بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ڈاکٹر ڈیبرالوبو پر حملہ، اعجاز خواجہ اور مسعود حامد کا سفاکانہ قتل
کراچی ایک بار پھر آتش و آہن کی زد میں ہے۔ چند روز قبل شہرکی معروف شاہراہ شہید ملت پر امریکی شہری ڈاکٹر ڈیبرا لوبو کو نشانہ بنایاگیا‘ لیکن خوش قسمتی سے ان کی جان بچ گئی حالانکہ انہیں تین گولیاں لگی تھیں۔
الطاف مجاہد
کراچی ایک بار پھر آتش و آہن کی زد میں ہے۔ چند روز قبل شہرکی معروف شاہراہ شہید ملت پر امریکی شہری ڈاکٹر ڈیبرا لوبو کو نشانہ بنایاگیا‘ لیکن خوش قسمتی سے ان کی جان بچ گئی حالانکہ انہیں تین گولیاں لگی تھیں۔ دہشت گردوں نے کار میں پمفلٹ بھی پھینکا جس میں تحریر تھا کہ:
”ہم امریکہ کو آگ لگا دیں گے“
اور اس واردات کو کیماڑی میں مارے گئے اپنے پانچ کارکنوں کی ہلاکت کا بدلہ بتایا گیا تھا۔

جس روز امریکی شہری ڈاکٹر ڈیبرا لوبو کو گولیاں ماری گئیں‘ اس روز کراچی کے قلب صدر‘ ریگل‘ ایمپریس مارکیٹ کے تھانیدار اعجاز خواجہ کو بھی ڈیفنس موڑ پر ہلاک کیا گیا۔ جب وہ تھانے آرہے تھے۔ یہ تھانہ پریڈی کہلاتا ہے جو برٹش دور کے کیپٹن پریڈ کی یادگار ہے۔ اعجاز خواجہ سے قبل اسی تھانے کے تین ایس ایچ اوز بھی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

جمعرات 16 اپریل کو یہ واردتیں ہوئیں تو اگلے روز بھی کراچی میں دو پولیس اہلکار نشانہ بنے۔ ان میں کانسٹیبل نعیم کو ”دو منٹ کی چورنگی“ کے قریب جبکہ داوٴد کو گلستان جوہر میں ہلاک کیا گیا۔ اسی روز کی ایک اہم خبر کراچی کے علاقے ڈیفنس میں اخباری دنیا کی اہم شخصیت مسعود حامدکی پراسرار موت بھی تھی۔ ان کی کرولا کار BCH 692 ڈیفنس فیز 8 میں کھڑی تھی اور اس میں ان کی لاش کے پاس پٹرول پڑا ہوا تھا۔
پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو شناخت مسعود حامد کے نام سے ہوئی۔ مقتول آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے سابق سیکرٹری جنرل بھی تھے۔ عصر کی نماز کی ادائیگی کیلئے گھر سے نکلے تھے‘ پھر اہل خانہ سے رابطہ نہ ہوا اور موت کی خبر ملی۔ پولیس کا موقف ہے کہ انہیں سر میں گولی ماری گئی ہے۔ مسعود حامد ڈان گروپ کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ اور اپنے شعبے کی ہردلعزیز شخصیت تھے۔

ان تمام وارداتوں سے چند رز قبل آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی نے کامن ٹریننگ پروگرام کے 42 ویں بیج سے سنٹرل پولیس آفس میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس کارروائیوں سے شہر میں صورتحال بہتر ہوئی ہے اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات 31 فیصد کم ہوئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اغوا برائے تاوان کے واقعات 23 فیصد ‘ دہشت گردی کے 57 فیصد‘ بھتہ خوری 51 فیصد اور بینک ڈکیتیاں 52 فیصد جبکہ سٹریٹ کرائم میں 22 فیصد کمی آئی ہے۔
ڈکیتی و رہزنی کی واداتیں ان کے بیان کے مطابق 26 فیصد گٹھے تھے‘ لیکن اسے کیا کہئے کہ اب کراچی میں خونریزی کے واقعات میں تیزی اس دعوے کو رد کرنے یا دہشت گردی کا NA246 کے الیکشن سے قبل شہر میں حالات کو خراب کرنے کی ایک ایسی کوشش جس کے نتیجے میں شہرخوف و دہشت کا منظر پیش کرنے لگے۔ اس لئے بھی کہ ماضی میں عام آدمی‘ تاجر‘ وکیل‘ سیاستدان‘ علماء اور معاشرے کے دیگر طبقات نشانہ بنتے تھے‘ لیکن حالیہ ایام میں میڈیا کی اہم شخصیات‘ پولیس اہلکار اور امریکی نیشنلٹی ہولڈر کو نشانے پر لیا گیا جس سے تشویش بڑھ گئی۔
پولیس اہلکار ہدف ہوں تو صورتحال زیادہ مخدوش ہو جاتی ہے کہ عوام تو ان سے تحفظ کی امید رکھتے ہیں۔ اگر وہ خود ہی نشانہ بن جائیں تو کراچی کے عام شہری کیا کریں۔ کس سے انصاف طلب کریں اور کہاں پناہ ڈھونڈیں۔ یہ سوالات عمومی طورپر کراچی میں ایک دوسرے سے کئے جاتے ہیں۔
2014ء میں پولیس اور رینجرز کے 160 جوان و افسر جاں بحق ہوئے تھے اور یہ رپورٹ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق کی ہے جس میں مختلف دیگر واقعات و حادثات کے اعدادوشمار بھی موجود ہیں۔
رپورٹ ہفتہ 18 اپریل کو یعنی دو روز قبل ہی جاری ہوئی ہے۔ ابھی تک پولیس ڈاکٹر ڈیبر لوبو اور انسپکٹر اعجاز خواجہ پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار نہیں کر سکی ہے نہ ہی مسعود حامد کے قاتلوں کا کچھ پتہ چلا ہے تو دوسری طرف تیسرے روز یعنی ہفتے کو بھی سب انسپکٹر اظہر جعفری اس وقت جاں بحق ہوئے جب وہ بیوی کے ساتھ پارک میں بیٹھے تھے تو سرجانی‘ لیاری ایکسپریس وے پر 39 سالہ ہیڈ کانسٹیبل غلام رسول ولد عبدالرحمن کو ڈیوٹی کے بعد گھر جاتے ہوئے مسلح افراد نے گولیاں ماریں اور فرار ہوگئے۔
مقتول معطل تھا اور دو روز قبل ہی بحال ہوا تھا۔
پولیس چیف کراچی غلام قادر نے امریکن نڑاد ڈاکٹر ڈیبرا لوبو اور انسپکٹر اعجاز خواجہ پرحملوں کے ملزمان کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کو 20‘ 20 لاکھ روپے انعام کا بھی اعلان کیا ہے۔ پولیس کا اندازہ ہے کہ دونوں وارداتوں میں ایک ہی گھر ملوث ہے۔ کراچی میں امریکی شہری پر حملے کو امریکہ نے تشویش کی نگاہ سے دیکھا ہے اور واشنگٹن میں محکمہ خارجہ کی ترجمان میری ہاف نے کہا کہ امریکہ کو اپنے شہری پر حملے کا احساس ہے اسے تشویش سے دیکھتے ہیں اور تحقیقات بھی کر رہے ہیں۔
امریکی نڑاد ڈاکٹر ڈیبرا لوبو میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کراچی کی وائس پرنسپل بھی ہیں اور ان پر حملے کو کئی پہلووٴں سے دیکھا جا رہا ہے۔
پریڈی کے ایس ایچ او اعجاز خواجہ کی ہلاکت سے جو سلسلہ شروع ہوا ہے‘ اس میں یکم جنوری سے 18 اپریل تک 43 پولیس اہلکاروں کو مارا جا چکا ہے۔ کراچی میں پولیس تھانے‘ رینجرز کے دفاتر‘ رہائش گاہیں اور دیگر فورسز کے ہیڈ کوارٹر انتہائی سخت‘ حفاظتی اقدامات اور پہرے میں جبکہ عام آدمیوں نے اپنے تحفظ کیلئے جو رکاوٹیں اپنی گلیوں یا علاقوں میں قائم کی تھیں‘ انہیں رینجرز حکام ختم کر چکے ہیں۔
ایک ہی چیز کو حکمران اور حکام دو مختلف عینکوں سے کیوں دیکھتے ہیں۔
پریڈی کا علاقہ کراچی کا مرکز یا دل کہا جاتا ہے کہ ایمپریس مارکیٹ‘ ریگل چوک تبت سینٹر‘ برنس روڈ کا کچھ حصہ موٹرسائیکل مارکیٹ‘ الیکٹرونکس بازار‘ اور بوہری بازار‘ موبائل فون کی خریدوفروخت کا علاقہ اور رینبو سنٹر جو بڑی مارکیٹ واقع ہے‘ صدر کے طول و عرض میں پھیلے پتھارے‘ ٹھیلے اور خوانچے کروڑوں کا بھتہ دیتے ہیں۔
اعجاز خواجہ نے حال میں کچھ سنگین مقدمات کے ملزمان کو بھی گرفتار کیا تھا۔
کراچی میں بدامنی کا عفریت ایک بار پھر سر اٹھانے لگا ہے اور شہر میں دہشت گردی نے جو تقریباً ختم ہوچکی تھی‘ پھر خوف کو جنم دیا ہے۔ رینجرز کے ایکشن ‘ پولیس کے چھاپوں نے شہریوں کو تحفظ کا ایک احساس دیا تھا۔ وہ گزشتہ چار روز میں مفقود نظر آیا۔ آنے والے دنوں میں صورتحال کیا رنگ لائے گی یہ اہم سوال ہے۔
بالخصوص ان حالات میں کہ میڈیا پرسن‘ غیرملکی شہری اور خود قانون نافذ کرنے والے ادارے کے افسر و جوان محفوظ نہیں تو پھر عام شہریوں کا کیا بنے گا جو تلاش رزق میں صبح سویرے نکل کر رات گئے گھروں کو لوٹتے ہیں۔ یہ غریب پرور شہر ”بے امان“ کیوں بن چکا ہے۔ کراچی ٹارگٹڈ آپریشن کو اندرون صوبہ توسیع دینے کی باتیں عام ہیں‘ لیکن ابھی تو اسے روشنیوں کا شہر بنانا باقی ہے۔
ڈاکٹر ڈیبرا لوبو‘ اعجاز خواجہ اور مسعود حامد پر حملوں کے مرتکب کب انجام کو پہنچیں گے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب حکمرانوں پر فرض ہے۔ عدم تحفظ کا احساس ختم ہوگا۔ تب ہی پاکستان میں سرمایہ اور سرمایہ کار آئیں گے۔
تاریخ اشاعت: 2015-04-22

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان