تازہ ترین : 1
23 March Tajdeed Azam Ka Din

”23 مارچ تجدید عزم کا دن“

قرارداد لاہور سے پہلے مسلمانان برصغیر صرف چند تحفظات کے خواہش مند اور مجالس آئین ساز میں چند نشستوں کے متمنی تھے مگر سر سید احمد خان،علامہ اقبال اور قائداعظم کی سیاس بصیرت خطبات کی روشنی میں ایک نئی سوچ پیدا کی

وقار روف قریشی :
23 مارچ 1940ء کا دن ہماری تاریخ کا ایک یادگار دن ہے جس روز مسلمان ہند سے ہندو سامراج سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے ” منٹو پارک“ لاہور کے جلسہ میں ” قراد داد لاہور (پاکستان)“ منظور کر کے باقاعدہ طور پر اپنی منزل کا تعین کیا تھا۔
برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی جدو جہد آزادی کا آغاز در حقیقت 1857ے کی جنگ آزادی کے بعد سے ہی شروع کر دیا تھا جب ان کے خلاف سازشوں نے زور پکڑا اور ان کی سیاسی، معاشی، معاشرتی، سماجی ثقافتی اور مذہبی حیثیت ختم کرنے کیلئے انگریز اور ہندو اپنی اصلیت پر آگئے تھیں۔
1857ء کی جنگ آزادی کے خاتمے پر مسلمانوں کی اخلاقی، ثقافتی، سیاسی، مذہبی، ادبی، علمی اور سماجی حالت بری طرح متاثر ہونے پر سر سید احمد خان کو بہت دکھ ہوا اور انہوں نے بحیثیت رہبر مسلمانان برصغیر کی قیادت سنبھالی تاکہ مسلمانوں میں ایک ایسا پڑھالکھا طبقہ پیدا کیا جائے جو آگے چل کر قوم کی بیداری اور آزادی میں اپنا اہم کردار ادا کر سکے۔
انہوں نے پہلا دو قومی نظریہ بھی پیش کی جس کی روح کے مطابق ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں کیونکہ ان کی مذہب ، تہذیب، تاریخ اور روایات الگ الگ ہیں۔اس لیے وہ چاہتے تھے کہ مسلمان اپنی الگ ملی حیثیت ، مذہبی تشخص، مخصوص انداز، تہذیب ، تاریخ اور اسلامی روایات کی حفاظت کریں۔
دسمبر1930ء میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس آلہ آباد کی صدارت کرتے ہوئے علامہ محمد اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ آزاد اور خود مختار مملکت کا تصور باقاعدہ طور پر پیش کیا جو کہ ” خطبہ آہ آباد “ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
حضرت علامہ اقبال نے مغربی سیاسی افکار کا اسلام کے سیاسی تصورات سے موازنہ کرکے واضح کیا کہ اسلام صرف چند عقائد اور عبادات کا مجموعہ نہی بلکہ یہ ایک خاص انداز سے معاشے کی تخلیق کرتا ہے۔ معاشرتی، معاشی اور اجتماعیت سے اگر برصغیر میں کوئی جماعت واحد قوم کی حیثیت رکھتی ہے تو وہ مسلمان ہیں۔
آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس 21،22،23مارچ 1940ء کو ” اقبال پارک“ لاہور میں جاری اجلاس میں قرار داد پیش کرنے سے پہلے قائداعظم محمد علی جناح نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا ، ” مسلمان قومیت ہر تعریف کے لحاظ سے ایک قوم ہیں ان کا مسئلہ فرقہ وارنہ نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے اور ہمارا مطالبہ بھی یہی ہے کہ اسے ایسے ہی حل ہونا چاہیے۔
ہندو مسلم دو علیحدہ قومیں ہیں اور اپنا اپنا منفرد مذہب، فلسفہ، ادب اور معاشرتی نظام رکھتی ہیں۔ ان کے باہمی تعلقات کی کوئی ضمانت نہیں۔ تاریخی اعتبار سے ایک قوم کا ہیرو دوسری کا دشمن ہے“
قرارداد لاہور سے پہلے مسلمانان برصغیر صرف چند تحفظات کے خواہش مند اور مجالس آئین ساز میں چند نشستوں کے متمنی تھے مگر سر سید احمد خان،حضر ت علامہ محمد اقبال اور بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی سیاس بصیرت اور خطبات کی روشنی میں مسلمانوں نے ایک نئی سوچ پیدا کی اور اس کے ساتھ ساتھ تہذیب و تمدن، اسلامی اخلاقیات اور سیاسی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے 14اگست1947ء کو اس منزل ، پاکستان کو حاصل کر لیا۔

آج نوجوان نسل پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس ملک کے وارث، معمار، حال اور مستقبل ہیں اس لئے فقط ایک پاکستانی کی حیثیت سے اس ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی سازشوں، خطروں، دہشت گردی، بے راہ روی اور دین سے دوری جیسے مسائل کا سدباب کرنا ہے اور اسلام کے ابدی اصولوں کو مشعل راہ بناتے ہوئے پاکستان کا مستقبل نہایت روشن اور شاندار بنانا ہے۔
وقت اشاعت : 2014-03-23

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں