تازہ ترین : 1
Bilawal Ki Mushkilaat

بلاول کی مشکلات۔۔۔۔ ٹرمپ کا روڈ میپ

آصف علی زرداری کرپشن کے مقدمات میں گیارہ سال جیل اور چار سال امریکہ میں رہے لہٰذا بلاول بھٹو کی تعلیم و تربیت محترمہ بے نظیر بھٹو نے کی۔ بلاول کی شخصیت میں بھٹو خاندان کا رنگ اور لہجہ نمایاں ہے۔ بلاول بھٹو کی پہلی مشکل یہ ہے کہ اسے بھٹو اور زرداری خاندان کے تضادات کا سامنا ہے۔ وہ اپنے نانا اور ماں کی سیاسی روایت کیمطابق عوامی، نظریاتی اور انقلابی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔ انکی شخصیت صاف ستھری ہے جو ان کا بہترین سیاسی اثاثہ ہے

قیوم نظامی:
آصف علی زرداری کرپشن کے مقدمات میں گیارہ سال جیل اور چار سال امریکہ میں رہے لہٰذا بلاول بھٹو کی تعلیم و تربیت محترمہ بے نظیر بھٹو نے کی۔ بلاول کی شخصیت میں بھٹو خاندان کا رنگ اور لہجہ نمایاں ہے۔ بلاول بھٹو کی پہلی مشکل یہ ہے کہ اسے بھٹو اور زرداری خاندان کے تضادات کا سامنا ہے۔ وہ اپنے نانا اور ماں کی سیاسی روایت کیمطابق عوامی، نظریاتی اور انقلابی سیاست کرنا چاہتے ہیں۔
انکی شخصیت صاف ستھری ہے جو ان کا بہترین سیاسی اثاثہ ہے مگر جب وہ بھٹو، بے نظیر کے ساتھ زرداری کو جوڑتے ہیں تو انکے بارے میں عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے ہیں۔ ”آصف زرداری سب پہ بھاری“ بلاول بھٹو کے راستے کا ”بھاری پتھر“ بن چکے ہیں۔ پی پی پی جب بلاول کی مکمل گرفت میں آجائے گی تو اسکے بعد شاید ”بھاری پتھر“کو راستے سے ہٹانے میں کامیاب ہوسکیں۔
بلاول کی سیاسی مقبولیت کا غبارہ پنجاب کی فضاوٴں میں اڑنے لگا تھا کہ آصف زرداری خوفزدہ ہوکر پاکستان واپس آگئے۔ انہوں نے ضمنی انتخاب لڑ کر پارلیمنٹ میں جانے کا اعلان کردیا۔ اس غیر متوقع اعلان نے پنجاب کے جیالوں کو حیران، پریشان کردیا اور اعتزاز احسن سکتے میں آگئے۔ آصف زرداری عوامی سیاست سے نابلد اور جوڑ توڑ کی سیاست کے ماہر ہیں۔
آجکل وہ امریکہ کی نئی سیاسی قیادت کو رام کرنے کیلئے سفارت کاری کررہے ہیں جس کا واحد مقصد ”اگلی باری“ لینا ہے۔ سندھ حکومت کی انتہائی ناقص کارکردگی بلاول بھٹو کی سیاسی اٹھان میں بڑی رکاوٹ ہے جس پر انہیں خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ سندھ میں عوام کے مسائل حل نہیں کرسکتے تو پنجاب میں انکے دعووٴں پر اعتبار نہیں کیا جائیگا۔
بلاول بھٹو کی ایک اور مشکل یہ ہے کہ وہ پی پی پی کے اہم جیالوں اور لیڈروں کے سیاسی پس منظر سے آگاہ نہیں ہیں لہٰذا ایسے لیڈر بھی انکی ٹیم میں شامل ہورہے ہیں جو اپنے انتخابی حلقوں میں عوامی سطح پر غیر مقبول ہیں۔ناہید خان محترمہ بے نظیر بھٹو کی قابل اعتماد پولیٹیکل سیکریٹری رہی ہیں۔ آجکل محترمہ کی شخصیت اور سیاست پر کتاب لکھ رہی ہیں جس میں پورا سچ ہوگا اور کئی سیاسی چہرے بے نقاب ہونگے۔
انہوں نے بتایا کہ بلاول کی ٹیم میں جو لیڈر شامل ہیں وہ پارٹی کے عوامی مزاج اور نظریاتی سیاست سے ہی آگاہ نہیں ہیں۔پارٹی کی بدقسمتی یہ ہے کہ عوام نے بلاول بھٹو کو لیڈر تسلیم کرلیا ہے مگر کلیدی نوعیت کے فیصلے آصف زرداری کررہے ہیں۔ لیڈر جب تک آزاد اور خودمختار نہ ہو وہ پارٹی کی قیادت کرنے، اسے فعال اور متحرک بنانے سے قاصر رہتا ہے۔ بلاول بھٹو کو سکیورٹی تھریٹ بھی ہے لہذا وہ عوام میں گھل مل نہیں سکتے۔
لیڈر جب تک عوام کے درمیان نہ ہو وہ عوام کے دلوں میں گھر نہیں کرسکتا۔ ان مشکلات کے باوجود بلاول بھٹو کی لاہور سے فیصل آباد پہلی ریلی کامیاب رہی جس سے ثابت ہوا کہ پی پی پی کے جیالوں نے انہیں اپنا نیا لیڈر تسلیم کرلیا ہے۔ لاہور کے پوش علاقے میں وسیع و عریض بلاول ہاوٴس کی تعمیر پی پی پی کی عوامی نظریاتی سیاست کے منافی ہے۔ پی پی پی کا ووٹ بنک غریب، محنت کش عوام پر مشتمل ہے۔
نظریات کی بجائے سرمایے کی طاقت پر سیاست کرنیوالے آصف زرداری اس سیاسی فلسفے کا ادراک ہی نہیں کرسکتے۔لاہور سے ریلی کا آغاز اگر داتا دربار سے کیا جاتا تو اس ریلی کا امپیکٹ زیادہ ہوتا۔ اسی طرح ریلی کا اختتام دھوبی گھاٹ فیصل آباد میں ہونا چاہیئے تھا۔ 45سالہ سیاسی تجزیے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ 2018ء کے انتخابات میں پی پی پی عمران خان کے ووٹ توڑے گی جس کا فائدہ مسلم لیگ (ن) کو ہوگا۔
آصف زرداری اس ” خفیہ تعاون“ کے بدلے میاں نواز شریف سے دس سے پندرہ نشستیں لینے میں کامیاب ہوجائینگے اور اگر میاں نواز شریف پانامہ لیکس کا مقدمہ ہار گئے تو پنجاب میں ایسی ”عمرانی لہر“ اْٹھ سکتی ہے جو مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی دونوں کو بہا کر لے جائیگی۔ بلاول بھٹو پنجاب میں قومی اسمبلی کی ان نشستوں کو ٹارگٹ کریں جن میں پی پی پی کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں تاکہ وہ پنجاب میں قدم جمانے کے قابل ہو سکیں اور وہ 2018ء کے انتخابات کے بعد پورے پاکستان کا لیڈر ہونے کا دعویٰ کرسکیں۔
بلاول بھٹو نے ایک ماہ کیلئے امریکہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیاست فل ٹائم جاب ہے اس میں چھٹی نہیں ہوتی۔
امریکہ کے نئے صدر ٹرمپ نے حلف اٹھالیا ہے۔ وہ امریکی تاریخ کے متنازعہ ترین صدر ثابت ہوئے ہیں انکے خلاف امریکہ سمیت دنیا کے اہم ملکوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جن میں لاکھوں خواتین نے شرکت کی۔ ایک خاتون رہنما نے کہا ”ہم خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کیلئے مظاہرہ کررہی ہیں۔
ٹرمپ سے انسانیت کو خطرہ ہے“۔ صدارتی انتخاب میں پاپولر ووٹ میں برتری کے باوجود تکنیکی بنیاد پر شکست سے دوچار ہونیوالی اْمیدوار ہیلری کلنٹن نے ٹویٹ پیغام میں احتجاجی مظاہرین سے کہا ہے کہ وہ ”امریکی اقدار“ کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے نہ صرف امریکی سٹیٹس کو بلکہ روایتی ورلڈ آرڈر کو چیلنج کیا ہے گویا وہ ایک ایسے انقلاب کا خواب دیکھ رہے ہیں جو امریکہ اور دنیا کا چہرہ بدل کررکھ دے۔
ٹرمپ نے صدارت کا حلف اپٹھانے کے بعد اپنے پہلے سرکاری خطاب میں اپنے وڑن کا روڈ میپ دیا ہے جو قابل توجہ ہے۔ ٹرمپ نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے ”اسلامی دہشت گردی“ کے مکمل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔ مفکرین میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ سابق صدر امریکہ بارک اوبامہ اس فکر سے اتفاق کرتے تھے۔ اْمید ہے ٹرمپ بھی آہستہ آہستہ اصل حقائق کو سمجھنے لگیں گے۔
جب انہیں سی آئی اے کی خفیہ رپورٹوں کو پڑھنے کا موقع ملے گا تو ان پر یہ راز کھلے گا کہ طالبان، القائدہ اور داعش سب دہشتگرد تنظیموں کا خالق اور سرپرست خود امریکہ ہے جن کا مقصد عالم اسلام کو کمزور اور منقسم کرنا ہے۔ اگر ٹرمپ ان تنظیموں کی سرپرستی چھوڑ دیں تو عالمی امن کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسلمان ممالک یہ کیسے گوارا کرسکتے ہیں کہ وہ ایسی دہشت گرد تنظیموں کی حوصلہ افزائی کریں جو انکے اپنے ہی ملکوں میں دہشتگردی کرکے ریاستوں کو کمزور کرنے لگیں۔
دہشتگردی عالمی مسئلہ بن چکا ہے جسے دنیا کی اقوام متحد ہوکر ہی حل کرسکتی ہیں۔ ٹرمپ نے سب سے پہلے سی آئی اے ہیڈ کواٹر کا دورہ کرکے سی آئی اے کے افسروں کو ہدایت کی کہ وہ ”اسلامی دہشتگردی“ کیخلاف جنگ کی تیاری کریں ۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ 1000فیصد خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے امریکن میڈیا پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکہ کے صحافیوں کا شمار دنیا کے بڑے بددیانت انسانوں میں ہوتا ہے“۔

نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ تمام قوموں سے دوستی کی جائیگی۔ سب قوموں کا حق ہے کہ اپنے قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ دوسرے ملکوں کی سرحدوں کا دفاع کرنے کی بجائے امریکہ کی سرحدوں کو محفوظ بنائیں گے۔ انکا یہ عزم قابل ستائش ہے وہ اگر دنیا کے مختلف ملکوں میں مقیم امریکی افواج کو واپس بلا سکیں تو یہ ان کا تاریخی کارنامہ ہوگا۔
طاقتور امریکی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ انکو یہ اقدام کبھی نہیں اْٹھانے دیگی۔ ٹرمپ نے امریکی عوام کو نوید سنائی کہ متوسط طبقے کے خاندانوں پر خصوصی توجہ دی جائیگی۔ اقتدار واشنگٹن سے عوام کو منتقل کیا جائے۔ امریکی سیاستدان خوشحال ہوگئے ہیں جبکہ فیکٹریاں بند ہوچکی ہیں اور امریکی شہری بے روزگار ہوگئے ہیں۔ ٹرمپ نے جاپان سمیت گیارہ ملکوں سے فری ٹریڈ معاہدے ختم کردئیے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا شہریوں کے بچوں کو سکول اور ہسپتال چاہئیں۔ اسٹیبلشمنٹ نے اپنا دفاع کیا مگر عوام کا دفاع نہیں کیا۔ ہم چیلنجوں اور مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے اپنے ایجنڈے پر عمل کرینگے اور ہمارا سلوگن ”امریکہ فرسٹ“ ہوگا۔ پاکستان کے ریٹائرڈ سینئر سفارت کار اشرف جہانگیر قاضی نے ٹرمپ کے مواخذے "Impeachment" کی پیشن گوئی کی ہے جسے عجلت پر مبنی قراردیا جائیگا۔
ہر نئے حکمران کے بارے میں رائے زنی سودن کے بعد ہی کی جاسکتی ہے۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق دوبار امریکہ کے صدر رہنے والے بارک اوبامہ اپنے لیے کرایے کا مکان تلاش کررہے ہیں جبکہ نائب صدر جوبائیڈن کیلئے اپنے بیٹے کے کینسر کا علاج کرانے کیلئے اپنا گھر بیچنے کی نوبت آگئی تھی۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے ”شرم“ اور ”حیا“ کے الفاظ کو پارلیمانی قراردیا تھا جب وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں یہ الفاظ عمران خان اور انکے رفقاء کیلئے استعمال کیے تھے لہذا یہ پارلیمانی الفاظ غریب ملک کے ان حکمرانوں کیلئے استعمال کیے جاسکتے ہیں جو عوام کی دولت لوٹ کر بیرونی ملکوں میں لے گئے اور کروڑوں عوام کو بھوک و افلاس میں مبتلا کردیا۔
انتہاء پسند اور نسل پرست صدر ٹرمپ کے خیا لات کی روشنی میں عالم اسلام کے رہنماوٴں کو بیدار ہونا پڑیگا۔ وہ اپنے ملکوں کے قومی مفادات کے تحفظ کیلئے نئی حکمت عملی تیار کریں۔ عالم اسلام کے دانشور بدلتے عالمی حالات کے تناظر میں مسلمانوں کی رہنمائی کرسکتے ہیں۔
وقت اشاعت : 2017-01-26

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں