تازہ ترین : 1
Thar Main Halakatoon Ki Mubayena Tehqiqati Report

تھر میں ہلاکتوں کی مبینہ تحقیقات رپورٹ

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے ڈٹ گئے ہیں۔ سات سال کے اقتدارکے دوران ان کی زندگی میں کئی بار سازش کا سامنا رہا تاہم وہ مرد بحران ثابت ہوئے۔

شہزاد چغتائی:
تھر میں ہلاکتوں کی مبینہ تحقیقاتی رپورٹ کے اجراء کے ساتھ پیپلز پارٹی کے اندر اختلافات اور اقتدار کی کشمکش کھل کر سامنے آ گئی اور وزارت اعلیٰ کے امیدوار سرگرم ہوگئے لیکن وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے ڈٹ گئے ہیں۔ سات سال کے اقتدارکے دوران ان کی زندگی میں کئی بار سازش کا سامنا رہا تاہم وہ مرد بحران ثابت ہوئے۔
اس بار قائم علی شاہ کے خلاف سازش نے صوبائی وزیر منظور وسان کی ایک مبینہ رپورٹ کی کوکھ سے جنم لیا۔ رات اچانک صوبائی وزیر منظور وسان کی تحقیقاتی رپورٹ چینلوں پر چلی اور کچھ دیر کے بعد چیئرمین بلاول بھٹو نے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور تحقیقاتی افسر منظور وسان کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔ جس پر جہاں سندھ کے اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ آ گیا وہاں صوبائی وزیر منظور وسان بھی بھونچکا رہ گئے۔
کیونکہ ان کی رپورٹ پر ہی وزیر اعلیٰ سندھ کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا اور پھر چیئرمین نے ان کو بھی شوکاز دیدیا۔ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ منظور وسان نے رپورٹ پیش کر دی تھی لیکن چونکہ قبل از وقت میڈیا میں آ گئی اس لئے شور شرابہ ہو گیا جس کے ساتھ پارٹی اور حکومت کے درمیان رسہ کشی بھی نمایاں ہو گئی۔ صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے حالانکہ یہ کہا کہ پیپلز پارٹی میں اقتدار کیلئے کوئی رسہ کشی نہیں لیکن زمینی حقائق مختلف ہیں۔
پارٹی میں وزارت اعلیٰ کے امیدواروں کی کوئی کمی نہیں رہی ہے جو قائم علی شاہ کے راستے میں کانٹے بچھانے کا کوئی موقع نہیں گنوا تے۔ منظور وسان کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرنے کی اطلاع گاوٴں میں دی گئی جہاں انہوں نے ایک دوست کو بتایا کہ میں نے کوئی رپورٹ جاری نہیں کی نہ ہی وزیراعلیٰ سندھ پر ذمہ داری عائد کی ہے البتہ رپورٹ تیار ہے اور ایک دو روز میں جاری کردوں گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ قائم علی شاہ پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر اور منظور وسان ڈپٹی سیکریٹری جنرل ہیں۔ منظور وسان نے کہا کہ وہ چیف منسٹر کو کیسے مورد الزام ٹھہرا سکتے ہیں۔ اس موقع پر یہ سوال بھی کیا جا سکتا ہے کہ ایک وزیر اپنے وزیر اعلیٰ اور پارٹی کے صوبائی صدر کے خلاف کیسے تحقیقات کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ منظور وسان کی رپورٹ معمہ بن گئی۔
پیپلز پارٹی کے رہنماوٴں اور وزراء نے ٹی وی چینل پر چلنے والی رپورٹ کو من گھڑت قرار دیدیا جبکہ ایک ٹی وی چینل نے رپورٹ کی سفارشات کا عکس بھی دکھا دیا۔ پیپلز پارٹی نے اب دوبارہ رپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ رپورٹ کے اجراء کے ساتھ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا لیکن حکومت کے مخالفین کہتے ہیں کہ رپورٹ ردو بدل کے ساتھ منظرعام پر آئے گی۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے خلاف میڈیا پر رپورٹ چلنے کے بعد ان کی اپوزیشن نازک ہو گئی۔ بلاول بھٹو نے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو نوٹس جاری کیا لیکن یہ تحریری طور پر ان تک نہیں پہنچ سکا۔ پیپلز پارٹی کی نوجوان قیادت نے اپنے وزیر اعلیٰ کے ساتھ جو زیادتی کی وہ کئی لحاظ سے افسوسناک تھی۔ چیئرمین نے بغیر تصدیق اور تحقیقات کے ان کو مورد الزام ٹھہرا دیا حالانکہ وہ ایماندار ترین وزیر اعلیٰ ہیں۔
کسی پارٹی کے سربراہ کی جانب سے اپنے ہی وزیراعلیٰ کو شوکاز نوٹس کا اجراء ایک انوکھا واقعہ تھا جس پر سابق گورنر پنجاب لطیف کھوسہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی میں بادشاہت نہیں جمہوریت ہے اور بلاول بھٹو نے درست فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی وزیر منظور وسان کو تھر میں ہلاکتوں کی تحقیقات کیلئے بلاول بھٹو نے براہ راست تحقیقاتی افسر مقرر کیا تھا حالانکہ وزیر اعلیٰ سندھ کی ذمہ داری تھی کہ وہ انتظامی فیصلہ کرتے لیکن یہ سیاسی فیصلہ تھا لہٰذا رپورٹ میں غالب سیاسی رنگ نے سارا تماشہ عام کر دیا۔
صوبائی وزیر منظور وسان اب پریشان دکھائی دیتے ہیں اور دعا مانگ رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ ہی رہیں انہوں نے کہا کہ میں قربانی کیلئے تیار ہوں سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جب سپیکر آغا سراج درانی سے سندھ میں تبدیلی کے بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں کوئی نجومی نہیں۔ باخبر حلقوں کا خیال ہے کہ سندھ کے بارے میں اہم فیصلے سابق صدر آصف علی زرداری کی وطن واپسی پر ہوں گے۔
قائم علی شاہ کی بدقسمتی یہ ہے کہ ان کے ایک حریف جو کہ اسمبلی کے رکن بھی نہیں تھے دادو سے بلامقابلہ منتخب ہو کر میدان میں آ گئے ہیں جن کے بارے میں یہ افواہیں ہیں کہ وہ سندھ کے نئے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ قائم علی شاہ اس لئے بھی پسند کئے جاتے ہیں کہ ان کا تعلق متوسط طبقے سے ہے مراد علی شاہ جاگیردار ہیں وہ سابق وزیر اعلیٰ عبداللہ شاہ کے صاحبزادے ہیں۔
اس لحاظ سے دو سادات میں مقابلہ ہے۔ 18 اکتوبر کو کراچی کے جلسہ عام میں پیپلز پارٹی کے بابوں اعتزاز احسن‘ سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف نے چیئرمین بلاول بھٹوکو تجویز دی تھی کہ وہ 50 سال سے زائد عمر رہنماوٴں کو گھر بٹھائیں اور نئے خون کو سامنے لائیں یہ سفارش بلاول بھٹو کو بہت پسند آئی اور انہوں نے سندھ ہی سے تبدیلی کا آغازکر دیا ہے جس کے ساتھ یہ اطلاع آئی کہ مراد علی شاہ یا اویس مظفر ٹپی نئے وزیر اعلیٰ ہو سکتے ہیں۔
اویس مظفر ٹپی صوبائی وزیر رہ چکے ہیں جبکہ مراد علی شاہ صوبائی مشیر مالیات رہ چکے ہیں۔ان کو رکن صوبائی اسمبلی بنانے کیلئے سیہون سے عبدالنبی کی نشست خالی کرائی گئی تو وزارت اعلیٰ کے امیدواروں میں کھلبلی مچ گئی اور وہ پریشان ہو گئے۔ ان کی مشکلات اس وقت بڑھ گئیں جب مراد علی شاہ بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔ مراد علی شاہ مئی 2013 ء کے الیکشن میں حصہ نہیں لے سکے تھے کیونکہ ان کے پاس کینیڈا کی شہریت تھی اس لئے وہ عبدالنبی شاہ کو میدان میں لائے تھے ان سے وعدہ لیا تھا کہ وہ جب چاہیں گے نشست خالی کرا لیں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مراد علی شاہ کے خلاف اپوزیشن کی جماعتوں نے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کئے جن میں ایم کیو ایم اور تحریک انصاف شامل ہے۔ پیپلز پارٹی (ش ب) کے امیدوار نے جن لوگوں سے کاغذات نامزدگی کی تصدیق کرائی وہ ووٹر نہیں تھے اس لئے کاغذات نامزدگی مسترد ہو گئے سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے امیدوار نے پارٹی کے سربراہ جلال محمود شاہ کی ہدایت پر کاغذات واپس لے لئے کیونکہ مراد علی شاہ ساتھیوں سمیت جلال محمود شاہ کے گھر چلے گئے دونوں ہم زلف بھی ہیں جلال محمود شاہ نے مراد علی شاہ سے سیہون کو ضلع بنانے کا وعدہ بھی لے لیا۔
سیہون ضلع بنا تو جلال محمود شاہ کی سندھ یونائیٹڈ پارٹی کی قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی کی دو نشستیں پکی ہو جائیں گی۔ تھر کی صورتحال کی بازگشت سندھ اسمبلی میں بھی سنائی دی اور گرما گرم بحث ہوئی۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے تھر کی صورتحال پر تحریک التواء پیش کر دی اور کہا کہ تھر کی صورتحال تشویشناک ہے۔ اپوزیشن لیڈر شہریار مہر اس قدر برہم ہوئے کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا مطالبہ کر دیا۔
صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے یہ کہہ کر سب کے ہوش اڑا دیئے کہ پاکستان میں یومیہ 600 اور سالانہ 2 لاکھ بچے جاں بحق ہو رہے ہیں میڈیا کو تھر ہی کیوں دکھائی دیتا ہے۔ اس دوران وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کا دورہ کراچی اہم تھا چوہدری نثار نے کراچی آتے ہی گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات کی اور کراچی آپریشن کے علاوہ متحدہ کی وفاقی حکومت میں شمولیت پر تبادلہ خیال کیا۔
ایک ایسے موقع پر جب پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے تعلقات میں کشیدگی ہے چوہدری نثار کی گورنر سندھ عشرت العباد سے ملاقات سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بن گئی ہے۔ یہاں یہ اَمر قابل ذکر ہے کہ سندھ حکومت کو طلاق دینے کے بعد ایم کیو ایم اور وفاق کے درمیان گاڑھی چھن رہی ہے۔ گزشتہ دنوں ایم کیو ایم کے وفد نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی تھی۔
ان دنوں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان تناوٴ بہت زیادہ تھا کیونکہ ایم کیو ایم سندھ میں نئے انتظامی یونٹوں کے قیام پر زور دے رہی تھی اور اس نے محرم کے بعد ملک میں 20 صوبوں کے قیام کی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا پیر کو ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ ضرور کیا لیکن ایم کیو ایم کی توجہ ان دنوں تھر میں بچوں کی ہلاکت پر مرکوز ہو گئی ہے۔
جس کے بعد پیپلز پارٹی نے سکون کا سانس لیا دونوں جماعتوں کے درمیان بیانات کی جنگ بند ہو گئی ہے ایم کیو ایم کے خلاف بلاول بھٹو کے دھواں دھار بیانات رُک گئے ہیں۔ دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو معاف کر دیا جوکہ سندھ کے باسیوں کیلئے نیک شگون ہے۔ سندھ کے قوم پرست بھی خاموش بیٹھے ہیں۔قبل ازیں جسقم بھی میدان میں آ گئی تھی اور جسقم کے رہنماوٴں نے نائن زیرو سمیت ایم کیو ایم کے دفاتر کی تالابندی کا اعلان کیا تھا جس کے نتیجے میں تصادم کی صورتحال پیدا ہو سکتی تھی مگر اب جسقم کی توپیں خاموش ہو گئی ہیں۔
وقت اشاعت : 2014-11-14

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں