بند کریں
پیر مارچ

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
خطرناک قاتل پکڑلئے، ٹارگٹ کلنگ نہ تھم سکی
گورنر سندھ بتاتے ہیں کراچی میں ہونے والے ہر قتل کی ایک کہانی ہے! وزیراعظم محمد نواز شریف نے اعلان کیا تھا کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی آخری دہشت گرد کی گرفتاری تک جاری رہے گی
شہزاد چغتائی:
کراچی میں دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کے خلاف آپریشن ستمبر کے اوائل میں شروع کیا گیاتھا جسکی منظوری وزیراعظم محمد نواز شریف نے سندھ کابینہ کے اجلاس میں دی تھی۔ جب آپریشن شروع کیا گیا تو اہداف کی تکمیل کے لئے ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی گئی۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے اعلان کیا تھا کہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی آخری دہشت گرد کی گرفتاری تک جاری رہے گی۔
اس لحاظ سے یہ پاکستان کی تاریخ کا طویل ترین آپریشن ہے جو کہ 2013ء سے شروع ہو کر 2014ء میں داخل ہوگیا ہے اس دوران اب تک 10 ہزار جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ اس وقت سب سے اہم سوال یہ ہے کہ دہشت گردوں اورٹارگٹ کلرز کے خلاف حکومت کی طویل ترین اننگز کب ختم ہوگی؟ وزیر داخلہ چوہدری نثار کہتے ہیں کہ اب تک صرف ٹریلر چلا ہے جب آخری مرحلہ شروع ہوگا تو سب کی چیخیں نکل جائیں گی۔
وزیر داخلہ نے گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ سندھ کے ساتھ کراچی آپریشن کے تیسرے مرحلے پر تبادلہ خیال کیاتھا اس مرحلے کے بارے میں خود چوہدری نثار دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ بہت خوفناک ہوگا اور سب کی چیخیں نکل جائیں گی۔ کراچی میں یہ بات بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے کہ آپریشن کامیاب ہے یا ناکام۔ حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگئی ہے اور ٹارگٹ کلنگ کم ہوگئی ہے۔
لیکن کراچی کے شہری ان دعوؤں سے اتفاق نہیں کرتے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف کی جانب سے جرائم پیشہ عناصر پر ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ اخلاص پر مبنی تھا کیونکہ کراچی میں پانی سر سے اونچا ہوگیا تھا اور ٹارگٹ کلرز کے خلاف آپریشن ناگزیر ہوگیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کے ماہر چوہدری اسلم کی ہلاکت کوکراچی آپریشن کے لئے بہت دھچکا قرار دیا گیا اور ان کی شہادت کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے والوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔
چوہدری اسلم کے جانشین انسپکٹر شفیق بھی زخمی حالت میں ہیں‘ ان پر سبزی منڈی میں خودکش حملہ کیا گیاتھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چوہدری اسلم کا کردار کلیدی تھا۔ چوہدری اسلم کی شہادت کے بعد اب یہ کہا جارہا ہے کہ کراچی میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف بچھائی ہوئی بساط کو لپیٹ کر اب کارروائی کا رخ طالبان کی جانب موڑ دیا جائے کیونکہ اب اصل خطرہ عسکریت پسند بنے ہوئے ہیں۔
ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے اختلافات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں‘ لیکن اب بلاول بھٹو اور ایم کیو ایم مطالبہ کررہے ہیں کہ پوری قوم متحد ہوکر طالبان کا مقابلہ کرے تو اس کا قلع قمع ہوسکتا ہے۔ بلاول بھٹو کہہ چکے ہیں کہ طالبان بلاول ہاؤس اور مجھے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ کراچی آپریشن پر سیاسی جماعتوں کے درمیان بھی اختلافات ہیں۔ ایم کیو ایم نے کراچی آپریشن کو جانبدارانہ قرار دیا ہے اور حکومت سندھ پر زیادتیوں کا الزام عائد کیا ہے۔
ایم کیو ایم نے کراچی آپریشن بلدیاتی معاملات حلقہ بندیوں بلدیاتی قانون ترامیم پر اعتراضات کئے تھے اور کراچی آپریشن بند کرنے پر زور دیا تھا۔ ایم کیوایم کا موقف ہے کہ سیاسی جماعتوں کے خلاف آپریشن بند کرکے اس کا رخ طالبان کی جانب موڑا جائے اور کراچی کو طالبان کے خطرہ سے بچایا جائے کیونکہ عسکریت پسندوں سے پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو سمیت دیگر شخصیات کو بھی خطرہ ہے اور خود بلاول بھٹو کہہ چکے ہیں کہ پوری قوم متحد ہو کرہی طالبان سے نمٹ سکتی ہے۔
کراچی آپریشن کا بنیادی مقصد ٹارگٹ کلرز کو کیفر کردار تک پہنچانا تھا اور ٹارگٹ کلنگ میں بہت زیادہ اضافے کے بعد ٹارگٹ کلرز کوپکڑنے کافیصلہ کیا گیا‘ اس دوران پولیس نے ٹارگٹ کلرز کو بہت پکڑے لیکن قتل و غارت گری کی لہرپر قابو نہیں پایا جاسکا جس میں اچانک تیزی آجاتی ہے اور بعض اوقات کئی دن امن و امان رہتا ہے۔ گورنر سندھ عشرت العباد کہتے ہیں کراچی میں ہونے والے ہرقتل کی ایک کہانی ہے لیکن ٹارگٹ کلنگ قابو میں نہیں آرہی پولیس جس قاتل کو پکڑتی ہے دعویٰ کرتی ہے وہ 50 سے 100 افراد کاقاتل ہے لیکن قتل عام بند نہیں ہوتا۔
الیکٹرونک میڈیا ٹارگٹ کلنگ کو بہت اچھالتا ہے‘ جب سے الیکٹرانک میڈیا آیا ہے کراچی میں قتل بند ہوگئے ہیں قتل کی ہر واردات ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ڈال دی جاتی ہے۔ کراچی تین کروڑ کے لگ بھگ نفوس پر مشتمل ہے‘ جہاں یومیہ درجنوں افراد مرتے ہیں‘ ان کی نعشیں بھی ملتی ہیں‘ لوگ دشمنیاں بھی پوری کرتے ہیں لیکن ہر قتل کو ٹارگٹ کلنگ سے منسوب کردیا جاتا ہے۔
کراچی آپریشن کے دوران پولیس اور رینجرز کی کامیابیاں بھی بہت زیادہ ہیں۔ اس دوران اسٹریٹ کرائم کم ہوگئے ہیں۔ لوٹ مار‘ ڈاکے اوررہزنی کی وارداتیں ختم ہوگئی ہیں‘ شہریوں میں تحفظ کا احساس پیدا ہوا ہے۔ پولیس اور رینجرز پورے شہرمیں چاق و چوبند دکھائی دیتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ محرم الحرام اور 12 ربیع الاول خیریت سے گزر گئے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ بنک ڈکیتیوں کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا‘ ایک دن میں کئی کئی بنک لٹ جاتے ہیں‘ نئے سال کا آغاز بھی بنک ڈکیتی سے ہوا۔
کراچی آپریشن کی راہ میں دہشت گرد جان بوجھ کر سازش کے تحت رکاوٹیں کھڑے کرتے رہے۔ اس دوران کراچی کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بم دھماکے بھی کئے گئے جن میں فورسز کو نشانہ بنایا گیا‘ پولیس افسران کی ٹارگٹ کلنگ بھی بڑھ گئی اوران کو تیزی سے نشانہ بنایا گیا۔ آپریشن کے دوران 10 ہزار کے لگ بھگ جرائم پیشہ پکڑے گئے لیکن مقدمات چلانے کا تناسب کم ہے۔
بہت کم ملزمان کے مقدمات عدالتوں میں پیش کئے گئے سزائیں بھی برائے نام ہوئیں‘ حکومت کی ترغیبات کے باوجود گواہ عدالتوں میں پیش ہونے کے لئے تیار نہیں۔ آپریشن کے دوران اب تک بلا امتیاز گرفتاریاں کی گئی ہیں اور چھاپے مارے جارہے ہیں۔ چوہدری اسلم پر خودکش حملے جیسے واقعات اس بات کی شعوری کوشش ہے کہ کراچی آپریشن کو ادھورا چھوڑ دیا جائے۔
کراچی میں اب کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کوئی دھماکہ نہیں ہوتا بعض اوقات تو ایک دن میں دستی بموں کے کئی ایک دھماکے ہوجاتے ہیں۔ دوسری جانب جب لیاری میں گینگ وار کی جنگ میں تیزی آتی ہے تو ایک دوسرے کے خلاف گولوں ‘ دستی بموں کا آزادانہ استعمال ہوتا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کے اعصاب شل ہوجاتے ہیں۔ کراچی جوپہلے روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا اب دھماکوں کا شہر بھی کہلانے لگا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-01-24

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان