بند کریں
جمعرات مارچ

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
محکمہ خوراک سندھ میں لاکھوں کی بے ضابطگیاں…
کوٹری میں بلہاری کے گودام سے گندم کی خورد برد کا اعتراف 16فلور ملز اوور چارجنگ کے الزام میں سربمہر، 15فوڈ انسپکٹرز نوکری سے برطرف
سالک مجید:
صوبہ سندھ کے طور عرض میں ایک عرصے سے چیخ و پکار جاری تھی کہ سندھ کا محکمہ خوراک کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے اور دیدہ دلیری کے ساتھ لوٹ مار کی جارہی ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں، کسی قسم کی روک ٹوک نہیں ہے ، گوداموں سے بوریوں کی بوریاں غائب کی جارہی ہیں، بڑے پیمانے پر خورد برد اور بے قاعدگیاں ہورہی ہیں لہٰذا ان بے ضابطگیوں کا حساب لیا جائے ، چوروں پر نظر کھی جائے ان کے ہاتھ پکڑے جائیں، ان کو سزائیں دلائی جائیں اور لوٹ مار کرنے والوں سے سرکاری مال واپس لیا جائے اور ہضم کی گئی رقم نکلوا کر سرکاری خذانے میں واپس جمع کرائی جائے لیکن ہر مرتبہ کہہ دیا جاتا ہے کہ موجودہ صورتحال قابو میں ہے۔
البتہ ماضی میں ہونے والی بے قاعدگیوں کا حساب لیا جارہا ہے اور پچھلی حکومت یا حکمرانوں کے کرتوتوں کو عوام کے سامنے لایا جائے گا۔ اب دلچسپ بات یہ ہے کہ سندھ میں پچھلے پانچ سال بھی پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، وزیر اعلیٰ بھی پیپلز پارٹی کے تھے بلکہ یہی وزیر اعلیٰ تھے اور وزیر خوراک بھی پیپلز پارٹی سے تھے۔ اب وزیر موصوف ضرور بدل گئے ہیں لیکن محکمہ خوراک کی حالت اور افسران کے لچھن نہیں بدلے۔
میڈیا میں تو پہلے ہی حکومت پر دباؤ ہے کہ کرپشن اور لوٹ مار کے خلاف ایکشن لیا جائے اب سندھ اسمبلی میں اپوزیشن اراکین نے بھی محکمہ خوراک کے ذمہ داروں کو آڑے ہاتھوں لے لیا ہے۔ بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی۔ وزیر خوراک جام مہتاب ڈاہر کو ایکشن میں آنا پڑگیا وزراء کی لائن میں جام مہتاب ڈاہر کو نسبتاََ زیادہ محنتی اور ایماندار مانا جاتا ہے اس لئے محکمہ خوراک میں بہتری کے آثار محسوس کئے جارہے ہیں۔
حکومت سندھ کے محکمہ خوراک نے اوورچارجنگ پر مزید 16فلور ملوں کو سربمہر کرنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔ ان فلورملوں میں پرائم فلور ملز، لائل پور فلور مل کورنگی فلور مل، قیصر فلور مل، نیو سندھ فلور مل، زم زم فلور مل، قندھاری فلور مل، الحمد فلور مل، تنظیم فلور مل، یونٹی فلور مل، ایشیا فلور مل، مہران فلور مل، عبدلاا فلور مل، سانگھڑ فلور مل، اکبر فلور مل شامل ہیں۔
جبکہ کے کے (قریشی) فلور مل کے مالکان کے خلاف محکمہ خوراک کے عملے کو لاکھوں روپے رشوت کی پیشکش کرنے کے معاملے پر انکوائری بھی چل رہی ہے۔
صوبائی وزیر خوراک جام مہتاب ڈاہر کا موٴقف ہے کہ انہوں نے کرپشن کے خاتمے کیلئے باقاعدہ مہم شروع کر رکھی ہے اور اس مہم کی وجہ سے ہی پندرہ فوڈ انسپکٹروں کو نوکریوں سے برطرف کیا گیا ہے ، یہ کوئی معمولی اقدام نہیں ہے کیونکہ کرپٹ افسران نے کرپشن کر کے اچھے تعلقات بھی بنا رکھے ہیں اور ان کی سفارشیں اور دباؤ بھی بہت اوپر سے آتاہے لیکن کرپشن کے خلاف جاری مہم کی کامیابی کیلئے ہر سطح سے آنے ولاا دباؤ مسترد کیا گیا ہے اور دوسروں کیلئے ایک مثال قائم کردی ہے کہ جو بھی کرپشن کرے گا اسے نوکری سے فارغ کردیا جائے گا۔
سرکاری خذانے کو نقصان پہنچانے والوں کی محکمے میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ کالی بھیڑوں کی نشاندہی ہورہی ہے کافی شکایات آتی ہیں اور ایکشن لیا جارہا ہے جس کے باعث صورتحال اور محکمے کی کارکردگی میں تیزی سے بہتری آرہی ہے۔
حکومت سندھ کی توجہ اس جانب بھی مبزول کرائی جاچکی ہے کہ صوبے سے گندم اور آٹے کی اسمگلنگ ہر سال کا معمول ہے لہٰذا اس کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں ہر سال کچھ دنوں کیلئے دفعہ 144لگا کر کچھ ٹرک پکڑے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود اسمگلنگ کی شکایات موجود ہیں جبکہ صوبے کے اندر آٹا سرکاری نرخ کی بجائے مہنگے داموں میں بیچا جاتا ہے اور غریب آدمی پر بوجھ پڑتا ہے۔
صوبائی وزیر خوراک جام مہتاب ڈاہر کا کہنا ہے کہ صوبے کی تمام فلور ملز کے باہر موجود فئیر پرائس شاپس اور بچت بازاروں میں آٹا 39روپے 50پیسے فی کلو دستیاب ہے اگر اس قیمت پرآٹا نہ مل رہا ہوتو محکمے کو آگاہ کیا جائے ہم کارروائی کریں گے۔
اب دیکھا جائے تو سرکاری نرخ پر آٹا فراہم کرنا خود حکومت کی ذمہ داری ہے اگر اس حکم پر عملدرآمد نہیں ہورہا تو حکومت کو خود حرکت میں آنا چاہئے اور مختلف بازاروں اور فئیر پرائس شاپس وغیر کے وزیر موصوف کو خود سرپرائز وزٹ کرنے چاہئیں اور چھاپے مارنے چاہئیں صوبے میں کل 129فلور ملز ہیں ان میں سے 76کراچی میں ہیں باقی سکھر، میر پور خاص اور لاڑکانہ میں ہیں۔
ہر فلور ملز کے لئے گندم کا کوٹہ مختص ہے۔ 100گلو گرام کے سات ہزار بیگ ہرمل کو فراہم کئے جاتے ہیں۔
سندھ کے وزیر خوراک جام مہتاب ڈاہر نے اس بات کا اعتراف بھی کرلیا ہے کہ کوٹری میں بلہاری گودام سے 1621میٹرک ٹن گندم کی خورد برد ہوئی تھی لیکن ان کا کہنا ہے کہ یہ خورد برد 2008/09ء میں کی گئی۔ کرپشن کے اس کیس میں اس وقت کے دو فوڈ انسپکٹرز روشن علی منگی اور عبدالستار علی شاہ ریٹارئر ہوچکے ہیں۔
حکومت نے ان کی پنشن روک لی ہے ان کا کیس چئیر مین اینٹی کورپشن کو بھیج دیا گیا ہے۔ وزیر خوراک کا یہ بھی کہناہے کہ ستمبر 20131ء سے جنوری 2014ء تک حیدر آباد میں فلور ملوں اور چکیوں کو 53ہزار 926میٹرک ٹن گندم فراہمی کی گئی۔
محکمہ خوراک میں خالی آسامیوں کی کیا صورتحال ہے اس حوالے سے صوبائی وزیر خوراک جام مہتاب ڈاہر نے وزیر اعلیٰ کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ صوبے میں فوڈ انسپکٹرز کی 451آسامیاں ہیں اور ان میں سے 72آسامیاں خالی پڑی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-11

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان