تازہ ترین : 1
Basalahiyat Afrad Mulk Se Jaa Rahe Hain

باصلاحیت افراد ملک سے جارہے ہیں

ہزاروں محنتی نوجوان ہر سال بیرون ملک منتقل ہوجاتے ہیں،ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کو دیہات میں بھی میڈیکل کی سہولیات فراہم کرنے میں ڈاکٹروں کو مشکلات کاسامنا تھا

عمیر ناصر:
ظہیر گزشتہ 4برس سے پنجاب کے ایک قصبہ کے سرکاری ہسپتال میں بطور ڈینٹل سرجن کام کررہاتھا۔ وہ ہمیشہ غیر معمولی قابلیت کاحامل رہا لیکن گزشتہ چند برسوں میں اسکی کوشش ہمیشہ یہ رہی کہ وہ کسی بھی طرح بیرون ملک جا کر کام کرے۔ زیادہ پیسہ کمانے کی دھن کے ساتھ وہ ہر وقت ملکی حالات پر بھی کڑھتا رہتا تھا۔ آخر ایک دن اسے ویزہ مل ہی گیا اور وہ بیرون ملک روانہ ہوگیا۔

ایسی اکثر کہانیاں آپ کے ارد گرد موجود ہوں گی۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے نوجوان پاکستان سے والہانہ محبت کرتے ہیں مگر ساتھ ہی اپنے بہتر مستقبل کی خاطر وطن چھوڑنے پر بھی آمادہ رہتے ہیں۔ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ہر نعمت سے نوازا ہے مگر بدانتظامی کی وجہ سے ہم قدرت کے عطا کئے ہوئے قطیات سے فوائد حاصل نہیں کررہے ۔ آج وہ نوجوان جن کی تربیت پر لاکھوں خرچ ہوتے ہیں ، ملک و قوم کی خدمت کا وقت آتا ہے تو دوسے ممالک میں جاکر خدمات انجام دینے لگتے ہیں۔
ہر شعبہ زندگی میں پاکستان کے پاس بہترین دماغ موجود ہیں۔ مگر ان بہترین افراد کی ذہانت پاکستانیوں کے کام نہیں آتی۔
اس کی بڑی وجہ ہمارے ملک کی کمزور معاشی حالت ہے۔ جب یہاں نوجوانوں کو ان کی محنت کے مطابق معاوضہ نہیں ملتا تو وہ دوسرے ممالک جانے کے خوہاں ہوتے ہیں ۔ بیرون ملک جانے سے قبل ہی وہ وہاں روزگار تلاش کر کے جاتے ہیں۔ یا پھر وہاں پہنچ کر اپنی قابلیت کے مطابق تلاش شروع کردیتے ہیں۔
زیادہ اکثریت ان نوجوانوں کی ہے جو اپنے شعبے میں عمدہ کارکردگی کی بدولت ترقی یافتہ ممالک میں ویزے کی درخواست بھیجتے ہیں اور مناسب جگہ پر نوکری شروع کر دیتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر شخص کو بہتر سے بہتر کی تلاش ہوتی ہے اور جائز طریقے سے معاشی طور پر مضبوط ہونا ہر کسی کا حق ہے۔ یوں بھی بیرون ملک جانے والے یہ نوجوان وہاں سے زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں۔
بہت سے ایسے نوجوان بھی ہیں جو پاکستان میں موجود اپنی جائیداد فروخت کر کے بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ کچھ ایسے پڑھے لکھے نوجوان بھی ہیں جو سیاحتی ویزا پر بیرون ملک جاتے ہیں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بیرون ملک مناسب روزگار تلاش نہیں کرپاتے۔ اپنی تعلیمی قابلیت کے برعکس معمولی نوکری کرنے پر ہی اکتفا کرلیتے ہیں یہ نوجوان کئی کئی برس وہاں ایسے ہی گزار دیتے ہیں جبکہ وہ اپنی اس قابلیت کے تحت اپنے ملک میں کوئی روزگار اپنالیتے تو اتنے ہی پیسے کماسکتے تھے۔

عام طور پر ایسے ممالک کا رخ کیاجاتاہے جہاں کی کرنسی نسبتاًزیادہ مستحکم ہو۔ عرب ممالک کے علاوہ امریکہ اور یورپ کے بیشتر ممالک میں جانے کا رجحان زیادہ ہے۔ ان ممالک میں یہ نواجوان اکثر بمشکل اپنے معاملات چلاتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان ،بھارت ، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک کا ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو بیرون ملک جا کر نہ صرف مراعات حاصل کررہا ہے۔
پاکستان سے بھی بہت سے ڈاکٹر، انجینئرز، بیکار اور وکلا بڑی تعداد میں سعودیہ عرب، متحدہ عرب امارات، عمارن مسقط، کویت، بحرین، امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور ایسے کئی ممالک میں جاتے ہیں۔عموماََ یہ نوجوان اپنے شعبوں میں ماہر ہوتے ہیں۔ ان ممالک میں موجود اوہ ادارے جو پاکستان کے ان قابل لوگوں کو ملازمت مہیا کرتے ہیں وہ ویزہ دینے سے پہلے ہر طرح ان کی چھان پھٹک کر کے ہی انہیں وہاں آنے کا موقع دیتے ہیں۔
دوسری جانب دیکھا جائے تو یہ نوجوان ہمارا سرمایہ ہیں جو اپنے ملک میں خدمات فراہم کرنے کی بجائے دوسرے ملک چلے جاتے ہیں۔ اگر انہیں یہاں بہتر تنخواہ اور سہولیات فراہم ہوں تو کبھی بھی دورے ملک جانے کو ترجیح نہ دیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کہ دیہات میں بھی میڈیکل کی سہولیات فراہم کرنے میں ڈاکٹروں کو مشکلات کاسامنا تھا مگر پاکستانی اور بھارتی ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر میڈیکل سٹاف نے یہ کمی کسی حد تک پوری کردی ہے۔
جبکہ پاکستان اور بھارت کے دیہاتوں میں اب بھی میڈیکل کی سہولتوں کا فقدان نظرا ٓتا ہے۔ اس ساری صورتحال کے پیچھے جو شے سب سے زیادہ متحرک نظر آتی ہے وہ معاشی مسائل سے چھٹکارا پانے کی کواہش ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس طبقے کیلئے آسانیاں پیدا کرے جو ملک کے ایسے شعبوں سے منسلک ہیں جن کی بدولت ملکی تعمیر و ترقی ممکن ہوتی ہے۔
وقت اشاعت : 2014-03-20

(2) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں