تازہ ترین : 1
Bill Doo Bijli Loo

بل دو۔بجلی لو

بجلی کے وزیرکا قابل تحسین اقدام۔۔۔۔دیر آید درست آید کے مصداق کچھ اقدامات نظر آنے لگے ہیں۔ وزارت پانی و بجلی نے پہلے مرحلے میں 100سے زائد سرکاری و نجی وفاتر کی بجلی منقطع کردی

ہمارا ایک معاشرتی رویہ بن چکا ہے کہ کسی بھی کام کو انجام دینے سے پہلے موثر منصوبہ بندی نہیں کی جاتی بلکہ جب مصیبت سر پر آن کھڑی ہوتی ہے تو کام کا آغاز کیا جاتا ہے ۔ ایسا ہی کچھ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے ہے۔ ماضی میں کسی حکومت نے اس جانب دھیان ہی نہیں دیا جس کا نتیجہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔
۔ اس ضمن میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ، پارلیمنٹ لاجز اور ایوان صدر کے کنکشن بھی کاٹ دئیے گئے۔
یہ تمام احکامات وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے دئیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی صرف اسے ملے گی جو بل ادا کرے گا۔ عابد شیر علی کے ان احکامات پر نہ صرف کچھ سیاستدانوں نے تعریف کی ہے بلکہ عوام میں بھی اسے اچھی خبر سمجھا جارہا ہے کیونکہ بجلی کے بلوں کی باقاعدہ ادائیگی صرف عام لوگ کرتے ہیں اور باقی مراعات یافتہ طبقہ اس جانب کوئی توجہ نہیں دیتا۔
ان کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں بہت زیادہ مظاہرے اور احتجاج ہوتے ہیں انہیں جگہوں پر بجلی چوری کے واقعات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ تمام اداروں کے خلاف بلا تفریق کارروائی ہوگی۔
پاک سیکرٹریٹ، پی ڈبلیو ڈی، سندھ ہاؤس، موٹر وے پولیس، پٹرولیم کمیشن، وزارت ماحولیات، نادرا، سی ڈی اے، ایف ڈبلیو اور پنجاب جیل سمیت دیگر بہت سے ایسے بڑے اداروں کی بجلی کاٹ دی گئی۔
ان اداروں میں صرف سی ڈی اے ہیڈ کوارٹر ایک ارب روپے سے زائد بجلی کا نادہندہ ہے۔ باقی اداروں کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ بہت سے نجی و سرکاری اداروں نے آئیسکون کے 3ارب روپے دینا ہیں۔یہ بھی ہدایات ہیں کہ جن علاقوں میں 90فیصد تک خسارہ ہے۔ ان علاقوں میں 20گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوگی۔ کئی اہم وزارتوں کی بجلی بھی منقطع کردی گئی ہے۔ وزیر مملکت پانی و بجلی کے اس عمل کو ملک بھر میں بہت سراہا جارہا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ بجلی چوری کرنے والے افراد 18کروڑ عوام کا حق مارتے ہیں۔ بجلی چوروں کے خلاف مہم ایک اچھا طرز عمل ہے۔ وہ لوگ جو پورا بل ادا کرتے ہیں انکا تعلق عام طور پر غریب اور متوسط طبقے سے ہے۔ با اثر لوگ ہی بجلی چوری کرتے ہیں اور دوسری جانب ایک بہت بڑ اطبقہ جو کارخانوں اور فیکٹریوں کی مد میں نادہندہ ہے۔ ان کا سار ابوجھ بھی غریب عوام پر پڑتا ہے۔
یوں ان بیچارے لوگوں کا کیا قصور ہے۔ جو پوری ایمانداری سے بل ادا کرتے ہیں۔ بجلی چوروں اور نادہندگان کے خلاف ایسا ہی آپریشن چند ماہ پہلے بھی کیا گیا تھا۔ آپریشن کے ابتداء میں بہت زور شور تھا مگر بعد میں اسکے وہ نتائج نہیں سامنے آئے جو آغاز میں تھے۔ گیس کی چوری بھی عوام ہے۔ عمومی طور پر گیس کی چوری سی این جی اسٹیشن مالکان اور فیکٹری مالکان کرتے ہیں۔
گو اس میں کمی تو آئی ہے مگر مکمل طور پر اس پر قابو نہیں پایا گیا۔ کچ ایسے افراد بھی ہیں جو بجلی و گیس چوری کے خلاف کئے گئے آپریشن کو سیاسی رنگ دینے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو بھی کسی صورت معاف نہیں کرنا چاہیے خواہ حکومت کو اس ضمن میں کتنی ہی مشکلات اٹھانی پڑیں۔ یہ ایک طرح کی سیاسی بلیک میلنگ ہے جس کے ذریعے خود کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
پاکستان میں بہت سے ایسے علاقے بھی ہیں جہاں صرف 20فیصد لو ہی بل ادا کرتے ہیں، باقی سب بجلی چوری کرتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں بجلی، گیس ، ٹیکس اور دیگر ایسے سرکاری وسائل کی چوری کو چوری نہیں سمجھا جاتا ہے جبکہ یہ بھی چوری ہی سب سے بڑی چوری ہے۔ اگر چند بڑے بجلی چوروں کو قرار واقعی سزائیں دی جائیں تو یقیناََ دوسرے چھوڑ دیں۔
حکومت کو اس سلسلے میں کرپٹ واپڈ ااہلکاروں کو بھی احتساب کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے کیونکہ بہت سے سرکاری اہلکار بھی لاکھوں کروڑوں کی بجلی چوری کرانے میں ملوث ہیں۔ واپڈا اہلکاروں کی کرپشن کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ یہاں ایک لائن میں سے لے کر بڑے بڑے افسران خود بجلی چوری کرانے میں معاونت کرتے ہی۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئیٹر پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتفاق فاؤنڈری بھی 40ملین کی نادہندہ ہے مگر اس کی بجلی منقطع نہیں کی گئی۔

بلاول بھٹو کے اس بیان کا جواب تو عابد شیر علی ہی دیں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے 5سالہ دور حکومت میں تو کسی بھی نادہندہ ادارے کی بجلی نہیں کاٹ گئی۔ اگر اتفاق فاؤنڈری 40ملین کی نادہندہ ہے تو پی پی حکومت نے یہ کام اس وقت کیوں نہ کیا؟
پی پی کے دور میں تو کسی نادہندہ ادارے کی بجلی منقطع کرنا تو دور کی بات ہے کسی بجلی چور پر بھی ہاتھ نہ ڈالاگیا۔
تحریک انصاف کے وائس چیئر مین شاہ محمود قریشی نے بڑے ادروں کی بجلی منقطع کرنے کا حکم دینے پر وزیر مملکت عابد شیر علی کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ ”زبردست عابد شیر علی ! آپ نے متاثر کن کام کیا ہے۔ نادہندگان بجلی کے مستحق نہیں ہیں۔“
پارلیمنٹ کے بجلی و گیس کنکشن کاٹے جانے پر چیئر مین سینٹ سید نیئر حسین بخاری نے سی ڈی اے پر شدید برہمی کا اظہا رکیا اور کہا کہ سی ڈی اے نے بل جمع کروائے ہوتے تو آج جنگ ہنسائی نہ ہوتی۔

وزارت پانی و بجلی نے عدم ادائیگیوں پر ایوان صدر‘ وزیراعظم سیکرٹریٹ‘ پارلیمنٹ ہاؤس‘ لاجز کے علاوہ متعدد اہم اداروں کی بجلی منقطع کردینے کے بعد دیکھنا یہ ہے کہ یہ عمل حقیقت میں کیا بہتری لاتا ہے۔ بجلی چوری اور نادہندہ کمپنیوں اور اداروں کے کلاف آپریشن کو خاص طورپر بغیر کسی امتیاز کے جاری رکھا جاتا ہے یا چند دنوں کے بعد معاملہ گول ہوجاتا ہے۔
وقت اشاعت : 2014-05-10

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں