تازہ ترین : 1
Aik Taraf Seelaab

ایک طرف سیلاب دوسری طرف بجلی کی لوڈ شیڈنگ

پاکستان شاید وہ واحد بدقسمت ملک ہے جہاں ہر سال سیلاب سے درجنوں افراد زندگی کی بازی ہارتے ہیں، لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑتی ہے، ہزاروں بلکہ لاکھوں ایکڑ زرعی زمین یعنی فصلیں متاثر ہوتی ہیں

احمد جمال نظامی:
بارشوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا اور سیلاب اس مرتبہ بھی بدترین تباہ کاریاں برپا کر چکا ہے جس کے باوجود بدقسمتی سے لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں کمی ہونے کی بجائے بدستور مرحلہ وار اضافہ جاری ہے اور اعلانیہ کے ساتھ غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کا اڑدھا ایک مرتبہ پھر اپنا سر باہر نکال چکا ہے۔ پاکستان شاید وہ واحد بدقسمت ملک ہے جہاں ہر سال سیلاب سے درجنوں افراد زندگی کی بازی ہارتے ہیں، لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑتی ہے، ہزاروں بلکہ لاکھوں ایکڑ زرعی زمین یعنی فصلیں متاثر ہوتی ہیں۔
حکومت کی طرف سے قائم کردہ انفراسٹرکچر تباہ و برباد ہوتا ہے۔ مگر حکمرانوں کی نا اہلی کے باعث ہر سال سیلاب اپنے پیچھے تباہی چھوڑ جاتا ہے۔جس کے بعد حکومت ریلیف کے لئے کروڑوں اربوں روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کرتی ہے۔ جن علاقوں میں سیلاب آتا ہے وہاں دوبارہ سرکاری سکول، دفاتر اور ڈسپنسریاں قائم کی جاتی ہیں لیکن آبی ذخائر تعمیر کر کے سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی۔
اس سے زیادہ بدقسمتی کیا ہو گی کہ ندی نالوں میں ہر سال ناجائز تجاوزات تعمیر ہوتی ہیں اور پھر سیلاب سے کئی لوگ زندگیوں کی بازی ہارتے ہیں مگر نہ کوئی اتھارٹی انہیں روک پاتی ہے اور نہ تاحال روک سکی ہے۔ ان دنوں سیلاب کی تباہ کاریاں اور بھارت کی طرف سے اضافی پانی چھوڑنے کی وجہ سے مسائل دوچند ہو چکے ہیں لیکن حکومت تادم تحریر کوئی ایسا منصوبہ سامنے لانے سے قاصر ہے جس کی بدولت اتنی تسلی کی جا سکے کہ آئندہ سالوں سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کیا جا سکتا ہے۔
موجودہ حکومت بھی بجلی کے بحران پر قابو پانے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے اور اس وقت موسم گرما میں صنعتی مزدوروں، صنعت کاروں اور تاجروں کے احتجاج کو روکنے کے لئے ساری بجلی صنعتی صارفین کو دی جا رہی ہے۔ جس کے نتیجہ میں پورا ملک اندھیروں میں ڈوبا رہتا ہے اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر اور مفلوج ہو چکے ہیں۔ موجودہ حکومت بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے بہت سارے دعوے اور وعدے کر کے اقتدار میں آئی تھی لیکن افسوس موجودہ حکومت بھی اپنے کئے ہوئے وعدوں اور دعووٴں کے مطابق اس بحران کو ختم کرنے کے لئے عملاً کچھ نہیں کر سکی۔
جس کے باعث سیلاب کی تباہ کاریاں مسلسل جاری ہیں۔ اگر حکومت کالاباغ ڈیم سمیت تمام آبی ذخائر تعمیر کرنے کے لئے سنجیدہ ہو جاتی اور ان کی تعمیر شروع کر دی جاتی تو سیلاب کی تباہ کاریوں کو بہت زیادہ کم کیا جا سکتا تھا۔ بھاشا ڈیم کی تعمیر کی صورت میں حکومت بڑی حد تک سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کر سکتی تھی مگر ایسا نہ کیا گیا۔ پیپلزپارٹی کے گذشتہ دور اقتدار کے دوران اس وقت کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے نوشہرہ میں سیلاب کی بدترین تباہ کاریوں پر اعتراف کیا تھا کہ اگر کالاباغ ڈیم تعمیر کیا گیا ہوتا تو اس قدر تباہی و بربادی رونما نہ ہوتی۔

کالاباغ ڈیم پر اتفاق رائے پیدا کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت پر ہی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں اور صوبوں کا اس عظیم تر منصوبے پر اس کے فوائد اور ثمرات کے ذریعے اعتراضات دور کرتے ہوئے اتفاق رائے پیدا کرے لیکن حکومت مسلسل خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہی ہے۔ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے عدالت عظمیٰ کی طرف سے نااہلی کی سزا کے بعد اعتراف کیا تھا کہ آئی ایم ایف، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرواتا ہے۔
اس سے پہلے بہت ساری ایسی اطلاعات بھی سامنے آتی رہیں کہ آئی ایم ایف کے اشاروں اور ڈکٹیشن پر ٹیکس ریفارمز کے نام پر بھی بہت کچھ کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں توانائی بحران ختم ہو جائے یہ بات عیاں ہے کہ غیرملکی مفادات ایسا کرنے میں رکاوٹ ہیں جس کی وجہ سے آئی ایم ایف جیسے ادارے کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ پاکستان کو اپنے شکنجے سے باہر نکال کر آبی ذخائر تعمیر کرنے دیں۔
لہٰذا موجودہ حکومت نے بھی آبی ذخائر کے مسئلے پر ایسا ہی کرنا تھا تو پھر توانائی بحران کے معاملے میں موجودہ حکمرانوں اور سابقہ حکمرانوں میں کیا فرق ہے۔ اگر عالمی مالیاتی اداروں کے رجحان کو دیکھ کر ہی عمل درآمد کرنا ہے اور منصوبے تشکیل دینے یا نہ دینے تو اس انداز میں ملک اور قوم کو قطعی وہ فوائد نہیں پہنچ سکتے اور نہ پہنچائے جا سکتے ہیں جس کا دعویٰ اور وعدہ کیا گیا تھا۔

اس وقت پاک چین اقتصادی راہداری کے عظیم اور بہت بڑے منصوبے پر کام جاری ہے جس کے ذریعے ملک کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے اور وطن عزیز کو شاہراہ ترقی پر گامزن کر کے عوام کی محرومیوں کا ازالہ کرتے ہوئے ان کی حالت زار کو بھی یکسر تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اس منصوبے پر عملدرآمد اور اسے اس قسم کی اندرونی اور بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھنے کے لئے پاک فوج اپنا کلیدی اور بنیادی کردار ا دا کر رہی ہے۔
چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف متعدد مرتبہ اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں اور تمام دشمن قوتوں کو متنبہ کر چکے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ ہر حال میں مکمل کیا جائے گا اور اس کے رستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دیں گے۔ وطن عزیز کو کالاباغ ڈیم سمیت تمام چھوٹے بڑے آبی ذخائر کی فوری تعمیر کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں میڈیا میں پہلے بھی ایسے مطالبات تواتر کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں کہ چیف آف آرمی سٹاف پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی طرح کالاباغ ڈیم کے لئے بھی اپنا کردار ادا کریں۔
کالاباغ ڈیم کی سب سے زیادہ مخالفت اے این پی کرتی ہے۔ جس کی قیادت کومقتدر حلقے آج بھی سرحدی گاندھی کے نام سے جانتے ہیں۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے بھارت اپنے وسائل اور پیسوں کو استعمال کرتا رہا ہے۔ بہت سارے دیگر ممالک بھی نہیں چاہتے کہ وطن عزیز میں کالاباغ ڈیم تعمیر کیا جائے۔
کالاباغ ڈیم پر اے این پی کے علاوہ پیپلزپارٹی بھی پنجاب میں ایک اور سندھ میں دوسرا موقف رکھتی ہے۔ عمران خان جانتے ہیں کالاباغ ڈیم ملکی بقاء کے لئے ضروری ہے مگر وہ اس کے حق میں ایک دو مرتبہ بیانات داغنے کے بعد اپنے موقف پر قائم نہیں رہ سکے۔ شاید انہیں اقتدار کی طمع تمام صوبوں سے ہے اس لئے وہ ملکی مفاد کے برعکس کسی بھی ایسی قوت کو ناراض نہیں کرنا چاہتے جو بھارت نواز بھی ہو اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر بھی نہ چاہتی ہو۔
تمام سیاست دان اور سیاسی جماعتیں جو کالاباغ ڈیم کے حق میں ہیں یا مخالفت کرتی ہیں وہ سب جانتے ہیں کہ کالاباغ ڈیم کی کتنی اہمیت اور افادیت ہے اور اس کے کس قدر وسیع تر فوائد ملک اور قوم کو دستیاب آ سکیں گے۔ یہ بات حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) بھی جانتی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف اقتدار میں ہونے کے باوجود اس عظیم تر منصوبے پر لب کشائی کیوں نہیں کرتے اور کیا وجہ ہے کہ اس کی تعمیر کے لئے راہ ہموار نہیں کی جا رہی۔ لہٰذا مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے، لوڈشیڈنگ کے خاتمے اور ملک کو حقیقی معنوں میں شاہراہ ترقی پر گامزن کرنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت ان دیر پامنصوبوں پر خصوصی تو جہ دے۔
وقت اشاعت : 2015-08-25

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں