بند کریں
جمعہ مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آزادی کی خوشبو اور انقلاب کی بشارت
ماضی سے سبق نہ سیکھنے والے سیاستدان عموما عجلت میں فیصلے کرتے ہیں۔ ایسے فیصلوں کے نتائج ریاست کو دہائیوں تک بھگتنا پڑتے ہیں کیونکہ بصیرت سے عاری سیاسی قیادت بحران حل کرنے کی بجائے اسے مزید سنگین بنا دیتی ہے
مصنف : اجمل جامی
ماضی سے سبق نہ سیکھنے والے سیاستدان عموما عجلت میں فیصلے کرتے ہیں۔ ایسے فیصلوں کے نتائج ریاست کو دہائیوں تک بھگتنا پڑتے ہیں کیونکہ بصیرت سے عاری سیاسی قیادت بحران حل کرنے کی بجائے اسے مزید سنگین بنا دیتی ہے۔افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنی نا اہلی ثابت کر رہی ہے۔ اناوں کے خول ان کے لباس ہیں، گھمنڈ اور رعونت ان کی رگ رگ میں شامل ہے۔
دہائیوں سے سیاست دان کہلانے والے سیاسی بحران کا حل نہ نکال سکے اور رجوع کیا منجانب پاک فوج۔ کیا پی ایم اے کاکول میں عملی سیاست کا کورس بھی پڑھایا جاتا ہے؟آخر فوج کو سیاسی مسئلے کے حل کے لیے کیونکر پکارا گیا؟ اپنے ہمسائیوں کو دیکھ لیجیے۔ ہم نے تو کبھی نہ سنا کہ بھارت والے سیاسی ڈیڈلاک کی صورت میں فوج سے رجوع کرتے ہیں۔حالانکہ ان کے ہاں بھی عجوبے سیاستدانوں کی ہر گز کمی نہیں۔

جمعرات اور جمعے کے درمیانی شب ،شب ملاقات ثابت ہوئی۔ رات کے پچھلے پہر قبلہ اور کپتان آرمی چیف سے ملے۔ واپسی پر کارکنان کو نوید انقلاب سنائی۔ رات بھر یہی تاثر رہا کہ حکومت نے بالآخر مجبور ہو کر فوج سے رجوع کیا ہے کہ خدارا اس مدعے کا حل نکالیے۔ پھر جمعے کو پارلیمنٹ کا اجلاس ہوتا ہے۔ وزیر اعظم ایک ہفتے میں مسلسل چوتھی بار قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوتے ہیں (یہ وہی وزیر اعظم ہیں جو گزرے ڈیڑھ سال میں شازونادر ہی ایوان میں دکھائی دئیے)۔
وزیر داخلہ مائیک سنبھالتے ہیں۔ فرمایا، ہمیں کسی فاتحہ خوانی کے سلسلے میں لاہور جانا پڑا اور پیچھے سے دھرنے والوں نے جھوٹی خبریں پھیلا دیں۔
اسی موقع پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی تقریر وزیر اعظم کے لیے آکسیجن ثابت ہوئی۔ شاہ صاحب نے جذباتی لیکن انتہائی مدلل انداز میں پارلیمنٹ اور آئین کے تحفظ کی بات کی۔ معاملہ دلچسپ تب ہوا جب انہوں نے آئی ایس پی آر سے مدعے کی وضاحت کا مطالبہ کیا۔
خورشید شاہ انتہائی زیرک سیاستدان واقع ہوئے ہیں۔ حالیہ سیاسی منظر نامے میں وہ حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے دکھائی دیئے ہیں۔ آرمی چیف سے ملاقاتیں یقینا اپوزیشن کے لیے کنفیوژن کا باعث ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ صاحب نے آئی ایس پی آر سے اس معاملے کی وضاحت مانگی۔ آخر میں وزیر اعظم نے بھی مختصر گفتگو کی۔ بدن بولی پہلے کی نسبت پر اعتماد ہر گز نہ تھی۔
کہا کہ چوہدری نثار بالکل ٹھیک فرما رہے ہیں۔ فوج ہرگز سیاسی معاملات میں مداخلت کی خواہاں نہیں تھی اور نہ ہی ہم ایسا چاہتے تھے۔ یہ سب تو دھرنے والوں کی خواہش پر ہوا۔
ایوان کی کارروائی یکم ستمبر تک ملتوی ہونے کے اعلان کے فورا بعد قبلہ رونما ہو ئے۔ فرمایا وزیر داخلہ اور وزیر اعظم جھوٹ بول رہے ہیں، وفاقی حکومت نے فوج سے رجوع کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرے۔
انہوں نے جھوٹ بولنے پر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے مواخذے کا بھی مطالبہ کیا۔ یہ بھی کہا کہ اگر اس معاملے میں وہ خود جھوٹے ہیں تو فوج آئے اور انہیں گرفتار کر لے کیونکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں آج تک ایک بھی جھوٹ نہیں بولا۔ اپنی سچائی کی وکالت میں قبلہ نے کلمہ طیبہ پڑھا اور قسم کھا کر کہا کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے۔ فرمایا آرمی چیف ان سے تین گھنٹے اور بیس منٹ تک ملے۔
کل شب تک ملاقات کا دورانیہ البتہ پچاس منٹ ہی تھا۔ خیر،واللہ العالم الغیب ۔
تشویش بڑھتی چلی گئی، تو خان صاحب اجلا سفید لباس پہنے کالے چشموں میں دوپہر ساڑھے تین بجے کنٹینر پر آئے۔ کہا ، سو فیصد جھوٹ ہے کہ تحریک انصاف نے فوج کو ثالثی کے لیے کہا۔ جنرل راحیل کے آفس سے فون آیا کہ حکومت کہتی ہے کہ آپ بات چیت کریں۔ آرمی چیف سے کہا کہ ہمیں آپ پر اعتماد ہے لیکن نواز شریف پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
جنرل راحیل نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم استعفی دینے کو تیار نہیں ہیں۔ سر شام ڈی جی آئی سی پی آر جنرل باجوہ کا ٹویٹ منظر عام پر آیا جس نے معاملے کی قلعی کھول دی۔ چوہدری نثار نے اپنی پریس کانفرنس میں لاکھ کوشش کی کہ گنج کو ڈھانپا جا سکے لیکن تب تک پانی پلوں پر سے بہہ چکا تھا۔ اب اسے ثالثی کہیے یا سہولت کار ۔ثابت ہوا کہ فوج سے رجوع کیا گیا، جگ ہنسائی ہوئی اور انہی مہان ہستیوں نے اپنی سیاسی نا پختگی اور کم عقلی پر اپنے ہی ہاتھوں سے مہر ثبت کر دی ۔
انقلاب اور آزادی کی تحریک میں البتہ نئی روح پھونکی جا چکی تھی۔
حکمرانوں کا کیا ذکر کیجیے۔ یہاں چھوٹے میاں انگلی لہراتے ون مین شو کے داعی واقع ہوئے ہیں۔ اگر سڑکوں ، پلوں ، انڈر پاسز ، میٹرو یا دانش سکول کی بات ہو تو سالوں کاکام مہینوں میں ، مہینوں کا ہفتوں میں اور ہفتوں کا دنوں میں کرنے کا دعوی تو شاید درست ہو تاہم انہی خادم اعلی سے ایک ادنی سا سوال ہے ۔
جب آپ جناتی انداز میں آزادی چوک کی تعمیر کروا سکتے ہیں تو چودہ بے گناہ شہریوں کی شہادت کے خلاف ایک ایف آئی آر کے اندراج میں بہتر دن کیوں لگے؟ رہی بات بڑے میاں صاحب کی تو سرکار! جب یہی خان جی صرف چار حلقوں کا آڈٹ مانگ رہے تھے تب آپ ستو پی کر نہاری کا انتظار فرما رہے تھے۔ اب جب وہ آپ کی گردن تک آن پہنچے ہیں تو جناب ماسوائے استعفے کے باقی تمام مطالبات کو منظور کیے بیٹھے ہیں۔
قربان جاوٴں میں آپ کی سیاسی دانش پر۔
ایک بات طے ہے کہ منظر نامہ اب انتہائی دلچسپ اور کہانی اپنے انجام کے قریب پہنچ چکی ہے ۔ ایم کیو ایم کے قائد دو ٹوک الفاظ میں قومی حکومت اور فوجی مداخلت کا مطالبہ کر چکے ہیں ۔ رہی بات پیپلز پارٹی کی تو فوجی ثالثی کے معاملے پر انہیں بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا جس سے شاہ صاحب یقینا نالاں ہوں گے۔
ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی آئندہ کا کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔ فوج بظاہر اب کسی قسم کی ثالثی کے موڈ میں نہیں ہے، ہر ادارے کا اپنا وقار ہوتا ہے، حکومتی عجلت اور نا عاقبت اندیشی کی وجہ سے اس ادارے کے وقار کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔
میں جناب عمران خان صاحب اور قبلہ قادری کا تا دم مرگ مرید ہو جاتا اگر دونوں کرشماتی رہنما جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب آرمی چیف سے ملاقات نہ کرتے، اپنے اصولی موقف پر ڈٹے رہتے، انکار کرنے کے بعد عوام کو بتاتے کہ حکومت فوج کو بیچ میں لانا چاہ رہی تھی مگر ہم نے ایسا نہ ہونے دیا کیونکہ یہ سیاست کی جنگ ہے سرحدوں کی نہیں۔
ملکی تاریخ میں ان دونوں کا نام سنہرے حروف میں لکھا جاتا۔ خاکسار اسی انکار کو انقلاب سے تعبیر کرتا۔ آرمی چیف کی کال ہو اور ہمارے سیاستدان دم دبا کر ملنے نہ چلے جائیں، ایسا ہوتے دیکھا نہ سنا۔ ہاں البتہ انقلابی روحیں ایسے فیصلوں کی متحمل ضرور ہوا کرتی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-08-31

(0) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     اجمل جامی

اجمل جامی بحثیت اینکر اور نمائندہ خصوصی دنیا نیوز کے ساتھ وابستہ ہیں

اجمل جامی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-