذہبی اجتماعات کے حوالے سے قوانین اور ضابطہ اخلاق تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں مذہب کے نام پر فرقہ واریت اور نفرتیں پھیلائی جا رہی ہیں۔
یہ اقدامات بہت پہلے کر لینے چاہئے تھے مگر ہماری حکومتیں اس اہم مسئلے سے پہلوتہی کرتی آئی ہیں۔ مگر فرقہ واریت کے جن کو قابو کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مسجدوں امام بارگاہوں اور مذہبی اجتماعات کے موقع پر خطاب کرنے والوں کے لئے قوانین بنائے جائیں۔ مذہبی اختلافات اور فرقہ واریت پوری مسلم دنیا میں پائی جاتی ہے مگر جس طرح پاکستان میں یہ مسئلہ خوفناک صورت اختیار کر چکا ہے ایسا کہیں بھی نہیں ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اُن ممالک میں فرقہ واریت کی روک تھام اور اسے قابو میں رکھنے کے لئے قوانین موجود ہیں ۔ ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں مساجد کے خطیب خطبہ جمعہ اور دیگر مواقع پر حکومت کا منظور کہ دہ خطبہ اخلاق اور قوانین موجود ہیں ۔ ہر فرقے اور مسلک کے لوگوں کو اپنے نظریات کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی مگر ساتھ ہی وہ اس بات کے بھی پابند ہیں کہ کسی دوسرے مسلک پر تنقید کریں گے اور نہ ہی اُن کے نظریات کے خلاف نفرت پھیلائیں گے مگر ہمارے یہاں ایسی کوئی حد یا قوانین موجود نہیں ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کے لئے حد سے بڑھ جاتے ہیں۔ نفرتوں کو اس قدر بڑھا دیا جاتا ہے کہ قتل و غارت گری تک جا پہنچتی ہیں۔اس کے تدارک اور اُن کے لئے قوانین مرتب کر کے ہم بہت حد تک فرقہ واریت کے طوفان کا راستہ روک سکتے ہیں۔
علمائے کرام اور مذہبی رہنماوں پر اس حوالے سے بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور مسلک و فرقوں کی بنیاد پر نفرتوں کا خاتمہ کرنے کے لئے آگ بڑھیں ۔
باہم محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیں ۔ ایک دوسرے کو ”کافر“ اور ”واجب القتل“ قرار نہ دیں بلکہ اتحاد بین المسلمین کے داعی بنیں۔ بحیثیت مسلمان ہم سب پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم اپنی دینی تعلیمات کی روشنی میں باہم اتحاد اور اخوت ورواداری کو اپنی زندگیوں کا نصب العین بنائیں تاکہ ہمارا ملک پاکستان حقیقی معنوں میں وہ اسلامی فلاحی ریاست بن سکے جس کیلئے ہمارے اسلاف نے جدوجہد کی اور قربانیاں دیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-01

(1) ووٹ وصول ہوئے