بند کریں
منگل مارچ

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
تاوان کیلئے کلاس فیلو دوست کی جان لے لی
ملزم نے بتایا کہ اس نے نشہ آور گولیا ں اور انجکشن لاہور سے کتے کو مارنے کا بتا کر خریدے۔ اغواء کرکے اسے کوئٹہ یا دوسری جگہ لے جاتا اس کیلئے ممکن نہ تھا
منظور احمد ناز:
گزشتہ دنوں سابق کلاس فیلو کے ہاتھوں قتل ہونے والا آئی کام پارٹ سیکنڈ کا طالبعلم ولید احمد کمالیہ کے رہائشی ضلع کی معروف سیاسی شخصیت چوہدری مختار احمد نصرت (مرحوم ) کا پوتا اور پاکستان تحریک انصاف کے سابق عہدیدار فیصل قذافی کا بیٹا تھا ،ولید احمد اپنے والد فیصل قذافی کے ہمراہ 8دسمبر سوموار کو صبح جب ٹوبہ ٹیک سنگھ شہر میں واقع اپنے کالج کے سامنے پہنچا تو وہاں اس کا سابق کلاس فیلو ارسلان حیدر کھڑا تھا جو ولید احمد کو اپنے ساتھ کالج کی طرف لے گیا،جہاں سے وہ اسے بلڈ دینے کا بہانہ بنا کر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جانے کیلئے وہاں سے لے گیا اور ہسپتال جانے کی بجائے ولید احمد کو ساتھ لیکر کینال ویو روڈ پر واقع اپنے کرایہ کے مکان میں لے گیا اور وہاں پر لے جا کر اس کی مہمان نوازی کے بہانے اسے کولڈ ڈرنک میں7 نشہ آور گولیاں پلا دیں، جس سے ولید احمد بے ہوش ہو گیا، بے ہوشی کے دوران ملزم ارسلان حیدر نے مقتول کو زہر کے 2 عدد انجکشن لگا دئیے، جس سے اس کی موت واقع ہوگئی، تب تک رات ہوچکی تھی، ولید احمد کے رات گئے تک گھر واپس نہ پہنچنے اور اس کا موبائل فون بند ہونے پر اس کے والدین کو تشویش لاحق ہوئی، تو اس کے دوستوں سے ٹیلی فون پر رابطہ شروع کیا، اس کے ایک دوست نے بتایا کہ جب آخری وقت اسکی ولید سے فون پر بات ہوئی تھی تو ولید نے بتایا تھا کہ وہ ارسلان حیدر کے ساتھ اس کے کرایہ کے مکان میں ہے اور تھوڑی دیر تک آئے گا ،لیکن بعد میں اس کا موبائل فون بند ہو گیا، ملزم ارسلان حیدر نے 8 اور 9 دسمبر کی درمیانی شب مقتول ولید احمد کی نعش کو گھر کے صحن میں ایک دیوار کے ساتھ کھودے گئے گڑھے میں سیدھا بٹھا کر اوپر مٹی ڈال کر فرش کو دوبارہ سیمنٹ کے ساتھ پختہ کر دیا، 9 دسمبر کی صبح سے ہی ولید احمد کے والدین نے اس کے دوستوں کے ہمراہ تلاش شروع کر دی اور مقامی پولیس کو اطلاع دی ،9دسمبر کی شام جب پولیس ولید احمد کے ورثاء کے ہمراہ کینال روڈ پر اس کی تلاش کررہی تھی تو ملزم ارسلان حیدر کاندھے پر کسّی رکھے جارہا تھا، جب ولید احمد کے دیگر دوستوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ لڑکا جو پیدل جا رہا ہے، وہ ارسلان حیدر ہے اور ولید احمد اسی کے ساتھ تھا، تو پولیس کو دیکھ کر ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی، مگر ایس ایچ او تھانہ سٹی انسپکٹر میاں زاہد حسین نے اسے قابو کر لیا اور اسے اسکے مکان پر لیجا کر ولید احمد کے بارے میں پوچھ گچھ کی تو ملزم نے کہا کہ ولید احمد تو گزشتہ شام ہی لاہور چلا گیا تھا، مگر مقتول کا جوتا وہاں پڑا ہونے اور صحن میں فرش پر تازہ سیمنٹ لگا ہونے پر شک گزرا تو پولیس کے پوچھنے پر ملزم نے ولید احمد کو قتل کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے ولید کو قتل کرکے صحن میں دفن کررکھا ہے، جہاں سے پولیس نے کھدائی کے بعد ولید احمد کی نعش برآمد کرلی۔
ملزم 2010-11ء میں نویں اور دسویں کلاس کیڈٹ سکول جھنگ میں ولید احمد کا کلاس فیلو تھا، اسی دوران ملزم ارسلان حیدر کو ولید احمد کی جائیداد اورامیر ہونے کا علم ہوا، تو اس نے ولید احمد کے ساتھ دوستی گہری کر لی اور اس کے گھر آنا جانا شروع کردیا۔ملزم چند روز قبل ٹوبہ ٹیک سنگھ آیا اور ایک پراپرٹی ڈیلر نوید کے ذریعے کینال ویو روڈ پر ایک مکان کرایہ پر لیا۔
ملزم نے بتایا کہ اس نے نشہ آور گولیا ں اور انجکشن لاہور سے کتے کو مارنے کا بتا کر خریدے۔ اغواء کرکے اسے کوئٹہ یا دوسری جگہ لے جاتا اس کیلئے ممکن نہ تھا اس لئے بے ہوشی کی حالت میں اس کی تصاویر بنانے کے بعد اسے قتل کرکے دفن کر دیا اور بعد ازاں وہ کوئٹہ کے لئے روانہ ہونے والا تھا کہ پولیس کے ہتھے چڑھ گیا، ملزم ارسلان حیدر نے انکشاف کیا کہ کوئٹہ پہنچنے کے بعد اس نے ولید احمد کے ورثاء کے ساتھ تاوان کیلئے رابطہ کرنا تھا اور اس کی فوٹوز ای میل کرکے تاوان حاصل کرنا تھا، مقتول ولید احمد کی تین چھوٹی بہنیں اور ایک بھائی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-18

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان