تازہ ترین : 1
Kashmiri Awam Ki Azeem Tareen JidoJehed

کشمیری عوام کی عظیم ترین جدو جہد اور ہماری ذمہ داریاں

اٹوٹ انگ کہنے والوں کا ”انگ انگ“ توڑے نے کی ضرورت ہے بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا تھا‘ اس عظیم رہنما کے سامنے پاکستان کا کل تھا

امیر محمد خان:
5فروری بروز بدھ کو پورے پاکستان میں ”یوم یکجہتی کشمیر“ منایا گیا ہے۔ 1990ء میں کشمیر میں ہونے والے بہمانہ قتل عام جس میں ہزاروں افراد بھارتی افواج نے قتل کئے‘ آج کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف جو اس وقت کی کی حزب اختلاف کے لیڈر تھے‘ کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال کی گئی‘ اور اُس وقت کی وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے ملک میں اس دن عام چھٹی کا اعلان کیا۔
عام چھٹی کا اعلان اس طرح کے دنوں میں اس لئے کیا جاتاہے کہ لوگ اپنے کاروبار‘ ملازمتوں‘ مدرسوں کی مصروفیات ختم کر کے اس دن کی مناسبت سے اجتماعات‘ منعقد کریں مگر ہم ” چھٹی “ مناتے ہیں اور گھر میں آرام کو ترجیح دیتے ہیں‘ یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے اس دن نہ صرف اپنے اندر کشمیری شہیدوں کی قربانیوں کی یاد تازہ کرنا ضروری ہے بلکہ جغرافیائی طور پر ہمارا اولین فرض بنتا ہے کہ ہم آزادی کشمیر کیلئے ہر محاذ پر جو بھی ہوسکتا ہے وہ کام کریں جس سے کشمیر میں شہید ہونے والوں کی روح بھی خوش ہو۔
ہمارا اولین فرض صرف جغرافیائی صورتحال کی بناء پر نہیں بلکہ ذرا سوچیں کہ یہ نہتے کشمیری جن میں عورتیں‘ بچے اور بوڑھے شامل ہیں جب غاصب ہندوستان کا نام نہاد یوم جمہوریہ آتا ہے تو اپنے گھروں پر سیاہ پرچم لہراتے ہیں‘ جلوس نکالتے ہیں’ مظاہرے کرتے ہیں‘دنیا کہ توجہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم کی طرف دلاتے ہیں‘ دنیا کو بتاتے ہیں کہ دنیا کی بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والوں کا اصل چہرہ کیا ہے‘ جب پاکستان کا یوم آزادی آتا ہے تو اپنے گھروں پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں جس سے ان کی پاکستان سے محبت عیاں ہوتی ہے۔
یہ مظلوم دونوں صورتوں میں غاصب ہندوؤں کے ظلم کا نشانہ بنتے ہیں‘ گولی کھاتے ہیں‘ لاٹھیاں کھاتے ہیں۔ کشمیری عوام کی اس عظیم ترین جدو جہد اور قربانی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟؟ کی اہم بحیثیت قوم کشمیری عوام کی اس محبت کا جواب دے رہے ہیں؟ ہر گز نہیں بحیثیت عوام تو پاکستان کا ایک ایک بچہ کشمیر کیلئے قربانی دینے کو تیار ہے‘ مگر جب کشمیری عوام قتل و غارت گری ہمارے اپنے ملک میں دیکھتے ہوں گے تو ان کی کتنی حوصلہ شکنی ہوتی ہوگی‘ انہیں اپنا خون رائیگاں جاتاہوا نظر آتا ہوگا‘ مگر شہید کے خون کا صلہ اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری ہے۔
جو شہید کے خون سے کھیلنے کی کوشش کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسندیدہ ہوگا۔
بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا تھا‘ اس عظیم رہنما کے سامنے پاکستان کا کل تھا۔ آج ہم محسوس کرتے ہیں کہ قائد اعظم نے شہ رگ کیوں قرار دیا تھا‘ آج مکار بھارت ہمارے دریاؤں کو سوکھا کررہا ہے‘ کشمیر کے ذریعے ہمارے پانی پر غاصب ہے جس سے آنے والے دنوں میں ہماری فصلیں سوکھ جائیں گی‘ جب زراعت ختم ہوگی تو بھوک و افلاس کا دور ہی ہوتا ہے۔
مگر بد قسمتی سے بیرونی ایجنڈوں کا اپنا منشور بنانے والے ہمارے حکمران یہ بات نہیں کہ اس سے باخبر ہوں‘ وہ اچھی طرح باخبر ہیں مگر ہندوستان کی دوستی کا دم بھرتے ہوئے نہیں تھکتے ‘ ہندوستان مذاکرات کا ڈرامہ رچا کر‘ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے‘ وہ کشمیری عوام پر اپنے ظلم میں کوئی کمی کرنے کو تیار نہیں‘ ہمارے حکمران گزشتہ 65سال سے کشمیر پر اپنا موقف برقرار نہ رکھ سکے جس سے بھارت کے عزائم میں اضافہ ہوا۔
اس نے اپنے آئین میں کشمیر کو اپنا صوبہ بنا ڈالا’ اس سے بڑی ڈھٹائی کیا ہوسکتی ہے؟ وہ عالمی ادارے کہ یہ مسئلہ حل کرنا جن کی اولین ذمہ داری ہے ‘ جس میں اقوام متحدہ اور ان کی نام نہاد ”سلامتی کونس“ اس موئلے پر آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں جبکہ اس کے پاس قرار دادیں موجود ہیں جن میں خود بھارت نے رائے شماری اور کشمیر سے بھارتی افواج کے انخلاء کا وعدہ کیا ہوا ہے۔
ہمارے ہاں اکثر دانشور عوام کو او آئی سی سے یہ کہہ کر گمراہ کرتے ہیں کہ OICنے اس موئلے پر کیا کیا ہے؟؟ جبکہ OICکسی چیز کو نافذ کرنے کا ادارہ نہیں وہ صرف رائے عامہ ہموار کرسکتا ہے‘ جو وہ کرتا رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے سفارتی ذمہ دار OICکو کہاں تک لیجاسکتے ہیں جبکہ ہماری اپنی سفارتی پالیسیاں ناقص ہیں۔ کشمیر کے مسئلے کا حل صرف اور صرف بھارت سے دو ٹوک بات ہے‘ عالمی اداروں اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں جاندار سفارتکاری کی ضرورت ہے‘ بھارت کے ساتھ”تجارتی ڈرامہ“ ختم کرنا ضروری ہے۔
پاکستان کشمیر کمیٹی ک ی سربراہی کو ”سیاسی رشوت“ کا درجہ نہ دیا جائے بلکہ اسے فعال بنانے کی کوشش کی جائے۔ بھارت جب کشمیر اٹوٹ انگ کی بات کرے تو اس کے ”انگ انگ“ کو تباہ کرنے اور توڑنے کا عزم کیا جائے۔ میاں صاحب کہ خود بھی کشمیری ہیں‘ اپنے کشمیری ہونے کا حق ادا کریں تاکہ مجاہدین سر فخر سے بلند کرسکیں۔
بھارت کا تو مفاد اسی میں ہے کہ مسئلہ کشمیر کبھی بھی حل نہ ہونے پائے جبکہ مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کا نقصان صرف پاکستان کو پہنچا ہے ۔
سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اہل کشمیر کی پاکستان کے بارے میں جو امیدیں اور توقعات تھیں وہ مجروح ہو گئیں‘ اعتماد کو ٹھیس پہنچا اور پاکستان کے وقار میں کمی واقع ہوئی۔ مسئلہ کشمیر حل نہ وہنے کی وجہ سے پاکستان کے مسائل اور مصائب میں اضافہ ہوا اور بھارت کو افغانستان میں اڈے بنانے کا موقع ملا۔ اس وقت ملک میں جاری دہشت گردی‘ تخریب کاری‘ خود کش حملے‘ پانی کی قلت اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی ہمارے اکثر حکمرانوں کی اسلام سے بے وفائی‘ مسئلہ کشمیر نے بے اعتنائی اور لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔
اگر ہمارے حکمرانوں نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کی ہوتیں تو بھارت کو کبھی بھی افغانستان میں اڈے قائم کرنے کا موقع نہ ملتا اور نہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ہوتا۔آج کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کا عملی تقاضا یہ ہے کہ بھارت کے ساتھ معاملات‘ معاہدات اور تجارت شروع کرنے سے پہلے کشمیر پر بات کی جائے۔ اگر بھارت مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور کشمیری عوام کی مرضی و منشاء کے مطابق حل کرنے کیلئے تیار ہوجائے تو سمجھ لیں وہ مخلص ہے اور اگر وہ مسئلہ کشمیر پر کوئی بات نہیں کرتا تو پھر وہ پاکستان کو دھوکہ دینے‘ الجھانے‘ ورغلانے‘ بہلانے اور وقت حاصل کرنے کے چکر میں ہے۔
دوسری طرف کشمیر ی تو پاکستان سے عہد نبھارہے ہیں‘ اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کررہے ہیں۔ اہل پاکستان خاص طورپر ہمارے حکمران اپنے کرداد کے بارے میں سوچیں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں اور کیا کررہے ہیں؟
وقت اشاعت : 2014-02-20

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں