تازہ ترین : 1
Dharna Siasat Qoum Ne Kiya Khoya Kiya Paya

دھرنا سیاست، قوم نے کیا کھویا کیا پایا؟

سینکڑوں دیہات صفحہٴ ہستی سے مٹ گئے ،دھان اور کپاس کی فصلیں تباہ۔۔۔۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بڑھنے سے درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ

اسرار بخاری:
”لوگ ڈوپ رہے ہیں عمران جشن منا رہے ہیں“ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے اس جملے کو ایک مخالف کا طنزیا پھبتی سمجھ کر نظر انداز کا جا سکتا ہے مگر اس حقیقت سے انکار کیسے کیاجاسکتا ہے کہ ملک کا ایک وسیع علاقہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں ہے لاکھوں افراد بے گھر ہو کر آسمان تلے پڑے ہیں، قوم کو اربوں کا نقصان ہو چکا ہے ۔
ایسے عالم میں جشن منانے کا اعلان متاثرہ لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ عمران خان اور طاہر القادری کی جانب سے دھران سیاست نے ایک ماہ سے کم عرصہ میں معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں، کروڑوں کی بنیاد پر قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان سے عوام براہ راست متاثر ہو رہے ہیں، ڈالر کی شرح 98 روپے سے بڑھ کر 102 روپے 82 پیسے ہونے سے نہ صرف درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا بلکہ قرضوں میں بھی دو ارب ڈالر کا اضافہ ہو گیا جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر منفی اثرات پڑنا لازمی ہیں۔
دھرنوں کے شرکاء کے لئے سکیورٹی پر قومی خزانے سے تادم تحریر ڈیڑھ ارب روپے سے زائد خرچ ہو چکے ہیں موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد ملک میں توانائی کے سنگیں بحران پر قابو پانے کے لئے بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لئے ماحول کو بہتر بنانے کے عملی اقدامات کیے موثر ترغیبات اور پُر کشش مراعات کے ذریعہ غیر ملکی سرمارکاروں کے ساتھ تیل ، گیس اور بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے معاہدے کیے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں اضافہ سے سٹاک مارکیٹ میں تیزی آئی اور وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ کے مطابق تیل اور گیس کی تلاش کے لئے آئندہ پانچ سال میں دو سو معاہدے کیے جانے ہیں جن پر بیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی جس سے تین سو مزید کنویں کھودے جائیں گے جن سے ایک لاکھ بیرل تیل اور 24 سو ایم ایم سی ایف گیس کی اضافی پیداوار حاصل ہو گئی لیکن اگرملک میں سیاسی استحکام نہ ہوا اور امن وامان کی صورتحال مخدوش ہو اور ملک کا دارالحکومت احتجاجی دھرنوں کے چنگل میں ہو تو کوء معجزہ ہی ان منصوبوں کی تکمیل تو دور کی بات ان کا آغاز یہ ممکن بنا سکتا ہے۔
جب یہ سطور تحریک کی جاری ہیں دریائے چناب کی بپھری لہروں نے ملتان اور مظفر گڑھ کے وسیع علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
ملتان اور مظفر گڑھ شہرکو بچانے کیلئے ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ بند توڑ دئیے گئے اور اس پانی کا رُخ شجاع آبادی کی طرف موڑ دیا گیا، جس کے بعد شجاع آباد میں لوگوں کو ریسکیو کرنے کے لئے آپریشن شروع کر دیاگیا، شیر شاہ بند ٹول پلازہ کے قریب سے توڑا گیا۔
دونوں بڑے بندوں کو دو، دو مقامات پر بارود سے 100فٹ کے شگاف ڈالے گئے۔شگاف پانی کے بڑھتے ہوئے دباوٴ کو کم کرنے کے لئے ڈالے گئے۔ اس وجہ سے مظفر گڑھ کا ملتان سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، مزید بیسیوں دیہات ڈوب گئے اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ہیڈ محمد والا پر دریائے چناب سے آنے والا ریلا مظفر گڑھ کے مضافاتی علاقوں میں داخل ہو چکا ہے جس کی وجہ سے دو آبہ، سنکی، چک چہجڑہ، چک روہاڑی سمیت متعدد نشینی علاقے زیر آب آگے ہیں۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے مطابق پانی کے بہاوٴ میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ ملتان شہر میں سیلاب کے خطرے کے پیش نظر سینکڑوں دیہات خالی کرالئے گئے ہیں ، شہر کو بچانے کیلئے ہیڈ محمد والا بند میں 100فٹ چوڑا شگاف ڈالا گیا بعد میں چند فٹ کے فاصلے پر دوسرا شگاف ڈالا گیا جس کے باعث ریلا محمد پور گھوٹہ، بٹہ سندیلا، بستی گرے والا اور دیگر نشیبی علاقوں سے ہوتا ہوا واپس دریائے چناب میں گر جائے گا۔
شگاف ڈالنے سے جھنگ ،کوٹ ادواور مظفر گڑھ کا ہیڈ محمد والا کی جانب سے ملتان سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ‘ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے پاک فوج اور سول انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق 4 لاکھ کیوسک سے زائد کا ریلا ملتان شہر کے حفاظتی بندوں سے ٹکرا رہا ہے جس میں آئندہ چوبیس گھنٹوں میں ہیڈ تریموں سے آنے والا ریلا بھی شامل ہوجائیگا۔
ذرائع کے مطابق راجن پور میں دریائے سندھ کے کنارے چار دیہات کچا میراں، کچا جمال، رکھ سبزانی اور موضع پونگ زیر آب آچکے ہیں ‘ضلعی انتظامیہ کے مطابق دریائے سندھ میں پانی کی سطح مزید بلند ہو نے کی صورت میں 83 چھوٹے دیہات زیر آب آسکتے ہیں۔اس وقت دریائے چناب میں کبیر والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، جس کے باعث 48 دیہات زیر آب آچکے ہیں، چھ ہزار ایکڑ سے زائد کھڑی فصلیں بھی تباہ ہو گی ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران پانی کی سطح میں 50 ہزار کیوسک اضافہ متوقع ہے۔
دوسری جانب پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا کہ ملتان میں پاک فوج کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے ،کور کمانڈر ملتان سیلابی آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں جبکہ پاک فوج ریسکیو آپریشن میں 7 ہیلی کاپٹر ز اور 100 کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔
بند اڑانے کے بعد ملتان اور شیر شاہ کا راستہ بندکر دیا گیا۔متاثرین میں 15 سوکلوراشن تقسیم کیا گیا۔
پاک بحریہ کے طبی عملے نے متاثرین کو ضروری طبی امداد فراہم کی اورکھانے پینے کی اشیاء بھی تقسیم کیں۔
محکمہ موسمیات کے دریاوں کی صورتحال بتانے والے لاہور کے چیف میٹر الوجسٹ محمد ریاض کے مطابق جمعہ کے روز صوبہ پنجاب میں پانی کا بڑا ریلہ دریائے چناب کے تریموں اور پنجند کے مقام سے گزرا جس کے باعث ٹوبہ ٹیک سنگھ، خانیوال، لیہ، مظفر گڑھ اور ملتان کے اضلاع میں سیلابی پانی داخل ہو گیا۔
ملتان کا مظفر گڑھ ،لیہ ڈیرہ غاز یخان ، راجن پور اور کوئٹہ سے زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو گیا ہے۔ شیر شاہ بند میں شگاف سے ریلوے لائن بھی زیرآب آگئی ہے۔ دریں اثنا چنیوٹ میں دریائے چناب کے پلوں پر پانی کی سطح کم ہونے سے مزید خطرہ ٹل گیا۔ بعض متاثرہ علاقوں میں تین سے چار فٹ پانی کھڑا ہے جبکہ فوج ، پولیس اور ریسکیو نے تاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا۔
متاثرہ اکثر علاقوں میں بعض وبائی امراض پھوٹ پڑے۔ دریائے راوی میں اونچے درجے کا سیلاب آنے کی وجہ سے چیچہ وطنی پل تاہیڈ سدھنائی دریا کنارے قائم درجنوں بستیاں زیر آب آگئیں اور بڑے پیمانے پر سیلابی پانی جی وجہ سے فصلیں بھی تباہ ہو گئیں۔ تحصیل پنڈی بھٹیاں کے 100 سے زائد دیہات سے اب تک سیلاب کے پانی کا نکاس نہیں ہو رہا، گذشتہ دوز بارش نے کھلے آسمان تلے پناہ لینے والے متاثریں سیلاب کو مزید پریشان کر دیا اور ان کو امدادی اشیاء بھی میسرنہیں ہیں۔
ضلع توبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل پیر محل کے نصف درجن سے زائد دیہاتوں میں سیلابی پانی داخل ہو گیا۔
دریائے روای میں نہاتے دو نوجوان ڈوب کر جاح بحق ہو گئے۔ کئی گھنٹے گذر جانے کے باوجود نعشیں نہیں مل سکیں۔ علی اور شہریار نے ماڑی پتن پل سے دریائے راوی میں چھلانگیں لگائی تھیں۔
سیلابی ریلوں کی وجہ سے تحصیل شورکوٹ کے کئی علاقوں میں سیلابی پانی آنے سے سینکڑوں مکانات صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔
زیادہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ہی پانی سے باہر نکل رہے ہیں ہزاروں ایکڑ پر دھان اور کپاس کی فصل تباہ ہوگئی اور متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ اب تک نہیں لگایا گیا۔ سیالکوٹ شہر کے وسط میں تاریخی تالاب شیخ مولا بخش میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے پچیس سے تیس فٹ پانی کھڑا ہے ۔ ضلع میں سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے گھروں کی چھتیں و دیواریں گرنے، کرنٹ لگنے اورڈوننے والوں کی تعداد 34 ہو گئی۔
سرگودھا کی تحصیل شاہپور کے علاقے چھاوریاں میں طوفانی بارش کی وجہ سے مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ ایک معصوم بچہ معجزانہ طور پر بچ گیا۔ جھاوریاں کا رہائشی امام بخش اپنے گھرمیں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ سو رہا تھا مکان کی چھت گر گئی جس سے امام بخش ،اسکی بیوی صوباں اور دو پوتے جاں بحق ہو گئے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد ، بالائی پنجاب (راولپنڈی ، گوجرانوالہ ، سرگودھا، لاہور، فیصل آباد ڈویژن) ، ملتان، ساہیوال، مالاکنڈ ، ہزارہ ،پشاور، کوہاٹ، بنوں ڈویژن ، کشمیر اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے۔
دریں اثناء بارشوں کے باعث مختلف علاقوں میں دو مکانوں کی بوسیدہ چھتیں گرنے سے ملبے تلے دب کر ایک خاتون سمیت 6 افراد زخمی ہو گے۔ گرین ٹاوٴن باگڑیاں میں ایک مکان کی بوسیدہ چھت گر گئی جس کے ملبے تلے خاتون سمیت چار افراد نجمہ، شہباز ، پرویز وغیرہ زخمی ہوگے شیخو پورہ میں چھتیں گرنے سے 7 سالہ بچی سمیت 2 افراد ہلاک اور2 زخمی ہو گئے۔ شیخوپورہ کے علاوہ لاہور صدیقیہ کالونی میں بارش سے ایک مکان کی چھت گر گئی جس کے نیچے آکر اکبر علی جاں بحق شیر بنگا کالونی میں چھت گرنے سے 7 سالہ کنول جاں بحق اور عمر زخمی ہو گیا یہ ہے دلخراش صورتحال جس نے زیادہ تر پنجاب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور یہ اتفاق ہی ہے کہ عمران خان اور طاہر القادری دونوں کا تعلق عوام کی خیر خواہی کے لئے نظام بدلنے کے نعرے لگا رہے ہیں مگر اس مصیبت کی گھڑی میں متاثریں کیلئے امدادی سرگرمیوں سے زیادہ جشن منانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
وقت اشاعت : 2014-09-20

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں