بند کریں
جمعہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ڈبل مارچ کے بعدانضمام ہو گا یا نہیں؟
میڈیا کے اس دور میں بھی ”کاریگروں“ نے ایسا ہاتھ کر دکھایا کہ عمران خان کی ڈاکٹر طاہرالقادری کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات کی کسی کو کانوں کان خبرنہ ہوئی۔ یہی وہ ملاقات تھی جس میں طے پا گیا تھا
فرخ سعید خواجہ:
عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کا ایک ٹرک پر چڑھنے کا اعلان سامنے آ چکا ہے، اب کسی کو شک و شبہ نہیں رہنا چاہئے کہ ان دونوں کی منزل ایک تھی راستہ الگ الگ اختیار کیا گیا تھا۔ میڈیا کے اس دور میں بھی ”کاریگروں“ نے ایسا ہاتھ کر دکھایا کہ عمران خان کی ڈاکٹر طاہرالقادری کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات کی کسی کو کانوں کان خبرنہ ہوئی۔
یہی وہ ملاقات تھی جس میں طے پا گیا تھا کہ آزادی مارچ اور انقلاب مارچ مل کر کئے جائیں گے۔ بظاہر چودھری برادران اور شیخ رشید آرزو ظاہر کرتے رہے کہ یہ ”دونوں“ اکٹھے چلیں لیکن پس پردہ وہ طے پانے والے کھیل میں شریک تھے اور جس دن طاہر القادری چودھری پرویزالہی کی رہائش گاہ پر چودھری شجاعت اور ان سے ملنے کے لئے آئے قصداً اس مشترکہ پریس کانفرنس میں طاہر القادری عمران خان ملاقات کی تصدیق کی گئی۔

ڈاکٹر طاہر القادری 10 اگست کی رات کو آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کے مل کر اسلام آباد جانے کا اعلان کر چکے ہیں، انہوں نے اپنے پیروکاروں کو تین روز تک منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے سامنے پارک میں قیام کے لئے روک لیا ہے۔ لیکن اگلے روز انہوں نے اپنے وضاحتی بیان میں یہ بھی کہہ ڈالا ہے کہ ان کا انقلاب مارچ ،عمران خان کے آزادی مارچ میں ضم نہیں ہو گا۔
ڈاکٹر طاہر القادری کے ہزاروں پیروکار جو تین سال قبل دسمبر کی شدید سردی اور بارش میں کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے تھے بظاہر ان سے اب بھی یہی امیدکی جا رہی ہے کہ ان پر ڈاکٹر طاہر القادری کی زبان کا جادو چل چکا ہے، اور وہ اپنی جان کی بازی لگا کر باہر نکلیں گے۔مبصرین کے مطابق عوامی تحریک کو ”انڈر ایسٹی میٹ“ کرنے والے غلطی پر ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری تو نظام کے باغی کے طور پر موجود تھے لیکن عمران خان نے موجودہ نظام کی چھتری اوڑھ رکھی تھی۔
جس کے تحت ہی وہ خیبرپی کے کی حکومت چلا رہے ہیں اور خود پارلیمنٹ کے رکن بھی ہیں لیکن اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو گیا ہے۔ ”کاریگروں“ کی ہمیشہ سے خواہش رہی کہ جس طرح فیلڈ مارشل ایوب خان نے ایبڈو کی پابندی لگا کر سیاست دانوں کو گھروں پر بٹھا دیا تھا اس طرح اب بھی ایسا نظام لایا جائے جس کے تحت کڑا احتساب ہو اور پھر انتخاب ہو۔
پرویز مشرف نے بھی یہی پروگرام بنایا تھا لیکن اس پر عمل نہ کر سکے۔ سو اب اس فارمولے پر عمل کئے جانے کی تمنا عود کر آئی ہے۔ بظاہر تو عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے رفقا کار مختلف مباحثوں میں احتساب اور اصلاحات کے بعد انتخابات کی باتیں کر رہے ہیں تاہم دیکھئے آگے آگے کیا ہوتا ہے۔ اب ایک طرف پرویز مشرف کے پرانے ساتھی بھی متحرک رہے ہیں جنہیں خفیہ ہاتھ کی پوری پوری مدد تھی تو دوسری طرف وزیراعظم نواز شریف اپنے چند ایسے رفقا کے حصار میں ہیں جن میں کوئی ایک بھی سیاسی چالباز نہیں۔
کابینہ اور ساری پارٹی کوتماشائی بنا دینے کے نتیجے میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر چکا ہے۔ وزیراعظم صاحب اپنی اداؤں پر غور کریں کہ انہوں نے قومی اسمبلی میں اور ان کے ٹیلنٹڈ برادر نے پنجاب میں پارلیمانی سیکرٹری بنانے میں کتنا وقت لیا۔ اپنے سرد گرم چشیدہ کارکنوں کو نظرانداز کیوں کیا؟ ایک ایک وزیر کو کئی کئی وزارتیں دی گئیں لیکن مشرف کی آمریت کے خلاف لڑنے والے وزارتوں سے محروم رہے۔
صوبائی دارالحکومت میں مشرف دور کے نواز شریف کے ترجمان زعیم قادری اور مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی جدوجہد کے نشان نوشاد حمید، شیخوپورہ میں میاں جاوید لطیف اور عارف خان سندھیلہ ملتان میں بلال بٹ جیسے کارکنوں کو نظرانداز کرنے سے کارکنوں میں بددلی بلا جاز تو نہیں۔ بہرحال اب بھی ان غلطیوں کا ازالہ ممکن ہے نواز شریف کا امتحان ہے کہ سیاسی طوفان میں پھنسی ملک کی کشتی کو بحفاظت کس طرح نکالتے ہیں۔
ان کے مخالفین 31 اگست تک ان کی حکومت گرانے میں کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں۔ نواز شریف کو حکومت سے ہٹانے کے لئے ہی انہوں نے موجودہ جمہوریت کو جمہوریت تسلیم کرنے ہی سے انکار کر دیا کیونکہ وہ بھی یہ حقیقت جانتے تھے کہ موجودہ نظام کو جمہوری تسلیم کیا تو لوگ پوچھیں گے کہ جمہوریت میں حکومت تبدیل کئے جانے کے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ وزیراعظم ازخود اسمبلیاں تحلیل کرکے نئے عام انتخابات کا اعلان کر دے یا پھر اپوزیشن جماعتیں ”ان ہاؤس چینج“ لے آئیں۔
”کاریگروں“ کو بھی معلوم تھا کہ ان ہاؤس چینج لانا آسان نہیں ہوتا ماضی میں وہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف غلام مصطفی جتوئی کی قیادت میں عدم اعتماد لانے کا ناکام تجربہ کر چکے تھے۔ سو اس ایک ایسے دن پر نیا میدان لگانے کا فیصلہ ہواہے جس کا پوری قوم استحقاق رکھتی ہے۔
وزیراعظم نواز شریف نے اپنی جماعت کو جشن آزادی منانے کے لئے جو کال دی تھی اس پر کابینہ کی خصوصی کمیٹی نے لبیک کہا اور ماہ آزادی منانے کے لئے پروگرام دے دیا۔
ملک بھر میں مسلم لیگ ن کی تنظیموں کے زیراہتمام اس سلسلے میں پروگرام جاری ہیں۔ صوبائی دارالحکومت لاہور جہاں سے آزادی مارچ اور انقلاب مارچ روانہ ہونا ہے وہاں پر بالخصوص مسلم لیگ ن بھی یوم آزادی کی تیاریوں میں سرگرم عمل ہے۔ یہی نہیں پارٹی رہنماوٴں اور ارکان اسمبلی نے تو گزشتہ روز عوامی تحریک کے سربراہ کی اشتعال انگیز تقریروں کے خلاف شہر کے مختلف حصوں میں ہزاروں کارکنوں کی امن ریلی بھی نکالی۔
جس پر معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعظم نے پارٹی کارکنوں اور رہنماوٴں کواس قسم کے رد عمل سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔پیر کے روز مختلف ریلیوں کے سلسلے میں حلقہ این اے 126 سے وزیراعلی کے مشیر خواجہ احمد حسان اور پی پی 152 کے ٹکٹ ہولڈر اور وزیراعلی کے مشیر خواجہ سلمان رفیق، پی پی 151 کے ٹکٹ ہولڈر توصیف شاہ نے گلبرگ حسین چوک سے لبرٹی چوک تک مسلم لیگ ن کے زیر اہتمام فیملی واک کا انعقاد کیا۔
اس کے علاوہ قومی اسمبلی کے حلقے کی یونین کونسلوں کے بلدیاتی امیدواروں اور پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں نے بھی اپنی اپنی فیملیوں کے ساتھ ہزاروں کی تعداد میں ”واک“ کی۔ جن میں این اے 126 کی کوآرڈینیٹر رابعہ فاروقی، صدر لاہور پرویز ملک، جنرل سیکرٹری لاہور خواجہ عمران نذیر، نائب صدر چودھری باقر حسین، جوائنٹ سیکرٹری خواجہ سعد رفیق کے علاوہ طاہر منور سندھو، سہیل بٹ راڈو والے، رانا اختر محمود، کیپٹن فاروقی نمایاں تھے۔
اس دوران لیبر ونگ لاہور کے زیراہتمام ریس کورس چوک سے شادمان چوک تک مزدوروں کی ایک بڑی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت صوبائی وزیر ملک ندیم کامران، پارلیمانی سیکرٹری خواجہ عمران نذیر، رانا ارشد، توصیف شاہ، صدر لیبر ونگ لاہور شہزاد انور نے کی جب کہ صوبائی وزیر قانون رانا مشہود خاں نے اپنے حلقہ انتخاب پی پی 149 میں ایک بڑا جلسہ منعقد کیا۔ بلاشبہ مسلم لیگ ن کے حامی بہت بڑی تعداد میں ان پروگراموں میں شرکت کر رہے ہیں لیکن اب انہیں اپنے پارٹی قائد میاں نواز شریف کی پایسی ہدایات کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان