تازہ ترین : 1
Baldiyati Intekhabat

بلدیاتی انتخابات،پنجاب کے 12اضلاع میں 31اکتوبر کو انتخابی معرکہ ہوگا

صوبائی دارلحکومت میں حکومتی جماعت مسلم لیگ(ن)کا حقیقی مقابلہ تحریک انصاف سے متوقع ہے۔۔۔۔۔ لاہور کے بلدیاتی انتخابات میں عام انتخابات 2013ء کے مقابلے میں 137566ووٹوں کی کم تعداد سوالیہ نشان ہے

مصنف : ثنا اللہ ناگرہ
پنجاب کے 12اضلاع میں 31اکتوبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کی انتخابی مہم عروج پر پہنچ گئی ہے،پنجاب میں پہلے مرحلے میں منعقد ہونیوالے بلدیاتی انتخابات کے انتخابی معرکے میں مسلم لیگ(ن)،تحریک انصاف ،جماعت اسلامی،پیپلزپارٹی،مسلم لیگ(ق)سمیت آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد حصہ لے رہی ہے،انتخابی فیصلے کی گھڑیاں قریب آتے ہی سیاسی جماعتوں،سیاسی گھرانوں اور حامیوں کی اپنے امیدواروں کیلئے انتخابی مہم فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے،صوبائی دارلحکومت سمیت پنجاب کے شہری علاقوں میں حکومتی جماعت مسلم لیگ(ن) کا اصل مقابلہ تحریک انصاف سے ہے جبکہ لاہور کے کچھ علاقوں میں جماعت اسلامی اور آزاد امیدوار بھی مسلم لیگ نواز کو ٹف ٹائم دینے کیلئے مضبوط پوزیشن میں ہیں تاہم دیہاتی علاقوں میں مسلم لیگ(ن) کاحقیقی مقابلہ پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ(ق)،آزاد امیدواروں کے علاوہ مسلم لیگ(ن)کے اپنے ہی آزاد امیدواروں سے بھی ہے ۔
لاہور سمیت پنجاب کے دوسرے شہروں میں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مسلم لیگ(ن)کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے کیونکہ مسلم لیگ(ن)کو حکومتی اور بڑی سیاسی جماعت ہونے کافائدہ حاصل ہے جس کے پاس قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں موجود ہیں اسی طرح مسلم لیگ(ن)کو 341ارب کے کسان پیکج کا بھی بڑا فائدہ پہنچے گاالیکشن میں پارٹی سربراہوں کے عوام سے رابطے،برادری ازم،تاجر برادری، کاروباری شراکت داری،سب سے بڑھ کر سیاسی پارٹی سے وابستگی بڑی اہمیت کی حامل ہے جو کسی بھی امیدوار کے الیکشن جیتنے کیلئے بڑا کردار ادا کرتی ہے مسلم لیگ(ن)کے قلعہ لاہورپر نظر ڈالیں تو ضمنی انتخاب این اے 122بڑی اہمیت کا حامل ہے جس نے پی ایم ایل این کی جیت اور پی ٹی آئی کی ہار کے باعث انتہائی سیاسی اثرات مرتب کیے ہیں لیکن تحریک انصاف ایک بار پھر دھاندلی کا واویلہ کر کے بلدیاتی الیکشن پر پڑنے والے برے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم اصل فیصلہ 31اکتوبر کو ہونا ہے۔

بلدیاتی انتخابات کو جمہوریت کا حُسن تصور کیا جاتا ہے جس کے ذریعے اقتدار اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی کے ساتھ عوامی مسائل کے حل میں فوری مدد ملتی ہے کیونکہ سرکاری فنڈز کا کافی حصہ نچلی سطح پر منتخب لوگوں کو بھی دیا جاتا ہے جس سے منتخب عوامی نمائندے مقامی سطح پراپنے اپنے علاقوں میں تعلیم و صحت اور ترقیاتی کاموں،ڈرینج سسٹم ،گلی کوچوں میں سڑکوں و سولنگ کی تعمیرومرمت، عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرتے ہیں۔
لیکن پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار جماعتی بنیادوں پر ہونیوالے بلدیاتی انتخابات سے یہ بات واضح ہوجائیگی کہ کس علاقے میں کس جماعت کی سیاسی جڑیں کتنی زیادہ مضبوط ہیں جبکہ انتخابی عمل سے ہر سیاسی جماعت کو جہاں اپنے نامزد امیدواروں کے ووٹوں کی تعداد سے اپنی مقبولیت کا اندازاہ ہوگا وہاں پھر ہر جماعت اپنی مقبولیت بڑھانے کیلئے حقیقی معنوں میں عوام کے فلاحی کاموں اور مسائل حل کرنے کی جانب بھی کوشاں ہوگی۔
بلدیاتی انتخابات کے باعث گلی محلوں،تھڑوں کی سیاست بھی جاگ اٹھی ہے ،انتخابی حلقوں میں خوب گہما گہمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔جگہ جگہ چھوٹی بڑی فلیکسسز،بینرز لگائے گئے ہیں جن پر پارٹی قیادت کی تصاویر بھی نمایاں ہیں۔کارنر میٹنگز کا انعقاد کیا گیا اور ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم کا سلسلہ بھی جاری رہا۔الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کے تحت جمعرات اور جمعہ کی رات جلسے جلوسوں اور کارنرمیٹنگز کی شکل میں انتخابی مہم ختم ہو جائیگی۔
31اکتوبر کومیٹروپولیٹن لاہور کی 274یونین کونسلز میں بلدیاتی الیکشن ہونگے۔جیتنے والے چیئرمین میٹروپولیٹن لاہور کے ممبر بھی ہونگے جو لاہور کے میئر اور نو ڈپٹی میئر کا انتخاب کرسکیں گے جبکہ مخصوص ممبران کیلئے پچیس خواتین ارکان،پانچ کارکن ارکان،تین ٹیکنوکریٹ ارکان،دو نوجوان اراکین اور غیرمسلموں کے درمیان سے دس افراد کا انتخاب بھی کرینگے ۔

پنجاب کے 12اضلاع میں الیکشن کمیشن کے رجسٹرڈ ووٹوں کے مطابق پنجاب میں مرد اور خواتین کے کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 20085329جن میں مرد وں کے رجسٹرڈووٹرز کی تعداد11310912جبکہ خواتین کے رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد8774417 ہے اسی طرح لاہور میں کُل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 4306885،فیصل آباد3944545،گجرات1726760،قصور1614042،اوکاڑہ 1507246،وہاڑی1430692،بہاولنگر1387865،چکوال1009947،پاکپتن898144،لودھراں817445،بھکر765171،ننکانہ صاحب676587ہے،ان بارہ اضلاع میں اگرصرف لاہور کو دیکھا جائے اورلاہور میں ہونیوالے عام انتخابات 2013ء کے کُل رجسٹرڈ ووٹوں کا موازنہ بلدیاتی انتخابات کے کُل رجسٹرڈ ووٹوں سے کیا جائے توواضح ہو جاتا ہے کہ عام انتخابات 2013ء میں لاہور کے(بشمول ضمنی انتخاب این اے 122کے نئے ووٹ 21734) کُل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 4444451بنتی ہے جبکہ اب الیکشن کمیشن کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے رجسٹرڈ ووٹوں کو دیکھا جائے تو لاہور میں کُل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 4306885بنتی ہے جو عام انتخابات کے مقابلے میں 137566ووٹ کم دکھائی دے رہی ہے حقیقت میں عام انتخابات کے اڑھائی سال گزرنے کے بعد نئے ووٹوں کے اضافہ سے یہ تعداد بڑھنی چاہیئے تھی ،گڑبڑ کہا ں ہے اس کا تعین الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں کو کرنا چاہیئے کہ نئی حلقہ بندیاں کرتے وقت لاہور کے ووٹ باہر گئے یا نئے ووٹ شامل نہیں کیے گئے ؟
سیاسی ماہرین کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ضابطہ اخلاق میں یہ بات بھی شامل کرنی چاہیئے کہ الیکشن شیڈول کا اعلان اور انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز ہو جانے کے بعد کسی بھی سیاسی جماعت کی مقبولیت ظاہر کرنے کیلئے کوئی بھی عوامی سروے جاری نہ کیا جائے کیونکہ اس طرح کے سروے الیکشن کا پلڑا پلٹنے میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔
جیتنے والی جماعت یا امیدوار کے الیکشن کوہار میں بدل سکتے ہیں جبکہ ہارنے والی جماعت کیلئے جیت کی ہوا تخلیق کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔لہذا اس قسم کے سروے پر انتخابی مہم کے دوران پابندی ہونی چاہیے،جیسے حال ہی میں پلڈاٹ سروے نے میاں نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ،عمران خان کی مقبولیت میں کمی ظاہر کی ہے اس سروے میں باقی جماعتوں کے قائدین کی مقبولیت بھی ظاہر کی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بلدیاتی الیکشن بظاہر یونین کونسل سطح کا الیکشن ہے لیکن امیدواروں نے انتخابی مہم پر کروڑوں روپے لگا دیئے۔
وقت اشاعت : 2015-10-30

(0) ووٹ وصول ہوئے

Sanaullah Nagra

مصنف کا نام : ثنا اللہ ناگرہ

ثناء اللہ ناگرہ 2006 سے پیشہ ورانہ صحافت سے منسلک ہیں۔ جنوری 2015 سے اُردو پوائنٹ میں بطور ایڈیٹر نیوز خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ثنا اللہ ناگرہ کی مزید تحریریں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

اپنی رائے کا اظہار کریں