تازہ ترین : 1
Askariyat Pasandoon Ne Karachi Main Thikane Bana Liye

عسکریت پسندوں نے کراچی میں ٹھکانے بنالئے

حکومت پولیس اور رینجرز کیاکررہے ہیں؟۔۔۔۔۔کچھ ہفتے قبل ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ کراچی کا ایک تہائی حصہ طالبان کے زیر کنٹرول ہے، جہاں وہ جرگے کرتے، فیصلے سناتے، جرمانے عائد کرتے نظر آتے ہیں

الطاف مجاہد:
کیا کراچی دوسرا وزیرستان بن چکا ہے جہاں شدت پسندوں کی محفوظ قیام گاہیں موجود ہیں۔ شاید نہیں یقینا ہاں اور صرف ہاں۔ اس لئے بھی کہ ازبک ، تاجک اور افغان نسل باشندے جب کراچی میں حساس تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے مارے جائیں تو یہ سوال تمام تر شدت سے اٹھایا جاسکتاہے کہ ان عسکریت پسندوں کو تربیت تو وزیرستان میں ملی ہوگی لیکن وہاں سے کراچی کا سفر مقامی لوگوں کی لاجسٹک سپورٹ کے بغیر کیسے ممکن ہے؟ کچھ ہفتے قبل ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ کراچی کا ایک تہائی حصہ طالبان کے زیر کنٹرول ہے، جہاں وہ جرگے کرتے، فیصلے سناتے، جرمانے عائد کرتے نظر آتے ہیں۔
ان بستیوں میں سرشام ہی مشتبہ افراد کا عمل دخل بڑھ جاتا ہے۔ سرجانی ٹاؤن کا سلطان آباد، ماری پور روڈ اور پی آئی ڈی سی پل پارک کرتے ہی نظر آنے والی کچی آبادیوں میں نوجوانوں کو پینٹ شرٹ پہننے سے روکا جاتا ہے، سکولوں کو دھمکیاں ملتی ہیں اور اغوا برائے تاوان کیلئے مختصر مدت کیلئے لوگوں کو یرغمال بنایا جاتاہے۔
کراچی میں 5ماہ کے دوان ایک روپرٹ کے مطابق 875افراد قتل کئے گئے۔
سال رواں کی یکم جنوری سے 31 مئی تک قتل ، اقدام قتل، بھتہ خوری ، اغوا برائے تاوان، ڈکیتی، ٹارگٹ کلنگ اور جرام کی 7ہزار 905وارداتیں ہوئیں۔ جبکہ 28بم دھماکے ہوئے، 34واقعات اغوا برائے تاوان کے ریکارڈ کئے گئے جبکہ موبائل فون چھیننے کی 6ہزار 533وارداتوں کی اطلاع پولیس کو ملی۔
کراچی ائرپورٹ پر حملہ کے اسباب، عوامل اور سکیورٹی ادروں کی کمزوریوں اور کامیوں پر بہت کچھ لکھا جاچکاہے۔
یہ ہمارا موضوع بھی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آئندہ ان وارداتوں کو روکھنے کے انتظامات اب کس مرحلے میں ہیں؟ یہ بات عام کہی جارہی ہے کہ کراچی کی سینکڑوں کچی آبادیاں جو پر پیچ گلیوں، توٹی پھوٹی سڑکوں پر مشتمل ہیں اور یہاں غیر قانونی طور پرمقیم برمی بنگالی، افغانی، ایرانی و دیگر تارکین وطن کے خلاف آپریشن کے بعد انہیں واپس بھیجا جائے۔
ان آبادیوں میں جن میں سے بیشتر راتوں رات ریونیو، پولیس اور دیگر محکموں اورر لینڈ مافیا کی اعانت سے قائم ہوئی ہیں، کالعدم تنظیموں کے کارکنوں کی بڑی تعداد مقیم ہے،یہاں سرچ آپریشن کیا جائے۔ خصوصاََ سندھ سیکرٹریٹ ، کراچی جیل، ائرپورٹ اور حساس اداروں کے اطراف میں واقعی کچی بستیوں کو کھنگالا جائے۔ یہ بات کراچی کے کسی باشندے سے مخفی نہیں کہ پہلوان گوٹھ، کنواری کالونی، مشرف کالونی، بن قاسم، اسعید آباد، سلطان آباد، مرجان ٹاؤن، منگھو پیر رود میں موجود سماج دشمن عناصر ریاست کی رٹ کو علی الاعلان چیلنج کررہے ہیں۔

یہ سرچ آپریشن اب پولیس کے بس کی بات نہیں رہا کہ اس کے مفادات بھی لینڈ مافیا سے نچلی سطح پر ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ افسران چاہیں بھی تو یہ سلسلہ نہیں رک سکتا کہ بھتہ خوری کا زہر اب ہر محکمے کی طرح یہاں بھی سرایت کرچکا ہے۔ویسے بھی کراچی کی بیشتر کچی آبادیاں ”جہادیوں کے گڑھ“ کہلاتی ہیں۔ کراچی ائرپورٹ سانحہ کے بعد اب اگر ملک بھر کے ہوائی اڈوں کے اطراف میں مشتبہ افراد کی تلاش کا فیصلہ ہوا ہے تو اس کو احسن جان کا خیر مقدم کرنا چاہئے۔

طالبان کی جانب سے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے اعلان نے صورتحال کو گھمبیر بنا دیا ہے کہ اب خدشات مزید بڑھے ہیں۔ دینی نظام کے نفاذ کی مدعی طالبان لیڈر شپ کو سوچنا چاہیے کہ وہ اس طرح کی کارروائیاں کر کے دنیا بھر میں اسلام کے امیج کو بھی متاثر کرہی ہے۔ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے حامی بھی دوراہے پر کھڑے ہیں کہ وہ طالبان کی حالیہ کارروائیوں کو کیا نام دیں۔
ویسے بھی پاکستان کے معاشی حب اور ملک کو سب سے زیادہ محصولات دینے والے شہر کراچی کو سماجی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، عدم برداشت اس کی شناخت ہے اور یہ کچھ غلط بھی نہیں کہ جب پانی بجلی کمی، بدامنی کا عفریت اور بیروزگاری کا طوفان سرپو ہوتو شائستگی، شگفتہ بیانی، شیریں لسانی اور نفیس لہجہ سب رخصت ہوجاتا ہے اور جو باقی بچتا ہے وہ نفرت کا الاؤ ہے جو سب کچھ بھسم کردیتا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتویں کراچی کو شہری سہولتیں مہیا کریں۔ آبادی کے دباؤ کو کنٹرول کریں اور کچی آبادیوں کو شہر کا جھومر قرار دینے کی بجائے منصوبہ بندی کے تحت بستیاں بسانے پر توجہ دیں تاکہ اس ہر کو بچایا جاسکے جو تباہ کے دہانے پر ہے۔
وقت اشاعت : 2014-06-21

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں