بند کریں
جمعرات مارچ

مزید قومی مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
اسلحہ لائسنسوں کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کیلئے نادرہ سے معاہدہ
امن و امان کی بگڑتی صورتحال کا سب سے بڑا موجب ناجائز اسلحہ ہے۔جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔گزشتہ سال 2013ء میں صرف لاہور میں ناجائزاسلحہ کے4178 مقدمات درج ہوئے
احسان شوکت:
پنجاب میں بڑھتی ہوئی قتل و غارت گری اور امن وا مان کی خراب صورتحال سے جہاں ہر شہری پریشانی سے دوچار ہے تو دوسری طرف صوبے میں امن وامان برقرار کھنا حکومتی سطح پر ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔امن و امان کی بگڑتی صورتحال کا سب سے بڑا موجب ناجائز اسلحہ ہے۔جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔گزشتہ سال 2013ء میں صرف لاہور میں ناجائزاسلحہ کے4178 مقدمات درج ہوئے۔
جن میں 4226 ملزمان کو گرفتار کرکے ان سے 42 کلاشنکوف، 192 رائفلیں، 302 بندوقیں، 3586 ریوالورز وپسٹل، 17 کاربین ، 87 خنجر اور 43455 گولیاں برآمد کی گئیں جبکہ رواں سال پہلے تین ماہ کے دوران ناجائزاسلحہ کے 1254 مقدمات درج ہوئے۔ جن میں 1264 ملزمان کو گرفتار کر کے ان سے 10 کلاشنکوف، 58 رائفلیں، 106 بندوقیں، 1162 ریوالورز وپسٹل، 3 کاربین ، 14 خنجر اور 54823 گولیاں برآمد کی گئیں۔
پاکستان میں اسلحہ کے ناجائز استعمال ، اس کی نقل وحرکت ، خرید اور مرمت کے متعلق معا ملات کو 1965ء کے ” آرمز آرڈیننس“ کے تحت ڈیل کیا جاتا ہے۔جس میں خلاف ورزی پر سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ مگر ان پر عملدرآمد کم ہی نظر آتا ہے۔قتل و غارت گری اور دہشت گردی کی وارداتوں میں استعمال ہونے والے جدید اسلحہ سے کئی پیچیدہ مسائل نے جنم لیاہے۔
جن پر قابو پانے کے لیے اسلحہ لائسنسوں کو کمپیو ٹرائزڈ کر نا ضروری ہے کیونکہ جدید دور میں ترقی اور خوشحالی کے لیے معاشرے میں پر امن ماحول اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال دو اہم عوامل تصور کیے جاتے ہیں۔ پنجاب حکومت اس پر مسئلہ پر قابو پانے کے لیے کئی ایک اقدامات اٹھا رہی ہے۔انہی اقدامات میں ایک صوبہ بھر میں نادرہ کی مدد سے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اسلحہ لائسنسوں کوکمپیو ٹرائزڈ کرنا ہے۔
تاکہ ایک پرامن اور تشدد سے پاک معاشرہ عوام کو فراہم کیا جاسکے۔ پنجاب حکومت اور نادرا کے درمیان صوبے میں اسلحہ لائسنسوں کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کیلئے کے لیے پنجاب حکومت نے گزشتہ دنوں نادرا کے ساتھ ایک مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کیے ہیں۔ ماڈل ٹاوٴ ن لاہورمیں اس سلسلہ میں منعقد ہونے والی تقریب کے مہمان خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان تھے۔
ا س موقع پر نادرا کے قائمقام چیرمین شاہدحامدکے علاوہ اہم حکومتی شخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔پنجاب حکومت کی جانب سے سیکرٹری داخلہ میجر (ر) اعظم سلیمان جبکہ نادرا کی جانب سے قائم مقام چیئرمین شاہد حامد نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی بھی ایک بڑی تعداد وہاں تھی جسے مفاہمت کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا۔
پنجاب حکومت اور نادرا کے درمیان ہوئی مفاہمت کی تفصیلات کچھ یوں ہیں۔ معاہدے کے تحت صوبے میں اسلحہ لائسنسوں کے اجراء کے موجودہ نظام کو تبدیل کر کے ایک مربوط اور جامع کمپیوٹرائزڈ آرمز لائسنس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم تشکیل دیا جائے گا۔ مرحلہ وار پروگرام کے تحت تمام پرانے اسلحہ لائسنسوں کی جگہ نئے کمپیوٹر چِپ والے کارڈز جاری ہوں گے۔
کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنس جاری کرنے کا پراجیکٹ 140 دن میں مکمل کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت اور نادرا کے درمیان کمپیوٹرائز آرمز لائسنس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم تشکیل دینے کیلئے معاہدہ خوش آئند ہے۔ پنجاب میں اسلحہ لائسنسوں کی کمپیوٹرائزیشن کا منصوبہ ایک پرامن معاشرے کی تشکیل کی جانب اہم سنگ میل ہے۔
میں پنجاب حکومت کی جانب سے وزیراعظم محمد نوازشریف، وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اورنادرا کے حکام کا اسلحہ لائسنسوں کے اجراء کے پورے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے حوالے سے بھرپور تعاون پر دلی کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ پنجاب حکومت اور نادرا اسلحہ کے لائسنسوں کے اجراء کے موجودہ نظام کو تبدیل کرکے ایک مربوط اور جامع کمپیوٹرائزڈ آرمز لائسنس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم تشکیل دیں گے۔
پنجاب میں بوسیدہ اور فرسودہ کتابچوں کی شکل میں موجودہ لائسنسوں کو کمپیوٹر کے چپ کارڈ میں تبدیل کیا جائیگا۔ حکومت پنجاب نادرا کے ساتھ مل کر ایسے نظام کی داغ بیل ڈال رہی ہے جس کا مقصد اسلحہ کے لائسنسوں کے اجراء کے موجودہ نظام کو تبدیل کرکے اسے ایک مربوط اور جامع کمپیوٹرائزڈ آرمز لائسنس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کی شکل دینا ہے۔جس سے اسلحہ کے لائسنسوں کے اجراء کے موجودہ سسٹم میں خامیاں دور ہوں گی۔
اگر ہم نے اہل پاکستان کوایک پرامن اور تشدد سے پاک ماحول فراہم کرنا ہے۔ تو ہمیں اسلحہ سے پاک معاشرے کی منزل کیلئے تگ و دو کرنا ہوگی۔کمپیوٹرائزڈ ہونے کے بعد پنجاب میں ہر لائسنس کا یہ چپ کارڈ اسلحہ بنانے والوں، اسلحہ بیچنے والوں اور اسلحہ کی مرمت کرنے والوں کے ساتھ ایک ڈیٹا بیس کے ذریعے مربوط ہوگا اور امن عامہ سے متعلق اس اہم پراجیکٹ کیلئے نادرا جیسا رفیق کار میسر آرہا ہے۔
اس معاہدے کے مطابق پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں ایک مرحلہ وار پروگرام کے تحت کمپیوٹرائزڈ لائسنسوں کے اجراء کا نظام قائم کیا جائے گا اور یہ نظام پنجاب بھر کے تمام اسلحہ بنانیوالوں، اسلحہ ڈیلروں اور اسلحے کی مرمت کرنیوالوں کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہوگا۔ اس نظام کا ایک سنٹر محکمہ داخلہ کی عمارت میں بھی قائم کیا جائے گا۔ جس کے رابطے صوبے کی سپیشل برانچ اور ڈی پی اوز کے ساتھ ہوں گے۔
پراجیکٹ کا آغاز ابتدائی طور پر صوبے کے پانچ اضلاع سے کیا جارہا ہے۔ آج کا دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ پنجاب حکومت زندگی کے ہر شعبے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال میں ہمیشہ آگے رہی ہے۔ لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، ڈینگی کیخلاف مہم میں سمارٹ کیمروں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال، مذہبی و قومی تہواروں مثلا عاشورہ وغیرہ کے موقع پر آئی ٹی پر مبنی مربوط حفاظتی نظام اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔
ماضی میں بے تحاشہ اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے اور ایسے ہتھیاروں کے بھی لائسنس بھی جاری کیے گئے جو کہ ممنوعہ بورکے تھے۔ انہوں نے کہاکہ امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے حوالے سے کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنسوں کا اجراء کا فیصلہ انتہائی اہم اورانقلابی اقدام ہے۔جس سے ناجائز اسلحہ کے سدباب میں مدد ملے گی۔ نادرا اور پنجاب حکومت میں ایک ٹیم طور پر کام کریں گے۔
وزیراعلیٰ نے کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنسوں کے اجراء کے منصوبہ کے لیے نادرا کو لینڈ ریکارڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کے تحت پنجاب حکومت کے پاس موجود ڈیٹا بیس استعمال کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ نادرا کمپیوٹرائز اسلحہ لائسنسوں کے اجراء کے حوالے سے لینڈ ریکارڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم سے استفادہ کرسکتا ہے۔جس سے منصوبے کی لاگت میں خاطر خواہ کمی آئے گی اور منصوبہ جلد مکمل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ لینڈ ریکارڈ انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کا منصوبہ رواں سال کے آخر تک مکمل ہوجا ئے گا۔جس پر گیارہ ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں اور اس منصوبے میں بھی بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے شہریوں کی شناخت کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنسوں کے اجراء کے حوالے سے بھرپور آگاہی مہم چلائی جائے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثارعلی خان نے اس موقع پر کہا کہ نادرااور پنجاب حکومت کے درمیان کمپیوٹرائزڈ اسلحہ لائسنسوں کے اجراء کے حوالے سے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ایک اہم پیش رفت ہے اور وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف ٹائم لائن کے اندر منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے حوالے سے شاندار ریکارڈ رکھتے ہیں۔
پنجاب حکومت اور نادرا کے درمیان ہونے والے اس معاہدے سے نہ صرف غیر قانونی اسلحہ کے تدارک میں مدد ملے گی بلکہ حکومت کو اس مد میں سالانہ دو ارب روپے کا ریونیو بھی جمع ہو گا۔ پنجاب حکومت کے نادرا کے ساتھ کیے گئے اس معاہدے سے بلا شبہ بالواسطہ طور پر دہشت گردی پر کسی حد تک قابو پانے میں مدد ملے گی۔ جس سے ملک کے سیاسی و معاشی حالات بہتر ہوں گے۔

قتل و غارت گری اور امن وا مان کی خراب صورتحال پر قابو پانے اور ناجائزاسلحہ کے تدارک کے لئے پنجاب حکومت کا یہ اقدام خوش آئند ہے ، لیکن وفاقی وزیر داخلہ کو اس سلسلے میں ایک اہم بات کو مدنظر رکھنا ہو گا۔ چونکہ پاکستان میں تقریباً ہر شعبے میں کرپشن داخل ہو چکی ہے جس کازکر کئی بار وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے بھی کیا گیا ہے اور اسے ملکی ترقی کی راہ میں سب سے اہم روکاوٹ قرارا دے چکے ہیں۔
نادار جیسے قومی اہمیت کے حامل ادارے میں بھی ماضی میں کچھ افسران اس میں ملوث پائے گئے تھے۔ اس لیے وزیر داخلہ کو یہاں احتیاط سے کام لینا ہو گا۔ تاکہ یہ کمپیوٹرائزڈ آرمز لائسنس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم کا نظام شفاف طریقے سے مکمل ہو ااورقومہ مفاد کا یہ منصوبہ بااحسن پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-21

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان