تازہ ترین : 1
Bijli choroon K Khilaf Karwai

بجلی چوروں کے خلاف کارروائی… عابد شیر علی ڈٹے رہیں

ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) نے اپنے علاقے میں 25 ایسے فیڈر تلاش کئے ہیں جہاں 28 سے لیکر 38 فیصد تک بجلی چوری ہو رہی ہے۔ بجلی تو ہر فیڈر پر چوری ہو رہی ہوگی

راوٴ شمیم اصغر:
ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) نے اپنے علاقے میں 25 ایسے فیڈر تلاش کئے ہیں جہاں 28 سے لیکر 38 فیصد تک بجلی چوری ہو رہی ہے۔ بجلی تو ہر فیڈر پر چوری ہو رہی ہوگی۔ کہیں کم ہوگی کہیں زیادہ فی الحال تو ان 25 فیڈرز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جہاں تقریباً ایک تہائی یا اس سے بھی زیادہ بجلی چوری کی جا رہی ہے اور وزارت پانی و بجلی نے ایسے تمام فیڈرز جن پر بجلی چوری کی وجہ سے نقصان کی شرح 25 فیصد سے زائد ہے ان کیلئے ”نوید“ ہے کہ وہاں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھا دیا جائے اور اس کا فائدہ ان علاقوں کو پہنچایا جائے جہاں کم بجلی چوری ہو رہی ہے۔
میپکو نے اس ضمن میں جو اعداد و شمار جاری کئے ہیں وہ بڑے دلچسپ ہیں۔ ضلع ملتان میں چھ ایسے فیڈر ہیں جہاں بجلی چور دھڑلے سے اپنا ”ہنر“ دکھا رہے ہیں۔ ان میں ایک ملتان شہر کا فیڈر ہے سانگی نام کا یہ فیڈر ملتان شہر کی اضافی آبادیوں کو بجلی فراہم کر رہا ہے۔ باقی پانچ تحصیل شجاع آباد کے علاقے علی پور سادات کے غازی پور‘ قادر پور‘ علی پور (شجاع آباد)‘ الفرید‘ ظفر آباد نام سے ہیں۔
سادات کے نام پر اس بستی میں اتنی بڑی تعداد میں بجلی چوری ہونا حیران کن ہے۔ ضلع راجن پور میں فاضل پور قصبے کا حاجی پور فیڈر اور روجھان فیڈر ضلع ڈیرہ غازیخان میں فورٹ منرو فیڈر اور شادن لْنڈ‘ کوٹ ماہی فیڈر سے بجلی چوری اپنے عروج پر ہے۔ لیکن صادق آباد کا نواحی قصبہ جمال دین والی میں جعفر لال فیڈر بجلی چوری کی دوڑ میں سب پر نمبر لے گیا ہے۔
جہاں 38 فیصد سے بھی زائد بجلی چوری ہوتی ہے۔ جمال دین والی فیڈر نمبر 2 سے ساڑھے 35 فیصد‘ رنگ پور (جمال دین والی) سے 28.7 فیصد‘ سون میانی فیڈر سے 29.9 فیصد‘ جمال دین والی فیڈر نمبر 12 سے 28.8 فیصد‘ فیڈر نمبر 8 سے 29 فیصد اور سٹی فیڈر نمبر 11 سے 29 فیصد بجلی چوری ہو رہی ہے۔ اس طرح ایک ہی قصبہ کے سات فیڈروں سے اوسطاً تقریباً ساڑھے اکتیس فیصد بجلی چوری کر لی جاتی ہے۔
صادق آباد کو یر اعزاز حاصل ہے کہ اس کے قصبہ احمد پور لمہ میں غازی‘ ماہی‘ موسیٰ نگر‘ نواز آباد‘ چوک چھاور اور میرے شاہ نامی چھ فیڈروں سے 28 فیصد سے زائد بجلی چوری ہو رہی ہے۔ ضلع رحیم یار خان کی تحصیل خان پور کا میانوالی قریشیاں فیڈر نمبر 4 اور نمبر10 (ظاہر پیر کا علاقہ) میں بھی بالترتیب 28.4 اور 29.3 فیصد بجلی چوری ہو رہی ہے۔ ملتان الیکٹرک پاور کمپنی میپکو کی جانب سے یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مذکورہ فیڈرز میں بجلی چوری روکنا ان کے بس کی بات نہیں کیونکہ چیکنگ ٹیموں کو یرغمال بنانے اور ان پر تشدد کے واقعات بھی ہوئے ہیں۔
ان علاقوں میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ ایک طرف بجلی چوری ہوتی ہے۔ دوسری جانب جو چوری نہیں کرتے وہ بل ادا نہیں کرتے۔ میپکو کا صرف ان 25 فیڈرز پر نقصان کروڑوں میں ماہانہ ہے۔ چیکنگ ٹیموں کو یرغمال بنانے اور ان پر تشدد کا مطلب واضح ہے کہ ان علاقوں میں حکومتی گرفت نہیں ہے۔ یہ شمالی وزیرستان کے علاقے نہیں ہیں۔ پنجاب کے گنجان آباد علاقے ہیں جہاں طالبان نہیں وڈیرے رہتے ہیں۔
ان وڈیروں میں بڑے نامی گرامی سیاستدان شامل ہیں جو وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی براجمان ہیں۔ مذکورہ 25 فیڈرز کے بیشتر علاقوں میں حکومتی بااثر سیاستدان رہائش پذیر ہیں۔
اکا دکا فیڈرز ایسے بھی ہیں جہاں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاستدان رہتے ہیں۔ لیکن وہ بھی اتنے بااثر ہیں کہ چیکنگ ٹیموں کے وہاں جاتے ہوئے پر جلتے ہیں۔ ان 25 فیڈرز کے رہائشی عوام کو بتایا گیا ہے کہ 12 مئی 2014ء سے جب دیگر علاقوں میں لوڈشیڈنگ 8 گھنٹے ہوگی تو مذکورہ فیڈرز کے علاقوں کے رہائشی افراد کو 14 گھنٹے لوڈشیڈنگ برداشت کرنا ہوگی۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان علاقوں میں جو لوگ باقاعدگی سے بل ادا کر رہے ہیں اور میپکو کی نظر میں شریف شہری ہیں۔ ان کا کیا قصور ہے؟ کہ وہ معمول سے 6 گھنٹے زائد لوڈشیڈنگ کا صدمہ برداشت کریں۔
وزارت پانی و بجلی کا کہنا ہے کہ جو ”شریف شہری“ ان لوگوں کی نشاندہی کریں جو بجلی چوری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ حقائق یہ ہیں کہ میپکو کے عملے کو سب علم ہے کہ کون کون بجلی چوری میں ملوث ہیں۔
پھر عوام بجلی چوروں کی نشاندہی کر بھی دیں تو میپکو حکام تو خود اعتراف کر رے ہیں کہ یہ علاقے ان کیلئے نو گو ایریاز بنے ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں انکی ٹیموں کو یرغمال بنایا جاتا ہے۔ ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔ ان حالات میں کوئی شخص نشاندہی کر کے ان بااثر افراد کی دشمن مول نہیں لے گا۔ وزارت پانی و بجلی کو چاہئے کہ وہ بجلی چوری کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کرے۔
وزیر مملکت عابد شیر علی ”شیر“ ہونے کا ثبوت دیں شیروں کی کچھاروں تک رسائی حاصل کرنے کے ذرائع تلاش کریں۔ شریف شہری اول تو اس بات کا رسک ہی نہیں لے سکتے کہ وہ بجلی چوروں کی نشاندہی کریں۔ دوسرے یہ بات ویسے بھی بڑی مضحکہ خیز ہے 14 گھنٹے لوڈشیڈنگ برداشت کرنے والا کوئی بھی شریف شہری عدالت جا پہنچا کہ اس کا کیا قصور ہے تو عدلیہ اسے ریلیف دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گی۔
بجلی چوروں کو پکڑنا‘ بجلی چوری کی روک تھام‘ لائن لاسز کم کرنا‘ بل وصول کرنا‘ یہ سب وزارت پانی و بجلی کی فوج ظفر موج کا کام ہے۔ حکومت اپنی رٹ دکھائے اور ان گریبانوں میں ہاتھ ڈالے جو اسمبلیوں میں تو عوام کیلئے بڑی دھواں دھار تقریریں کرتے ہیں لیکن اپنے علاقوں میں بجلی چوری کر کے شریف شہریوں کیلئے پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ان بجلی چوروں کی نشاندہی کی ضرورت ہی نہیں حکام کو سب پتہ ہے اور کسی بھی علاقے میں بجلی چوری اس وقت تک ممکن نہیں جب تک حکام ملوث نہ ہوں۔ وزارت پانی و بجلی بجلی چوری میں سرفہرست فیڈروں کے نام شائع کرانے کی بجائے ان لوگوں کے نام چھپوانے کی ہمت کرے جو اس جرم میں ملوث ہیں۔
وقت اشاعت : 2014-05-24

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں