بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ
اس شدت پسندوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے پاکستان ڈیورنڈ لائن کی خار دار تاروں کی مدد سے بند کرنا چاہتا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان غیر قانونی نقل و حل کا سلسلہ بند ہو سکے
مصنف : سید بدر سعید
پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجود طویل سرحدی علاقہ خطے کی موجودہ صورت حال کے حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان اس وقت شدت ت پسندی کے گرداب میں ہے۔پاکستانی فورسز شدت پسندوں کے خلاف متعدد کارروائیاں اور فوجی آپریشن کر چکی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کی اعلیٰ قیادت کے حوالے سے بھی کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان سے معاملات چلا رہے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحدی علاقہ ڈیورنڈ لائن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان دونوں کی ہی اپنی داخلی سکیورٹی کے معاملات پر ڈیورنڈلائن کے حوالے سے شکایات رہتی ہیں۔ افغانستان ہر بار کابل کے طالبان سے مذاکرات میں ناکامی پر اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔پاکستان کو بھی شکایت ہے کہ پاکستان مخالف عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن کیا جائے تو وہ اسی ڈیورنڈ لائن کی دوسری جانب افغانستان چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اُن پر حملہ نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان ڈیورنڈ لائن کی خار دار تاروں کی مدد سے بند کرنا چاہتا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان غیر قانونی نقل و حل کا سلسلہ بند ہو سکے اور صرف وہی لوگ سرحد پار آجا سکیں جو قانونی حیثیت رکھتے ہوں۔ پاکستان کی ان کوششوں کی بھی افغان حکومت قبول کرنے پر آمادہ نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان سرکاری طور پر ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ۔
افغانستان پاکستان کا بہت سا علاقہ بھی اپنے ملک کا حصہ تصور کرتا ہے اور اس سرحدی حدی بندی کی کوششوں میں آڑے آتا ہے۔ پاک افغان سرحدی علاقے میں بسنے والے قبائل بھی اس حد بندی کو تسلیم نہیں کرتے ۔ ان قبائل کا برسوں پرانا ساتھ ہے اور آپس میں مضبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ یہ اپنے درمیان اس سرحدی حد بندی اور روک ٹوک کے خلاف ہیں۔ پاک افغان سرحد کا تنازعہ دراصل ہندوستان اور افغانستان کا مسئلہ تھا۔
یہ اُس وقت کی بات ہے جب پاکستان اور بھارت ہندوستان کے نام سے ایک ہی ملک کا حصہ تھے اور ہندوستان برطانیہ کی کالونی کے طور پر جانا جاتا تھا۔ 1893ء میں افغانستان کے امیر عبدالرحمٰن خان اور ہندوستان کے سیکرٹری خارجہ سرڈیورنڈ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جس میں 2640 کلو میٹر کی سرحدی حدی بندی کی گئی۔ اسے سرڈیورنڈ کے نام پر ڈیورنڈ لائن کہاجاتا ہے۔
یہی پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل بار ڈر ہے جو پختون پٹی کو الگ الگ کرتا ہے۔اس معاہدے سے قبل افغانستان اور ہندوستان کے درمیان سرحدی کشیدگی جاری رہتی تھی جو معاہدے طے پانے کے بعد کم ہوگئی۔1905ء میں امیر عبدالرحمٰن خان کے جانشین امیر حبیب اللہ خان نے ڈیورنڈ لائن کی تصدیق کرتے ہوئے برطانیہ کے ساتھ ایک نئے معاہدے پر دستخط کیے۔
1919ء کے اینگلوافغان معاہدے کے آرٹیکل 5کے مطابق افغانستان کو الگ اور آزاد ریاست تسلیم کیا گیا اور ڈیورنڈ لائن کی حد بندی کو بین الاقوامی سرحد قرار دیا گیا۔
پاکستان بننے تک ڈیونڈلائن تسلیم شدہ بین الاقوامی سرحد تھی اور اس پر ہندوستان کے حکمران اور افغانستان کے حکمران متفقہ طور پر اعتماد کرتے تھے۔ 1947ء میں قیام پاکستان کے ساتھ ہی افغانستان کی جانب سے حیرت انگیز معاملہ اُٹھایا گیا۔
افغان حکومت نے ڈیورنڈلائن کے دوسری جانب یعنی پاکستان علاقے میں رہنے والی پختون آبادی کو بھی اپنا حصہ قرار دیتے ہوئے حق خود ارادیت کا مطالبہ کر دیا ہے۔ چونکہ ڈیورنڈلائن افغانستان کے امیر اور برطانوی نمائندے کے درمیان باقاعدہ معاہدے کے تحت بین الاقوامی سرحد تسلیم کی گئی تھی اور اس کی تو ثیق اگلے حکمران نے بھی کی تھی لہٰذا پاکستان اور برطانیہ دونوں نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ۔
برطانیہ نے اپنے زیر تسلط علاقے میں نئی حدبندیاں کرنے کا علان کیا تھا اور اُنہیں ہی پاکستان اور بھارت میں شمولیت کے علاوہ آزاد ریاست بنانے کی اجازت دی تھی۔
اس سارے معاملے میں کسی دوسرے ملک کے مطالبات یا شرائط کی گنجائش نہ تھی۔ افغانستان کا مطالبہ مسترد ہوا تو اُس نے ڈیورنڈلائن کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا اور سرحدی علاقوں میں دخل اندازی شروع کر دی جس کے نتیجہ میں پاک افغان تعلقات کشیدہ ہونے لگے اور اس کے نتیجے میں1950ء اور 1960ء کی دہائی میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہتھیاروں کے معاہدے کے نتیجے میں کابل نے بھی واشنگٹن سے خطے میں طاقت کا توازن برابر رکھنے میں مدد مانگی۔
امریکہ کی جانب سے افغانستان پر زور دیا گیا کہ وہ پاکستان سے تعلقات بہتر بنائے۔ افغانستان نے اس حوالے سے سردمہری کا مظاہرہ کیا اور پاکستان کو دشمن تصور کرتے ہوئے جدید اسلحہ کی ضرورت پوری کرنے کے لئے یہی مطالبہ سوویت یونین سے کر دیا۔ ماسکو کی جانب اس کا مثبت جواب دیا گیا اورروس نے نہ صرف افغانستان کو اسلحہ کے ٹرک اتارنے شروع کر دیئے بلکہ افغان فوجی اہلکاروں کو تربیت بھی دینی شروع کر دی۔
صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی کہ 1953ء سے 1978ء کے درمیان سوویت یونین کی جانب سے افغانستان کو اڑھائی ارب ڈالر کی عسکری امداد دی گئی۔ اس دوران میں افغانستان میں سوویت یونین نے سینکڑوں عسکری سکول کھولے۔ افغانستان میں سکولوں کے نام پر کھولے گئے اڈوں سے تربیت لینے والے متعدد افسروں نے ہی روس کو افغانستان اُترنے میں مدد فراہم کی۔ افغانستان نے ڈیونڈ لائن کو بنیاد بناکر جو مسئلہ کھڑا کیا وہ اس نہج پر پہنچ گیا کہ وہ روس افغانستان پر قابض ہونے لگا اور پھر افغانستان بارود کے ڈھیر میں دفن ہونے لگا۔

گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ڈیورنڈ لائن کی کشیدگی سے پاکستان اور افغانستان دونوں کو ہی بہت نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ پاکستان اور افغانستان میں کاررئیاں کرنے والے عسکریت پسندوں کے ساتھ ساتھ متعدد سمگلر اور ڈاکو بھی خود محفوظ رکھنے کے لیے اس سرحد کو غیر قانونی طور پر پار کر کے دوسرے ملک پہنچ جاتے ہیں۔ ان میں سے متعدد سکیورٹی فورسز کا نشانہ بنتے ہیں لیکن عادی لوگ چور راستوں سے بخوبی واقف ہیں۔
اسی طرح دونوں ممالک کے لوگ غیر قانونی طور پر بغیر ویزا کے سرحد عبور کر کے اپنی حکومتوں کو ٹیکس کی مد میں نقصان پہنچاتے ہیں جبکہ سالانہ لاکھوں ٹن سامان بھی سمگل کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سرحدی کشیدگی بھی انتہائی سطح پر جا پہنچتی ہے۔افغانستان میں پختونخواہ کا جذباتی نعرہ اور قبائلیوں کو تقسیم کرنے کی سازش قرار دے کر ڈیونڈ لائن کو بین لاقوامی سرحد کی بجائے متنازعہ علاقہ قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ نسلی پہچان سرحدوں کی محتاج نہیں اور کئی ممالک میں نسلی گروہ سرحد کے باوجود اپنی پہنچان اور شناخت رکھے ہوئے ہیں۔ کرد، بلوچ،جرمن ،تاجک سمیت کئی گرو ہ دو یا دو سے زائد ممالک میں رہتے ہیں۔ اسی طرح افغان قبائلی یا کستانی پختون بھی ایک سے زیادہ ممالک کے باشندے ہو سکتے ہیں۔اس سے نہ اُن کی نسل کو نقصان ہوتا ہے اور نہ قبیلہ ٹوٹتا ہے۔ یہ حقیقت اب تسلیم کی جانی چاہیے کہ وہ جہاں نئی خارجہ پالیسی کا اعلان کریں وہیں ڈیورنڈلائن کو بھی افغانوں کی جانب سے تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔ یہ ایک سنگین معاملہ ہے جو باہمی رضامندی سے حل ہونا بہت ضروری ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-04-16

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     سید بدر سعید

سید بدر سعید کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان