بند کریں
بدھ مارچ

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
عراق
قتل و غارت گری سے ملکی انفراسٹر کچر تباہ
عراق میں تشدد کی نئی لہر امریکی جنگ لاکھوں افراد کو نگل گئی! امریکہ کی مسلط کردہ جنگ نے ایک پر رونق اور ترقی یافتہ ملک کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا
محبوب احمد :
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکی قبضہ اور بڑے پیمانے پر بدامنی کے باوجود عراق عرب دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں جمہوریت کا پودا پروان چڑھ کی تیزی سے تناور درخت بن رہا ہے لیکن آمرانہ حکومتوں کو جمہوری عراق ایک آنکھ نہیں بھا رہا ۔عراق میں کئی ایسے دہشت گرد پکڑے جا رہے ہیں جنہیں مختلف ممالک کی طرف سے تخریب کاری کیلئے عراق بھیجا گیا تھا۔
بعض عرب ممالک مغربی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے لبنان، شام اور عراق جیسے ممالک میں بدامنی پھیلا کر ان مما لک میں امریکی پالیسیوں پر عملدر آمد کی راہ ہموار کر رہے ہیں لیکن شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ اس پالیسی کا نقصان عراق، شام اور لبنان کو تو ضرور ہو گالیکن وہ خود بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے اور انہیں بھی اپنی متعصبانہ پالیسیوں کے منفی نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
خطے میں بیداری کی جو لہر اٹھی ہے وہ تیزی سے ایک کے بعد دوسرے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ عراق پرا مریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جارحیت دنیا کے دیگر ممالک پر حملوں کی طرح جھوٹ اور بد نیتی پر مبنی تھی اور یہ حملہ صدام حسین پر حملہ نہیں تھا بلکہ عالم اسلام کے فتح کرنے ، اس کی دولت اور وسائل کو اپنے قبضے مں لینے کیلئے وسیع امریکی منصوبے کا حصہ تھا۔
امریکہ نے اس جواز پر کہ صدر صدام حسین کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے 20مارچ2003 کو عراق پر فوج کشی کی۔عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی، اس جنگ میں تقریبا 10لاکھ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار کر ایک پر رونق اور ترقی یافتہ ملک کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ۔ عراق ایک ایسا مسلم ملک ہے جو مضبوط جمہوریت کی جانب گامزن ہے اور یہ چیز علاقے کی غیر جمہوری حکومتوں کو پسند نہیں ، اسی صورت حال کے نتیجے میں عراق کو در طرفہ سازشوں کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے اور یہ دوطرفہ سازشیں مکمل ہم آہنگی کے ساتھ انجام دی جا رہی ہے۔
عراق میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا ابھی تک کوئی حل نہی نکل سکا۔ اس کشیدگی کو ہمسایہ ملک شام میں جاری خانہ جنگی سے ہوا ملی ہے۔ عراق میں تشدد اور خونریزی کا سلسلہ بہت بڑھ گیا ہے۔امریکی حکام اور مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہرین کے مطابق عراق میں موجودہ خونریزی دسمبر 2011ء میں وہاں سے آخری امریکی فوجی دستوں کی واپسی کے بعد سے اب تک تقریبا ایک لاکھ 30ہزار کے لگ بھگ لوگ مارے جا چکے ہیں۔
اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ عراق داخلی سلامتی کی صورت حال مزید خراب ہوتی جارہی ہے۔ عراق میں بدامنی کے واقعات کا سلسلہ بدستور جارہی ہے۔ دارالحکومت مغداد اور کچھ صوبوں میں روزانہ کار بم دھماکے ہو رہے ہیں جن میں عام شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نیا سال شروع ہونے کے بعد سے عراق میں بدامنی کے واقعات میں شدت پیدا ہوئی ہے۔
ناقدین کے بقول عراق میں بڑھتے ہوئے شیعہ سنی اختلافات اور ہمسایہ ملک شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے عراق میں فرقہ وارانہ تنازعات اوربھی بھڑک سکتے ہیں، دوسری طرف حکومت عوام کو بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے سراپا احتجاج اور بد عنوانی سے تنگ آچکے ہیں۔ سیا سی تعطل کے باعث حکومت کئی برسوں سے تقریبا کسی بھی قانون سازی میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

2008ء کی وجہ سے عراق کو کشیدہ ترین حالات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ سیکورٹی اور سیاسی نا قدین کے بقول عراق میں سیا سی سطح پرا ختلافات کے باعث ایسے حملے میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ عراق شیعہ وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت اور سنی اپوزیشن کے مابین اقتدار میں شرکت کے معاملے پر اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ ملک کے سنی طبقے کا الزام ہے کہ ان سے امتیازی سلوک روار کھا جاتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کا یہ خطہ عالمی تناظر میں دنیا کی واحد سپر پاور کہلانے والے امریکہ کی پالیسیوں کی زد میں ہے۔ ایک طرف تو عرب ممالک میں تبدیلی کی لہر جاری ہے اور اسے عرب اسپر نگ کانام بھی دیا گیا ہے۔ دنیا کی قدیم ترین تہذیب بابل ونینوا کا تعلق مصر،عراق اور ملحقہ ممالک سے ہے، مصر میں انقلاب کی دھمک سب سے محسوس کی ہے ، تاریخی روثے کا امین ملک عراق اس وقت شیدید بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔
عراق میں دہشت گردی کی لہر نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے۔حالیہ دنوں میں دہشت گردانہ کار روائیوں میں سینکڑوں افراد لقمئہ اجل بنے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے۔عراق میں کچھ عرصہ امن عامہ کی صورتحال بہتر رہتی ہے اور پھر اچانک بدامنی کے واقعات پیش آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ سوال ی پیدا ہوتا ہے کہ عراق کو بار بار بدامنی کا شکا ر کیوں بنایا جا رہا ہے اور ان واقعات میں کون لوگ ملوث ہیں؟ ۔
اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکی قبضہ اور بڑے پیمانے پر بدامنی کے باوجود عراق عرب دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں جمہورت کا پودا پروان چڑھ کر تیزی سے تناور درخت بن رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ عراق کو امریکی قیادت میں اتحادیوں کی فوجی مداخلت کے بعد سے عسکریت پسندوں کے حملوں کا سامنا کرنے ہوئے اب برسوں بیت چکے ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جس ایک بات نے اس سال خونریزی کو کم کرنے کے بجائے مزید ہوا دینے کا کام کیا ہے، وہ سنی عربوں کی اقلیتی آبادی میں پایا جانے والا وہ عدم اطمینان ہے، جس کا شیعہ مسلمانوں کی سربراہی میں قائم بغداد میں موجود ملکی حکومت کوئی بھی تدارک کرنے میں ناکام رہی ہے۔

امریکی صدر باراک اوباما کو مشرقی وسطیٰ میں ایران سے لے کر شام تک کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اب اوباما کو ایک اور مسئلے کا سامنا ہے ہے ، جونیا بھی ہے اور پرنا بھی اور وہ ہے عراق مسئلہ۔عراق میں فرقہ ورانہ کشیدگی کا ابھی تک کوئی حل نہیں نکل سکا۔ عراق جنگ کے بارے میں تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ کو اس جنگ میں 8 کھرب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا۔
آئندہ 4دہائیوں میں سود کی ادائیگی کی صورت میں یہ نقصان 60کھرب ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق اخراجات پر سود کی شرح چار کھرب ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔ جنگ کے دوران معذور فوجیوں کو کلیم کی صورت میں 33ارب ڈالر کی اضافی ادائیگی کر دی گئی ہے ۔ نائن الیون کے ہولناک دھماکے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، اس ایک واقعہ نے دنیا کو سمت ہی تبدیل کر کے رکھ دی اور امریکہ سمیت اتحادی فوجوں نے اس حملے کا بنیاد بنا کر القاعدہ کو نشانہ بنا کے لئے اسلامی ممالک پر حملے اپنا حق سمجھ رکھا ہے۔
دنیا نے اب تک دو عالمی جنگیں دیکھی ہیں اور یہ ان ادوار میں لڑی گئیں جب ترقی کی رفتا ر بہت ست تھی۔ آج قومیں اور ممالک طاقتور ہیں، جدید ٹیکنالوجی جس رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اس ے دکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ کسی دن یہی ترقی تباہی کا ذریعہ نہ بن جائے۔ تیز رفتار زمانے میں ہر کوئی جنگ سے اجتناب چاہتا ہے لیکن اس کے باوجود اختلافات اور دشمنیاں ہیں کہ ختم ہونے کا ہونے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔
پچھلے کچھ عرصے میں پیش آنے والے کئی واقعات کے نتیجے میں یوں محسوس ہوتاہے کہ دنیا تیسری جنگ کے دہانے پرکھڑی ہے اور مختلف ممالک کے درمیان ہونے والی جنگوں کے شعلے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔تجزیہ نگاروں کے مطابق عراق کو موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کہنا مشکل نہ ہوگا کہ وہاں پرجو کچھ ہورہا ہے وہ نفرت کانتیجہ ہے اور یہی نفرت عراق کوخانہ جنگی کی طرف لے جا رہی ہے، ای ایسی خانہ جنگی جس میں ہر طرف خون ہی خون دکھائی دیتا ہے۔
عراق کی حالیہ صورتحال امریکی فوجیوں کی پیدا کردہ ہے اورہو سکتا ہے کہ امریکہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں حالات بدلنے کی کوشش کرے لیکن ایسا کرنے کیلئے امریکہ کو بڑے پیمانے پر اپنی پالیسی میں تبدیلی کرنا ہوگئی۔ عوامی سطح پر امریکہ مخالف جذبات میں بہت شدت پائی جاتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ، ہلاکتوں اورا مریکی مداخلت کی وجہ سے ہونے والی تباہی کے نتیجے میں یہ جذبات ایک طویل عرصے تک ایسے ہی رہیں گے۔
عراقی عوام کے خلاف امریکی فوج کے مظالم کی تما دستانیں ابھی تک عام پر نہیں آئیں۔ عراقی عوام جنہوں نے امریکیوں کے بے پناہ مظالم پرداشت کئے ہیں، اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ امریکی لشکر کشی کاکیا مطلب ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ وہ انتہائی حد تک امریکہ کے خلاف ہو چکے ہیں۔ اس پس منظر میں مستقبل میں بننے والی کسی بھی عراقی حکومت کے لئے اپنی پالیسیاں ترتیب دیتے وقت ان امریکہ مخالف جزبات سے صرف نظر کرنا ممکن نہ ہوگا۔
اگر حقیقی طور پر منتخب شدہ کسی بھی عراقی حکومت کو امریکی مفادات کے سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیکھا گیا تو بہت لمبے عرصے تک نہیں چل سکتی، ہو سکتا ہے کہ امریکہ عراق سے تیل اور اس کے توانائی کے ذخائر تک بآسانی رسائی کی صورت میں تو کچھ فوائد حاصل کرسکے لیکن امریکہ کے لئے عراق میں عراقی عوام کی خواہشات کے برعکس ایسی حکومت بنانا جوامریکہ کے گلے کا ہار ہو بہت مشکل نظرآتا ہے۔
یہ بات ہر خاص و عام کو معلوم ہے کہ امریکی حکمران جمہوریت کو وسعت دینے اور اسے مضبوط کرنے کے تودعویدار ہیں لیکن اسے اگر کسی ملک میں جمہوریت کی مدد سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں ، لہٰذا امریکہ ایک ایسی جمہوریت چاہتا ہے جو امریکہ کے لئے قابل قبول حکمران پیدا کرے۔ بین الاقوامی سیاست کے میدان میں اور امریکی روپے میں سرایت کاچکا ہے، امریکہ، اسرائیل سمیت یورپی دنیا نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو کسی بھی وقت تیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے، جو بڑی تباہی کا سبب بن جائے گا، بڑے فیصلہ سازوں کو فوری زمینی حقائق کی روشنی میں مشاورت سے کام لے کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرنا ہوگی تاکہ قیام امن کے خواب کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-10

(1) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان