بند کریں
منگل مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
بلدیاتی مہم
کہ خوشی سے مر نہ جاتے۔۔۔ حسرت و یاس میں بدل گئی انتخابات کے التواء نے امیدواروں کو ایک مرتبہ پھر بند گلی کا مسافر بنا دیا
محمد ریاض اختر :
” آئین کی آرٹیکل 140الف کے مطابق ہر صوبہ قانون کے ذریعہ مقامی حکومتی نظام قائم کرے گا اور مقای حکومت کے منتخب نمائندگان سیاسی‘ انتظامی اور مالی امور کو منظم طریقہ سے چلائیں گے، الیکشن کمشن آف پاکستان مقامی حکومت کے انتخابات کرائے گا،طویل اور تھکا دینے والی بلدیاتی مہم یاس و حسرت میں اس وقت تبدیل ہو گئی جب پنجاب میں 30اور سندھ میں 16جنوری کو مجوزہ الیکشن کرانے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے الیکشن کمشن نے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا اور سپریم کورٹ نے الیکشن کمشن کو شیڈول تبدیل کرنے کی اجازت دے دی ۔
ہاتھی کے پاوٴں میں سب کا پاوٴں۔۔۔۔۔ ادھر خیبر پختونخواہ حکومت نے بھی 28 فروری میں الیکشن کرنے سے معذرت کرتے ہوئے انتخابات مارچ تک لے جانے کے لئے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا ہے، چیف سیکرٹری کے پی کے ذریعے کی جانے والی درخواست پر الیکشن کمشن نے انہیں عدالت عظمیٰ سے رفوع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ لوکل باڈیز الیکشن کے حوالے سے بلوچستان بازی کے گیا جہاں الیکشن مقررہ وقت پر ہوئے۔
امیدواروں نے خوب مہم چلائی اور ووٹرز کے رائے اپنے حق میں کرنے کے لیے نتیجہ خیز کوششیں کیں۔
11مئی 2013کو دسویں عام انتخابات اور حکومت سازی کے مرحلے کے بعد جمہور پسند سیاستدانوں سے یہ امید بندھ چلی تھی کہ اب بلدیاتی الیکشن شیڈول کے تحت اور عوامی امنگوں کے مطابق جلد کرا دیئے جائیں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا ۔۔۔۔۔ کبھی قومی اسمبلی کے ” معزز اراکین“ کی انتخابات مختصر عرصے کے لیے روک دینے کی متفقہ قرار دادیں سامنے آتی رہیں اور کبھی الیکشن کمشن کی جانب سے بیلٹ پیپرز کی طباعت مقررہ وقت سے قبل مکمل نہ ہونے کے عذد کی بازگشت سنی گئی۔
اس ساری صورت حال کا دلچسپ پہلویہ رہا کہ تمام تر حالات و واقعات میں امیدوار یکسوئی کے ساتھ رابطہ مہم ‘ کمپین اور انتخابی جلسہ و جلوس اور ریلیاں منعقد کرتے رہے۔پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں بلدیاتی امیدواروں کے دو مرتبہ کاغذات نامزدگی کی ”رحمت“ کا مرحلہ طے کرنا پڑا۔امیدوار جنوری کے دوسرے اور تیسرے ہفتے میں جہاں جائنل راونڈز کی تیاری کر رہے تھے وہاں انہیں الیکشن ملتوی ہونے کی بابت افواہ پر مبنی رائے بھی سنناپڑتی۔
بالآخر عید میلاد الینی سے ایک روز قبل سپریم کورٹ نے بلدیاتی الیکشن مزید آگے لے جانے کی اجازت دے دی ۔ لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب میں نئی حلقہ بندیاں کالعدم قرار دے دی تھیں۔ سندھ ہائی کورٹ نے آزاد کمیشن سے حلقہ بندیوں اور دیگر انتخابی امور نبٹانے کا حکم دیا تھا۔
یہ وہ ظاہری عوامل ہے جن کے سبب انتخابات مقررہ وقت پر ہونے ممکن نہ تھے ۔
الیکن کمشن کی نئی ہدایات میں پرانے کاغذات نامزدگی منسوخ کر دیئے گئے تاہم نئے کاغذات جمع کراتے ہوئے ” پرانے “ امیدوار فیس جمع نہیں کرائیں گے۔ نئے ووٹرز اپنے ووٹ کا اندراج بھی کراسکیں گے۔حلقہ بندیوں کے تناظر میں بیلٹ پیپرز کی طباعت ہو گی اس کا مطلب یہ ہوا کہ تین صوبوں میں مارچ کے آخر تک الیکشن ہونے کا امکان کوسوں دور ہے۔۔۔۔
مقامی حکومتوں کا کردار نظر انداز نہیں کیاجا سکتا۔شہر اور دہی زندگی کو رواں دواں بلکہ مسائل سے دور رکھنے میں بلدیاتی ادارے اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں تعمیر وترقی اور عوام کی خدمت پر مقامی حکومتوں کا نظام کامیابی سے چل رہا ہے۔ وطن عزیز میں دوبارہ بلدیاتی اداروں پر” سیاست اور تجربات “ کا کلہاڑہ چلایا گیا کبھی پی ڈی ممبرز اور کبھی ناظم بن کر مقامی نمائندے لوگوں کی توقعات پوری کرتے رہے۔
موجودہ نظام حکومت میں چیئر مینی سسٹم لایا جارہا ہے۔ ہر یونین کو نسل اپنے چیئرمین اور وائس چیئرمین کی قیادت میں علاقائی سطح کے امور وسائل نبٹائے گی۔
مادروطن میں جنرل الیکشن کے بعد مختلف پارٹیوں کے کارکنوں نے بلدیاتی انتخابات کے لئے رابطہ مہم شروع کی ہوئی تھی۔ رمضان شریف‘ عیدالفطر اور عیدالاضحی سمیت دیگر مذہبی وقومی تہواروں پر امیدواروں نے ووٹران سے رابطہ مضبوط کئے رکھا۔
طویل اور تھکا دینے والی مہم اور اب انتخابات کے التواء نے امیدوارں کو ایک مرتبہ پھر بند گلی کا مسافر بنا دیا۔ اس صورت حال میں ہم نے چند سماجی و سیاسی اورعوامی رہنماوں کے ساتھ ساتھ کچھ متوقع بلدیاتی امیدواروں سے بھی بات کی۔ ان سب کا کہنا تھا کہ لگتا ہے کہ سارا کام بغیر ہوم ورک کے ہو رہا ہے۔ کاش حکومت اور الیکشن کمیشن عوام کے بہترین مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرتے ۔
پاکستان مسلم لیگ”ن“ کے مقبول احمد خان ‘ ممب صوبائی کونسل پی ایم این این پنجاب ملک پرویز حیدر‘ مسلم لیگ ”ق“ راولپنڈی کے سٹی صدر ناصف محمود گورو‘ پیپلز پارٹی ضلعی راولپنڈی کی سیکرٹری جنرل محترمہ سمیرا خان، تحریک صوبہ پوٹھوار کے چیئرمین ملک امریز حیدر‘ تحریک انصاف راولپنڈی کے رہنما ملک عرفان رشید‘ مسلم لیگ ن لیبرونگ کے راجہ جواد جالب اور آل پاکستان مسلم لیگ راولپنڈی کے ضلعی رہنما قاضی ضیاء الدین نے اپنے اپنے طور پر مایوسی میں لپٹی ہوئی بات چیت کی۔
بعض دوستوں کا کہنا تھا کہ الیکشن کا انتخابات ملتوی کرنے کا جواز درست تسلیم کر بھی لیا جائے تو پھر بھی نقصان عوام کا ہی ہے۔۔۔۔۔ چودھری آصف محمود گورو کا کہنا تھا کہ طویل ترین انتخابی مہم سے ووٹرز کے ساتھ سپورٹرز بھی تھک گئے۔
خدا خدا کر کے ہم نے دو مرتبہ کاغذات نامزدگی بمعہ فیس جمع کرانے کامرحلہ طے کیا اوراب یہ سرگرمی تیسری بار دھرانے کی سکت نہیں۔
آخر ہم عوامی مفاد کی شکایت درج کرانے کس دیر پر دستک دیں ۔ سمیرا خان نے بتایا کہ بلدیاتی انتخابت میں تاخیر سے عام شہری بہت متاثر ہوگا۔ وہ آج بھی گلی ‘ محلوں کے معمولی کام کے لئے ایم این اے اور ایم پی اے کے ”محتاج“ ہیں۔
لوکل باڈیز سسٹم علاقوں سے مسائل صفائی‘ شجر کاری مہم اور واٹر سپلائی جیسے ایشوز حل کرانے میں مدد ملتی ہے مگر معلوم نہیں انتخابات کا یہ خواب کب پورا ہو گا؟ مقبول احمد خان نے بتایا کہ عام لوگوں کا مہنگائی اور توانائی بحران نے متاثر کیا ہوا ہے ، حکومت ورثے میں ملنے والے مسائل سے نبردآزما ہے۔
بلدیاتی الیکشن میں مسلسل تاخیر الیکشن کمشن کے باعث ہے۔اگر یہ اپنا ہوم ورک پورا کر لیتا ہے تو مسلسل تاخیر اور التواء کی زحمت برداشت کرنا نہ پڑتی ۔ ملک عرفان رشید نے بتایا کہ مقامی حکومتوں کی اہمیت مسلمہ ہے ، لوگوں کو گلی محلوں کے مسائل کے لئے ان ہی اداروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
قوم گذشتہ 5ماہ سے اس انتظار میں ہے کہ لوکل الیکشن ہوں اور وہ اپنے پسندیدہ پینل اور امیدوار کو کامیابی کا تاج پہنائیں لیکن انتخابات مسلسل آگے آگے اور آگے کئے جارہے ہیں۔
”بات چکل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے“ ملک امریز حیدد کا کہنا تھا کہ 11مئی کے انتخابات سے تبدیلی کا جو سفر شروع ہوا تھا وہ بلدیاتی چناوٴ پر ہی مکمل ہوگا، معلوم نہیں اس سفر میں کیوں رکاوٹین ڈالی جا رہی ہیں۔ جب انتخابات کا یہ سفر مکمل ہو گا تو حکومت ہزارہ اور پوٹھوار سمیت نئے مجوزہ صوبوں کی طرف دھیان دے گی ۔ قاضی ضیاء الدین نے بتایا کہ پرویز مشرف دور میں جہاں میگاپراجیکٹ شروع ہوئے جہاں اقلیتوں کے حقق کا تحفظ ہوا ۔
جہاں قومی‘ صوبائی اور بلدیاتی سطح کے انتخاباتی سطح انتخابات میں خواتین کو موٴثر نمائندگی ملی۔
وہاں اس دور کا خاصا یہ بھی تھا کہ لوکل باڈیز الیکشن ہوئے اور مقامی حکومتیں بنیں، ان پانچ سالہ دور میں شہروں اور دیہات مسائل ختم ہوئے، گذشتہ دس برس سے بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے۔ یہ کن جماعتوں اور سیاست دانوں کا قصور ہے؟ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی بات تو عوام دوستی کی کرتے ہیں مگر ان کا عمل عوام دوستی میں نظر نہیں آتا؟ بلدیاتی الیکشن فوری ہوں یہ لوگوں کا مطالبہ ہے ۔
راجہ جواد چالپ نے کہا کہ وزیراعظم میاں نواز شریف مداخلت کرتے ہوئے ایسے اقدامات کریں جس سے بلدیاتی الیکشن فوری منعقد ہوں ، جس جس طرح مختلف ادارئے اپنی آراء دے کر صورت حال کو بندگلی میں دھکیل رہے ہیں اس سے مسلم لیگ”ن‘ ‘ کی کارکردگی پر بھی حرف پڑ رہا ہے، ہمیں امید ہے میاں صاحب عامی بہبود کے لئے انقلابی فیصلہ کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔
ملک پرویز حیدر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں یونین کونسل 39 راولپنڈی سٹی سے چیئرمین کا امیدوار ہوں۔ ہماری گلی میں سٹریٹ لائٹس کا مسئلہ گزشتہ دو اڑھائی ماہ سے درپیش ہے، اب کس سے اور اس جیسے مسائل کا مداوا کرائیں؟ بلدیاتی اداروں کے سرکاری ایڈمنسٹرز کے نوٹس میں بات لاتے ہیں مگر وہ نظر انداز کر دیتے ہیں جب تک مقامی نمائندے نہیں ہوں گے یہ اور اس قسم کے مسائل کیسے ختم ہوں گے؟ لوگوں کی امیدوں کا مرکز یہی ہے کہ لوکل باڈیز سسٹم فعال ہو مگر مسئلے مسائل بتدریج ختم ہوتے رہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-06

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان