تازہ ترین : 1
Benazir Bhutto Qatal Case

بے نظیر بھٹو قتل کیس

مارک سیگل کے بیان نے نئے سوالات جنم دے دئیے۔۔۔۔ مشرف پھر توجہ کامرکز،جیالوں کی جانب سے گرفتاری اور سزادینے کامطالبہ زور پکڑنے لگا

سالک مجید:
سابق وزیراعظم شہید جمہوریت بے نظیر بھٹو کے مقدمہ قتل میں اہم گواہ کی حیثیت سے مارک سیگل کے بیان نے ہلچل مچادی ہے اور سابق آمرحکمران جنرل ریٹائرڈپرویزمشرف کاکردار پھر توجہ کا مرکزبن گیا ہے۔بے نظیر بھٹو نے اپنی موت سے قبل مارک سیگل کو اہم ای میل کی تھی اور مشرف کی جانب سے ملنے والی دھمکی آمیز کال اور صورتحال کاذکرکرتے ہوئے کہہ دیا تھا کہ میرے جان کو خطرہ ہے اگر مجھے کچھ ہوگیا تو اس کاذمہ دار پرویزمشرف ہوگا اس کے علاوہ حمید گل،پرویزالٰہی کی نشاندہی بھی کی گئی تھی۔
مارک سیگل کو ایک بہادردلیراور ذہین شخص قرار دیتے ہوئے یہ ای میل کی گئی تھی۔اب مرک سیگل کاویڈیولنک کے ذریعے بیان سامنے آگیا ہے یہ اس مقدمے میں ایک بڑی پیش رفت بتائی جاتی ہے جبکہ سابق صدرپرویزمشرف کے وکلاء بھی متحرک ہوگئے ہیں اور اب مارک سیگل کے بیان کاقانونی پہلوؤں سے جائزہ لیا جارہا ہے جس کے بعد مارک سیگل پر جرح بھی کی جانی ہے اس میں مزید اہم پہلو سامنے آسکتے ہیں۔
بظاہر یہ بیان پرویزمشرف کی حدتک اہم قرار دیا جارہا ہے اور میڈیا میں اس پر کافی زور شور سے بحث شروع ہوگئی ہے جس میں متضاد آراء سامنے آرہی ہیں۔ایک طرف یہ کہا جارہا ہے کہ بے نظیربھٹو کی ای میل کے حوالے سے مارک سیگل کابیان بڑی اہمیت کاحامل ہے اور بے نظیرکی سلامتی کو مشرف کاٹرائل ہونا چاہیے ان سے پوچھ گچھ کی جانی چاہیے اور اس معاملے کومنطقی انجام تک پہنچانا چاہیے اس میں قانون اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے چاہیں اور کسی کو بھی قانونی اور انصاف کے تقاضوں کوپورا کرنے کے حوالے سے اعتراض نہیں کرنا چاہیے دوسری طرف یہ رائے بھی سامنے آرہی ہے کہ مارک سیگل کے بیان کے باوجود جوپرویزمشرف کامعاملہ صاف ہے اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور کچھ بھی نہیں ہوگا۔
یہ مقدمہ یوں ہی لٹکارہے گا اور تاریخ پر تاریخ پڑتی رہے گی۔قانونی ماہرین کاکہنا ہے کہ مقدمہ زیر سماعت ہے اس لئے مارک سیگل کے بیان اس پر جرح اور اس کے اثرات کے حوالے سے فی الحال کچھ کہنا مناسب نہیں ہے یہ معاملہ عدالت میں آگے بڑھے گا اور عدالت ہی بہتر فورم ہے جہاں اس کیس کے حوالے سے مزید قانونی سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں اور ان پر بات کی جانی چاہیے۔
عدالت میں زیرسماعت مقدمے کی پش رفت قانون کے مطابق ہوتی ہے اس میں وقت بھی لگتا ہے اور تمام فریقین کوبھی سنا جاتا ہے۔ملزمان کی نشاندہی اور اس کے بعد ان کوکلاء کی خدمات حاصل کرنے اور پھر ان کاموقف سامنے آنے کاموقع بھی دیا جاتا ہے۔ظاہر ہے کہ جب مارک سیگل کے حوالے سے کچھ نئی باتیں سامنے آئیں گی یاجو باتیں بھی مقدمے میں ریکارڈ کاحصہ بتائی جائیں گی ان کی حیثیت بھی چیلنج کی جاسکے گی۔
وکلاء صفائی کوبھی پورا موقع ملے گا خودپرویزمشرف کابیان بھی ہوگا ان کاموقف بھی لیا جائے گا لیکن اس سے پہلے وکلا کے درمیان قانونی امور پر بحث ہوگی۔
سوشل میڈیا پر تومارک سیگل کابیان آنے کے بعد سے پرویزمشرف کے خلاف جیالوں نے دھواں دھارمہم شروع کررکھی ہے اور مشرف کو گرفتار کرو کاٹرینڈنمایاں ہے جس کے جواب میں مشرف کے حامیوں نے بھی خوب کمنٹس کہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے جیالوں کاکہنا ہے کہ اب مشرف کوگرفتار کیاجائے اور ٹرائل کرکے سزادی جائے۔
مشرف کے حامیوں کاکہناہے کہ پہلے مشرف کوگرفتار تو کرو پھر ٹرائل بھی کرلینا۔
سینئر اینکرز اور صحافیوں نے بھی ٹاک شوز میں اس موضوع پر کھل کر بحث شروع کردی سیاستدان بھی اپنا موقف بیان کررہے ہیں یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ کیا نوازشریف حکومت کو مشرف کا ٹرائل کرنا چاہیے یاان کو خاموشی سے امریکہ یابرطانیہ روانہ کردینا چاہئے کیونکہ 3نومبر2007ء کی ایمرجنسی نافذکرنے کے معاملے میں جب مشرف کاٹرائل کرنے کاعمل شروع کیا گیا توعام تاثر تھا کہ حکومت عدم استحکال سے دوچار ہوگئی تھی اور اس حکومت کے ساتھ کافی کچھ ہوچکا ہے جو اس کے لئے واضح پیغام ہے اس پر سنیئر صحافیوں کاکہنا ہے کہ احتساب سب کاہونا چاہئے ہر کسی کے ساتھ مساوی سلوک ہونا چاہئے۔
رویہ ایک جیسا ہونا چاہئے،برابری کی بنیاد پر قانون سب کے لئے حرکت میں آنا چاہئے آیاوہ کوئی سویلین ہویا نان سویلین اگر کسی نے قانون توڑا ہے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے اور آئین وقانون میں اس کے بارے میں واضح راستہ موجود ہے تو قانون آئین کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے۔سب کو قانون کاسامنا کرنے کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے اور اگر کسی نے غلطی کی تو سزا ملنی چاہئے اور اگر غلطی نہیں کی قانون نہیں توڑا،حلف کی خلافورزی نہیں کی تو پھر اس کوٹرائل اور عدالت کاسامنا کرنے سے خوفزدہ بھی انہیں ہونا چاہئے۔

ایک طرف سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹوکے مقدمہ قتل کے حوالے سے پیش رفت ہورہی ہے تو دوسری طرف سیاسی محاذ پر بھی پرویز مشرف خود کو متحرک کر چکے ہیں انہوں نے مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کے اتحاد کی جانب پیش پیش رفت کرلی ہے اگرچہ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بختہ ہوکہ مختلف انتخابی نتائج سے ثابت ہوچکا ہے کہ اس وقت ملک میں مسلم لیگ ہی ہے جونواز شریف کی سربراہی میں کام کررہی ہے بالکل اس طرح جس طرح پیپلز پارٹی وہی ہوتی ہے جو بھٹو خاندان کے ساتھ اور ایم کیوایم وہی ہوتی ہے جو الطاف حسین کے ساتھ ہے یہ عوام کافیصلہ ہے جومختلف الیکشن میں سامنے آچکا ہے اس کے برعکس جو بھی پیپلزپارٹی ایم کیوایم اور مسلم لیگ بنانے کی کوشش کی گئی اسے عوامی حمایت اورمقبولیت حاصل نہیں ہو سکی وہ عارضی طور پر کنگزپارٹی تو ضرور بنی لیکن عوام میں پزیریرائی حاصل نہیں کرسکی لہٰذا ملک گیر سطح پر مسلم لیگ کے جتنے بھی دھڑے جمع کرلئے جائیں وہ سب مل کر بھی مسلم لیگ ن کے مقابلے میں بونے نظر آتے ہیں یہی حال پیپلزپارٹی سے بغاوت کرکے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنانے والوں کاہمیشہ ہواہے اب دیکھنا یہ ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں کیا نتائج سامنے آتے ہیں مشرف کی اے پی ایم ایل (آل پاکستان مسلم لیگ) نے بھی بلدیاتی الیکشن بھرپور طریقے سے لڑنے کااعلان کردیا ہے اور تیاریاں جاری ہیں سندھ اور پنجاب میں اگلامعرکہ تو صحیح معنوں میں بلدیاتی انتخابات میں ہی ہوگا لیکن اس سے قبل قومی سایست کی توجی ان اے 122لاہور کے ضمنی الیکشن پر مرکز ہے جہاں پی ٹی آئی ایاز صادق کوہرانے کے لیے پورا زور لگائے گی اور مسلم لیگ ن کی حکومت کے لئے بھی یہ ایک اور سٹیٹ کیس ہوگا۔
وقت اشاعت : 2015-10-08

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں