تازہ ترین : 1
Valentine Day

ویلنٹائن ڈے

محبت کسی کی میراث نہیں یہ کب، کہاں، کس سے، کیسے اور کیوں ہو جاتی ہے کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی جدید سائنس کے دور میں کوئی ایسا آلہ ایجاد ہوا ہے جو محبت کی نشان دہی کرے

احمد کمال نظامی:
محبت کسی کی میراث نہیں یہ کب، کہاں، کس سے، کیسے اور کیوں ہو جاتی ہے کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی جدید سائنس کے دور میں کوئی ایسا آلہ ایجاد ہوا ہے جو محبت کی نشان دہی کرے۔
محبت کی نہیں جاتی محبت ہو ہی جاتی ہے یہ شعلہ خود بھڑک اٹھتا ہے بھڑکایا نہیں جاتاکسی نومولود کو پہلی بار مسکراتا دیکھ کر آنکھوں میں ہلکورے لینے لگتی ہے تو کسی بے زبان زخمی پرندے کو پھڑپھڑاتا دیکھ کے بھی جاگ اٹھتی ہے۔
کبھی کسی کی ہلکی سی مترنم ہنسی عمر بھر کے لئے دل میں جاگزیں ہو جاتی ہے تو کبھی کسی کی آنکھ سے ڈھلکا ہوا ایک آنسو سیدھا من میں جا کرگرتا ہے۔ کوئی ایک نگاہ میں جیون بھر کے لئے گھائل ہو جاتا ہے تو کوئی ساری حیاتی کسی کو دیکھ دیکھ کر جیتا ہے یہ تو دلوں کے معاملے ہیں ان کا حساب کتاب کیمسٹری جیومیٹری کے کسی فارمولا میں نہیں۔ یہ دل والوں کی اپنی ادا کی باتیں ہیں ورنہ مجنوں کا تپتے صحراؤں میں لیلیٰ لیلیٰ پکارنا اور صدائیں بلند کرنا، سسی کا بے آب و گیاہ صحراؤں میں دم توڑ جانا، سوہنی کا کچے گھڑے پر دریا پار کر جانا، فرہاد کا پہاڑ سے دودھ کی نہر نکال لینا، رانجھے کا ہیر کے لئے تخت ہزارہ چھوڑ دینا اور شاہ جہاں کا اپنی محبوب ملکہ کی یاد میں تاج محل جیسی خوبصورت عمارت تعمیر کر دینا جو دنیا کے عجائبات میں شمار ہو۔
کوئی آسان کام نہیں ایک شاعر نے محبت کے فلسفہ پر ہی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے۔
محبت ایسا دریا ہے کہ بارش روٹھ بھی جائے
تو پانی کم نہیں ہوتا تو یہ سودا تو ایسا ہے کہ اگر سر میں سما جائے تو سودائی کر کے ہی دم لیتا ہے۔ نفع نقصان وصولی عدم وصولی، کمی زیادتی اور اونچ نیچ کسی احساس کا ادراک تک نہیں رہتا۔
محبت لاشعوری جبر ہے اور ہے قوی اتنا
کہ اس کے سامنے سب بے سروساماں رہتے ہیں اور محبت کے موضوع پر ہمارا کلاسیک ادب بھرا پڑا ہے۔
رومانوی شاعروں کی ایک قطار اندر قطار دکھائی دیتی ہے اور بعض شاعر تو شاعر رومان کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں ایسے ہی ہمارے افسانہ نگار اور ناول نگار ہیں جو رومانی ادب تخلیق کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ لیکن اگر مجھ سے سچ پوچھیں تو رومانوی شاعر ہو، افسانہ نگار ہو، ناول نویسی ہو یہ سب کچھ کمرشل ہے کیونکہ تمام کہانی کا تانا بانا غیرفرضی اور تخلیقی ہوتا ہے اس سے حقیقت کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن نوجوان نسل چونکہ ایک عمر تک رومان پرور ہوتی ہے لہٰذا اس زمانہ سے بھرپور انداز میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے جو ماضی میں تو سرچڑھ کر بولتی رہی ہے لیکن اب یہ موسم بیت چکا ہے ا ور ادب میں وہی شاہ پارہ جگہ اور مقبولیت حاصل کرتا ہے جو حالات حاضرہ میں معاش کے حوالہ سے ہو۔
ہم اخبارات میں اکثر ایسی خبریں پڑھتے کہ فلاں جوڑے نے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کر لی۔ ہمارے ادب میں جس قدر بھی رومانوی داستانیں مشہور ہیں جن میں پنجاب کے حوالہ سے ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال اور مرزا صاحباں مشہور ہیں یہ سب لوک کہانیاں ہیں اور بعض لوگ تو کہتے ہیں کہ اگر سید وارث شاہ ہیر نہ لکھتا تو کوئی ہیر کا نام بھی نہ جانتا۔ ایسے ہی دوسری کہانیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے اور یہ سب کچھ داستان گو لوگوں کا کمال ہے کہ انہوں نے ان کہانیوں کو لوک کہانیوں میں تبدیل کر دیا۔
ایسے ہی ہر ملک اور خطہ کے بارے میں ایسی ہی رومانوی کہانیاں وہاں کی لوک کہانیاں ہیں جن سے ہمارا کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ان لوک کہانیوں سے ہماری کوئی دلچسپی ہو سکتی ہے چونکہ میڈیا کا دور ہے اور اس دور سے بھرپور انداز میں فائدہ اٹھاتے ہوئے مغرب والے اپنی تہذیب کی یلغار مشرق پر کرنے کے لئے نئے سے نئے انداز میں حملہ آور ہوتے ہیں ان کے پس پردہ ایک ہی جذبہ کارفرما ہوتا ہے کہ صلیبی جنگوں کا مسلمانوں سے بدلہ کیسے لیا جائے،اس کا انہوں نے ایک طریقہ اپنا کر تہذیب و ثقافت کو مشرق خصوصی طور پر پاکستانی قوم کی نسل نو کو اپنی گرفت میں کرنے کے لئے ایک ہتھیار ویلنٹائن ڈے کے نام سے فائر کیا اور بدقسمتی سے ہمارے میڈیا نے اسے ہاتھوں ہاتھ لے کر مغرب کی سازش کا غیرشعوری طور پر ساتھ دیا۔
جنرل پرویزمشرف کے عہد حکومت سے قبل پاکستان میں کوئی شخص ویلنٹائن کے نام سے آشنا نہیں تھا کہ جنرل پرویزمشرف نے اپنے دور حکومت میں جذبہ روشن خیالی کے نام سے ویلنٹائن ڈے یعنی یوم محبت کا پاکستان کی نوجوان نسل پر ایٹم بم گرایا گیا۔ اگرچہ محبت جیسے آفاقی اور لازوال جذبے کے لئے عالمی یوم محبت کے نام سے ایک دن موسوم کرنا کوئی دانشمندی نہیں بلکہ ہمارے نزدیک تو یہ مغرب کی مشرق کے خلاف محبت کے نام پر ایسی سازش ہے جس کا پاکستان کے اہل دانش کو پوری طاقت سے مقابلہ کرتے ہوئے ویلنٹائن ڈے کے لفظ کو طرح نسل نو کے ذہنوں سے مٹا دینا چاہیے۔
ویسے بھی یہ کسی بھی زاویہ نگاہ سے عالمی یوم محبت قرار نہیں دیا جا سکتا اس لئے کہ اس لوک داستان سے روم کی سرزمین وابستہ ہے اور اس کی کہانی میں بھی اس قدر ابہام ہے کہ فرضی داستان معلوم ہوتی ہے اور اسے تیسری صدی کے رومی شہنشاہ سے منسوب کر دیا گیا ہے جو یوں ہے کہ روم کا شہنشاہ کلاڈئیس مختلف ممالک سے جنگوں میں مصروف رہتا تھا جبکہ عوام کی غالب اکثریت اپنے شہنشاہ کے اس شوق کے ہاتھوں عاجز تھی اور وہ گھروں کو جبراً اپنی فوج میں بھرتی کرتا تھا چونکہ لوگ خصوصی طور پر نوجوان فوج میں بھرتی نہیں ہوتے تھے لہٰذا اس سے شادی بیاہ پر پابندی عائد کر دی۔
اس پابندی کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے ایک راہب یعنی پادری ویلنٹائن نے شہنشاہ سے چوری چھپے شادی بیاہ کا فریضہ سرانجام دینا شروع کر دیا۔ جب شہنشاہ کو علم ہوا تو اس نے پہلے پادری ویلنٹائن کو قید کیا پھر موت کی نیند سلا دیا۔ جس روز پادری ویلنٹائن کو پھانسی دی گئی وہ 14فروری 270کا دن تھا۔ اسے ویلنٹائن ڈے یعنی یوم محبت کب قرار دیا گیا۔
اس بارے میں کسی کو کوئی علم نہیں ہے لیکن جنرل پرویزمشرف نے مغرب کی ا س روایت کو پاکستان میں روشن خیالی کے نام پر متعارف کرایا اور اس کی اہمیت اس قدر اجاگر کی کہ یہ تہوار کے طور پر منایا جانے لگا اور یوم محبت پر ایسے ایسے ملبوسات اور لوازمات گفٹ آئٹمز کی مارکیٹ میں بھرمار دکھائی دینے لگی کہ قوم کے پاگل پن پر ماتم کرنے کو جی چاہنے لگا۔
حتیٰ کہ عیدکارڈ، کرسمس کارڈ کی طرح ویلنٹائن ڈے پر بھی کارڈ فروخت ہونے لگے۔ ایوان وقت فیصل آباد میں اس موضوع پر مجلس مذاکرہ کے دوران نوجوان نسل کے ہی نمائندہ نوجوانوں نے اسے مسترد کرتے ہوئے رومی پادری ویلنٹائن کی یاد میں یوم منانے کوافسوسناک رجحان قرار دیا اور کہا کہ جنرل پرویزمشرف نے اپنے دورحکومت میں ویلنٹائن ڈے کی سرپرستی کرتے ہوئے نوجوانوں کو بے راہ روی کی طرف آمادہ کرنے کی شعوری قابل مذمت حرکت کی ہے اور پاکستان میں جو عالمی ڈے منائے جاتے ہیں ان کی فہرست سے ویلنٹائن ڈے کو خارج کر دینا چاہیے۔
پاکستان میں مغرب کی لوک کہانیوں کو عالمی ڈے کا درجہ دے کر منانے کی جو روایت ہماری حکومت نے ڈالی ہے اس کی تمام تر ذمہ داری سابقہ فوجی حکمران جنرل پرویزمشرف اور اس کی حکومت پر عائد ہوتی ہے جو روشن خیالی اور میانہ روی کے نام پر تمام حدود کو پھلانگتی رہی ہے۔ یہ کیسی شرمناک بات ہے کہ تیس روپے کے پھول لے کر ہم کسی لڑکے یا لڑکی کو پیش کرتے ہیں۔ بیہودہ رسم کو ہوا دینا اپنی نظریاتی سوچ کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔ محبت کے لئے ویلنٹائن ڈے ہی کیوں؟ کیا ہم اس کے مقابلہ میں جہاد ڈے نہیں منا سکتے تاکہ مغرب کو علم ہو سکے کہ ابھی قوم مسلم زندہ و پائندہ ہے۔
وقت اشاعت : 2014-02-12

(2) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں