بند کریں
اتوار مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
فاٹا
اسے محفوظ بنائے بغیر شدت پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں۔۔۔۔ فاٹا قدرت کی مصوری کا اعلیٰ نمونہ ہے لیکن یہی خوبصورت وادیاں شدت پسندوں کیلئے محفوظ پنا ہ گاہیں بننے کی اہلیت بھی رکھتی ہیں
احمد یوسفزئی:
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے عسکری گروپوں کی محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوئے ہیں۔یہاں تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ سمیت متعدد مقامی عسکری گروہوں نے بھی اپنے ٹھکانے بنائے ۔ اسلئے یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ فاٹا کو محفوظ بنائے بغیر پاکستان سے شدت پسندی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔
فاٹا قدرت کی مصوری کا اعلیٰ نمونہ ہے لیکن یہی خوبصورت وادیاں شدت پسندوں کیلئے محفوظ پنا ہ گاہیں بننے کی اہلیت بھی رکھتی ہیں ۔ ہمارے سامنے سب سے اہم سوال ہی یہ ہے کہ فاٹا کو کیسے محفوظ بنایا جاسکتا ہے ؟ اس سوال کا جواب معلوم کرنے سے پہلے ہمیں دیکھنا ہوگا کہ آخر کیوں مقامی اور عالمی عسکریت پسندوں کو فاٹا میں پناہ مل جاتی ہے اور یہ خطہ ان کے پھلنے پھولنے میں اہم کردار کیوں ادا کرتا ہے۔

پاکستان کے قبائلی علا قوں میں عسکریت پسندوں کے پھلنے پھولنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں حکومت پاکستان کا سیاسی اور انتظامی ڈانچہ نہ ہونے کے برابر ہے۔اسی لیے یہاں ویسے ترقیاتی کام بھی نہیں ہو پاتے جو باقی ملک میں ہوتے ہیں۔ یہ علاقے افغانستان سے ملتے ہیں حکومتی عمل دخل نہ ہونے کی وجہ سے اس کے سرحدی علاقے پاک افغان راہداری کا کام انجام دینے لگے ہیں۔
اب صورتحال کچھ بہتر ہوئی ہے لیکن ابھی بھی شک وشبہات موجود ہیں۔ فاٹا پاکستان کا حصہ ہے لیکن برطانوی دور سے ہی یہاں” کالا قانون“ رائج ہے۔ اس قانون کی وجہ سے اس علاقے میں پاکستان کا آئین اپنی روح کے ساتھ اثر انداز نہیں ہو پاتا نہ ہی انتظامی ڈھانچہ کام کر سکتا ہے۔ اس کانقصان یہ ہوا کہ فاٹا کیلئے نہ تو دیگر علاقوں کی طرح بھاری ترقیاتی بجٹ مختص ہو سکا نہ ہی اس خوبصورت علاقے پر توجہ دی جاسکی۔
دنیا تیزی سے ترقی کی منزلیں طے کرتی چلی گئی لیکن فاٹا میں ترقی کا پہیہ نہ چل سکا۔
فاٹا تو شروع سے ہی وفاقی حکومت کی توجہ حاصل نہ کر سکا۔ دسمبر1979 میں سویت یونین کے خلاف افغان جنگ کی وجہ سے فاٹا نے مرکزی حکومت کی نظر میں اہمیت حاصل کی۔ اسکے باوجود فاٹا کو صرف اتنی اہمیت دی گئی کہ وہاں سے روس کے خلاف لڑنے والوں کی بڑی کھیپ مل رہی تھی۔
افغان جنگ میں فاٹا سے تعلق رکھنے والے افراد نے اہم کردار ادا کیا لیکن فاٹا کو اس کے اصل حقوق نہ مل سکے۔
افغانستان کی جنگ کے بعد فاٹا کے جنگجو واپس آگئے۔ ان کے ہمراہ متعدد غیر ملکی بھی یہیں آکر بس گے۔ حکومتی ڈھانچہ نہ ہونے کی وجہ سے اس سارے معاملے پر چیک اینڈ بینلس نہ رکھا جا سکا ۔ آہستہ آہستہ یہ علاقے مختلف عسکری گروہوں کی پناہ گاہ بنتے چلے گئے۔
خیرب پختونخواہ کے علاوہ پنجاب سے بھی بڑی تعداد میں لوگ یہاں آئے۔اسی طرح جرائم پیشہ افراد اور مفرد ملزمان بھی اسی علاقہ غیر میں منتقل ہوتے رہے ۔ ایسے افراد کی آمد سے اس علاقے کو اسلحہ سمگلنگ اغوا اور گاڑیوں کی چوری کے حوالے سے محفوظ ترین علاقہ سمجھا جانے لگا۔ علاقہ غیر کے علاوہ پاکستان بھر میں حکومتی عمل دخل اور پاکستان کی سر پرستی ہے لیکن فاٹا میں ایسا نہیں ہے ۔
ذرائع کے مطابق اسی لیے یہاں کی نمائندگی کرنے والے سیاستدان بھی مقامی گروہوں کے دباوٴ میں آجاتے ہیں۔
نائن الیون کے بعد فاٹا میں نجی عسکری گروہوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ اس وقت فاٹا پر توجہ دی جاتی تو شایدصورتحال مختلف ہوتی۔ آہستہ آہستہ یہاں پنجابی طالبان،حقانی نیٹ ورک، افغان طالبان، ازبک، چیچن سمیت متعدد گروپ اپنے ٹھکانے بنانے میں کامیاب ہو گئے۔
یہاں تک یہ چینی جنگجووٴں کے ساتھ ساتھ القاعدہ اور دنیا کے دیگر عسکری گروہوں کے وابستہ افراد بھی یہاں پہنچ گئے۔طالبان کا اثر ورسوخ ہو یا فوجی آپریشن ہو فاٹا کے لوگوں کو کبھی گھر بار چھوڑ کر خیموں میں رہنا پڑتا ہے تو کبھی گولیوں کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔
یہ علاقہ ابھی بھی فرنٹیئر کرائم ریگولیشن (ایف سی آر) کے تحت چل رہا ہے ۔ یہاں حکومت کے نام پر پولیٹیکل ایجنٹ ہوتا ہے جو عموماََ بااثر لوگوں کے مفادات کا ہی تحفظ کرتا نظر آتا ہے۔
سچ کہیں تو فاٹا کے عوام کو نظر انداز کیا گیا ہے اور انہیں وہ حق نہیں مل سکا جو ان کو ملنا چاہیے۔ یہاں تعلیم اور صحت سمیت روزگار کی ویسی سہولیات نہیں ہیں جو باقی ملک میں ہیں۔ ہر حکومت اُنہیں” علاقہ غیر“ کہہ کر غیر قوم بناتی رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون ساز ی کے ذریعے فاٹا میں مکمل انتظامی نظام متعارف کرایا جائے۔ لوگوں کے مسائل کے حل کیلئے مختلف شعبے اور دفاتر قائم کئے جائیں۔
فاٹا کے لوگ محب وطن ہیں۔ اُنہیں پاکستان کی طاقت بنانا بہت ضروری ہے ۔ فاٹا کیلئے یہاں کی ضروریات کے لحاظ سے بجٹ مختص کرنے کے ساتھ ساتھ ترقی کے دائرے میں لایا جائے تو یہی علاقہ بہت اچھے نتائج دے سکتا ہے۔
فوجی آپریشن جس کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے اس سے اُمید نظر آئی ہے کہ فاٹا شدت پسندوں سے خالی ہو جائے گا۔ اس آپریشن کے بعد حکومت کا اصل امتحان شروع ہوگا ۔
فاٹا کے ساتھ لگنے والے سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ ان تاریخی غلطیوں کو درست کرنا ہو گا جن کی وجہ سے صورتحال اس نہج پر پہنچ ۔ انگریز نے اپنے دور حکومت میں جو نظام یہاں متعارف کرایا اب اس سے باہرنکلنا ضروری ہے ۔ پاکستان سے شدت پسندی کے خاتمے کیلئے فاٹا کی ترقی اور اس کا محفوظ ہونا بہت ضروری ہے۔ قبائلی علاقوں کو قومی دھارے می شامل کئے بغیر پاکستان کی صورتحال بہتر نہیں ہو سکتی۔
تاریخ اشاعت: 2015-03-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان