تازہ ترین : 1
Balochistan Ka Kashmir Se Muazna Nahi

بلوچستان کا کشمیر سے موازنہ ممکن نہیں

بھارت عرصہ دراز سے کشمیر کا بدلہ بلوچستان میں لینے کی بھرپور کوشش کررہا ہے۔ بارہا بھارتی حکمرانوں نے دھمکی بھی دی ہے کہ پاکستان کشمیر کو بھول جائے ورنہ اسے بلوچستان سے ہاتھ دھونا پڑیگا ۔ بھارتی جاسوسوں کا نیٹ ورک افغانستان کے راستے بلوچستان میں باآسانی اپنا نیٹ ورک جو گمراہ مقامی نوجوانوں پر مشتمل ہے چلا رہے ہیں۔ علیحدگی پسند چند ایک رہنما بھی دیار غیر میں بیٹھ کر علیحدگی پسندی کے جذبات کو ہوا دے رہے ہیں

جی این بھٹ:
بھارت عرصہ دراز سے کشمیر کا بدلہ بلوچستان میں لینے کی بھرپور کوشش کررہا ہے۔ بارہا بھارتی حکمرانوں نے دھمکی بھی دی ہے کہ پاکستان کشمیر کو بھول جائے ورنہ اسے بلوچستان سے ہاتھ دھونا پڑیگا ۔ بھارتی جاسوسوں کا نیٹ ورک افغانستان کے راستے بلوچستان میں باآسانی اپنا نیٹ ورک جو گمراہ مقامی نوجوانوں پر مشتمل ہے چلا رہے ہیں۔
علیحدگی پسند چند ایک رہنما بھی دیار غیر میں بیٹھ کر علیحدگی پسندی کے جذبات کو ہوا دے رہے ہیں۔ ان کی پشت پر بھی بھارتی ہاتھ ہے جو انہیں رقوم کے علاوہ سیاسی پناہ بھی دیتا ہے۔ بلوچستان اور بھارت کے درمیان بظاہر کوئی سرحدی رابطہ نہیں مگر افغانستان میں موجود بھارت نواز حکومتیں اور پاکستان مخالف گروہ اپنے بھارتی آقاوٴں کی طرف ملنے والی فراخدلانہ امداد کی بدولت کھل کر پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں شورش پھیلانے کے درپے رہتے ہیں۔
بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد روز اول سے ہی ہمارے اسلامی اور پڑوسی افغانستان نے نجانے کیوں پاکستان کی مخالفت اپنے دل میں بٹھا لی۔ اسکے باوجود پاکستان نے ہمیشہ فراخدلی کا مظاہرہ کیا اور افغانستان کو تجارت کیلئے فری ٹریڈ جیسی سہولت دی۔ واہگہ سے قندھار، طورخم سے کابل اور کراچی سے افغانستان تک ہر طرح کی زمینی اور سمندری تجارتی سہولتیں فراہم کیں۔
اسکے باوجود 1975ء تک بھارت کی شہ پر افغانستان نام نہاد پشتونستان کا ڈھول بجاتا رہا۔ خدا خدا کرکے روس کے حملے کے بعد یہ ڈھول بند ہوا۔ اب بھی کچھ عناصر اس مردہ جسم سے لپٹے ہوئے ہیں مگر اس میں جان پڑتی نظر نہیں آئی کیونکہ یہی لوگ اسلام آباد سے اعلیٰ مراعات اور عہدے حاصل کرکے خوب مزے لوٹ رہے ہیں اورعوام کو بے وقوف بنانے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔
بھارت نے پشتونستان میں ناکامی کے بعد آزاد بلوچستان کے نام پر گمراہ بلوچ سرداروں کو ساتھ ملاکر اب ایک بار پھر علیحدگی کی تحریک کیلئے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیئے ہیں۔ اعلیٰ تربیت یافتہ ”را“ کے ایجنٹوں نے افغانستان میں بے شمار گمراہ نوجوانوں کو گوریلا چھاپہ مار جنگ کی تربیت دی مگر خدا کا شکر ہے کہ بلوچوں کی اکثریت انکے جھانسے میں نہیں آئی اور اب بھارت اپنے ایجنٹوں اور مٹھی بھر بلوچوں کے ساتھ مل کر بلوچستان میں اِکا دْکا کارروائیاں کر رہا ہے۔
اسکے باوجود پورے بلوچستان میں زندگی معمول کیمطابق ہے۔ حکمران گوادر، پسنی، پنجگور، لسبیلہ، خاران، قلات، خضدار سے لیکر کوئٹہ تک کہیں بھی اس طرح کی بغاوت نظر نہیں آتی ،جس طرح کشمیر میں جگہ جگہ نظر آتی ہے۔ وادی کشمیر میں کشمیری گزشتہ 70 برسوں سے علیحدگی کی اپنی تحریک خود چلا رہی ہے۔ انکے اس حق خود ارادیت کو اقوام عالم اور اقوام متحدہ تسلیم کرچکے ہیں۔
بھارت نے کشمیریوں کی اکثریت کے جذبات کے برعکس کشمیر پر جبری قبضہ کر رکھا ہے۔ 7لاکھ مسلح افواج وہاں تعینات ہیں۔ بجلی، آٹا، دال، چا ول، گوشت، سبزیاں، تیل اور پٹرول سے لیکر گیس تک پر بھارتی حکومت وہاں دل کھول کر سبسڈی دیتی ہے کہ کسی طرح کشمیریوں کو رام کیا جاسکے۔ کیا بلوچستان میں کہیں ایسی سہولت یا رشوت نظر آتی ہے جو پاکستان بھی بھارت کی طرح دے رہا ہے۔
ان تمام تر مراعات کے باوجود کشمیری جگہ جگہ شہروں، دیہاتوں، میدانوں اور پہاڑیوں میں بھارت کیخلاف نبرد آزما ہیں۔ کھل کر پورے کشمیر میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے پرچم لہراتے ہیں، مرتے اور کٹتے ہیں مگر اپنی تحریک آزادی سے منہ نہیں موڑ رہے۔ کیا ایسی جانثارانہ تحریک کی ادنیٰ سی جھلک بھی بلوچستان میں کہیں دکھائی دیتی ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔
بلوچستان کے عوام آج بھی پاکستان سے، اپنی آزادی سے محبت کرتے ہیں ۔ وہاں اگر غصہ یا غم بھرا ہوا ہے تو اسکی وجہ وہاں کے نااہل اور ظالم حکمران ہیں جو حکومتی خزانے کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔ اس میں سے عوام کو رتی بھر فائدہ بھی نہیں پہنچاتے۔ بلوچستان میں آج تک وفاقی حکومتوں نے ہمیشہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ فراخدلانہ پالیسیاں اپنائیں۔
کم آبادی اور زیادہ رقبہ کو مدنظر رکھنے کے باوجود کھل کر فنڈز اور مالی مراعاتیں دی گئیں مگر یہ سب صوبائی حکمران اور انکے چہیتے سرکاری افسران کھا گئے۔ آج بھی بے درودیوار کے سکول، طبی مراکز، صنعتی ادارے، صوبائی حکمرانوں کی بے حسی کا رونا رو رہے ہیں۔ صحت کی سہولتوں، پانی بجلی وگیس کی فراہمی کے علاوہ سڑکوں کی تعمیر کیلئے سالانہ اربوں روپے جاری ہوتے ہیں وہ کہاں جاتے ہیں؟ اس کا حساب کتاب کسی کے پاس نہیں۔
اب عوام کو خود اس کا حساب لینا ہوگاتب کہیں جاکر حکمرانوں کو ہوش آئیگا۔ بھارت کی طرف سے کشمیر میں جتنے ترقیاتی کام ہوئے وہ وہاں کے عوام کو خوش کرنے کیلئے ہوتے ہیں۔ اب محبوبہ مفتی کی کٹھ پتلی بھارت نواز حکومت نے 2016ء میں شہیدہونے والے کشمیریوں کو فی کس 5لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ زخمیوں کیلئے بھی مالی امداد کا اعلان ہوا، انکے گھر والوں کو سرکاری ملازمتیں دی جا رہی ہیں۔
یہ سب طریقے کشمیریوں کو بے وقوف بنانے کیلئے ہیں۔ اسکے باوجود وہاں کے لوگ آزادی سے کہ کسی مطالبے پر راضی نہیں ہو رہے۔ اس موازنے سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ بلوچستان اور کشمیر کے حالات میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ بلوچستان میں مٹھی بھر لوگ بھارت کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور مال کما کر نام نہاد علیحدگی کے نعرے لگا رہے ہیں۔ وہ خود اور انکے بال بچے محفوظ ہیں صرف بے گناہ غریب متاثر ہو رہے ہیں جبکہ کشمیر میں پورا کشمیر آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے۔
اتنے لوگوں کو کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، پیسے نہیں دے سکتااس لئے بھارت کشمیر کابلوچستان سے موازنہ کرکے پاکستان کو دھمکا اور عالمی برادری کو گمراہ نہیں کرسکتا۔ سب جانتے ہیں اصل حقائق کیا ہیں۔ بلوچستان میں کسی عالمی ایجنسی کے داخلے پر پابندی نہیں۔ ملکی وغیرملکی آزادانہ جہاں چاہئیں آجا سکتے ہیں جبکہ کشمیر میں کسی غیرملکی تنظیم یا ایجنسی کو آنے کی اجازت نہیں ہے۔
اس لئے دنیا کو آزادی کی تحریک اور شرپسندی میں فرق ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔ بلوچستان 1947ء کے اصول آزادی کے تحت عوام کی مرضی سے پاکستان کا حصہ بنا جو قدرتی طور پر بھی پاکستان سے منسلک ہے، بھارت نے فطری اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا ہے جس کے خلاف کشمیری نبرد آزما ہیں اور آج نہیں تو کل وہ اپنی آزادی حاصل کرکے ہی رہیں گے کیونکہ وہ پیسے لے کر نہیں لڑ رہے۔
وقت اشاعت : 2017-01-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں