تازہ ترین : 1
Baaz Ambulances Ka Jaraim Main Istemal

بعض ایمبولینسز کا جرائم میں استعمال

کراچی میں جرائم کے حوالے سے رینجرز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی میں اسلحہ، منشیات کی ترسیل زیادہ ترایمبولینسز کے ذریعے کی جاتی ہے۔ کراچی کے علاوہ دوسرے بڑے شہروں میں بھی یہ کاروبار ڈھٹائی سے جاری ہے

صابر بخاری:
شہروں میں بڑھتی ہوئی ہو شربا آبادی کی بدولت امن و امان، تعلیم، صحت، تفریح کی سہولیات روبہ زوال ہیں۔ بڑے شہروں میں کیونکہ ملک بھر سے مختلف طبقہ فکر اور عمر کے لوگ سکونت اختیار کئے ہوئے ہیں اس لئے امن و امان کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جرائم پیشہ عناصر اپنے مذموم مقاصد کیلئے تمام ذرائع استعمال کرتے ہیں اور وہ اس کمین پن میں کسی بھی حد تک گر سکتے ہیں۔
ان کا مطمع نظر صرف دولت کی ہوس ہوتی ہے اس لئے وہ مذہب آئین، قانون اخلاقیات کو پس پشت ڈالتے ہوئے گھناؤنے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ دولت کے پجاریوں نے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے، ایمبولینسز کا سہارا بھی لینا شروع کردیا ہے اچھے اوربرے لوگ ہر شعبے میں گھسے ہوئے ہیں تمام ایمبولینسز کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا مگر ذرائع کے مطابق بڑے شہروں میں کچھ ایمبولینسز خاص طور پر پرائیوٹ ایمبولینسز جرائم کی وارداتوں میں استعمال ہوتی ہیں۔
کراچی میں جرائم کے حوالے سے رینجرز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کراچی میں اسلحہ، منشیات کی ترسیل زیادہ ترایمبولینسز کے ذریعے کی جاتی ہے۔ کراچی کے علاوہ دوسرے بڑے شہروں میں بھی یہ کاروبار ڈھٹائی سے جاری ہے مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اس سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایمبولینسز کے عالمی قانون میں بھی یہ بات شامل ہے کہ اس کو راستہ دینا ضروری ہے ،ایمبولینسزسگنلز پر کھڑی نہیں ہوسکتیں، غلط سمت سے بھی ایمبولینسز کو چلایا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ ہمارے ہاں کیونکہ لوگ زیادہ نرم دل اور احساس ہمدرد رکھتے ہیں اس لئے ایمبولینسز کو تمام سہولیات میسر کی جاتی ہیں۔ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ ایمبولینسز کیونکہ ایمرجنسی میں ہوتی ہیں ان کو راستہ دینا ضروری ہے مگر یہ بات کسی صورت قابل قبول نہیں کہ ایمبولینسز پر چیک اینڈ بیلنس ہی نہ رکھا جائے۔ اکثر پرائیورٹ ایمبولینسز بغیر کسی چیک اینڈ بیلنس کے کام کر رہی ہیں جن کا مقصد میتیوں اور مریضوں کو گھر، ہسپتال پہنچانے سے زیادہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل ہوتا ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور میں بھی جرائم پیشہ عناصر اسلحہ، منشیات کی ترسیل اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کیلئے بعض ایمبولینسز کا استعمال کرتے ہیں آجکل اکثر ایمبولینسز کو بلیک شیشوں اور پردوں سے مکمل طور پر ڈھانپا گیا ہے۔ جس سے وہ منشیات اسلحہ کی ترسیل اور غیر اخلاقی سرگرمیاں آسانی سے کرسکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ جرائم پیشہ عناصر فرضی لاش یا مریض کو ایمبولینس میں لیٹا لیتے ہیں بعض دفعہ ایمبولینس میں موجود لوگ رونے کی ایکٹنگ بھی کرتے رہے ہیں۔
ان کی حالت دیکھ کر ان کو آسانی سے راستہ مل جاتا ہے اور وارڈن، قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی ان کو نہیں روکتے۔اس طرح جرائم پیشہ عناصر منشیات اور اسلحہ وغیرہ کی شہر بھر میں آسانی سے ترسیل میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ ہاں ایک شہر سے دوسرے شہر جانے والی ایمبولینسز کی اب کچھ چیکنگ ہو رہی ہے مگر شہر کے اندر کی بعض ایمبولینسز کی آمدورفت کا کوئی ریکارڈ یاچیک اینڈ بیلنس نہیں ہوتا۔
ذرائع کے مطابق آجکل بعض پرائیوٹ ایمبولینسز میں ڈیٹنگ اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کا دھندہ عروج پر ہے۔اس حوالے سے لاہور پولیس نے مقدمات بھی درج کررکھے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بلیک شیشوں اورپردوں کی بدولت ایمبولینسز میں غیر اخلاقی حرکات کی سرگرمیاں بہت زیادہ ہو رہی ہیں۔ ایسی سرگرمیاں زیادہ تر ان ہسپتالوں میں ہو رہی ہیں جن کی پارکنگ ہسپتالوں کی بیک سائیڈ پر ہوتی ہے۔
ذرائع کے مطابق لاہور کے کئی ہسپتالوں میں ایمبولینسز اور پارکنگ میں غیر اخلاقی حرکات اور ڈیٹنگ کا دھندہ ہو رہا ہے۔ذرائع کے مطابق ہسپتال ڈیٹنگ کیلئے ا?سان جگہ ہے کیونکہ یہاں پر رشتہ داروں کی تیمارداری کیلئے لڑکی اور لڑکے کو آسانی سے گھر سے اجازت مل جاتی ہے۔ اکثر وہ رات بھی ہسپتالوں میں گزارتے ہیں۔ ڈیٹنگ کیلئے پارکنگ میں موجود بعض ایمبولینسز استعمال ہوتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق لاہور پولیس کو غیر اخلاقی سرگرمیوں پر فوکس کرنے سے روکا گیا ہے کہ اس میں وقت کا ضیاع ہوتا ہے اور دوسرے جرائم پر توجہ ہٹ جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایمبولینسزکے غیر قانونی استعمال میں زیادہ تر پرائیوٹ ایمبولینسز استعمال ہوتی ہیں۔ مستند فلاحی اداروں کی ایمبولینسز غیر قانونی استعمال نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ ان میں چیک اینڈبیلنس ہوتا ہے۔
اگر ان کا استعمال ہو بھی تو وہ ڈرائیورز کی ملی بھگت سے ہوتا ہے۔ذرائع کے مطابق ہسپتالوں سے بچوں کے اغواء اور ادویات کی چوری میں بھی بعض ایمبولینسز استعمال ہوتی ہی۔کوئی بھی ایمبولینس کو لے کر ہسپتال کے باہر کھڑا ہو جاتا ہے جس کا کوئی چیک اینڈ بیلنس بھی نہیں ہوتا۔یہ عملہ پھر ہسپتال عملہ کیساتھ ملکر ادویات اور بچوں کے اغواء کی وارداتیں کرتے ہیں۔
ان ایمبولینسز کے ڈرائیور غیر رجسٹرڈ اور بغیر شناخت کے اپنی ڈ یوٹی کر رہے ہوتے ہیں۔مختلف این جی اوز کے نام سے بھی غیر قانونی ایمبولینسز کام کر رہی ہیں۔ پولیس اور سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایمبولینسز خاص طور پر پرائیوٹ ایمبولینسز پر چیک اینڈ بیلنس رکھیں۔ سائرن بجاتی ایمبولینسز پر بھی کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایمبولینسز بلیک شیشے اور پردوں کا استعمال ترک کریں۔ڈرائیورز کا مکمل ریکارڈ ہونا چاہیے اور جب وہ ہسپتال چھوڑے تو اس کا ریکارڈ ہو نا چاہیے۔رجسٹرڈ ایمبولینسز کو ہی ہسپتالوں میں آپریشن کی اجازت دی جانی چاہیے۔شہری بھی جہاں ایمبولینسز کو تمام سہولیات دیں وہاں جرائم پیشہ عناصر کی تخریب کاری سے بھی باخبر رہیں۔
وقت اشاعت : 2015-05-20

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں