تازہ ترین : 1
Commenwealth Ijlass Or RAW Ki Karistaniyaan

اسلام آباد میں منعقد ہونے والا دولت مشترکہ کا اجلاس اوربھارتی خفیہ ایجنسی ”را“کی کارستانیاں

اس اجلاس کے حوالے سے ایک علاقائی مسئلہ آن پیدا ہوا ہے کہ پاک بھارت کے درمیان متنازعہ ریاست کشمیر کے اسپیکر اسمبلی کو اس میں مدعو نہیں کیا گیا ۔ بھارت نے کشمیر اسمبلی کے نمائندوں کو اجلاس میں مدعو نہ کرنے کے حوالے سے پاکستان اور دولت مشترکہ سے احتجاج کیا ہے

مصنف : ذبیح اللہ بلگن
ذبیح اللہ صدیق بلگن
رواں ماہ کے اختتام میں دولت مشترکہ کی پارلیمانی ایسوسی ایشن کا اجلاس پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہونے جا رہاہے ۔ اس اجلاس کے حوالے سے ایک علاقائی مسئلہ آن پیدا ہوا ہے کہ پاک بھارت کے درمیان متنازعہ ریاست کشمیر کے اسپیکر اسمبلی کو اس میں مدعو نہیں کیا گیا ۔ بھارت نے کشمیر اسمبلی کے نمائندوں کو اجلاس میں مدعو نہ کرنے کے حوالے سے پاکستان اور دولت مشترکہ سے احتجاج کیا ہے ۔
دراصل اقوام کی دولت مشترکہ ان ممالک کی تنظیم ہے جو نو آبادیاتی دور میں برطانیہ کی غلامی میں رہے ہیں۔ یہ تنظیم 1926 میں اس وقت قائم ہوئی جب سلطنت برطانیہ کا زوال شروع ہوا تھا۔ اس تنظیم کے 53 رکن ممالک ہیں جن میں پاکستان اور بھارت بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر دولت مشترکہ بھی موجود ہیں جن میں آسٹریلیا کی دولت مشترکہ اور آزاد ممالک کی دولت مشترکہ شامل ہیں لیکن اقوام کی دولت مشترکہ ایک الگ تنظیم ہے۔
جب پاکستان کامن ویلتھ کا رکن نہیں بنا تھا تو بھارت نے کشمیر کے اسپیکر کو دولت مشترکہ کی پارلیمانی ایسوسی ایشن کا رکن بنا لیا تھا ۔ اب پاکستان کا موقف ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کا مقدمہ اقوام متحدہ میں ہے لہذا ایسی متنازعہ اسمبلی کو قانونی حیثیت کیسے دی جاسکتی ہے ۔ پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ کشمیر کی اسمبلی کے اسپیکر کو کانفرنس میں مدعو کرنا پاکستان کے اصولی موقف کے منافی ہے لہذا کانفرنس ہر صورت اسلام آباد میں ہی ہوگی اور اس کانفرنس میں کشمیر کی اسمبلی کے اسپیکر کو مدعو نہیں کیا جائے گا۔
جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ اگر کشمیر اسمبلی کے اسپیکر کو مدعو نہ کیا گیا تو بھارت اس کانفرنس کا بائیکاٹ کرے گا اور پارلیمانی ایسوسی ایشن کا اجلاس کسی اور ملک میں منعقد کروانے کی کوشش کرے گا۔
دولت مشترکہ کا تعارف
جہاں تک ا قوام کی دولت مشترکہ کی پارلیمانی ایسوسی ایشن کے اجلاس کا معاملہ ہے تو ہمیں یاد رہنا چاہئے کہ دولت مشترکہ کوئی سیاسی تنظیم نہیں ہے ۔
تنظیم کے قیام کا مقصد رکن ممالک میں اقتصادی تعاون وجمہوریت کو فروغ دینااور حقوق انسانی کی پاسداری ہے۔دولت مشترکہ کے حوالے سے عرض ہے کہ اقوام کی دولت مشترکہ کی اصطلاح 1884 میں لارڈ روزبیری کے دورہ آسٹریلیا کے موقع پر وجود میں آئی تھی۔ ملکہ برطانیہ ایلزبتھ دوم دولت مشترکہ کی سربراہ ہیں جبکہ تنظیمی معاملات سیکرٹری جنرل دیکھتا ہے تاہم یہ واضح رہے کہ ملکہ برطانیہ یا معتمد عام کا کسی رکن ملک یا اس کی حکومت پر کوئی اختیار نہیں اور تمام 53 رکن ممالک آزاد ہیں۔
دولت مشترکہ کے رکن ممالک میں بنگلہ دیش،پاکستان،بھارت ،ملائشیا،مالدیپ، آسٹریلیا، کینیڈا، جنوبی افریقہ،سری لنکا،سنگاپور،نیوزی لینڈ،نائجیریا،قبرص،اینٹیگوا و باربوڈ، بہاماس،بارباڈوس،بیلیز، بوٹسوانا،برونائی، کیمرون،ڈومینیک، گیمبیا، گھانا، گریناڈا، گیانا،جمیکا، کینیا،کیریباتی، لیسوتھو،ملاوی، مالٹا، موریشس، موزمبیق،نمیبیا،ناورو،پاپوا نیو گنی، روانڈا، سینٹ کیٹز،سینٹ لوسیا، سینٹ وینسینٹ و گریناڈائنز، ساموو،، سیرالیون، جزائر سلیمان، سوازی لینڈ، تنزانیہ، ٹونگا، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو اور وانواتو شامل ہیں ۔
دولت مشترکہ کے تمام ممالک کی کل آبادی 1.975 ارب ہے جو دنیا کی کل آبادی کا 31 فیصد بنتا ہے۔ اسی طرح تمام 53 رکن ممالک کا کل رقبہ 12.1 ملین مربع میل ہے جو زمین کے کل رقبے کا 21 فیصد بنتا ہے۔تمام رکن ممالک کی معیشت عالمی اقتصادیات کا 16 فیصد بنتی ہے۔ اس وقت دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل ڈون میک کینون ہیں جو 1999 سے اس عہدے پر فائز ہیں جبکہ رینزفورڈ اسمتھ ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیں۔
تنظیم کا صدر دفتر برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں واقع ہے۔ارکان میں سے 16 ممالک ملکہ برطانیہ کو سربراہ مملکت تسلیم کرتے ہیں جبکہ اکثر رکن ممالک کے اپنے سربراہان مملکت ہیں۔ہر 4 سال بعد اولمپک کھیلوں کی طرز پر دولت مشترکہ کھیل بھی منعقد ہوتے ہیں۔واضح رہے کہ پاکستان نے 1972 میں دولت مشترکہ کی جانب سے بنگلہ دیش کو تسلیم کئے جانے پر احتجاجاََ دولت مشترکہ کی رکنیت چھوڑ دی تھی تاہم 1989 میں ایک مرتبہ پھر تنظیم میں شمولیت اختیار کرلی۔
1999 میں جمہوری حکومت کے خاتمے کے بعد دولت مشترکہ نے پاکستان کی رکنیت معطل کردی تھی تاہم 2004 میں اسے بحال کردیا گیا۔
پاک بھارت تعلقات
دراصل پاک بھارت تعلقات روز اول سے ہی کشیدگی کا شکار ہیں ۔دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے لاتعداد تصفیہ طلب مسائل دونوں ممالک کے خوشگوار تعلقات کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔اگرچہ چھوٹے بڑے دیگر مسائل بھی ہیں مگر سب سے زیادہ اہمیت کے حامل اور حساس آٹھ مسائل کو قرار دیا گیا ہے ہیں۔
ان آٹھ مسائل میں سر فہرست کشمیر کا مسئلہ ہے ۔ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ کشمیر سمیت تمام مسائل پر ایک ساتھ بات ہونی چاہیے کیونکہ دیگر تمام مسائل کی بنیاد کشمیر کا تنازعہ ہے۔ اگر مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرلیا جائے تو دیگر مسائل کا حل تلاش کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ کشمیر کے علاوہ دیگر مسائل پر بھی گفتگو ساتھ ساتھ ہونی چاہے اور دیگرامور پر پیش ر فت کو کشمیر میں کشیدگی کی وجہ سے نہیں روکا جاسکتا۔
بھارت کا اصرار ہے کہ ریاست کشمیر ہمارا حصہ ہے اور پاکستان کا اصرار ہے کہ کشمیر ہمارا حصہ ہے۔ اس پر اب تک تین جنگیں ہو چکی ہیں۔جبکہ وہاں کے عوام کی جدوجہد مسلسل جاری ہے۔1948کے آغاز میں ہی یہ مسئلہ عالمی برادری کی نظر میں آچکا تھا۔ چنانچہ اس وقت کے بھارت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کشمیری عوام کی رائے جاننے کے لیے اقوام متحدہ میں کشمیر میں ریفرنڈم کرانے کا وعدہ کر لیا یعنی کہ اگر عوام کی اکثریت پاکستان میں شامل ہونا چاہے گی تو کشمیر پاکستان کا حصہ اور اگر عوام کی اکثریت نے بھارت میں شامل ہونے کیلئے ووٹ ڈالا تو کشمیر بھارت کا حصہ ہو گا۔
بھارت کے اس جمہوری طریقہ کار کے مطابق اور اخلاقی طور سے مناسب فیصلے کو ساری عالمی برادری نے سراہا مگر دوسری طرف بھارت نے ریفرنڈم کرانے کی بجائے کشمیر کو آئینی طور پر اپنا حصہ قرار دے دیا۔اس کے بعد دونوں ریاستیں ایک دوسرے کی جانی دشمن بن گئی۔جس کی وجہ سے دیگرتصفیہ طلب مسائل بھی پیدا ہوتے چلے گئے۔
دوسرا مسئلہ پاکستان اور بھارت میں جونا گڑھ کا تنازعہ بھی موجود رہا ہے جہاں کی سمندری حدود پر متعدد بار گفتگو ہو چکی ہے جبکہ تیسرے نمبر پر انتہائی اہمیت کے علاقے سر کریک کا مسئلہ بھی موجود ہے۔
ہندوستانی ریاست گجرات اور پاکستانی صوبے سندھ کے علاقے میں ہندوستان اور پاکستان کے مابین بین الاقوامی سرحد کے تعین پر بھی اتفاق ہونا باقی ہے۔ یہ بھی 1947سے التوا میں چلا آرہا ہے۔یہ علاقہ سر کریک کا علاقہ کہلاتاہے۔ ساٹھ سے سو کلومیٹر کے اس علاقے میں بہت سی کریک یعنی خلیج اور دریاوٴں کے دہانے ہیں۔ اس علاقے کا تنازعہ 1960کی دہائی میں سامنے آیا تھاجس پر 1968میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک ویسٹرن باوٴنڈری ٹرائیبیونل ایوارڈ قائم کیا گیا۔
لیکن یہ طے نہیں ہوسکا کہ سر کریک کے علاقے میں بین الاقوامی سرحد کا تعین کس قانونی بنیاد پر کیا جائے۔ اس علاقے کا کچھ حصہ آبی ہے اور کچھ حصہ خشک۔ پاکستان اور بھارت کے مابین کئی دفعہ اس مسئلہ پر مذاکرات ہوچکے ہیں لیکن اس پر بھی کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔بھارت کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں سرحد کے تعین کے لئے بین الاقوامی قانون کا وہ اصول استعمال کیا جائے جو سمندر کے اندر سرحد کے تعین کے لئے بنایا گیا ہے۔
جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ اصول صرف پانی والے علاقے پر عائد ہوتا ہے لیکن یہاں پانی اور خشکی دونوں موجود ہیں لہذا بھارت کا استدلال غلط ہے۔ دونوں ممالک کی اس علاقے میں دلچسپی یہاں پر ماہی گیری کی وسیع صنعت اور تیل کے وافر ذخائر کی وجہ سے ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان اختلاف اس بات پر ہے کہ آخر سرحد کس جگہ پر قائم کی جائے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ سرکریک کا پورا علاقہ اسکا اپنا ہے۔
لیکن ہندوستان اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔ سرکریک کے علاقے میں سرحدی برجیاں لگانے کے لیے دونوں ممالک نے گزشتہ برس ایک مشترکہ سروے بھی کیا تھا جس کو مقررہ وقت سے پہلے ہی مکمل کر لیا گیا تھا۔ مگر پھر بھی مسئلہ جوں کا توں باقی رہا۔چوتھا اہم مسئلہ وولر پروجیکٹ کا ہے جو بھارت دریائے جہلم پر کشمیر میں وولر پروجیکٹ کے نام سے ایک ڈیم بنا رہا ہے جس کی پاکستان شروع سے ہی مخالفت کرتا رہا ہے۔
بھارت کا یہ کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ پانی سے بجلی پیدا کرنے کے لئے تعمیر کیا جا رہا ہے اور اس کا پانی دیگر ذرائع کیلئے بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔ جبکہ پاکستان کو خدشہ ہے کہ گرمی کے موسم میں دریائے جہلم میں پانی کی کمی واقع ہوسکتی ہے۔جس کی وجہ سے اس کے ہاں پانی کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں کیونکہ پاکستان کو پہلے ہی پانی کی کمی کا سامنا ہے۔
جبکہ اندرون ملک بھی پانی کے ذخائر بنانے پر اختلافات موجود ہیں۔ دریائے جہلم بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے شروع ہوکر پاکستان میں ختم ہوتا ہے۔جبکہ بھارت وولر پراجیکٹ کی طرح ایک دوسرا پراجیکٹ دریائے چناب پر تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ جسکو پانچواں مسئلہ کہا جا سکتا ہے۔یہ دریا بھی ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر سے شروع ہوتا ہے اور پاکستان کے دریائے سندھ میں شامل ہوکر سمندر میں گرتا ہے۔
پاکستان کو خدشہ ہے کہ اس دریا پر ہندوستانی پراجیکٹ کی وجہ سے پاکستان میں پانی کی کمی ہوسکتی ہے۔ اسے سلال ڈیم کا نام بھی دیا گیا ہے۔ ان دونوں منصوبوں پر دونوں ملکوں کا اتفاق ہونا باقی ہے۔ پاکستان کو یہ بھی خطرہ ہے کہ ہندوستان ان منصوبوں کو مستقبل میں سفارتی سطح پر برتری حاصل کرنے کے لئے استعمال کرسکتا ہے۔چھٹا مسئلہ تجارتی تعلقات کا ہے۔
اب پاکستان اور بھارت ڈبلیو ٹی او کے ممبر ہیں جو ایک آزاد تجارتی معاہدہ ہے۔عالمی تجارتی تنظیم یعنی ڈبلیو ٹی او کے قوانین کے تحت وقت کے ساتھ ساتھ اس تنظیم میں شامل تمام رکن ممالک کے لیے لازمی ہے کہ دنیا میں آزاد تجارت قائم کرنے کے لئے ایک دوسرے کو ایم ایف این یعنی خصوصی مراعات یافتہ قوم کا درجہ دیں۔ ایم ایف این کا درجہ جس ملک کو دیا جاتا ہے وہاں سے اشیاء کی درآمد اور برآمد میں تاجروں کے لئے آسانی ہوجاتی ہے۔
چنانچہ اس بارے میں بات چیت تو جاری رہتی ہے مگر ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔ایک ساتواں دیگر مسئلہ جو ابھی چند سال سے ہی پیدا ہوا ہے وہ ہے گیس پائپ لائن منصوبہ۔پاکستان اور ایران نے 1995 میں ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت ایران سے کراچی تک ایک گیس پائپ لائن بچھانے کا فیصلہ کیا گیا تھا تا کہ پاکستان کو ایران کی قدرتی گیس ترسیل کی جاسکے۔
بعد میں ایران نے یہ مشورہ دیا کہ اس گیس پائپ لائن کو بھارت تک لے جایا جائے تاکہ ایران سے بھارت کو بھی گیس فراہم کی جاسکے۔ پاکستان اور بھارت اصولی طور پر اس گیس پائپ لائن کے منصوبے پر متفق ہیں لیکن دیگر مسائل کی طرح سیاسی کشیدگی کی وجہ سے اب تک اس معاملے پر بھی معاہدہ نہیں ہوسکا۔ چونکہ یہ گیس پائپ لائن پاکستان سے گزرے گی اس لئے بھارت کو عدم تحفظ کا خطرہ لاحق رہے گا۔
ایک اندازے کے مطابق یہ گیس پائپ لائن بچھالی جائے تو پاکستان کو اپنی سرزمین سے گیس کی ترسیل کے لئے تقریبا 70 کروڑ ڈالر کا سالانہ محصول ملے گا۔ آٹھویں نمبر پرپاکستان کا بھارت کے درمیان ایک اور تنازعہ چل رہا ہے وہ سیاچن کا مسئلہ ہے۔یہ مسئلہ تنازعات کی فہرست میں 1984 میں شامل ہوا جب ہندوستان نے اپنی افواج کو ہمالیہ کی ان چوٹیوں پر یہ کہتے ہوئے بھیج دیا کہ پاکستان ان پر قبضہ کرنے والا ہے۔
حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ 1947کے بعد سے اس علاقے میں دونوں ممالک میں سے کسی کی بھی فوج نہیں تھی کیونکہ یہ علاقہ انتہائی بلند ہونے کی وجہ سے یخ ٹھنڈا علاقہ ہے۔ جہاں پر درجہ حرارت منفی سے بھی بہت نیچے تک رہتا ہے اور عام حالات میں وہاں پر زندہ رہنا انسانی جسم کیلئے ممکن نہیں۔اس پر بھی دونوں ممالک میں جنگ ہو چکی ہے جو دنیا بھرمیں انتہائی بلندی پر لڑی جانے والی ایک مہنگی جنگ تھی ۔
جہاں دونوں ملک اپنی افواج کو وہاں رکھنے کے لئے کروڑوں روپے روزانہ صرف کرتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین اس پر کئی بار مذاکرات ہوئے کہ اس علاقے سے اپنی اپنی افواج واپس بلا لی جائیں،مگر دونوں ممالک کسی فیصلے تک نہ پہنچ سکے۔
”را“کی پاکستان کے خلاف سازشیں
پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ پاکستان بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“کی پاکستان میں مداخلت کے ثبوت عالمی دنیا کے سامنے پیش کرے گا ۔
ماضی قریب اور دور کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ بھارت میں وقوع پذیر ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار کا واقعہ کا الزام بھارت فوراََ پاکستان پر عائد کر دیتا ہے جبکہ اس کے برعکس بھارت پاکستان میں اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے کھلم کھلا مداخلت کر رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان کو ایک سے زیادہ بار کہنا پڑا ہے کہ پاکستان بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“کی پاکستان میں سرگرمیوں کے ثبوت اقوام عالم کے سامنے پیش کرے گا ۔
یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی”را“کا قیام ہی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے وجود میں آیا تھا ۔ اس وقت بھی پاکستان کے دو صوبوں ،بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں1971کی تاریخ دہرائی جارہی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ 1971 میں مکتی باہنی تھی اور اب بی ایل اے اور دیگر بے شمار عسکریت پسند جماعتیں ہیں جو پاکستانی فورسز کے خلاف نبرد آزما ہیں ۔
مکتی باہنی کی طرح ان تنظیموں کو بھی بھارت، امریکہ ،روس اور دیگر پاکستان مخالف قوتوں کی مدد حاصل ہے۔بلوچستان اور کے پی کے میں یہ تنظیمیں انڈین اسٹیبلشمنٹ کے بدنام زمانہ منصوبے ’ کاؤ پلان‘ پر عمل پیرا ہیں جس کے مطابق انڈیا پاکستان کو مشرقی پاکستان سے بے دخل کرکے وہاں بنگلہ دیش قائم کر چکا ہے ۔ اب انڈیا بلوچستان اور کے پی کے کو پاکستان سے الگ کرنے کی سازش پر عمل کر رہا ہے جس کی اس نے کئی سال پہلے منصوبہ بندی کی تھی ۔
اس مقصد کے لیے وہ خفیہ کارروائیاں اور کھلے عام سازشوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کا دہشت گردوں کی مدد کرنے کا دوسرامقصد پاکستان افواج کو کمزور اور بدنام کرنا ہے ۔ کاؤ بوائز کا منصوبہ کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں رہی۔ اس کے بڑے مقاصد میں پاکستان کو توڑنا شامل ہے۔ اس منصوبے کے پہلے حصے پر آزاد ریاستوں کو پاکستان سے الگ کرکے عمل کیا گیا،دوسرے حصے کے مطابق مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا کر پورا کیا گیا۔
اب اس منصوبے کے تیسرے حصے پر عمل کیا جارہا ہے۔
1960کی دہائی کے آخری سالوں میں جب اندرا گاندھی انڈیا کی وزیراعظم بنی تو اس کی بنیادی ترجیحات میں ہندوستان کی تقسیم کوختم کرنا تھا جس کے سبب ایک نئی ریاست پاکستان وجودمیں آئی تھی۔ جو بھارتی لیڈروں کے لیے روز اول سے تکلیف کا باعث بنی ہوئی ہے۔ مذکورہ بدنام زمانہ منصوبے ’ کاؤ پلان‘ کا معمار بھارتی خفیہ ایجنسی را ( قائم 1969 ) کا پہلا چیف ( 1969تا1977 ) اورمشہور جاسوس رامیشور ناتھ کاؤ تھا۔
رامیش انڈیا کے پرانے انٹیلی جنس افسروں میں سے ایک تھا اور نہرو خاندان کی طرح وہ بھی کشمیر سے انڈیا آیا ہوا تھا۔ اس نے ہی ’ را‘ قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھاجس کے اندوہناک کارناموں اور منصوبوں کی تفصیلات ’ daily mail,s research میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان تفصیلات میں واضح اشارے ملتے ہیں کہ جب اندرا گاندھی نے نئی دہلی میں وزارت عظمیٰ کا چارج سنبھالا تو اسنے انڈین انٹیلیجنس کو حکم دیا کہ وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی جامع منصوبہ بندی کرے، اسے ایک ناکام ریاست میں تبدیل کر دے اور دوقومی نظریہ جو تخلیق پاکستان کا جواز بنا اس کو باطل قرار دینے کی ہر ممکن کوشش کی جائے ۔
240صفحات پر مشتمل یہ منصوبہ جو ابھی تک ” دی کاؤ پلان“ کے نام سے انڈیا میں مخفی طور پر موجود ہے ، جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے اس کے تین آپریشنل مراحل طے کیے گئے۔ اور خدا ناخواستہ پاکستان کو ختم کرنے کے لیے انڈین حکام نے اس کا نام ’سہہ جہتی حکمت عملی ‘ رکھا ۔ اس کے پہلے مرحلے کا نام ’ کاؤ بنگلہ پلان‘ رکھا گیاجو صرف بنگلہ دیش میں مداخلت کر کے اسے پاکستان سے الگ کرکے ایک نئی ریاست بنانے کے لیے مخصوص کیا گیا۔
اس منصوبے کا دوسرا نام ’ کاؤ کا بلوچستان ‘رکھا گیا جس کی تشکیل کا مقصد بلوچستان میں بھی بنگلہ دیش جیسے حالات پیدا کر نا تھا۔ جبکہ تیسرے مرحلے میں خیبر پختون خواہ میں جس میں تخریب کاری کے لیے ایک تحریک کو پیدا کرنا اور پھر اسے پاکستان سے الگ کرنا شامل تھا۔ جب اندرا مشرقی پنجاب میں آپریشن بلیو سٹار کے ردعمل میں قومی اور بین ا لاقوامی تنقید کا رخ موڑنے کے لیے بلوچستان میں کاؤ پلان کے جاری کرنے کا حکم دینے والی تھی کہ وہ مذہبی جذبے میں ملغوب اپنے ہی سکھ گارڈز کے ہاتھوں قتل ہو گئی۔
اندرا کے قتل کے بعد اس کا بڑابیٹا راجیو گاندھی انڈیا کا وزیر اعظم بنا۔راجیو کو شک تھا کہ را کی گمراہ کن رپورٹس اور اطلاعات اس کی والدہ کے قتل کا باعث بنی تھیں، اس لیے اس کے اندر را اور اس کے اعلیٰ پالیسی میکروں کے لیے شدید نفرت پا ئی جاتی تھی ۔راجیو کو بھی را کے حمایت یافتہ تامل دہشت گردوں نے قتل کر دیا ۔ آخر کار ، سونیا گاندھی نے 2004..2005 میں جب پاکستان ہر طرف سے خطرات میں گھرا ہوا تھاتو را کے کاؤ پلان کو پاکستان میں جاری کر دیا گیا۔
یاد رہے کہ اس دوران پاکستان کے افغانستان حکومت کے ساتھ تعلقات درست نہ تھے۔انڈین مداخلت کے ایک سال بعد بلوچستان میں بہت کچھ خوفناک حد تک تبدیل ہو گیا۔ کاؤ پلان کے ذریعے اکبر بگٹی اور اس جیسی سوچ رکھنے والے دیگر قبائلی سرداروں کو وفاقی حکومت سے بدظن کر دیا گیا،بلوچ سردار صوبے میں علیحدگی کی تحریک چلانے کے لیے بھارتی ایجنسی کے سامنے سر نگوں ہو گئے۔
یہی نہیں بلکہ ایک نئی آذاد ریاست کا نام ’ اسلامی امارات آف بلوچستان ‘ رکھ دیا ۔ بعض خبروں کے مطابق اس نئی ریاست کا قیام اسرائیل میں عمل میں آیا۔ بلوچستان میں را کے کاؤ پلان کا آغاز کردیا گیا ہے جسے انڈین اور مغربی ادارے ” را کا بلوچستان کے لیے کاؤ پلان “ کا نام دیتے ہیں ۔ ایک سٹڈی میں اسے 1971کا کھیل ہی کہا گیا ہے صرف کھیل کے چند اصول اور کھلاڑی تبدیل ہوئے ہیں ۔
اب اگر پاکستان کہتا ہے کہ بھارتی ایجنسی ”را“کی پاکستان میں کی جانے والی سازشوں کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرے گا تو یہ پاکستان کا قانونی ، اخلاقی اور سماجی حق ہے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہوئے اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات کرے ۔
وقت اشاعت : 2015-08-12

(1) ووٹ وصول ہوئے

Zabeeh Ullah Balghan

مصنف کا نام : ذبیح اللہ بلگن

ذبیح اللہ بلگن کی مزید تحریریں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

اپنی رائے کا اظہار کریں