تازہ ترین : 1
Dengue K Hamle K Khadshaat

ڈینگی کے حملے کے خدشات!

مچھر کی افزائشِ نسل مون سون کی بارشوں کے دوران اگست سے لے کر اکتوبر تک زیادہ ہوتی ہے۔ جگہ جگہ پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے ڈینگی مچھر کی آبادی میں اضافے کے خدشات میں شدت کا امکان ہے

فرزانہ چودھری:
گذشتہ برس کی طر ح رواں سال میں بھی حالیہ بارشوں نے جہاں ملک بھر میں تباہی مچا دی ہے۔ وہاں مچھر کی نشوونما کے لئے ساز گار ماحول بھی پیدا کر دیا ہے۔ مچھر کی افزائشِ نسل مون سون کی بارشوں کے دوران اگست سے لے کر اکتوبر تک زیادہ ہوتی ہے۔ جگہ جگہ پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے ڈینگی مچھر کی آبادی میں اضافے کے خدشات میں شدت کا امکان ہے۔
پنجاب میں ڈینگی مچھر اور لاروا کی یکم جنوری تا9جون2015ء کی رپورٹ کے مطابق ڈینگی کے کل212 مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ ٹوٹل ممکنہ کیسز45 ہیں جس میں راولپنڈی سے18 لاہور سے12، چکوال سے2، پاکپتن سے3، اٹک سے4، جہلم سے1، ننکانہ صاحب سے1، فیصل آباد سے2، گوجرانوالہ سے1 اور ملتان سے1 ہے جبکہ ڈینگی مریضوں کے کنفرم کیسز کی ٹوٹل تعداد 7 ہے جس میں پنجاب سے ایک اور باقی6 پنجاب سے باہر رپورٹ ہوئے جس میں کراچی سے2، سعودی عرب سے پاکستان آنے والے3، ملائیشیا سے آنے والے1 اور ایک گوجرانوالہ سے ہے۔
رواں سال2015ء میں یکم جنوری تا 9 جون تک کل وصول لاروا نمونہ کی تعداد1490ہے اور جو لاروا RT پی سی آر سے دریافت نہیں ہوا اس کی تعداد 1387 ہے فیصل آباد سے DEN-2 ، PT پی سی آر سے حاصل لاروا نمونہ کی تعداد 14 ہے جبکہ DEN-3 ، PT پی سی آر سے لاورا کی تعداد عزیز بھٹی ٹاؤن میں 10، داتا گنج بخش ٹاؤن (DGBT) سے 31 اور فیصل آباد سے 23 ہیں۔ DEN 2,3 مچھر کی مکس ٹائپ RT، پی سی آر سے لاورا کی تعداد کینٹ ٹاؤن میں 12اور فیصل آباد میں13ہے۔
محکمہ صحت کی ہی لاروا رپورٹ مطا بق فیصل آباد سےDEN-2 ، PT پی سی آر سے حاصل لاروا نمونہ کی تعداد14 ہے،DEN-3 ، PT پی سی آر سے23 اور DEN 2,3 مچھر کی مکس ٹائپRT، پی سی آر سے لاورا کی تعداد13ہے مگر حیران کن بات یہ ہے کہ فیصل آباد سے کوئی بھی مریض ڈینگی کا رپورٹ نہیں ہے۔ ڈینگی لاورا کی موجودگی کے باوجود ڈینگی مریض رپورٹ نہ ہونے کی ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے کہ یہاں کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو ڈینگی ٹیسٹوں کی سہولت ہی میسر نہیں ہے یا پھر وہاں ڈینگی بخار کے ماہر معالج ہی موجود نہ ہوں۔
ذرائع کے مطابق لاہور کے علاوہ پنجاب کے تمام اضلاع کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی مچھر وائرس کی تشخصں کےElisa ٹیسٹ کی سہولت ہی موجود نہیں ہے اسی لیے تو پنجاب حکومت اور محکمہ صحت کو ہر طرف سے ”سب اچھا“ کی آواز آرہی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کی محکمہ صحت کی طرف سے ہسپتالوں کے سربراہان پر یہ دباوٴ ہو کہ آپ نے کوئی ڈینگی مریض رپورٹ نہیں کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب ،محکمہ صحت کی کاکردگی کا کاونٹ چیک تمام اضلاع کے EDO کے ٹینڈر کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انہوں نے کتنی ڈینگی ٹیسٹ کٹ خریدی ہیں کیونکہ یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جن علاقوں میں ڈینگی لاروا تو ملا مگر وہاں سے کوئی ڈینگی کا مریض رپوٹ نہیں ہوا ہے۔2014ء میں ڈینگی ہائی رسک اضلاع راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان اور گوجرانوالہ تھے جہاں پر سات سو لیڈی سنٹری پٹرولنگ خصوصی طور پر تعیناتی کی گئی تاکہ انسداد ڈینگی کنٹرول پروگرام کے ثمرات کو یقینی بنایا جائے پنجاب ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ میں انسداد ڈینگی کنٹرول کا سیل قائم کیا گیا ہے جس کے ایڈیشل ڈائریکٹر وی سی ڈی (ویکٹر بورن ڈیزیز) ڈاکٹر اسلام ظفر ہیں۔
ڈینگی مچھر کی روک تھام اور مریضوں کے علاج کے لئے سرکاری ہسپتالوں میں کیا اقدامات کئے گئے ہیں اس حوالے سے ہم نے ایڈیشنل ڈائریکٹر وی بی ڈی( ویکٹر بورن ڈیزیز) ڈاکٹر اسلام ظفر، ڈائریکٹر میڈیکل سپرنٹنڈنٹ چلڈرن ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر احسن وحید راٹھور،میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سروسز ہسپتال ڈاکٹرعمر فاروق بلوچ، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جناح ہسپتال ڈاکٹر ضیاء اللہ سے گفتگو کی۔

ڈاکٹر اسلام ظفر نے بتایا”انسداد ڈینگی کنٹرول پروگرام کے تحت دن رات کام جاری ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اور ٹیچینگ ہسپتالوں میں DEXTRAN-40 سمیت ڈینگی کی تمام ادویات دستیاب ہیں۔ پنجاب کے تمام اضلاع میں ڈینگی مچھر آگاہی کے لیے سمینار اور واک کا سلسلہ جاری ہے اور تمام اضلاع میں پمپ سپرے (IRS) کیا جا رہا ہے۔ ڈینگی آگاہی اور اینٹی ڈینگی پروگرام میں تمام صوبائی اور فیڈرل ڈیپارٹمنٹ واپڈا، سوئی ناردرن گیس، ریلوے، موٹر وے اتھارٹی، پی ٹی سی ایل، ایکسائز اینڈ ٹیکنیشن وغیرہ بھر پور تعاون کررہے ہیں۔
اس کے علاوہ تمام ٹیچینگ اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں، فیڈرل ہسپتالوں اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں تربیت یافتہ DEAG، ماسٹر ٹرینرز اور فوکل پرسن انسداد ڈینگی کنٹرول مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ انسداد ڈینگی کنٹرول مہم کی ٹیمیں روزانہ کی بنیاد پر علاقوں کے سروے کر رہی ہیں۔ہماری سینٹری پیٹرولنگ ٹیمیں (مرد اور عورتیں) یونین کونسل کی سطح پر کام کر رہی ہیں۔
سنٹری پیٹرولنگ خواتین گھر گھر جا کر ان جگہوں اور چیزوں کو چیک کرتی ہیں جہاں لاروا کے پائے جا نے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے جبکہ مرد سنٹری پٹرولنگ گلی محلوں اور پارکوں میں لاروا چیک کرتے ہیں۔ اگر لاورا موجود ہو تو اس کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جاتے ہیں۔ انسداد ڈینگی کنٹرول مہم کی کامیابی کی بدولت ابھی تک پورے پنجاب میں ڈینگی بخار DEN-2 کے کنفرم مریض صرف 5 ہیں۔
اس وقت لاہور اورراولپنڈی سے ڈینگی بخار کا کوئی مریض نہیں ہے۔ دو شیخوپورہ سے، دو ملتان سے اور ایک گوجرانوالہ سے ڈنیگی بخار کا کنفرم مریض ہے۔ پچھلے سال بھی DEN-2 وائرس تھا۔ اس لیے مریض کم ہیں اصل میں لوگ اس وائرس سے ایمیون بھی ہوگئے ہیں۔ اگر کوئی دوبارہ DEN-2 کے وائرس سے متاثر ہو گا تو مریض کے لئے نقصان دہ نہیں ہوگا۔ ہاں اگر DEN پہلے سے مختلف ہوگا تو پھر پرابلم ہوگا۔
فشریز ڈیپارٹمنٹ والے بھی انسداد ڈینگی کنٹرول مہم پر کام کررہے ہیں۔ یہ ڈینگی وائرس کا بائیوجیکل کنٹرول ہے مچھلی لاروا کو ختم کرتی ہے اور ان مخصو ص مچھلیوں کی تین چار اقسام ہیں۔ جو لوگ اپنے علاقے میں سپرے کرواناچاہتے ہیں وہ اپنے متعلقہ ٹاؤن میں ای ڈی او سے رابطہ کریں۔ ڈینگی کا سیزن 15 نومبر تک رہے گا“۔
ڈائریکٹرمیڈیکل سپرنٹنڈنٹ چلڈرن ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر احسن وحید راٹھورنے بتایا ” لوگوں کو اگست سے اکتوبر کے مہینے تک ڈینگی مچھرسے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ان مہینوں میں ڈینگی مچھر کی افزائش ہوتی ہے۔
ہمارے پاس ابھی تک ڈینگی وائرس کا کنفرم کیس کوئی نہیں آیا۔ہم نے ہسپتال میں ڈینگی بخار کے مریضوں کے علاج معالج کے تمام اقدامات کر لئے ہیں۔ موسم کے پیش نظر ہم نے ڈ ینگی مریضوں کے علاج معالج کا انتظام پہلے سے آٹھ دس گنا زیادہ کیا ہے۔ ہسپتال کی حدود میں صفائی کا خاص خیال رکھا گیا ہے “
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سروسز ہسپتال ڈاکٹر عمر فاروق بلوچ نے بتایا” ہسپتال میں صفائی کا خیال رکھا گیا ہے۔
بارش کے پانی کے نکاس کو یقینی بنایا گیا تاکہ پانی جمع نہ ہو۔ جتنا پرانا ناکارہ سامان ہے اس کو فروخت کر دیا گیا ہے۔ پانی فالنگ پائپ کو خشک کرنے کے لیے انتظامات کیے ہیں۔ ہسپتال میں ڈینگی کاؤنٹر پر24گھنٹہ سروس کی سہولت ہے۔ ڈینگی کے مریضوں کے لیے الگ وارڈ بنایا گیا ہے۔ خدا شکر ہے کہ ابھی تک ڈینگی کا کوئی مریض ہسپتال میں نہیں آیا۔ سروسز ہسپتال میں اے ایم ایس ڈاکٹر سخاوت ڈینگی سیل کے انچارج ہیں جبکہ ڈاکٹر اشرف ہسپتال کی ایمرجنسی میں ڈینگی کاؤنٹر کے انچارج ہیں۔
مریضوں کو ڈینگی ٹیسٹ اور علاج کی تمام سہولتیں میسر ہیں۔ ڈینگی مچھر سے بچاؤ آگاہی پروگرام کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ سروسز ہسپتال کی طرف انسداد ڈینگی کنٹرول مہم واک بھی کی گئی۔ ہسپتال کی دیواروں ایمرجنسی اور وارڈز میں ڈینگی آگاہی کے پوسٹر آویزاں کیے گئے ہیں۔ ڈینگی بخار کے علاج کے لیے تمام سٹاف تربیت یافتہ ہے۔ آجکل بارشیں ہو رہی ہیں اس موسم میں ڈینگی مچھر کی افزائش کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
ہم اس کے لیے الرٹ ہیں، ڈینگی خوف کی علامت نہیں ہے اس سے ڈرنا نہیں چاہیے اگر ڈینگی سے بچاؤ کی تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کر لیں تو ڈینگی سے بچاؤ سو فیصد ممکن ہے۔ ماحول کو خشک اور صاف رکھ کر ڈینگی سے مکمل نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ گملوں میں پانی جمع نہ ہونے دیں۔ بارش کی صورت میں کیاریوں اور گملوں سے اضافی پانی کے نکاس کا بندوبست کریں۔
ریفریجریٹر کی ٹرے یا روم کولر کی صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ ڈینگی بخار کا وائرس چونکہ مچھروں کے کاٹنے کی وجہ سے انسان میں منتقل ہوتا ہے اس لیے مچھروں کے کاٹنے سے بچنا ہی اس سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے۔ ہمیں اپنے ارد گرد صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے تاکہ مچھروں کی افزائش کو روکا جا سکے۔ گھروں اور لان میں مچھر مار سپرے یا بھگانے والی ادویات کا استعمال کریں۔
صاف پانی ذخیرہ کرنے کے برتنوں ،ٹپوں اور ڈرموں کو ڈھانپ کر رکھیں۔ گھر میں اور گھر کے باہر کوڑا کرکٹ اور پانی جمع نہ ہونے دیں۔ چھت پر کاٹھ کباڑ اور پرانے ٹائر کو ہٹا دیں تاکہ بارش کا پانی ان میں جمع نہ ہوسکے۔ مریض اور مریض کے گھر والے مچھر بھگاؤ لوشن استعمال کریں۔ بخار کی صورت میں Paracetamol کی ایک یا دو گولیاں (حسب ضرورت) لیں۔چوبیس گھنٹوں میں چھ سے زیادہ گولیاں نہ لیں۔
بخار میں مریض کونلکے کے پانی کی پٹیاں کریں اورا سے مچھر دانی میں رکھیں۔ ڈینگی بخار کی علامت میں، بخار کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ دس دن سے کم ہو (لازمی علامت)۔ سر میں شدید درد، آنکھوں کے پیچھے درد، پٹھوں میں شدید درد، جوڑوں یا کمر میں شدید درد، پیٹ میں شدید درد، جسم میں سرخی مائل رنگت کے دانے، ناک، مسوڑھے، کھانسی ،الٹی، پاخانے کے ساتھ خون، مناسب مقدار میں پانی پینے کے باوجود پیشاب کی کمی، بچوں میں بے چینی ہیں“۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جناح ہسپتال ڈاکٹر ضیاء اللہ نے بتایا” اس وقت ڈینگی بخار سیزن چل رہا ہے جو نومبر تک رہے گا۔بارشیں ہونے سے ڈینگی مچھر کی افزائش میں بھی تیزی آ جاتی ہے۔اس چیز کے پیش نظر ہم نے ڈینگی مچھر کی افزائش کی روک تھام کے لیے اقدام کر رکھے ہیں علامہ میڈیکل کالج، جناح ہسپتال اور کالونی کی حدودمیں ڈینگی مچھر کی افزائش کی روک تھام کے لیے سپرے کر رہے ہیں اور بارش کے پانی کے نکاس کو یقینی بنایا گیا ہے۔
اس کے لیے مختلف لوگوں کو ذمہ داری سونپ رکھی ہے۔ ایک فوکل پرسن ہے جو ڈینگی مچھر کی افزائش کی روک تھام کے لیے کیے گئے تمام اقدامات کو دیکھتاہے۔ میں خود بھی ہسپتال، میڈیکل کالج اور کالونی کا دورہ کرتا ہوں ، جہاں پانی کھڑا ہوتا ہے فوراً پانی نکال دیا جاتا ہے اور جس جگہ سے پانی نکلنا ممکن نہ ہو تو اس میں کیموفاس دوائی ڈال دی جاتی ہے تاکہ لاروا پیدا نہ ہو اگر لاروا ہو تو وہ بھی مر جائے۔ ابھی تک جناح ہسپتال میں کوئی بھی کنفرم ڈینگی بخار کا مریض نہیں آیا۔ ہستپال کے پرانے برن یونٹ کو ڈینگی بخار کے مریضوں کے لیے وقف کر دیا ہے۔ ڈینگی بخار کی کی تشخیص کے لیے تمام ٹیسٹوں کی سہولت موجود ہے۔ اس کے علاوہ ڈینگی بخار ادویات بھی ہسپتال میں دستیاب ہیں“۔
وقت اشاعت : 2015-08-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں