بند کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
داعش کو پاکستان میں جنگجوؤں کی تلاش
داعش کا وجود میں آنا، ان بکھرے جنگجوؤں کیلئے ایک نئی امید کی کرن تھی جو ان کی گرتی ہوئی ساکھ کو نہ صرف بحال کرسکتی تھی بلکہ ان میں جان بھی ڈال سکتی تھی۔ اس موقع کو غنیمت جان کر طالبان نے اس مہم جوئی کا سوچا
محمد رضوان خان:
پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اب تک سب سے اہم اقدام آپریشن ضرب عضب کا آغاز تھا جس کے شروع ہوتے ہی اگر دیکھا جائے تو ملک کی سب بڑی تنظیم کالعدم طالبان تحریک پاکستان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ ہوگیا۔ پاکستان میں اس سے قبل بھی متعدد اپُریشن ہوچکے ہیں لیکن ضرب عضب کو ملنے والی کامیابی کی بڑی وجہ یہ تھی کہ آپریشن شروع کرنے کے محرکات اور تقاضے مختلف تھے جس سے چین سمیت بیشتر ممالک کو اطمینان بھی حاصل ہوا جبکہ ساتھ ہی شدت پسندوں کی طرف سے بھی سکوت چھا گیا۔
طالبان کے تو ستارے آپریشن ضرب عضب شروع ہونے پر کچھ زیادہ ہی گردش میں آگئے تھے۔ ان کے باہمی اختلافات اس قدر بڑھ گئے تھے کہ ایک تنظیم عملی طور پر چار دھڑوں میں بٹ گئی۔ طالبان میں اس پھوٹ کا پیدا ہونا بھی عین ممکن ہے کہ کسی چال کا نتیجہ ہو بہر حال جو بھی ہوا اس سے شدت پسندی کا قلع قمع کرنے میں معاونت ملی۔ ان حالات میں داعش کا وجود میں آنا، ان بکھرے جنگجوؤں کیلئے ایک نئی امید کی کرن تھی جو ان کی گرتی ہوئی ساکھ کو نہ صرف بحال کرسکتی تھی بلکہ ان میں جان بھی ڈال سکتی تھی۔
اس موقع کو غنیمت جان کر طالبان نے اس مہم جوئی کا سوچا لیکن شو مئی قسمت ان میں سے بیشتر کی راہ میں رکاوٹ ملا عمر کی ذات بنی کیونکہ افغان طالبان ے داعش کو قبول نہیں کیا کیونکہ وہ دنیا میں مسلم خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ایک ایسی خلافت جس میں طالبان قیادت کو بھی داعش رہنماء ابو بکر کے تابع ہونا پڑتا اس لئے افغان طالبان میں سے تو صرف وہی اس جانب لپکے جو ملا عمر سے اختلاف رکھتے تھے۔
افغان طالبان کیلئے یہ مرحلہ کافی آسان تھا کیونکہ وہاں طالبان کی ایک قلیل تعداد ایسی ہے جو ملا عمر سے اختلاف کی جرات کرپائی ہے۔ اختلافی ٹولے کی یہ اقلیت اس وجہ سے زیادہ زور نہ پکڑ سکی کیونکہ ملا عمر سے اجتماعی موقف پر اختلاف کے امکانات بہت کم ہیں، اسلئے وہی لوگ ان اختلافات میں آگے جاتے ہیں جن کو ملا عمر سے ذاتی پر خاش ہو۔افغان طالبان میں بنیادی طور پر اس وجہ سے ملا عمر کا مخالف دھڑا زیادہ مضبوط نہیں ہوسکا تاہم پھر بھی جو کچھ لوگ تھے انہوں نے داعش کی طرف توجہ دی تاہم سرحد کے اس پار پاکستان میں حالات کافی مختلف تھے۔
یہاں طالبان تحریک نظریے سے زیادہ ”ضرورت“ کی بناء پر وجود میں آئی تھی اس بناء پر یہ تنظیم کبھی ایک متحد تنظیم کا روپ نہیں دھار سکی۔ اس تنظیم کیلئے طالبان کی طرف سے جن لوگوں نے حمایت کی انہیں جلد ہی اپنے اعلان پر نظر ثانی کرنی پڑی جس کے بعد جنہوں نے داعش کی طرف جھکاؤ ظاہر کیا تھا انہیں اکیلے ہی جانا پڑا تاہم بعض ایسے بھی تھے جو اس صورتحال سے یہ فائدہ اٹھانا چاہتے تھے کہ خود کو طاقت ورثابت کرنے کیلئے اان سے الحاق کرنا چاہ رہے تھے۔
داعش کی طرف جانے والوں میں سے عمر خالد خراسانی کو ان کا سخیل مانا جاتا تھا تاہم داعش نے یہاں اپنی تنظیم کے قیام کیلئے مبینہ طور پر افغانستان اور پاکستان کیلئے دس رکنی کمیٹی بنائی جس کا کام مصلحت کے تحت پاکستان میں اپنی تنظیم کا قیام تھا۔ اس کمیٹی نے پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں اپنا کام کیا جس کے نتیجے میں اور کزائی ایجنسی کے حافظ سعید خان کو مبینہ طور پر داعش پاکستان کا کمانڈر مققر کردیا ہے۔

کمانڈر سعید خان نے اس بات کا اعلان خود بھی چند روز قبل ایک ویڈیو کے ذریعے کیا جس میں ان کے ہمراہ کچھ افغان طالبان کمانڈر بھی نظر آرہے تھے۔ اس ویڈیو کا مقصد یہ بتایا جارہا ہے کہ جیسے حافظ سعید خان کو سرحد کے آر پار جنگجوؤں کی حمایت حاصل ہے ۔ اس بارے میں کسی مقامی معتبر حلقے سے تصدیق تو نہیں ہوپائی تاہم یہ گمان کیا جارہا ہے کہ یہ پیغام باقاعدہ دولت اسلامیہ سے منسلک ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کیا گیا۔
اس بارے میں دولت اسلامیہ کی طرف سے ابو محمد العدنی نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں افغانستان اور پاکستان کے لیے داعش کا کمانڈر مقرر کیا ہے جبکہ انہوں نے سعید خان کو خراسان کا کمانڈر بنایا گیا ہے۔ حافظ سعید خان کا تعلق اور کزئی ایجنسی سے ہے اور وہ تحریک طالبان پاکستان اور کزئی ایجنسی کے سربراہ تھے تاہم 2013ء میں حکیم اللہ محسود کے مرنے کے بعد وہ تحریک طالبان کو داغ مفارقت دے گئے تھے۔
سعید خان اس تنظیم کو کس طرح چلائیں گے۔ یہ بھی اہم ہے کیونکہ ابھی تک تو یہ ہورہا تھا کہ داعش کا نام سنتے ہی لوگوں کو سانپ سا سونگھ جاتا ہے۔ متعلقہ حکام بھی اس پر بات نہیں کرنا چاہتے البتہ قومی ادارے تو اس کی موجودگی کو ہی یکسر نظر انداز کیا کرتے تھے ان کاکہنا تھا کہ داعش کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں جس پر دیگر متعلقہ حلقے بھی اس لئے خاموش ہوگئے تھے کیونکہ پشاور میں سانحہ آرمی پبلک سکول اینڈ کالج کے بعد ایسی فضاء ہی نہ تھی کہ ان امور پر بات ممکن ہو حالانکہ ان دنوں ایسا بھی ہوا کہ پشاور سمیت ملک کے بیشتر شہروں جن میں بنوں کراچی، ملتان وغیرہ شامل تھے میں داعش کی حمایت میں وال چاکنگ کی گئی۔
صوبے میں سب سے پہلے داعش کے بارے میں بنوں میں وال چاکنگ کی گئی تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں نے یہ وال چاکنگ راتوں رات صاف کردی اس قسم کے حالات بعد میں کراچی اور پشاور میں بھی دیکھنے کو ملے جبکہ تحریری لٹریچر کی تقسیم بھی پہلی ار پشاور میں ہوئی اس پمفلٹ کے منظر عام پر آنے پر پشاور میں متعدد چھاپہ خانوں پر بھی چھاپے مارے گئے جبکہ دوسری طرف پورے شہر سے مذکورہ پمفلٹ بھی اٹھا کر ضبط کرلیا گیا۔
اس عمل کے بعد حکومتی ایجنسیاں حرکت میں آئی تاہم قبائلی علاقہ جات میں اس پمفلٹ کی تقسیم کو نہیں روکا جاسکا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اس پمفلٹ سے خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔ دوسری طرف پاکستان حکام یہ بات ماننے کو ہی تیار نہیں تھے کہ داعش ان کے خلاف کوئی کارروائی کرسکتی ہے لیکن اب ان کے امیر کے منظر عام کی خبریں سامنے آنے پر سکوت چھایا ہوا ہے۔

داعش کے بارے میں تسلسل کے ساتھ نت نئی خبریں منظر عام پر آرہی ہیں اس سے قبل ایک مبینہ کمانڈڑ کی گرفتاری نے دنیا بھر کی توجہ اپنے جانب مبذول کروالی تھی اور ابھی پرانی خبر کا چرچا جاری تھا کہ سعید خان کی تعیناتی کا معاملہ چھڑ گیا۔ سعید خان کی طاقت اگر دیکھی جائے تو اس وقت بھی اس کا محور پاکستان سے باہر ہی کا ہے اس اعتبار سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں داعش کے کماڈر اپنی دھاک اس طرح بٹھا پائیں گے جس طرح طالبان نے اپنی جگہ بنائی تھی۔
اس سال کا جواب بظاہر نفی میں ہی دکھائی دے رہا ہے۔ داعش اور طالبان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ داعش نے براہ راست اپنے ساتھ لوگ ملانا شروع کئے ہیں جبکہ طالبان کی تنظیم اس طرح بنی تھی کہ پہلے نیک محمد نے اپنے ہم خیال ساتھیوں کو ایک جگہ اکھٹا کیا انہوں نے خود کو اس قدر مضبوط کیا کہ شوال میں باقاعدہ امن معاہدہ ہوا ۔ اس امن معاہدے کے بعد ہی طالبان کو یہ احساس ہوا کہ وہ اتنی بڑی قوت ہوچکے ہیں کہ حکومت وقت ان کے ساتھ امن معاہدے پر مجبور ہوئی۔
اس خیال سے طالبان کی تنظیم کی بنیاد پڑی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ طالبان تحریک کی عملی شکل افغانستان میں موجود تھی جن کے شانہ بشانہ نیک محمد جیسے لوگوں نے جہاد افغاسنتان میں حصہ بھی لیا گویا بنیادی طور پر طالبان تحریک کے لوگ موجود تھے صرف انہیں ایک تنظیم کی شکل میں اکٹھا کیا گیا لیکن یہ کوشش بھی اس وقت دم توڑ گئی جب 2004ء میں پہلے ڈرون میں نیک محمد کو اڑادیا گیا لیکن دوسری طرف طالبان کے انسانی وسائل بڑھتے گئے بہر حال بیت اللہ محسود نے طالبان کے اس جنڈ کو باقاعدہ ایک تنظیم میں بدل ڈالا۔
اس کے مقابلے میں اگر اس وقت داعش کی ترکیب کو دیکھا جائے ابھی تک اسے افغانستان میں پوری طرح انسانی وسائل میسر نہیں ہیں۔
داعش کے حوالے سے اگر پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو ابھی تک اگرچہ اس کیلئے کام تو ہورہا ہے لیکن بظاہر ان کی کامیابی کی رفتار بہت سست ہے طالبان کے مقابلے میں داعش سے وابستگی میں لوگ ہچکچاہٹ کا شکار ہیں جس میں مالی امور سمیت بہت سی رکاوٹیں بھی اہم ہیں ساتھی ہی یہ بھی کہنا برمحل ہوگا کہ اس وقت بھی داعش کا شمار ان تنظیموں میں ہوتا ہے جن کے بارے میں پاکستان کے اندر کوئی خاص پزیرائی نہیں پاکستان میں عوامی سطح پر یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ داعش جیسی تنظیموں کی وجہ سے ہی اے پی ایس جیسے واقعات رونماء ہوتے ہیں اسلئے ان تنظیموں کے جڑ سے ہی اکھاڑ پھینکا جائے۔
عوامی سطح پر طالبان کے مقابلے میں لوگوں میں ابھی سے داعش کے نام سے ہی خوف پھیل جاتا ہے۔ اگر ایک طرف عوامی سطح پر یہ رد عمل ہے تو دوسری طرف داعش سے گریز کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے اندر پہلے ہی سے ایسے حالات موجود ہیں کہ جہاں طالبان چار دھڑوں میں منقسم ہوچکے ہیں ایسے میں جو بھی دھڑا داعش کے ساتھ ملے گا اس کی پوزیشن مضبوط ہونے کے بجائے الٹا کمزور ہوگی کیونکہ ان کے آپس کے اختلافات اس قدر گھمبیر ہیں کہ یہ ایک دوسرے کو آگے بڑھنے سے روکیں گے۔
اس بناء پر یہ بھی کہا جاسکتاہے کہ اگر داعش کی مقامی قیادت کو اپنی دھاک بٹھانے کیلئے بڑی جدوجہد کرنا ہوگی اسے لوگوں کو ساتھ ملانے کیلئے انہیں کوئی ایسا ایجنڈا پیش کرنا ہوگا جس میں داعش کے امیر ابو بکر البغدادی کی بیعت سے آگے بڑھ کر بھی کوئی کشش مقامی حوالے سے موجود ہو کیونکہ جب سے داعش کا سلسلہ شروع ہوا ہے طالبان نے بھی اپنا کینوس وسیع کرلیا ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ اس کے وفد نے چین کا جو دورہ کیا تھا اس کی باقاعدہ تصدیق بھی کردی ہے۔
اس سلسلے میں افغان طالبان ترجمان ذبح اللہ مجاہد نے طالبان وفد کے دورہ چین کی تصدیق کی۔ ترجمان نے کہا ہے ”ہم بتانا چاہتے ہیں کہ افغانستان کی اسلامی امارات دنیا خطے اور خصوصی طور پر اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ پرانے تعلقات قائم رکھے ہوئے ہے اور وقتاََ فوقتاََ ضرورت کے مطابق آنا جانا ہوتا ہے جس میں پڑوسی ملک چین بھی شامل ہے۔“ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے واضح کیا کہ انہوں نے کسی بھی ملک سے حکومت کے ساتھ بات چیت یا مذاکرات کیلئے ثالثی کیلئے نہیں کہا۔
طالبان کے وفد نے نومبر میں چین کا دورہ کیا تھا اور وفد کی سربراہی قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے اہم رکن دین محمد حنیف نے کی تھی۔ اس دورے کے بارے میں ان سطور میں پہلے بھی ذکر کیا جاچکا ہے۔ ”متروں“ کی فرمائش پر ”متروں“ کو مطمئن کرنے کیلئے طالبان کو چین کا سفر بھی کرنا پڑا جہاں ’متروں“ کے ساتھ ساتھ اشرف غنی کو بھی بتادیا گیا کہ طالبان غیر ملکی اثر کو برداشت نہیں کریں گے خاص کر دہلی کے نفوذ کو لگام دی جائے۔
طالبان نے اس طرح کی سفارت سے اپنے حمایتیوں کو اپنی سفارتکاری کا انداز بھی دکھا دیا ہے جس سے داعش کو اپنے حمایتیوں کو تلاش میں مزید مشکلات پیش آئی گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ داعش کو اپنے حمایتیوں کی تلاش میں پاکستان کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے اور اگر حکومت حکمت سے آگے بڑھتی ہے تو داعش کا ”ہوا“ یہیں دب سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2015-02-09

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان