تازہ ترین : 1
Fariqeeen Se PeshBeti ka Taqaza

فریقین سے پیش بیتی کا تقاضا

ہمیں امید ہے کہ تمام سیاستدان بشمول عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری آگے کی طرف دیکھیں گے البتہ میاں نواز شریف کے لئے ضروری ہے کہ وہ پیچھے پلٹ کر ضرور دیکھیں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ آخر ان کی کون سی غلطی ہے

فرخ سعید خواجہ:
یہ سابق صدر پرویز مشرف کا زمانہ تھا۔ کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس کے حوالے سے بعض ایسی باتیں منظر عام پر آئی جن میں کمانڈروں کی جانب سے جنرل پرویز مشرف کو ڈکٹیشن دینے کا ذکر تھا۔ سابق آرمی چیف اور عوامی قیادت سے پارٹی کے سربراہ جنرل اسلم بیگ سے ہماری خاص نیاز مندی تھی اور ہے۔ ہم نے ان سے اس حوالے سے دریافت کیا کہ کور کمانڈروں کی ڈکٹیشن کے کیا اثرات ہوں گے۔
جنرل صاحب مسکرا دئے اور کہا، ان خبروں میں کوئی حقیقت نہیں، آرمی چیف کی فوج میں وہی حیثیت ہے جو نوائے وقت گروپ میں جناب مجید نظامی کوحاصل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نوائے وقت گروپ کے مختلف شعبوں کے انچارج چاہے کچھ رائے ظاہر کریں لیکن حتمی فیصلہ وہی ہو گا جو نظامی صاحب کا ہوگا۔ جنرل بیگ نے کہا کہ کور کمانڈروں کی آراء اپنی جگہ اہم ہوتی ہیں لیکن فیصلہ آرمی چیف ہی کا ہوتا ہے۔
ہمیں پچھلے چند ماہ سے جاری صورت حال کے دوران کئی مرتبہ جنرل بیگ صاحب کی بات یاد آئی اور بالآخر ثابت ہوگیا کہ جنرل بیگ درست کہتے تھے۔
اب یہ کوئی راز کی بات نہیں رہی کہ اسلام آباد میں کیا ہوا؟ اور کیوں ہوا؟ مخدوم جاوید ہاشمی کی بہادری نے اپنی جگہ بہت خوب نقش جمایا۔ اب اسلام آباد میں جاری کشمکش کے سلسلے میں آہستہ آہستہ برف بھی پگھلنے لگی ہے اور جو باتیں زبانی کلامی کی جارہی تھیں انہیں باضابطہ معاہدے کے لئے ضبط تحریر میں لایا جا رہا ہے۔
حکومت اور تحریک انصاف و پاکستان عوامی تحریک کے درمیان سیاستدانوں کا جرگہ ایسے معاہدے پر پہنچنے کے لئے کوشاں ہے جس میں سب کی عزت رہ جائے۔ قوم کی بھی دعا ہے کہ معاملات بخیر و خوبی تحریری معاہدے کی شکل اختیار کر جائیں۔ بصورت دیگریہ صورت حال کسی کیلئے بھی مفید نہ ہوگی۔
جہاں تک الیکشن 2013ء میں دھاندلی کا تعلق ہے اس کا فیصلہ اب سپریم کورٹ کے جو ڈیشنل کمیشن ہی سے کروانا چاہئے۔
ہماری رائے میں قومی اسمبلی کے تمام 272 حلقوں کو کھولا جائے۔ اس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ انگوٹھوں کی شناخت کا مسئلہ 272 حلقوں میں ہی سامنے آئے تو پھر واضح ہو جائے گا اس کا تعلق دھاندلی سے نہیں غیر ذمہ داری سے ہے۔ الیکشن کمیشن سمیت جو ذمہ دار ہوں ان کے خلاف کارروائی ضرور کی جائے لیکن اصل فوکس اس بات پر ہونا چاہئے کہ آئندہ انتخابات شفاف ہوں۔
اس کے لئے جن آئینی ترامیم یا قوانین میں تبدیلیاں ضروری ہوں سب مل بیٹھ کر کرلیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر عمل کرنے کا مطالبہ ہم بھی جائز سمجھتے ہیں اگر پارلیمنٹ محسوس کرے کہ 62 اور 63 پر عمل ممکن نہیں تو ان شقوں کو آئین سے نکال دیا جائے تاہم جو کچھ بھی ہو وہ آئینی اور جمہوری طریقے سے ہونا چاہئے۔
ہمیں امید ہے کہ تمام سیاستدان بشمول عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری آگے کی طرف دیکھیں گے البتہ میاں نواز شریف کے لئے ضروری ہے کہ وہ پیچھے پلٹ کر ضرور دیکھیں اور اس بات کا جائزہ لیں کہ آخر ان کی کون سی غلطی ہے جس کے باعث ان کی حکومت کو تیسری مرتبہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں اس آزمائش سے گزرنا پڑا ہے۔
ہماری رائے میں میاں نواز شریف کی خلوص نیت پر تو شبہ نہیں کیا جاسکتا تاہم اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے انہوں نے طریقہ کار اختیار کرنے میں ضرور غلطی کی۔ 1997-99ء اور اب 2013-14ء کو ادوار حکومت میں بالخصوص میاں نوازشریف نے وزیراعظم بننے کے بعد عوام کو ریلیف دینے کے معاملے کو پہلی ترجیع بنانے کی بجائے پہلے ملک کو پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی۔
اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ماضی کی حکومتوں کی جانب سے عوام کو جس جس شعبے میں سب سڈی دی جا رہی تھی اس کو تواتر کے ساتھ کم کر دیا گیا۔ جس کے بعد زبردست مہنگائی کے ساتھ یوٹیلٹی بلوں میں اس قدر اضافہ ہوا کہ اپنے پرائے سب پناہ مانگ اٹھے۔ ہماری رائے میں جب بھی کوئی نئی حکومت اقتدار سنبھالتی ہے عوام اس سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ گزشتہ حکومت کے مقابلے میں انہیں ریلیف دے گی۔
جب الٹی گنگا بہنے لگے تو پھر عوام کا ردعمل ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ ہوا۔حکومت اگر آئی پی پیز کو ادائیگی کر کے بجلی کی پیداوار میں ایک سطح پر برقرار رکھ لیتی تو پانچ چھ گھنٹے روزانہ کی لوڈشیڈنگ عوام نے بخوشی قبول کرلینی تھی یوں بجلی کی قیمت میں بھی اس قدر اضافہ ہرگزنہ ہوتا جتنا اب تک ہو چکا ہے۔
دوسری بڑی غلطی پاور شیئرنگ نہ کر کے کی گئی۔
دیگر سیاسی جماعتوں کو حکومت میں حصہ دار بنانا تو بہت دور کی بات ہے خود اپنی جماعت کے لوگوں کو حکومت میں حصہ دار بنانے میں کوتاہی برتی گئی۔ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی اپنی پارٹی کے لوگوں کو پارلیمانی سیکرٹری مقرر کرنے میں کتنا وقت لیا گیا۔ سٹینڈنگ کمیٹیاں بنانے میں جس قدر بھی تاخیر کی گئی وہ بے جا تھی۔ سیاسی معاملات کو اپنی پارٹی کے ذریعے چلانے کی بجائے بیور کریسی کا سہارا لیا گیا۔
ماضی میں جن سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں نے ڈکٹیٹر شپ کے خلاف مزاہمت کا ثبوت دیا ، حکومت آنے پر انہیں نظر انداز کیا گیا۔ حتیٰ کہ بلدیاتی نظام کو اہمیت نہ دیا جانا بھی موجودہ حکومت کی بدنامی کا باعث بنا۔
سوال یہ ہے کہ موجودہ سیاسی بحران بخیر وخوبی انجام پذیر ہو جائے تو پھر حکمرانوں کو کیا کرنا چاہئے؟ سب سے پہلا کام یہ ہونا چاہئے کہ پارلیمنٹ میں موجودہ جماعتوں کو بلا امتیاز حکومت ہی شامل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
جو جماعتیں اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہیں انہیں ویلکم کہا جائے۔ تمام صوبوں میں بلدیاتی نظام کو بحال کیا جائے اور صوبائی حکومتیں اپنے اپنے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کروائیں سیاسی جماعتیں اپنی اپنی جماعت میں بھی جمہوریت نافذ کریں اور کور کمیٹیوں کے اجلاس بلانے کی بجائے اپنی اپنی پارٹی کے آئین کے مطابق جو فورمز ہیں ان کے باقاعدگی سے اجلاس ہوں اور مشاورت کو فروغ دیا جائے۔
مسلم لیگ ن بالخصوص پارٹی تنظیم کو بیورو کریسی اور رشتے داروں سے نجات دلوائے جانے کی ضرورت ہے جس کیلئے پارٹی کا جمہوری ڈھانچہ از سرنو تشکیل دیا جائے۔ سیاسی جماعتیں حکومتی اور پارٹی عہدے سے الگ الگ کرلیں تو اس سے انہیں ابتدائی طور پر ضرور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن بالآخر پارٹیوں میں تنظیمی عہدوں کو بھی لوگ اسی طرح ترجیح دیں گے جیساکہ آجکل حکومت میں شمولیت کو دیتے ہیں۔

یہ توقع کرنی چاہئے کہ جب یہ سطریں آپ کی نگاہوں سے گزریں تو سیاستدانوں ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے قوم کو دھرنوں سے نجات اور باہم معاہدے کی نوید سنا چکے ہوں۔ ایسا ہونے کی صورت میں دھرنوں کے دوران جو تلخی پیدا ہوئی اس کو سب کو بھلانے کی کوشش کرنی چاہئیں تاکہ آنے والے انتخابات پر امن ماحول ہی ہوں۔ باہم نفرتیں برقرار رہیں تو آنے والے الیکشن پاکستان کی تاریخ کے تلخیوں بھرے الیکشن ہوں گے، خدانخواستہ۔
وقت اشاعت : 2014-09-11

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں