تازہ ترین : 1
Khairpur Main Qiamat Sugra

خیرپور میں قیامت صغری

ملک کے شمالی علاقوں سے روانہ ہونے والی بسیں عام طورپر28گھنٹے میں منزل مقصود پر پہنچ جاتی ہیں لیکن 9نومبر کو سوات سے کراچی روانہ ہونے والی بدقسمت بس کاسفر مکمل نہیں ہوسکا اورموت کے سفر میں تبدیل ہوگیا

شہزاد چغتائی:
ملک کے شمالی علاقوں سے روانہ ہونے والی بسیں عام طورپر28گھنٹے میں منزل مقصود پر پہنچ جاتی ہیں لیکن 9نومبر کو سوات سے کراچی روانہ ہونے والی بدقسمت بس کاسفر مکمل نہیں ہوسکا اورموت کے سفر میں تبدیل ہوگیا۔ روانگی کے وقت صبح ہی صبح مسافروں کی نیم واہ آنکھوں میں خواب سجے تھے ان میں کئی پہلی بار کراچی جارہے تھے کچھ روزگار کی تلاش میں نکلے تھے زیادہ تر عورتوں اوربچوں کا بھی کراچی کا پہلا سفر تھا جوکہ بہت خوش تھے اورکسی کے وہم وگمان میں تھا کہ زندگی کا سفر کراچی سے 450کلو میٹر کے فاصلے پر ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گا۔
بس جب خیرپور کے نزدیک پہنچی تو آگے کی نشستوں پرموجود مسافروں نے محسوس کیا کہ ڈرائیور نیند سے نڈھال ہے۔ گاڑی چلاتے ہوئے وہ بار بار خوابیدہ ہوجاتا تھا۔ جس پر مسافروں نے ڈرائیور کو مشورہ دیا کہ وہ کسی ہوٹل پر گاڑی روک کرآرام کرلے اورچائے پی کر تازہ دم ہوجائے۔ ڈرائیور حیدر علی کو یہ مشورہ پسند آیا اور اس نے ایک ریسٹورنٹ پر بس پارک کردی۔
جہاں مسافروں نے بھی ناشتہ کیا اورحیدر علی آرام کرنے ریسٹورنٹ میں ڈرائیوروں کے مختص کمرہ میں چلا گیا۔ لیکن ریسٹورنٹ سے جیسے ہی بس سڑک پر آئی تو حادثہ ہوگیا۔ مسافروں کے مطابق بس بہت تیز رفتاری سے چل رہی تھی اورسامنے سے آنے والا ٹرک ڈرائیور بھی تیز رفتاری کے ریکارڈ توڑ رہا تھا ہائی وے پر ٹرک عموماً 40سے 50کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتے ہیں۔
لیکن کوئلہ کے ٹرک کا ڈرائیور تیز رفتاری کی تمام حدوں کوچھو رہا تھا۔ مسافروں کے مطابق سڑک ناہموار تھی ا ورشاید ایک گڑھے کی وجہ سے المعصوم بس سروس کی بس کا توازن بگڑا اوردونوں گاڑیاں دھماکے سے ٹکرا گئیں دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ا طراف کے گوٹھوں میں سوئے ہوئے لوگ اٹھ کر بیٹھ گئے اوردھماکے کی آواز کی جانب بھاگنے لگے۔ گاڑیاں ٹکرانے کے بعد جائے حادثہ پر قیامت صغریٰ کا منظر تھا۔
کوئلے سے بھرے ہوئے ٹرک سے ٹکرانے کے بعد بس نے چار قلابازیاں کھائیں جس کے بعد سڑک پر انسانی لاشیں تڑپتے جسم اورمسافروں کا سامان بکھر گیا۔ یہ قیامت صغریٰ کا دل سوز منظر تھا بچوں اورخواتین کی چیخ وپکار سے دل دھل رہے تھے 19مسافروں نے موقع پر دم توڑ دیا 41اسپتال جاکر فوت ہوئے جن کی جان بچائی جا سکتی تھی جاں بحق ہونے والوں میں 18خواتین اور20بچے شامل تھے۔
حادثہ کے بعد بڑی تعداد میں دیہاتی جمع ہوگئے جنہوں نے کھڑکیوں اور دروازوں سے لاشوں اورزخمیوں کو نکالا لیکن بڑی تعداد میں زخمی بس کے اندر پھنسے ہوئے تھے امدادی کارروائیاں نصف گھنٹے کے بعد شروع ہوئیں اورزخمیوں کو بس کی باڈی کاٹ کرنکالا گیا بس کی چھٹ کو کاٹنے میں دو گھنٹے لگے اس دوران زخمیوں کی دلخراش چیخیں آسمان کو چھوتی رہیں ایک 4سالہ بچی ورداکو بس کی باڈی کاٹ کرزندہ نکالا گیا۔
بچی کو خراش بھی نہیں آئی۔ پولیس کے مطابق حادثہ میں دونوں گاڑیوں کے ڈرائیور اور کلینر ہلاک ہوگئے۔ بس ڈرائیور کا نام حیدر علی تھا جس کا تعلق بٹگرام سے تھا حادثہ کی شب تک 39افراد کی شناخت ہوسکی ہلاک شدگان کی تصاویر اسپتال کے گیٹ پرلگادی گئی تھیں۔حادثہ کے بعد قومی شاہراہ پر ٹریفک چند گھنٹے معطل رہا تما م زخمیوں کو نکالنے میں کئی گھنٹے لگے جس کے بعد کرین کے ذریعہ بس اورٹرک کو اٹھا کر نزدیکی پٹرول پمپ پہنچایا گیا۔
جس ٹریک پر حادثہ ہوا اس پر ٹریفک دونوں جانب سے چل رہا تھا ہائی وے پر متبادل راستہ موجود تھا۔ لیکن موٹروے پولیس کی موبائل رہنمائی کیلئے موجود نہیں تھی۔جائے حادثہ کے نزدیک راستوں پر چار فٹ گندا پانی کھڑا تھا سڑک کی حالت خستہ ہونے کے باعث ایمبولینسوں کو پہنچنے میں بہت تاخیر ہوئی اس مقام پر ریلوے پھاٹک کا اوور ہیڈ برج 5سال سے زیر تعمیر ہے جس کے باعث ایمبولینسوں کو طویل مسافت اختیار کرنا پڑی۔
60افراد کے مرنے کے بعد خیرپور اسپتال کا مردہ خانہ چھوٹا پڑ گیا اور لاشیں رکھنے کیلئے جگہ نہیں رہی لاشوں کو مردہ خانہ کے باہر رکھا گیا تو لواحقین مشتعل ہوگئے بس میں 69مسافر سوار تھے اور وہ اوورلوڈ تھی موٹروے پولیس نے گھوٹکی کے نزدیک اوورلوڈنگ پر بس کا چالان بھی کیا تھا۔ بس کا فٹنس سرٹیفکیٹ بھی نہیں تھا جس کی ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی تحقیقات کررہی ہے۔
مسافر زیادہ ہونے کے باعث چھت پر سامان بھی زیادہ لدا ہوا تھا۔ ڈی آئی جی موٹر وے اے ڈی خواجہ نے تصدیق کی کہ حادثہ سڑک خراب ہونے کے باعث ہوا انہوں نے انکشاف کیا کہ اس مقام پر 19 حادثات ہوچکے ہیں۔ سوات سے بس 5بجکر45منٹ پر سوار ہوئی تھی اس میں بحرین‘ مدین ‘خوازہ ‘خیلہ میاندم مردان کے مسافر تھے بس مینیجر ایاز نے 47مسافروں کی بکنگ کی تھی خیال تھا کہ پشاور بائی پاس پر مزید مسافر مل جائیں گے لیکن مزید سواریاں آگے جاکر ملیں۔
بحرین سے بس 6بجے روانہ ہوئی تھی 24گھنٹے بعد مدین خوازہ خیلہ میاندم میں گھروں کے موبائل بجنے لگے۔ جن لوگوں نے فون اٹھائے ان کو اطلاع دے دی گئی۔ پھرریڈیو اورٹی وی سے سب کو پتہ چل گیا کہ ان کے پیاروں کو لے جانے والی بس حادثہ کاشکار ہوگئی جس کے بعد انہوں نے اپنے پیاروں کیلئے قبریں کھودنا شروع کردیں۔ سانحہ خیرپورکاشمار پاکستان کے بڑے ٹریفک حادثات میں ہوتا ہے بہت کم حادثات میں اتنا جانی نقصان ہوا خیرپور کی تاریخ کا یہ دوسرا بڑا حادثہ تھا 20سال پہلے ایک بس روہڑی کینال میں گرنے سے 56افراد ہلاک ہوگئے تھے حیرت ناک بات یہ ہے کہ اب زیادہ تر حادثات صبح ہورہے ہیں۔
سندھ کی حدود میں زیادہ سانحات ہورہے ہیں۔ کراچی آنے والی بسوں کے ساتھ ہونے والا یہ تیسرا بڑا حادثہ ہے۔ اس سے قبل رحیم یار خان سے آنے والی بس کو صبح کے وقت حادثہ پیش آیا تھا جس میں 37افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ چند ماہ قبل کوئٹہ سے کراچی آنے والی بس میں آئل ٹینکر سے ٹکرانے کے بعد آگ لگ گئی تھی اور40افراد زندہ جل گئے تھے۔ حادثہ کا ایک المناک پہلو طبی سہولتوں کا فقدان تھا۔
خیرپور اسپتال میں کوئی ٹراما سینٹر نہیں ہے۔ اسپتال اتنی بڑی افتاد کیلئے تیار نہیں تھا اسپتال میں ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی تعداد محدود تھی ادویات آلات بستر اور جگہ دستیاب نہیں تھی لاشیں زمین پر ڈال دی گئی حقیقت یہ ہے کہ سندھ کے چھوٹے شہروں کے اسپتالوں میں کسی قسم کی طبی سہولتیں ادویات اورآلات موجود ہی نہیں۔ ان اسپتالوں میں کمپاؤڈر ڈاکٹروں کے فرائض انجام دیتے ہیں اورڈاکٹروں کی صلاحیت بھی کمپاؤڈر ز سے زیادہ نہیں ہوتی خیرپور اسپتال میں بڑی تعداد میں زخمی بروقت علاج نہ ہونے کے باعث ایڑیاں رگڑ کر مرگئے۔
خیرپور اسپتال میں ایمرجنسی تو نافذ کردی گئی لیکن جان بچانے والی ادویات نہیں تھی 9گھنٹے گزرجانے کے باوجود نیورو سرجن نہیں پہنچ سکے بعد میں کمبائنڈ ملٹری اسپتال پنوعاقل سے ڈاکٹروں کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پایا۔ جس مقام پر حادثہ ہوا سڑک دو سال سے زیر تعمیر ہے اور 12حادثات ہوچکے ہیں ٹوٹی پھوٹی سڑک کی مرمت کیلئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو کئی خطوط لکھے گئے۔
موٹروے پولیس نے توجہ بھی مبذول کرائی گئی لیکن کوئی اقدامات نہیں کئے گئے حادثہ کی جگہ کوئی ڈائی ورڑن نہیں تھا دھند اور اندھیرے کے باعث دونوں ڈرائیوروں کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ موٹروے پولیس نے حادثہ کا ذمہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کوٹہرا دیا کیونکہ دو ماہ قبل بنائی گئی سڑک ٹوٹ گئی تھی سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ سڑک بہت دنوں سے ٹوٹی ہوئی تھی اگرڈائی ورڑن ہوتا تو حادثہ نہیں ہوتا۔
آغا سراج درانی نے کہا کہ کراچی سے ڈہرکی تک قومی شاہراہ مخدوش حالت میں ہے اوراس پر ہروقت تعمیراتی کام ہوتا رہتا ہے اس موقع پرپوری سندھ اسمبلی نیشنل ہائی وے اتھارٹی پر چڑھ دوڑی۔کراچی میں سوات کے لوگوں نے حادثہ کا ذمہ دارقومی وطن پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر آفتاب شیرپاؤ کو بھی قرار دیا اور ان پر برس پڑے انہوں نے کہا کہ باجوڑ سوات صوابی اورپشاور سے جانے والی بسیں پرانی اور خستہ حال ہیں۔
ان بسوں کے مالکان اوورلوڈنگ بھی کرتے ہیں پہلے سرکاری بسیں چلتی تھی۔ جن کو آفتاب شیرپاؤ نے بند کرادیا اورسرکاری بس سروس کو اونے پونے داموں فروخت کردیا۔11 لاشیں کراچی لائی گئیں یہ لاشیں اتحاد ٹاؤن سبزی منڈی اوربنارس چوک پہنچادی گئیں حادثہ کے بعد وزیراعلیٰ سندھ نے لاشوں کی سوات منتقلی کیلئے ایئرفورس سے رابطہ کیا کچھ دیر کے بعد سی ون 130طیارے ایئرپورٹ پہنچ گئے خیرپور سے ایمبولینسوں میں لاشوں کو سکھر لایا گیا۔

ادھرسندھ اسمبلی میں منگل کو سکھر کے قریب ہونے والے ٹریفک حادثے پر سخت افسوس کا اظہار کیا گیا اور سندھ میں شاہراہوں کی خراب صورت پر وفاقی حکومت پر زبردست تنقید کی گئی۔ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے مطالبہ کیا کہ اس سانحہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کروائی جائے۔ سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ اور دیگر سنئیر ارکان اسمبلی وفاقی حکومت اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو خط تحریر کریں کہ صوبے میں ہائی ویز کی حالت زار کو بہتر بنایا جائے اور جن جن ہائی ویز پر ترقیاتی کام جاری ہے وہاں پر متبادل راستوں کی نشاندہی واضح طور پر کی جائے۔
اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ نے وزیر ٹرانسپورٹ سندھ اور صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی اس سلسلے میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو خط لکھیں اور انہیں صوبے میں ہائی ویز کی بدترین صورت حال سے آگاہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیر صحت سے بھی استدعا کروں گا کہ وہ ہائی ویز پر اسپتالوں میں ایمرجنسی کی تمام سہولیات سے آراستہ کریں۔ صوبائی وزیر خوراک و صحت جام مہتاب ڈہر نے کہا کہ یہاں زمینی حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعہ کی اطلاع کے فوری بعد میں نے خود کمشنر سکھر سے رابطہ کیا اور انہیں ہدایات دی کہ تمام زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اسپتالوں میں سرجن اور دوائیوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور اس سلسلے میں تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔ جام مہتاب ڈہر نے کہا کہ کمشنر سکھر نے حادثہ کے فوری بعد ڈی سی سوات سے فوری رابطہ کیا کیونکہ یہ بس اور اس میں سوار زیادہ تر مسافر کا تعلق سوات سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم شہداء کی لاشوں کو ایمبولنس کے ذریعے سوات روانہ کریں تو اس میں دو روز لگ جائیں گے اس لئے ہم نے سی 130 طیارے کے حصول کی کوشش کی ہے تاکہ تمام شہداء کو ان کے آبائی علاقے میں بھیجا جائے اور ان کے ورثاء کو کسی قسم کی تکالیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔سندھ کے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ قیمتی جان کا کوئی ازالہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سانحہ پر بھی کچھ لوگ سیاست کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور وہ حکومت کو تنقیدکا نشانہ بنا کر سیاسی پوائنٹ اسکارننگ میں مصروف ہے، جو قابل افسوس ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ وزیر ٹرانسپورٹ نے اس سانحہ کی مکمل رپورٹ کمشنر سکھر سے مانگ لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کے بعد اس کی رپورٹ نہ صرف ایوان میں پیش ہونا چاہیے بلکہ عوام کو بھی حقائق سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر شہریار مہر نے کہا کہ یہ واقعہ افسوس ناک ہے اور ہم اس کو سیاسی مسئلہ بھی نہیں بنانا چاہتے لیکن اس واقعہ کی ذمہ دار سندھ حکومت اور وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر اعظم پر براہ راست عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ 5 سال پیپلز پارٹی وفاق میں حکومت کررہی تھی اور این ایچ اے نے 5سال تک کوئی کام نہیں کیا تو اس کی ذمہ دار بھی وہی ہے اور اسی طرح موجودہ وفاقی حکومت بھی اس کی ذمہ دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سانحہ کے زخمیوں کو طبی امداد مکمل طور پر فراہم کی جائے اور شہداء کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے۔ ایم کیو ایم کے سندھ اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ یہ سانحہ انتہائی افسوس ناک ہے اور ہم اس حادثہ میں شہید ہونے والے ورثاء کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحہ کی ذمہ دار صوبائی اور وفاقی حکومت کا ادارہ این ایچ اے دونوں ہیں۔
انہوں نے کہا وفاقی اور صوبائی حکومت زخمیوں کے مکمل علاج معالجہ اور شہیداء کے ورثاء کو معاوضہ کا اعلان کرے۔ مسلم لیگ (ف) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے گذشتہ 5 سال اور اب بھی کوئی کام نہیں کیا۔ آج این ایچ اے کو ذمہ دار قرار دینے والے بتائیں کہ سابقہ 5 سال میں وفاقی حکومت ان کی اپنی ہونے کے باوجود سندھ میں ہائی ویز کیوں نہیں بنائیں گئے۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال قبل اسی ایوان کی ایک خاتون رکن بلقیس مختیار نے ہائی ویز پر ایمرجنسی سینٹرز کے حوالے سے قرارداد پیش کی تھی، جسے اس ایوان نے اتفاق رائے سے منظور کیا تھا لیکن اس کے بعد اب تک ایک بھی ایمرجنسی سینٹر ہائی ویز پر نہیں بنایا گیا۔ نصرت سحر عباسی نے کہا کہ آج صبح کے سانحہ کے بعد ہسپتالوں میں لاشوں تک کو رکھنے کی کوئی جگہ نہیں تھی اور زخمیوں کو اسپتال میں دوائیوں کی فراہمی کی بجائے ان زخمیوں کے ہاتھوں میں دوائیوں کی پرچیاں تھما دی گئی کہ وہ یہ دوائیں لے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آزاد ہونے کے باوجود آج بھی ہمارے پاس اس طرح کی ہنگامی صورت حال سے نبردآزما ہونے کے لئے کسی قسم کی کوئی مشینری نہیں ہے۔
وقت اشاعت : 2014-11-17

(1) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں