تازہ ترین : 1
Curruption K Khilaf Operation CleanUP

کرپشن کے خلاف آپریشن کلین اَپ

احتساب بلا امتیاز ہونا چاہیے !! اعلیٰ عدلیہ کا دعویٰ ہے کہ کرپشن صرف ماتحت عدلیہ میں ہے جس کے خاتمہ کے نام پرماتحت عدلیہ کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے ۔

سید شعیب الدین احمد :
پاکستان کے قیام کو 68سال ہوگئے ہیں مگر بدقسمتی سے یہاں آج تک انصاف ملا ہے نہ احتساب ہوسکا ہے ۔ اسلام کے نام پر بننے والا ملک قیام کے بعد سے آج تک اپنے عوام کو انصاف نہیں دے سکا۔ عدالتیں موجود ہیں مگر وہاں برسوں سے مقدمات زیرالتواہیں ۔اعلیٰ عدلیہ کا دعویٰ ہے کہ کرپشن صرف ماتحت عدلیہ میں ہے جس کے خاتمہ کے نام پرماتحت عدلیہ کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے ۔
اعلی عدلیہ کے جج صاحبان کو پہلے ہی اچھے مشاہرے کے ساتھ تمام سہولیات میسر ہیں حتیٰ کہ ملک پر حکمرانی ، کرنیوالے سابق چیف جسٹس کوبلٹ پروف ،، گاڑی کی وہ سہولت بھی میسر ہے جو صرف حکمران خاندان کے افراد کو ہے ۔ اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھانا بھی کرپشن کے زمرے میں آتا ہے مگرپاکستان میں یہ جرم نہیں کہلاتا بلکہ اپنے اختیارات استعمال نہ کرنے والے کو بیوقوف نااہل سنالائق اور اس جیسے دیگر القابات سے نوازا جاتا ہے ۔

پاکستان میں پہلا مارشل لا لگا تو ایوب خان کے دور میں ایبڈو کی تلوار استعمال کرکے مشرقی اور مغربی پاکستان کے سینئر سیاستدانوں کو سیاست سے بیدخل “ کیا گیا ۔حسین شہید سہر وردی کو گرفتار کرکے نظر بند کیا گیا ۔ شیخ مجیب اور مولانا بھاشانی کو بھی گرفتار کیاگیا ۔ آزاد ذرائع کے مطابق ایبڈوقانون کے تحت 6ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا تھا ۔
ان اقدامات کا انجام ملک ٹوٹنے پر ہوا ۔ آدھے اور نئے پاکستان کا صدر اور وزیراعظم بننے والے بھٹونے جوایوب خان کے تمام اقدامات میں ان کے ساتھ اور کابینہ کے اہم قزیر رہے تھے کچھ نہ سیکھا ۔ ایوب خان کے خلاف آخری دنوں میں بغاوت کرکے وہ ” بڑے رہنما“ بن گئے مگر اپنے دور میں غلطیوں پر غلطیوں “ کیں اور نتیجہ ایک نئے کالے دور کی شکل میں نکلا ۔
جنرل ضیاء الحق نے بھی سیاستدانوں کو چور کہا بُرا بھلا کہا مگر احتساب صرف پیپلز پارٹی تک محدود رہا ۔ بھٹو کو پھانسی دیدی گئی مگر حقیقی احتساب نہیں ہوا۔ جنرل ضیاء الحق بہاولپور کے صحرائی علاقے میں گرنیوالے 130 C میں دُنیا سے رُخصت ہوئے تو جمہوری حکومتوں کا گیارہ سالہ دور شروع ہوا جس میں احتساب کے نام پر پیپلز پارٹی اور (ن ) لیگ نے ایک دوسرے کے گندے کپڑے عوام کے سامنے دھوئے مگر کسی بھی کیس کو انجام تک نیں پہچایا گیا ۔
میاں شہبازشریف ، آصف زرداری انہی ادوار میں سلاخوں کے پیچھے گئے مگر ہیروبن کر نکلے کیونکہ ان کا مئوقف یہی رہا کہ کرپشن ثابت کرو اور جنہوں نے کرپشن ثابت کرنا تھی وہ ایسا نہ کرسکے اور ملی بھگت سے سارا کام جاری رہا ۔ سیاستدانوں اور بیورکرو کریٹس نے غریب عوام کی رگوں سے خون نچوڑنے کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ آج جاری ہے ۔ حکمرانوں کرپشن رُکنے کا نام نہیں لے رہی ۔
کرپشن سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کرتے ہیں مگر قیمت غیرب عوام چکاتے ہیں جس کی وجہ انساف کا ایسا نظام ہے جس کی چکی کے دونوں پاٹوں میں اتنا زیادہ ” فاصلہ “ ہے کہ کرپٹ لیڈر اور بیوروکریٹ ” پسے “ بغیر نکل آتے ہیں جبکہ عوام کو پیسنے والی چکُی کے پاٹ اس قدر ” قریب “ ہیں کہ عوام کی رگوں سے آخری قطرہ بھی نچوڑ اجارہا ہے ۔ افتخار چودھری کے صاحبزادے پر کرپشن کے الزامات موجود ہیں جبکہ ” کہانیاں “ منانے والے تو بہت کچھ کہتے ہیں مگراصل بات وہی ہے کہ انساف کون کرے گا ؟ کہا جاتا ہے کہ انصاف اندھا ہوتا ہے ہے ۔
آنکھوں پر پٹی باندھ کر اگر انصاف کیا جائے گا تو ” اندھا انصاف “ فیصلہ کرے گا کہ ترازو کس کی انساف کیسے دیکھ سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انصاف ہو رہا ہے مگر ہوتا نظر نہیں آرہا ۔ پاک فوج اقتدار پر 4بارقابض رہنے کی وجہ سے ہمیشہ جمہوریت پسندوں کے نشانے پر رہی ہے حالانکہ اقتدار پر قبضے کا فیصلہ ایک سینئر ترین افسر اپنے ساتھیوں کی مشاورت سے کرتا ہے مگر بدقسمتی یہ رہی ہے کہ کرپشن کا خاتمہ کرنے کا نام پر اقتدار میں آنے والے بھی نہ کرپشن کا خاتمہ کر کسے اور نہ کرپٹ قیادت اور پٹ قیادت اور کرپٹ بیوروکریٹس سے نجات دلا سکے ۔

ایوب خاں کی الیکٹڈ باڈیز ڈس کو الیفکیشن آرڈر ( ایبڈو ) کے ذریعے کرپٹ اور ناپسندیدہ افراد کو سیاست اور بیورو کریسی سے نکالنے کی کوشش ناکام رہی اور کنویں کو “ کتاَ “ نکالے بغیر ہی ” پاک “ قرار دیدیا گیا ۔ اگر اسی وقت کرپٹ سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کو ” مقام عبرت “ بنایا جاتا آج پاکستان ان حالات کو نہ پہنچتا کہ تمام ” محب وطن “ رہنماؤں کے بیرون ملک کاروبار ، اثاثے اور جائیدادیں ہیں ۔
ان کی اولادیں دھڑلے سے بیرون ملک لوٹے گئے اربوں ڈالروں سے کاروبار چلا رہی ہیں مگر ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ تمہارا کون سارشتہ دار یا بزرگ برطانیہ ، کینیڈا ، امریکہ ، فرانس سپین ، سوئٹزرلینڈ ، دبئی سعودی عرب متحدہ عرب امارات میں تمہارے لئے یہ اربوں ڈلالرز کے اثاثے چھوڑ گیا ۔ عام پاکستانی کو تو 10ہزار ڈالر سے زیادہ بیرون ملک لے جانے کی اجازت نہیں مگر تمہارے ناجائز کمائی کے پیسے لے جانے والوں کو ایئرپورٹس پرروکنے والوں کی آنکھیں اور منہ بند کر دئیے جاتے ہیں اور جیبیں ” گرم “ ہوجاتی ہیں ۔
کرپشن کی اس اندھی دولت سے امیر ہونیوالوں کوقانون کے شکنجے میں لانے کا فیصلہ اب پس پردہ رو کر حکومت کرنے والے باوردی جرنیل نے کیا ہے ۔ کرپشن میں شامل افراد کو پکڑنے کا فیصلہ کیا گیا اور گرفتاریوں کی ابتدا سندھ سے ہوئی تو شور مچ گیا کہ پیپلز پارٹی کونشانہ بنایا جارہا ہے حالانکہ ابھی ” فرنٹ مین “ گرفتار ہوئے تھے جن کی گرفتاری پر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور بیرون ملک چلی گئیں جبکہ آصف زرداری خود بھی اپنی پارٹی کوبے سہارا چھوڑ کر بیرون ملک جاچکے ہیں ۔

ایم کیو ایم کی قیادت بھی شور مچا رہی ہے کہ صرف انہیں ٹارگٹ کیا گیا ہے حالانکہ ان کے حوالے سے جو کچھ سامنے آرہا ہے ۔ اور آچکا ہے اس کے بعدان کے خلاف کارروائی ہر سطح پر کی جانے ضروری ہے ۔ پاک فوج نے آپریشن کلین اَپ وسیع کرنے کا فیصلہ تو کر لیا ہے مگر اسے دوسرے صوبوں تک لے جانے سے پہلے پاک فوج نے اپنے ہی ادارے این ایل سی کے ایک لیفٹیننٹ ، جنرل اور ایک میجر جنرل کے خلاف قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کے الزام پر کارروائی کردی ہے ۔
اس طرح پاک فوج نے احتساب کا دائرہ اپنے گھر تک وسیع کر دیا ہے ۔ اس فیصلے کے تین دن بعد پنجاب میں احتساب کا پہلا شکار پیپلز پارٹی پنجاب کے سابق صدر اور پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق صدراولمپئن قاسم ضیاء بنے ہیں جنہیں کروڑوں کے فراڈکے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے ۔ یہ مقدمہ بھی برسوں سے جاری تھا ۔ احتساب پنجاب کی سرحدوں تک نہیں بلکہ پنجاب کے دل کے اندر پہنچ گیا ہے ۔
قاسم ضیاء کا تعلق لاہور کی ایک بڑی فیملی سے ہے ۔ وہ کئی برسوں سے پیپلز پارٹی کی سیاست سے لاتعلق تھے اور سابق صدرآصف زرداری پر کھلے بندوں تنقید کرتے تھے حالانکہ آصف زرداری کی صدارت کے دور میں انہوں نے پاکستان ہاکی فیڈوریشن کی صدارت کے خوب مزے لئے ۔ وہ2008ء سے 2013ء تک اس عہدے پر فائزرہے تھے مگر قاسم ضیاء کی گرفتاری پر ہے کہ وفاق میں احتساب ہو تو پیپلزپارٹی کے وزرائے اعظم اور وزیروں تک محدود رہتا ہے ۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور وہاں بھی احتساب پیپلزپارٹی کا ہو رہا ہے ۔ اب پنجاب میں جہاں مسلم لیگ (ن ) 1985ء سے اقتدار میں ہے وہاں احتساب شروع ہو اہے تو وہ بھی پیپلزپارٹی کا ہوا ہے ۔ دوسری طرف غربت کی چکی کے دوپاٹوں میں پسنے والی غریب عوام خوش ہے کہ انہیں لوٹنے والوں کو بھی پیساجائے گا ۔ خدا کرے کہ اس ملک میں احتساب ہو اور بلاتفریق ہو ۔
جس نے بھی اس ملک کو لوٹا ہے اور جس کے بھی اثاثے بیرون ملک ہیں اس سے پوچھا جائے کہ وہ ان اثاثوں کا ذریعہ بتائے کہ کب اور کہاں سے وہ رقم اسے ملی جس سے یہ اثاثے اس نے بنائے ۔ آخر قانون کی آنکھوں پر پٹی کب تک بندھی رہے گی ؟ ہم قانون کی آنکھوں پر بندھی پٹی کب اُتار کر قانون کو اس کی آنکھیں واپس لوٹائیں گے ۔ ہمیں آنکھوں والا قانون چاہئے جو دیکھے سُنے اور پھر فیصلہ سُنائے ۔
وقت اشاعت : 2015-08-17

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں