تازہ ترین : 1
Aik Khamosh Tehreer

ایک خاموش تحریر۔۔!!

رضا کو صوفیا اور اسلاف کے بارے رتی برابربھی علم نہیں، اور انہیں مسلمان ہونے کا ’سرٹیفکیٹ‘ بھی درکار ہے۔۔ تو؟؟ اسکا مطلب یہ ہے کہ انہیں گولیوں سے چھلنی کر دیا جائے۔۔؟؟

مصنف : اجمل جامی
حضرت روم سے منسوب ہے ، ” اپنی آواز کی بجائے اپنے دلائل کو بلند کیجیے، پھول بادل کے گرجنے سے نہیں، بادل کے برسنے سے اگتے ہیں“۔ رضا احمد کا نام حضرت رومی کی نسبت سے ہی جانا جاتا ہے، ، میرا ان سے پہلا باقاعدہ تعارف ایک جرمن مصنف کی صوفی موسیقی پر لکھی گئی کتاب کے حوالے سے ہوا، جہاں مصنف خود موجود تھے اور اس نشست کا اہتما م رضا رومی کی جانب سے ہی کیا گیا تھا، جرمن مصنف ڈاکٹر جورگن وسیم اس دھرتی کے صوفیا اور ان سے منسوب موسیقی پر گہری دسترس رکھتے ہیں، لیکن اس محفل میں رضا رومی سے صوفیا اکرام او ر سلاسل طریقت پر ہوئی گفتگو ناچیز کے لیے خوشگوار حیرت کا باعث ثابت ہوئی، اور پھر ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا، عموما آرا میں ہم آہنگی ہی دیکھنے کو ملی لیکن اختلاف بھی مسکراہٹوں کا مرہون منت رہا۔
۔
رضا رومی کی فکر اور سوچ کے پیچھے ان کے آباواجداد کاخاصا اثر ہے، بڑھے بوڑھے کتابوں کے رسیا تھے، اہل خانہ کی کیا بات کیجیے کہ گھر کے درو دیوار بھی علم و حکمت سے سجے ہیں، والدین کی ذاتی لائبریری کئی تعلیمی اداروں کے کتب خانوں سے بڑی اور نادر کتب پر مشتمل ہے۔۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ رضا رومی کا منظر عام پر آنا دو چار دنوں کی بات نہیں۔
۔ ہر گز نہیں۔۔ ایک پڑھے لکھے خاندان سے وابستگی ہے جوعلمی اور ادبی طور پر ایک مضبوط تاریخی پس سے جڑی ہے۔۔ اور یہی وابستگی رضا کو بتدریج پروان چڑھاتی رہی۔۔
ان صاحب کی والدہ محترمہ بلقیس ریاض اردو ادب میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں، ناول، سفر نامے ، افسانے لکھنے کے علاوہ ممتاز اخبارات اور میگزینز میں کالم نگار رہ چکی ہیں۔۔ والد صاحب چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر تعینات رہے ہیں، ، ورثے میں کچھ اور ملا ہو یا نہیں، البتہ کتب خانے سے واسطہ بچپن سے ہی رہا ہے، ، شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں کہ رضا نے مقابلے کے امتحان میں انیس سو ترانوے چورانوے میں پاکستان بھر میں ٹاپ کیا تھا، ، اور پھر دو ہزار دو تک سرکاری ملازم رہے، بعد ازاں ایشین ڈویلوپمنٹ بنک کے ساتھ پبلک پالیسی ایکسپرٹ کی حیثیت سے وابسطہ ہو گئے۔
۔ لیکن زبان و بیان کے اظہار نے موصوف کو چین نہ لینے دیا۔۔ اور پھر صحافت میں آن کودے۔۔ دہلی دل سے۔۔ اور پبلک ایڈمنسٹریشن کے موضوع پر کتب لکھ چکے ہیں۔۔
چلیے مان لیا۔۔!! رضا رومی کے نظریات غلط ہیں۔۔۔ رضا کو صوفیا اور اسلاف کے بارے رتی برابربھی علم نہیں، اور انہیں مسلمان ہونے کا ’سرٹیفکیٹ‘ بھی درکار ہے۔۔ تو؟؟ اسکا مطلب یہ ہے کہ انہیں گولیوں سے چھلنی کر دیا جائے۔
۔؟؟
اور اس بے چارے پچیس سالہ مصطفی کو کس ناکردہ گناہ کی سزا ملی کہ اسے بھی جان سے ہاتھ دھونا پڑا؟؟ ابھی تو اس نوجوان ڈرائیور کی شادی کو چند ماہ ہی گزرے تھے۔۔ بیوہ کا سہاگ اجاڑنے والے کیا ہوئے؟؟ کون جانتا ہے کہ ماں باپ کی رحلت کے بعد مصطفی چار بہن بھائیوں کا اکلوتا کفیل تھا؟؟ کیا مصطفی بھی کالم نویس تھا؟ مصطفی شاید اقلیتوں کے حقوق کے لیے سراپا احتجاج رہا ہو گا، یقینا مصطفی موثر قانون سازی اور جمہوری اقدار کے حق میں اہل محلہ سے الجھتا ہو گا، ، یہ ڈرائیور خبطی تھا،، مذہب کے نام پر خود کش حملوں کی مخالفت کرتا تھا،، اور انتہا پسندی کو مذہبی تعلیمات سے بدل ڈالنے کے حق میں دلائل دیتا تھا۔
۔ یقینا اسی لیے حملہ آوروں نے مصطفی کو بھی لگے ہاتھوں اڑا ڈالا۔۔ ایسے شخص کا یہی انجام ہونا چاہیے۔۔
کہاں سرکار دو عالمﷺ اور ان کی تعلیمات اور کہاں آج ہم کھڑے ہیں۔۔ کہاں رحمت العالمین ﷺ کے عاشقین صوفیا اکرام اور ان کی صوفی شاعری اور کہاں ہمارے حرام حلال اور کافر مسلمان کی بحث کرتے مخصوص علما دین۔۔ اب ایسے حالات میں اختلاف رائے بھلا کیونکر برداشت ہو۔
۔؟ لیکن رضا ۔۔ یاد رکھیے گا۔۔ اقبال نے کہا تھا۔۔
پیر رومی مرشد روشن ضمیر
کاروان عشق و مستی را امیر
اب چند روز پہلے کی بات ہے کہ ڈرٹی اولڈ مین خشونت سنگھ ننانوے برس کی عمر میں چل بسے۔۔ اس بابے نے ہمیشہ متنازع ایشوز پر دل کھول کر بھڑاس نکالی، جوابا پڑھنے والوں نے بھی انہیں ہمیشہ غیر اخلاقی القابات سے ہی یاد کیا، کئی فتوے صادر کئے گئے، گالیوں سے نوازا گیا، خبطی قرار دیا گیا، ایک جگہ خود کہنے لگے کہ ان کے کسی چاہنے والے نے انہیں ساٹھ کی دہائی میں امریکہ سے ایک پوسٹ کارڈ ارسال کیا، ، جو تقریبا دو دہائیوں بعد انہیں موصول ہوا، ، کھولنے سے پہلے ایکسائٹڈ ہوئے کہ اتنی دور سے مدت بعد کسی چاہنے والے کا پوسٹ کارڈ موصول ہوا ہے نہ جانے کیا لکھا ہو گا۔
۔ پڑھا تو مزید ہنس دیئے،سر شام واک پر نکلے تو کارڈ ہاتھ میں رکھا، ٹہلتے رہے، اور مسکراتے رہے، کسی دوست نے پوچھا کہ سردار جی ایسا کیا ہے اس کارڈ میں جو آپ مسکراتے جار رہے ہیں۔۔ کہنے لگے کہ بھئی۔۔ ہنسی مارے افسوس کے ہے کہ کسی نے گالیوں سے شاندار تواضع کی اور ہماری بد قسمتی کہ ظالم کارڈ نے ہم تک پہنچنے میں اس قدر تاخیر کر دی۔۔ پھر کہا کہ شکر ہے چاہنے والے نے بندوق نہیں تان لی اور محض گالیوں کے تیر چلا کر رانجھا راضی کر لیا۔
۔ ننانوے برس کے اس بابے پر شاید ہی کسی نے گولی چلائی ہو۔۔ یہی بابا اگر پاکستان میں ہوتا اور وہی کچھ لکھتا جو اس نے ہندوستان میں بیٹھ کر لکھا تو یقین جانئے سردار جی ننانوے برس تو دور کی بات ، شاید نو ماہ بھی زندہ نہ رہ پاتے۔۔۔
حیرت ہے کہ رضا نے آخر ایسا کیا کہہ دیا تھا کہ جس کے بعد ’نامعلوم‘ افراد کے پاس ان کی جان لینے کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہا۔
۔ میں ذاتی طور پر رضا کی حالیہ تمام تحریریں اور ٹاک شوز کا جائزہ لے چکا ہو، یقین جانیں کوئی قابل اعتراج نقطہ ہاتھ نہیں آیا، ابھی تک ان کی صرف خیریت ہی دریافت کر سکا ہوں، ملاقات ابھی باقی ہے۔۔ جس کا مقصد ان کی خیریت دریافت کرنا نہیں بلکہ یہ جاننا ہو گا کہ بھیا۔۔!! آف دی ریکارڈ ہی بتلا دو کہ آخر آپ جناب نے ایسا کونسا پاپ کیا تھا کہ آپ کی تواضع دلائل کی بجائے بندوق سے کرنے کی کوشش کی گئی۔
۔ مجھے امید ہے رضا ایک اچھے دوست کی طرح اس راز سے پردہ ضرور اٹھائیں گے۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس راز کو راز ہی رکھوں گا اور ایسے کسی کبیرہ گناہ کا مرتکب نہ ہونے کی حتی الوسع سعی تا دم مرگ جاری رکھوں گا جو رضا سے سر زد ہوا۔۔ البتہ رضا رومی کو مولانا روم کا کہا ضرور سناوں گا۔
بر زمیں گر نیم گزار ہے بود
آدمی بے وہم ایمن می رود
رہا معاملہ مصطفی کا تو مصطفی کے لیے یقینا مصطفیﷺ ہی کافی ہیں۔
۔ کیونکہ دین اسلام کی تعلیمات تو یہی کہتی ہیں کہ جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا۔۔
حضرت روم نے کہا تھا ” اپنی آواز کی بجائے اپنے دلائل کو بلند کیجیے، پھول بادل کے گرجنے سے نہیں، بادل کے برسنے سے اگتے ہیں“۔
وقت اشاعت : 2014-04-03

(10) ووٹ وصول ہوئے

Ajmal Jami

مصنف کا نام : اجمل جامی

اجمل جامی بحثیت اینکر اور نمائندہ خصوصی دنیا نیوز کے ساتھ وابستہ ہیں

اجمل جامی کی مزید تحریریں پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

قارئین کی رائے :

  • مھمد سعید کی رائے : 06/02/2015 - 16:20:07

    Impact of Energy Crisis on Textile Industry in Pakistan Pakistan is one of the prime cotton-producing countries of the world. Both directly and indirectly, textile zone employs are the major number of the human source for the economic progress of the country. This industry roughly contributes more than 60 % (US $ 9.6 billion) to the country’s entire exports and gives approximately 46 % to the total productivity of the country (8.5%of the GDP). In Asia, Pakistan is the 8th greatest exporter connected with textile products, providing for 38% occupation. Right now, main problems are being sustained by this industry with closing looms around. The reasons of this debility are principally subsidized by the extraordinary cost of fabrication due to increase in the energy expenditures. The worldwide decline which has hit the global textile actually static is not the only reason for alarm. The high charge of manufacture is because of rise in the energy costs which has been the primary cause of concern for the industry. Slowdown in the textile sector has to be recovered. Energy Crisis As an impact of load-shedding the textile production capability of various sub-sectors has been reduced by more than 30%. The load-shedding of power is the reason of a rapid reduction in production which also reduced the export order. The price tag of manufacturing has also increased due to nonstop increase in electricity bill. Due to load shedding some mill owner uses alternative source of energy like generator which further increase their cost of production. The industry had gradually adapted to the shortfall of electricity in the country by installation of power plants running on natural gas. Almost 80% of the textile industry in Punjab alone shifted to natural gas to meet the energy shortfall. This added capacity helped meet the demand for power for the industry quite effectively for a number of years. However, in the last couple of years the supply of natural gas to the industry has been severely curtailed due to the increased demand by the domestic consumers and the transportation sector. The gas is now curtailed for a number of days every week. Projected demand/supply position of natural gas in 2011-12 supply was 4,172 mmcfd against demand of 5,777 mmcfd, showing a shortfall of 1,605 mmcfd. In 2012-13, supply is around 4,372 mmcfd whereas demand is 5,995 mmcfd indicating a shortfall of 1,622 mmcfd. A spokesman for the All Pakistan Textile Mills Association (APTMA) claimed that 60 to 70 per cent of the industry had been affected and unable to accept export orders coming in from around the globe. He said the textile industry had already endured over 45 days of gas disconnection over a period of four months, causing extraordinary production losses and badly affecting capability of the industry. In Punjab, energy supply disruption only was causing an estimated loss of Rs1 billion per day. In the larger interest of the economy and exports, he suggested, the government should “ensure utility companies provide smooth electricity and gas supply to the textile industry. To restore the industry interest is to manage shortfall of electricity & gas tariff and supply. The gas shortage increases to 600mmcfd in Punjab at the peak of winter season. This is one of the most important reasons that the textile industry lacks to meet the yearly export target. Because of shortage of gas many of textile units are closed ,so numbers of people has lose their jobs. Conclusions: This is no doubt the toughest periods for the industry in decades. Serious internal issues affected Pakistan’s textile industry very badly. The high cost of production resulting from an instant rise in the energy costs has been the primary cause of concern for the industry. Moreover, we also need a safe working environment in our textile and garments manufacturing industries where both genders are treated equally, and share equal respect and status, without any sort of discrimination or gender bias. It is high time that alternative sources of energy such as coal, solar and wind power should be considered without any loss of time. Pakistan is sitting on one of the richest deposits of coal in the world. According to renowned scientist Dr Samar Mubarak and, Thar coal reserves have potential to generate 5000 MW electricity for 800 years. Incredibly, Thar has 850 trillion cubic feet coal which far greater than the total oil reserves of Saudi Arabia and Iran put together! Coal gasification is already being used successfully by some forward looking players in the textile industry. Through such ingenious and creative solutions, dependency on the gas and power companies can be curtailed significantly for the industry to meet its full potential.

    اس رائے کا جواب دیں

اپنی رائے کا اظہار کریں