بند کریں
جمعہ مارچ

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سندھ فیسٹیول
دُنیا بھر کی توجہ کا مرکز
موئن جودڑو کی 5ہزار سالہ قدیم تہذیب کے حوالے سے اپنی قدیم شناخت پر فخر کرنے والے سندھ میں ان دنوں سندھ فیسٹول کی تقریبات جاری ہیں
الطاف مجاہد:
موئن جودڑو کی 5ہزار سالہ قدیم تہذیب کے حوالے سے اپنی قدیم شناخت پر فخر کرنے والے سندھ میں ان دنوں سندھ فیسٹول کی تقریبات جاری ہیں۔ ساتھ ہی مباحثہ بھی کچھ اہل قلم، صاحبان فن اس پر تنقید کے تیر برسا رہے ہیں ان کے نزدیک یہ فنڈز کا زیاں ہے سندھ کوایسے میلوں کی نہیں ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت ہے تاکہ اس کا امن بحال ہو اور وہ رونقیں لوٹ آئیں جو ایک دوعشرے قبل تک اس کا ثقافتی حسن کہلاتی تھیں۔

مچ کچہریاں یعنی سخت سرد راتوں میں الاوٴ جلا کر دہکتے شعلوں کے اطراف میں موسیقی ، شاعری، کہاوتیں ضرب الامثال بیان کرنا سگھڑوں کی محفل جس میں سندھ کے ثقافتی ورثہ پر عبور رکھنے والے مخصوص افراد جو سگھڑ کہلاتے ہیں سوال و جواب کے ذریعے اور دیہات کے حوالے سے خوبصورت باتوں سے شرکاء کو لبھاتے ہیں ربیع الاول ، گیارہویں شریف اور بزرگان دین کے ایام عرس پر ”موٹو ون کی محفل“ جس میں مولوی یعنی نعت خواں ، حمد ، نعت، منقبت اور توصیفی اشعار کے ذریعے شرکاء کے جذبہ دینی کو بڑھاتے ہیں اور صوبے کے کونے کونے، قرئیے قرئیے میں موجود درگاہوں ، خانقاہوں ، استانوں اور مزاروں کے عرس اور سالانہ تقریبات مثلاً رجب میں درگاہ پیر گوٹھ، پیران پگارہ صفر میں شاہ لطیف (بھٹ شاہ) اور شعبان میں لعل شہباز قلندر کی نگری سیہون اور سچل سرمت ، خیر پور میں رانی پور والی درگاہ غوثیہ، مخدومین کھوڑہ، سائیں غلام حسین شاہ قمر اور ہمایوں ، گھوٹکی ، نینگ ویہڑ کے اجتماعات کی مہینوں قبل تیاری ہوتی ہے۔
اور عقیدت مند خصوصی احتمام کرتے ہیں ، ٹھٹھہ ، بدین اور کراچی کی ساحلی پٹی کے جزائر میں واقع مزاروں پر بھی خوب میلے ٹھیلے ہوتے ہیں اور سندھ کے صوفیانہ سماج میں عروس پر محض و عظ نہیں ہوتا یہاں ادبی نشست ، موسیقی کی محفل اور سکھڑوں کی کچہریاں لازمی جزو ہوتی ہیں۔ جبھی تو سندھ میں برداشت و محبت اور رواداری و ہم آہنگی کا خصوصی کلچر پایا جاتا تھا جو اب آہستہ آہستہ عنقا ہوتا جا رہا ہے۔

سندھ فیسٹول بلاول بھٹو زرداری کا خواب ہے جو انہوں نے مختصر عرصے میں شرمندہ تعبیر کر دکھایا ہے موہٹہ پیلس کراچی جو مادر ملت فاطمہ جناح کی آخری ایام میں رہائش گاہ تھی اور جہاں ان کی پراسرار موت کے بعد جنازہ اٹھا تھا وہ آج کل سندھ کے محکمہ ثقافت کی ملکیت ہے یہاں ایک ثقافتی تقریب میں بلاول بھٹو زرداری نے اپنی بہن بختاور کے ساتھ میزبانی کرتے ہوئے سندھ فیسٹول کا تصور پیش کیا تھا یہ فیسٹول ان کے اپنے الفاظ میں سندھ کی قدیم ثقافت کو اجاگر کرنے کے لئے ہے۔
لاڑکانہ سے ملحقہ موہن جودڑو کے قدیم آثار میں رنگ و نور کا میلہ اترا ہوا تھا غیر ملکی سفرا، پاکستان بھر سے آنے والی اہم شخصیات ، قبائلی عمائدین ، سرکاری افسران یہاں جمع تھے اور افتتاحی تقریب دیکھنے میں محو تھے جہاں فنکاروں نے خوبصورت پرفارمنس دی افتتاح پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کیا تقریب میں بختاور زرداری ، آصفہ زرداری، سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویر اشرف، آزاد کشمیر کے وزیر اعظم چودھری عبدالمجید، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، سابق صدر آصف زردری کی ہمشیرہ فریال تالپور، دوسری ہمشیرہ ایم این اے عذراپلیچو، سابق سپیکر فہمیدہ مرزا، پی پی سندھ کے سیکرٹری تاج حیدر، سندھ اسمبلی کے سپیکر آغا سراج درانی، سینئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو، چودھری اعتزاز احسن، شرمیلا فاروقی اور سابق وزیر اطلاعات قمر الزماں کائرہ سمیت پی پی کے رہنما غیر ملکی سفارت کار اور فن و ثقافت کے شعبے کی اہم شخصیات شریک تھیں موئن جودڑو ائیر پورٹ پر دن بھر خصوصی پروازیں اترتی رہیں اور معزز مہمانوں کو حفاظتی انتظامات میں مقام تقریب تک پہنچایا جاتا رہا۔
تقریب میں شرکت کیلئے خصوصی کارڈ جاری کئے گئے تھے بلٹ پروف گاڑیوں کا اہتمام تھا میڈیا کو بھی اندر جانے کی اجازت نہ تھی رنگ برنگی روشنیاں ، قمقمے اور جھاڑ جنگل میں منگل کا سماں پیدا کر رہے تھے دستاویزی فلموں کے ذریعے قدیم تہذیب ، یہاں موجود شہری سہولتوں اور مجسموں ، سکوں، آرٹ کے نمونوں اور دیگر نوادرات پر بریفنگ دی گئی جبکہ وہاں لگائے گئے سٹالوں پر سندھ کی تاریخ ، قدیمی آثار اور ثقافتی ورثہ پر لٹریچر بھی رکھا گیا تھا۔

بلاول بھٹو زرداری کا اختتاحی تقریر میں کہنا تھا کہ سندھ فیسٹول انقلابی اقدام ہے موئن جودڑو کے تاریخی آثار پوری دنیا میں توجہ کا مرکز بن چکے ہیں سندھ کے ثقافتی ورثہ اور تاریخ کو عالمی سطح پر روشناس کرانے کیلئے یہ تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں تاکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی طرح سندھ کی تہذیب متعارف ، محفوظ اور ترقی دینے کیلئے عملی کوشیش سامنے آئیں اور حالیہ اقدام کے نتائج آگے چل کر سامنے آئیں گے شمس میرانی کے گیت ”کبٹی بندر“ پر شرکائے تقریب والہانہ انداز میں جھومتے ہوئے نظر آئے جبکہ راحت فتح علی خان اور سائیں ظہور نے بھی اپنی گائیکی سے سماں باندھ دیا بلاول بھٹو نے کہا کہ سندھ باب الاسلام ہے لیکن عسکریت پسندوں اور دہشتگردوں نے اپنا اسلامی نظام متعارف کرا کر عالمی سطح پر پاکستان کا امیج مجروح کیا ہے انہوں نے کہا کہ میں سندھ فیسٹول کے ذریعے پاکستانی قوم کو متحد کرتے ہوئے وقار اور تاریخی ورثہ کو بحال کرنا چاہتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میں سندھ فیسٹول کا خیال عید پر آیا جب میں نے ان تاریخی آثار کی زبوں حالی کو دیکھا تقریب میں بختاور زرداری نے انگریزی میں نغمہ بھی گایا بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ انہوں نے اسی تقریب کے لئے اپنی ٹیم سے مل کر 45 کروڑ روپے جمع کئے جبکہ حکومت سندھ نے 20کروڑ روپے کا عطیہ دیا انہوں نے بتایا کہ سپانسرز سے ملنے والی رقم سے سندھ حکومت کو رقم واپس کر دینگے۔

سندھ فیسٹول پر بعض حلقوں نے تنقید بھی کی اسے مغربی ٹچ دینے کو افسوسناک بتایا سندھ کے وزیر تعلیم نثار کھوڑو کہتے ہیں کہ فیسٹول کے نقاذ” مخالفت برائے مخالفت“ کا نظریہ اپنائے ہوئے ہیں وہ مثبت کوششوں میں بھی کیڑے نکال کر پی پی سے ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کا وڑن پاکستان میں امن، محت اور بھائی چارے کا پرچار ہے اور سندھ فیسٹول اسی سلسلے کو آگے بڑھانے کا ذریعہ انہوں نے سندھ فیسٹول کو مثبت تبدیلیوں کی ابتدا قرار دیا۔
بعض حلقوں نے 5رکن انتظامی کمیٹی کی سربراہی فریال تالپور کو دینے پر تنقید کی تو کمیٹی نے اویس مظفر ، شرجیل میمین، فخر عالم اور شرمیلا فاروقی کے منگیتر ہشام شیخ کی شمولیت پر اعتراض کیا کچھ لوگ 75 کروڑ روپے کے فنڈز پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں لیکن سندھ فیسٹول کے حامی ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس عالمی سطح کی تقریب کے مخالف تنقید کی بجائے کچھ کر کے دکھائیں معاشرے میں ثقافتی تقریبات مثبت ماحول پیدا کرتی ہیں اور عوام کو خوش گوار ماحول کا احساس ہوتا ہے۔
فیسٹول کی افتتاحی تقریب موئن جودڑو کے آثار قدیمہ میں ہوئی جبکہ افتتاحی تقریب ماضی میں سندھ کے دارالسلطنت کا اعزاز رکھنے والے ٹھٹھہ میں ہو گی 15 روزہ تقریب کا اہتمام کراچی، حیدر آباد و دیگر شہروں میں بھی کیا گیا ہے۔ رنگوں روشنیوں اور گیتوں کے پس منظر میں ان تقریبات کو تادیر یاد رکھا جائے گا کہ سندھ کے باشندے اپنے قابل فخر ماضی اور شاندار ثقافتی ورثہ پر ہمیشہ فخر کرتے آئے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-05

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان