تازہ ترین : 1
Army Chief General Raheel Sharif

آرمی چیف جنرل راحیل شریف

امریکی میڈیا بھی ان کی اہمیت سے آگاہ ہے غیر ملکی اخبار نے جرنل راحیل شریف کے پس منظر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ رعایت نہیں کریں گے

مصنف : سید بدر سعید

سید بدر سعید:
غیر ملکی اخبارات نے پاک فوج کے نئے سپہ سالار کو خاصی اہمیت دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات اور خطے میں آنے والی ممکنہ تبدیلیوں پر پاک فوج کے سپہ سالار نہ صرف اثر انداز ہوسکتے ہیں بلکہ ان کا رُخ بھی موڑ سکتے ہیں۔ اس لئے امریکہ کو اس حوالے سے نئے سپہ سالار کو اہمیت دینا ہوگی۔ یہ سال افغانستان سے امریکی انخلاء کا سال ہے۔

اگر جنرل راحیل شریف کی حکمت عملی امریکہ کے برعکس ہوئی تو وہ اس انخلاء کو امریکی شکست میں بدل سکتے ہیں۔ اسی طرح وہ بھارت کو بھی رعایت نہیں دیں گے لہٰذا معمولی سی مہم جوئی ساری بساط الٹ سکتی ہے۔ جنرل راحیل شریف کے پاک فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد سے اب تک عالمی میڈیا کی نظریں ان پر لگی ہوئی ہیں۔ تجزیے اور تبصروں کے ساتھ ساتھ یہ امید بھی کی جارہی ہے کہ وہ خطے میں اہم کردا رادا کریں گے۔
اس کی بڑی وجہ خطے کے موجودہ حالات اور تیزی سے بدلتا ہوا منظر نامہ بھی ہے۔ پاک بھارت صورتحال ایسی نہیں کہ اسے نظرانداز کیا جاسکے۔ اسی طرح افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد وہاں کا منظر نامہ بھی پُر سکون نظر نہیں آرہا ہے۔ امریکہ کے بھارت سے سفارتی تعلقات کشیدہ ہوئے ہیں تو دوسری طرف پاکستان میں بھی نیٹو سپلائی کیلئے حالات بہتر نہیں ہوسکے۔
اس صورتحال میں آرمی چیف کی تبدیلی عالمی طاقتوں کیلئے جتنی توجہ طلب ہے شاید اس سے پہلے نہ تھی، پاکستان اس خطے میں خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی طرح آنے ولای تبدیلیوں پر بھی پاک فوج خاصی اثر انداز ہوسکتی ہے۔ امریکی مفادات پر اگر کاری ضرب لگی تو اس میں بھی پاک فوج اہم کردارد ادا کرسکتی ہے۔ امریکی انخلاء اور پھر افغانستان میں اقتدار کی رسہ کشی دو ایسے بڑے عناصر ہیں جو خطے کے دیگر ممالک کو لاتعلق نہیں رہنے دیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ اس نازک دور میں اہم کردار کے حامل ملک کا سپہ سالار عالمی طاقتوں کا مرکز نگاہ ہے۔ گزشتہ دنوں ” لاس انٹیلی جنس ٹائمز“ نے پاک فوج کے سپہ سلار جنرل راحیل شریف اور امریکی تعلقات پر ایک مضمون شائع کیا جس میں صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے دعویٰ کیا گیاکہ کسی بھی بڑے اور منظم ادارے کے سربراہ کی طرح وہ بھی سب سے پہلے طاقت کے اہم ستونوں پر ہی گرفت مضبوط کریں گے۔
اس سلسلے میں اپنے وفاداروں کی تقرری اور انہیں مضبوط کیا جائے گا ۔ اس کے بعد ہی جنرل راحیل امریکی دباؤ سے باہر نکلنے اور زیادہ سے زیادہ آزادی سے کام کرنے کی کوشش کریں گے۔ غیر ملکی اخبار نے جرنل راحیل شریف کے پس منظر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ رعایت نہیں کریں گے۔ اس لئے کوئی بحران، سرحدی تنازعہ یا کوئی عسکری حملہ پہلے کی طرح ہونا مشکل ہوگا۔
یہ صورحال بگڑ بھی سکتی ہے۔ مضمون نگار نے اپنے ملک کو مشورہ دیا ہے کہ اس طوفان کو روکنے کیلئے امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کو چاہیے کہ آنیوالے چند ماہ پاک بھارت سرحد پر خاص طور پر نظر کھے تاکہ ایسا کوئی واقعہ نہ ہوسکے۔ غیر ملکی اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کے نئے آرمی چیف کے ساتھ سرکاری معاملات پر بات کرنے کیلئے امریکی سفارت کاروں کے 2014ء کے ابتدائی پروگرام میں وزارتی سطح کے مذاکرات بھی کئے جائیں۔
اس کیلئے امریکی حکومت پاکستانی حکومت سے اجازت لے ۔ اسی طرح دو طرفہ سکیورٹی مذاکرات میں طالبان اور عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ کیلئے سامان ، تربیت اور انٹیلی جنس کا تبادلہ جیسے معاملات بھی طے کئے جائیں کیونکہ پاک امریکہ تعلقات میں فوج کا کردار خاصی اہمیت کا حامل ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی جانب سے پاک فوج کے سربراہ کو غی رمعمولی کوریج دینا اور اپنی حکومت کو معاملات بہتر بنانے کیلئے لائحہ عمل طے کرنے کا مشورہ دینا ظاہر کرتا ہے کہ امریکی تجزیہ نگار حقیقت سے آگاہ ہیں۔
وہ جانتے ہیں پاکستان کی ناراضی مول لے کر اس خطے میں ان کے مفادات کی نگرانی ممکن نہیں اور پاک فوج کے سپہ سالار خطے میں ہونیوالی اہم تبدیلیوں پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ 2014ء میں جن بڑی تبدیلیوں کے امکانات نظر آرہے ہیں ان میں پاکستانی مداخلت یا حکمت عملی واضح طور ر سارے منظر نامے کو بدل سکتی ہے اور پاکستان ممکنہ تبدیلیوں کارخ موڑ سکتا ہے ۔ امریکی انخلاء کو واضح طور پر امریکی شکست میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ بہر حال پاک فوج کے سپہ سالار سے یہی امید کی جاسکتی ہے کہ ان کا ہر قدم پاکستان کے مفاد اور وقار میں اٹھے گا۔

وقت اشاعت : 2014-01-08

(6) ووٹ وصول ہوئے

Syed Badar Saeed

مصنف کا نام : سید بدر سعید

سید بدر سعید کی مزید تحریریں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

اپنی رائے کا اظہار کریں