بند کریں
بدھ مارچ

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
محبت فاتح عالم ۔ ایک تاریخ ایک حقیقت
"فروری "کو محبت کے مہینے اور14" فروری "کو محبت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔دنیا کے کئی ممالک میں یہ دن محبت کی علامت بن چکا ہے۔اس دن کو غیر شادی شدہ مرد اور خواتین کے درمیان محبت کے اظہار کے طور پر مناتی ہے
میمونہ صدف
"فروری "کو محبت کے مہینے اور14" فروری "کو محبت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے ۔دنیا کے کئی ممالک میں یہ دن محبت کی علامت بن چکا ہے ۔ تاریخ عالم اس دن کو غیر شادی شدہ مرد اور خواتین کے درمیان محبت کے اظہار کے طور پر مناتی ہے ۔ایک برہنہ کیوپٹ کو اس دن کے نشان کے طور پر متعرف کروایا گیا جس کے ہاتھ میں تیرکمان ہے ۔
۔ تیر کے آگے ایک دل بنا ہے جو اس بات کا غماز ہے کہ اس تیر کے نشانے پر آنے والے محبت میں مبتلا ہو جائیں گے ۔ اس دن میں چاہنے والے ایک دوسرے کو تحائف دیتے ہیں "، سرخ رنگ" کو اس دن کے لیے مخصوص کیا گیا ہے ۔سرخ رنگ اس دن نہ صرف پہنا جاتا ہے بلکہ تحائف بھی عموما سرخ رنگ کے منتخب کیا جاتا ہے ۔ غیر شادی شدہ مرد و خواتین خاص طور پر اس دن کا انتظار کرتے ہیں ۔
اس دن کی تشہیرمیں میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے ۔ ہر چینل پر پورا دن خاص طور پر اس حولے سے نہ صرف پروگرام دیکھائے جاتے ہیں بلکہ نوجوانوں کو خاص اہمیت دی جاتی ہے
ذرا ٹھہریے !ایک نظر تاریخ پر دوڑاتے ہیں کہ یہ ویلٹائن ڈے ہے کیا اور اس کو منانے کا آغاز کہاں سے ہوا ؟ ۔۔۔
تاریخ اقوام میں اس دن کی کوئی واضع تاریخ موجود نہیں ۔ قبل ا ز مسیح میں15"فروری" کو" فیسٹ آف ولف "کے طور پر منایا جاتا تھا ۔
یہ تہوار" فبروٹاجونو " جو کہ عورت اور محبت کی دیوی اور" رومن قدرت "کے دیوتا کے اعزاز میں منایا جاتا تھا ۔ اس دن نوجوان خواتین اپنے ناموں کی پرچیاں ایک پیالے میں ڈال دیتی تھیں اور نوجوان مرد اس میں سے ایک پرچی منتخب کر کے اس عورت کو ایک دن کے ساتھی کے طور پر چن لیتے ۔ عموما یہ جوڑے آپس میں تحائف کا تبادلہ کرتے اور بعض اوقات شادیاں بھی کر لیتے ۔

جبکہ دوسری طرف اس دن کو قدیم روم اور کسی حد تک عیسائیت سے موسوم کیا جاتا ہے ۔ تیرویں صدی میں بادشاہ "کلاڈس" نے فیصلہ کیا کہ وہ فوج کی کارکردگی میں اضافے کی خاطر اس میں شامل ہونے والے نوجوانوں کو شادی کی اجازت نہیں دے گا ۔ (جبکہ اس زمانے میں میں تمام نوجوان لڑکوں کوفوج میں شامل ہونا ضروری تھا ) ۔ اس فیصلے کے بر عکس" سینٹ ویلنٹائن" نے علم بغاوت بلند کیا اور چوری چھپے سپاہیوں کی شادیاں کروانے کا انتظام کیا ۔
بعض جگہوں پر تاریخ ہمیں کچھ یوں بتاتی ہے کہ" ویلنٹائن "خود اپنے جیلر کی بیٹی سے محبت کر تا تھا جو اس کو جیل میں ملنے آتی تھی ۔ اس نے اپنی محبوبہ کو ایک خط لکھا جس کے اختتامی حروف"From Your Valentine" تھے ۔جب یہ راز منظرعام پر آیا توویلنٹائن بادشاہ کے عتاب کا نشانہ بنا اور اس جرم کی پاداش میں اسے بعد میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ۔اس واقعہ کو زیادہ تر "ویلنٹائن ڈے "سے منسوب کیا جاتا ہے ۔

کیتھولک تاریخ میں تین ویلنٹائن کا تذکرہ ملتا ہے جس میں ایک مزکور روم سے تعلق رکھنے والا ، ایک اترمنا کا پشپ اور ایک افریقہ سے تعلق رکھتا تھا ، ان سب کومختلف ادوار میں لیکن14 فروری کو مار دیا گیا ۔سن 496 عیسوی میں" پوپ گلیسیس" نے 14فروری کو ویلنٹائن ڈے کے طور پر منانے کا آغاز کیا جبکہ امریکہ میں سن 1800 کی سول وار میں تمام اداروں میں چھٹی دی گئی اور اس دن کوباقاعدہ منانے کا آغاز کیا گیا۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محبت کا اظہار صرف ایک ہی دن کیا جانا چاہیے ؟کیا غیر شادی شدہ مرد و خواتین کا بلاروک ٹو ک ملنا اور تحائف کا تبادلہ معاشرے کے بگاڑ کا سبب نہیں ؟ کیا اسلام اس طرح کے تہواروں کو منانے کی اجازت دیتا ہے ؟
محبت مذہب، فرقے یا کسی خاص گروہ کی پہچان تو نہیں یہ تو ایک آفاقی جذبہ ہے۔ رب کعبہ عزو جل نے تو خود محبت کی تلقین کی اور اس نے میرے آقا صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم کو اپنا محبوب بنایا ۔
جب محبت اتنا پاکیزہ جذبہ ہے تو پھر ہم اس کو گندگی میں کیوں دھکیل رہے ہیں؟ کیا یہ لمحہ فکریہ نہیں ۔
محبت آکسیجن کی مانند انسان کی زندگی کو تر و تازہ رکھتی ہے ۔ محبت کا اظہار نہ صرف ضروری ہے بلکہ یہ کسی بھی رشتے کی پائیداری کا ضامن بھی ہے ۔ جہاں اظہار کی کمی واقع ہونے لگے وہاں رشتے کمزور ہونے لگتے ہیں ۔ لیکن جب غیر شادی شدہ مرد و خواتین کے درمیان یہ رشتہ پروان چڑھنے لگے تو نہ صرف ان کی آنے والی زندگی میں مشکالات کا سبب بنتا ہے بلکہ اگر کسی اختلاف کی وجہ سے ان کی شادی نہ ہو پائے تو ان کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے ۔
، اس طرح ذہنی طور پران کی شخصیت مسخ ہو جاتی ہے ۔ لڑکیا ں چونکہ جذباتی طور پر لڑکوں کی نسبت کمزور ہوتی ہیں اس لیے ان کی شخصیت بھی مردوں کی نسبت شکست و ریخت کا شکار بھی زیادہ ہوتی ہے جبکہ دوسری طرف لڑکے بھی جب کسی ان چاہی لڑکی کو اپنی شریک حیات بناتے ہیں تو ان کے لیے سمجھوتہ کرنا نسبتا مشکل ہوتا ہے ، وہ اپنی بیوی کا مقابلہ اپنی محبوبہ سے کرنے لگتے ہیں اس طرح ایک بے نام سی کسک ان کی ساری زندگی پر محیط ہو جاتی ہے ۔
بعض اوقات شادی کی صورت میں حد سے زیادہ توقعات یا شکوک و شبہات کی صورت میں عموما ایسی محبتیں طلاق کے انجام سے درکنار ہوتی ہیں ۔ اکژو بیشتر دیکھا گیا ہے کہ محبت کی شادیوں میں طلاق کی شرع کہیں زیادہ ہے ۔
اس کے بر عکس اگر اسلام کا مطالعہ اور نفاذ کیا جائے تو بہت سی مشکلات سے بچا جا سکتا ہے ۔اسلام محبت کو بے راہ روی سے ممتاز کرتا ہے اور اسے کسی خاص دن پر محدود نہیں کرتا ۔
اسلام کسی بھی ایسی چیز کی مخالفت کرتا ہے جو اخلاقیات سے مبرا ہو اور جس کی وجہ سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہونے کا خطرہ ہو ۔ جبکہ اسلام میں ہر رشتے کی بنیاد عزت و احترام ہے ۔ اسلام اظہار سے نہیں روتا بلکہ اظہار محبت کو اس کے جائز حق دار کے لیے مخصوص کرتاہے۔ اسلام انسان کو معاشرے کی اکائی کے طور پر پیش کرتا ہے اور اس اکائی کو بہتر انداز میں زندگی گزارنے کا سبق دیتا ہے ۔
الله اور اس کے رسول زندگی کے ہر موقعے پر صلا رحمی کا درس دیتے ہیں بلکہ حقوق العباد کو اداکرنے کا حکم حقوق الله سے زیادہ ہے ۔
اس طرح کے تہوار معاشرے میں بے راہ روی کو فروغ دیتے ہیں اور عموما ان تہواروں کو منانے والے نوجوان طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ۔یہ امرہماری خصوصی توجہ کا طالب ہے کہ ان تہواروں کو پھیلنے سے روکا جا ئے ۔ان کی تشیہرکو محدود کیا جائے اور میڈیا کو بھی اس کا پابند کیا جائے۔ بر وقت نکاح ، اور نکاح کی رسومات کو سادہ سے سادہ بنایا جانابھی ضروری ہے ۔تاکہ نوجوان نسل کو بے حیائی اور بگڑنے سے روکا جا سکے ۔
تاریخ اشاعت: 2014-02-14

(5) ووٹ وصول ہوئے