بند کریں
اتوار مارچ

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
میں بھی سوچوں۔۔۔تُو بھی سوچ۔۔۔۔!!
مٹی کی خوشبو خون میں رچی ہوتی ہے، پھر چاہے آپ اِدھر کے ہو جائیں یا اُدھر کے، آنکھوں میں ایک خاص چمک، لہجے کی مٹھاس اور طبیعت کا اوتار آپ کو اپنی مٹی سے پیوستہ رکھتا ہے
مصنف : اجمل جامی

مٹی کی خوشبو خون میں رچی ہوتی ہے، پھر چاہے آپ اِدھر کے ہو جائیں یا اُدھر کے، آنکھوں میں ایک خاص چمک، لہجے کی مٹھاس اور طبیعت کا اوتار آپ کو اپنی مٹی سے پیوستہ رکھتا ہے، دھرتی ماں کی محبت نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے، یہ اور بات ہے کہ ماڈرن جنریشن کی فطرت ثانیہ مٹی سے وابستہ وارفتگی کے احساس کو اس طرح محسوس نہیں کر سکتی جیسے ہمارے بڑے بوڑھے کیا کرتے تھے۔

۔ کسی جگہ پڑھا تھا۔۔
A mans love for his native land lies deeper than any logical expression, among those pulses of the heart which vibrate to the sanctities of home, and to the thoughts which leap up from his fathers graves.
ہمارے آباو اجداد تحصیل رنبیر سنگھ پورہ، ضلع جموں سے تھے، وہ خالص اسی دھرتی کے باسی تھے، جنہوں نے بہت بعد میں اسلام قبول کیا۔ رنبیر سنگھ پورہ جموں کی وہ تحصیل ہے جس کی ہریالی مثالی ہے، شاید ہی کوئی ایسی جنس ہو جو اس خطے میں پیدا نہ ہوتی ہو۔
۔ اُس دیس بارے جب بھی سوچتا ہوں، فلم ویر زارہ کا نغمہ "ایسا دیس ہے میرا" سماعتوں میں گونجنے لگتا ہے۔۔ بزرگ سنایا کرتے تھے کہ بہت پر امن اور خوشحال خطہ تھا، یہاں آر ایس پورہ میں سیالکوٹ کے قریب گاوں دلیہڑ واقع ہے، آج بھی یہ گاوں اسی نام سے جانا جاتا ہے، ہمارے بابے دلہیڑ کے تھے، بچپن سے دادا حضور سے جموں کے قصے کہانیاں سنتے آئے، ہوش سنبھالی تو ایک جملہ ذہن میں نقش ہو گیا، 'میرا اے پوترا مینوں جموں لے کے جائے گا، ایہنوں جموں وکھانا اے۔
' تعلیم، کیریئر، فیملی افیئرز اور ذاتی زندگی، سبھی کچھ وقت کے ساتھ ساتھ بدلتا رہا، بڑھتا رہا، چلتا رہا، لیکن دادا کی یہ ایک خواہش میرے ذہن میں من و عن نقش رہی، اس خواہش کی تکمیل کے لیے میرے جذبے کبھی ماند نہ پڑے، ، لیکن ہیچ آرزو مندی،،، جیسے ہی صحافت میں قدم رکھا، دادا حضور چل بسے۔۔
ٹی وی پر پہلی بار مجھے آن ائیر دیکھ کر فرط جذبات میں کہنے لگے، 'ہون اے پترکار بن گیا اے، جموں دا ویزا لوا لوے گا'۔
بشیر احمد اپنے دوستوں میں واحد تھے جو پڑھے لکھے تھے، جموں شہر کی شاید ہی کوئی ایسی گلی ہو جو بشیر احمد کو منہ زبانی یاد نہ ہو۔۔ ربط ہے کہ اختیار میں نہیں، لفظ جیسے قلم سے سلِپ ہو رہے ہوں۔۔ میں اپنے دادا کی خواہش پوری نہ کر سکا، میں انہیں جموں نہ لے جاسکا۔۔ لیکن جموں کا ذکر، جموں کے کسی شخص سے رابطہ یا ملاقات میرے لیے ایسے ہی ہے جیسے میں اپنے دادا کی ادھوری خواہش کو پانی کا 'ترونکا' لگا رہا ہوں، اوپر والے کے اپنے حساب کتاب ہیں، اس کی وہ جانے۔
۔ پچھلے دنوں جناب طاہر سرور میر صاحب (موصوف کے آباو اجداد بھی جموں سے تھے اور ان کے دادا حضور کی قبر واقع گوجرانوالہ پر آج بھی ان کا نام کچھ یوں درج ہے۔۔"میرا اللہ رکھا جموں والے") نے مجھے اچانک آدھی رات کو فون کیا، میر صاحب کا انداز تخاطب انتہائی منفرد اور شیریں ہے، لیکن اس روز میر صاحب نے حال احوال پوچھنا بھی گوارہ نہ کیا، اور ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے فورا فون ایک صاحب کو تھما دیا، یہ تھے جناب خالد حسین صاحب جن کا تعلق جموں سے ہے اور وہ چند دنوں کے لیے لاہور تشریف لائے تھے، خالد حسین صاحب میری دھرتی کے ایک نامور ادیب ہیں، آپ شارٹ سٹوری رائٹر ہیں، شاعر ہیں، اور اہم سرکاری عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں، یہ وہ لکھاری ہیں جن کی تخلیق کا خمیر سماج کے آٹے سے گندھا ہوا ہے، آپ کو اردو، ہندی، انگریزی، پہاڑی، گوجری، ڈوگری ، کشمیری، اور پنجابی جیسی 'رِچ' زبانوں پر عبور حاصل ہے، پنجابی زبان میں لکھی ایک کہانی "ڈونگے پانیاں دا ُدکھ' کا چرچا جموں کے کچھ دوستوں سے بھی سن رکھا ہے، پنجابی اور اردو زبان میں جناب کے قلم سے لکھی سینکڑوں کہانیاں مقامی، قومی اور بین الاقوامی جریدوں میں چھپ چکیں ہیں۔

آدھی ملاقات کے بعد فی الفور ان سے پوری ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا، اور پھر دو چار روز بعد لاہور پریس کلب کی ادبی سوسائٹی نے ان کے اعزاز میں ایک محفل برپا کی، جہاں ان کی زیارت نصیب ہوئی، اس روز فون پر آدھی ملاقات سے پہلے جناب میر صاحب کا فرمان تھا کہ جامی صاحب کیوں نہ آپ کا آدھا عمرہ کروا دیا جائے، اور جب ان سے ملاقات ہوئی تو محسوس ہوا کہ جیسے میرے دادا کی خواہش پھر سے جوان ہو گئی ہے اور وہ یہیں کہیں آس پاس شملہ پہاڑی پر چہل قدمی فرما رہے ہیں، جیسے ابھی ابھی وہ خالد صاحب کو پہچان لیں گے اور مجھے ایک خاص اعتماد کے ساتھ بتائیں گے کہ 'اے ویکھ،، ایہہو جئے ہوندے نیں جموں دے لوک۔

ناچیز اس محفل میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے کرتے فقط اتنا ہی کہہ سکا کہ آج شاید میرا ایک عمرہ ادا ہو گیا۔۔ خالد حسین صاحب سے ملاقات کے دوران، میرے تحت الشعور میں جموں کی گلیاں کوچے بازار اور آر ایس پورہ کی ہریالی یوں لہرا رہی تھی جیسے میرے سامنے کی بات ہو۔۔ اسی اثنا میں ایک صحافی شاعر گویا ہوئے اور دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔
۔ فرمایا

اُدھر رہ گئی یا اِدھر رہے گئی
وفا کی شکایت مگر رہ گئی

یقین جانیں یہ جذبے دونوں جانب ابھی بھی جوان ہیں، مٹی کی محبت جوش سے بھر پور ہے، اپنے بابوں کی جنم بھومیاں دیکھنے کا شوق ابھی بھی زندہ ہے، ان رستوں کو چومنے کو جی چاہتا ہے جہاں بابوں کے قدموں نے چلنا سیکھا، اور احمد راہی کا ایک شعر جناب خالد حسین صاحب نے کچھ یوں سنایا کہ آنکھوں میں دھند اور نمی امڈ آئی،

ایس توں ودھ کے ہور کی دکھ ہوسی
تیری آکھ ایتھے میریآکھ اُوتھے

ہم انسانوں سے بہتر تو وہ پنچھی ہیں، جو سرحدوں کی قید میں نہیں آتے، جب جی چاہ آر ایس پورہ کی فصلوں میں جا بیٹھے اور شام ڈھلتے ہی سیالکوٹ کے کسی پیڑ پر آن بسیرا کیا، خالد صاحب سے ملاقات کے دوران تاریخ کی وہ چند کتابیں جو 'بٹوارے' پر لکھی گئیں 'ہوا میں اڑتے صفحات' کی مانند آنکھوں کے سامنے سے گزر گئیں، دونوں اطراف کے بابے سیاستدانوں کی تصاویر اور بیانات بھی شارٹ فلم کی طرح ذہن میں آئے اور دی اینڈ کے ٹائٹل کے ساتھ ختم ہو گئے، لیکن مجھے میرے سوال کا جواب نہ مل پایا، میرا دادے کی خواہش میں کونساایسا 'آتنک وادی عنصر' تھا کہ وہ اپنی جنم بھومی نہ دیکھ سکا؟؟ سیاسی بصیرتوں کے حامل افراد تو مستقبل کے مسائل کا بھی حل سامنے رکھتے ہیں لیکن ہمارے ساتھ کیا ہوا؟؟

تاریخ اشاعت: 2014-01-08

(6) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     اجمل جامی

اجمل جامی بحثیت اینکر اور نمائندہ خصوصی دنیا نیوز کے ساتھ وابستہ ہیں

اجمل جامی کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-