بند کریں
جمعہ مارچ

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ہسپتالوں کے سکیورٹی گارڈز سکیورٹی رسک
کچھ عرصہ قبل تک ڈاکٹر پیشہ ایک مقدس پیشہ تصور کیا جاتا تھا اور ڈاکٹر بھی مریضوں کی خدمت کے جذبے سے سرشار تھے۔ اس لئے ڈاکٹر پیشہ کی عزت و تکریم بھی بہت زیادہ تھی۔
صابر بخاری:
وطن عزیز میں سیاسی نظام میں آئے روز کی اتھل پتھل کے نتیجے میں اداروں میں برسوں سے خود احتسابی اور چیک اینڈ بیلنس کو شدید نقصان پہنچا ہے پوچھ گچھ سے بے نیاز آمرانہ حکومتوں کی وجہ سے افسران اپنے فرائض میں غفلت برتنے پر مجبور رہے ہیں۔ برسوں کے اس انحطاط کے بعد آج جب میڈیا آزاد ہوا ہے تو ان اداروں کو من مانے فیصلوں کے ذریعے چلا نے والوں کو معلوم ہوا ہے کہ ان سے آج کوئی پوچھ گچھ بھی کر سکتا ہے۔
اسی وجہ سے آج مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کام کرنے والے لوگ ہر وقت ہیجان کی کیفیت میں دکھئی دیتے ہیں۔ بس کبھی کبھار میڈیا میں خبروں کی زد میں آکر اکا دکا افسران کے خلاف اگر کارروائی ہوتی ہے تو اس پر بھی طوفان ااٹھا لیا جاتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک ڈاکٹر پیشہ ایک مقدس پیشہ تصور کیا جاتا تھا اور ڈاکٹر بھی مریضوں کی خدمت کے جذبے سے سرشار تھے۔
اس لئے ڈاکٹر پیشہ کی عزت و تکریم بھی بہت زیادہ تھی۔ مگر آج کل یہ شعبہ بھی ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ ڈاکٹرز کا جذبہ خدمت ماند پڑ گیا ہے۔ اب ڈاکٹرز کا مشن صرف مال کمانارہ گیا ہے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور انتظامیہ مریضوں کے ساتھ جو سلوک کرتی ہے انسان حیران و پریشان ہو کر مسیحاؤں کا منہ تکتا رہ جاتا ہے۔ یہی ڈاکٹرز پرائیوٹ کلینکس میں مریضوں کیساتھ ایسے شفقت سے پیش آتے ہیں جیسے ان کے منہ سے پھول جھڑ رہے ہوں۔
ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن، سینئر ڈاکٹر ایسوسی ایشن، سمیت کئی طاقتور تنظیمیں حکومت اور انتظامیہ کو گھاس تک نہیں ڈالتیں۔ ان تنظیموں نے ہسپتالوں میں اجارہ اداری قائم کی ہوتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی بات پر ہڑتال کر کے مریضوں کو خوار کرنا ان کا وطیرہ بن چکا ہے۔ مشاہدات اور تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہسپتالوں میں پرچی، چیک اپ، ٹیسٹ سمیت کئی پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ مریض اور اس کے لواحقین چکرا کر رہ جاتے ہیں۔
ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹر ٹھنڈے کمروں میں مزے سے بیٹھے رہتے ہیں۔ اور مریض اور ان کے لواحقین خوار ہوتے رہتے ہیں۔ یہ سارا قصور ہسپتال انتظامیہ کا نہیں حکومت بھی اس اہم شعبہ سے پردہ پوشی کئے ہوئے ہے۔ اس کا اندازہ موجود بجٹ سے لگایا جاسکتاہے جس میں میٹرو کے برابر بھی صحت کیلئے رقم مختص نہیں کی گئی۔ہسپتالوں میں کئی طرح کے مافیاز کام کرر ہے ہیں۔
ان میں سے ایک مافیا سکیورٹی کے نام پر خوب مال بٹور رہا ہے۔ ہسپتال میں موجود سکیورٹی گارڈ زکو دیکھ کر تو حیرانی دوچند ہو گئی کیونکہ سکیورٹی گارڈ کسی طرح سے بھی اس اہم پوزیشن کے اہل نہیں تھے۔ اکثر سکیورٹی گارڈز کی عمر یں پندہ سے بیس سال تک تھیں جو مسلح بھی تھے۔ پھٹی پرانی وردی میں ملبوس تھے اور سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ ان گارڈز نے پاؤں میں میں چپل پہن رکھی تھی۔
یہ پہلے سکیورٹی گارڈز تھے جو چپل پہن کر سکیورٹی کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ ان سکیورٹی گارڈز کے بارے میں مزید جاننے کا تجسس پیدا ہوا کہ کیسے اتنے کم عمر لڑکے سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں بڑی گن بھی تھی۔ جب ذرائع اور کچھ سکیورٹی گارڈز سے معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ ہسپتالوں میں موجودہ سکیورٹی گارڈ پرائیوٹ کمپنیوں سے ہائر کئے جاتے ہیں اور کچھ سکیورٹی گارڈڈیلی ویجز پر بھرتی کیے جاتے ہیں۔
جن میں اکثر سکیورٹی گارڈز نا خواندہ ہوتے ہیں۔ ان سکیورٹی گارڈز کو تقریباً8 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ حالانکہ کمپنیاں ہسپتالوں سے گارڈز کی کافی زیادہ تنخواہ وصول کرتی ہیں۔ ایک گارڈ نے جو گنگارام ہسپتال میں ڈیوٹی دے رہا تھا نے بتایا کہ وہ پڑھا لکھا نہیں ہے۔ وہ دور دراز کے علاقہ سے آیا اور سکیورٹی کمپنی میں بھرتی ہوگیا۔
ٹریننگ کے بارے میں اس پندرہ سالہ سکیورٹی گارڈ نے بتایا کہ ان کو کوئی زیادہ ٹریننگ نہیں دی گئی بس تھوڑا بہت بتایا گیا اور اس کے بعد یہاں ہسپتال میں سکیورٹی کیلئے بھیج دیا گیا۔ جہاں پر اس کو آٹھ ہزار روپے تنخوا دی جا رہی ہے وہ بھی کبھی دو تین ماہ تک نہیں ملتی۔ اسلحہ چلانے کے بارے میں جب پوچھا تو اس گارڈ نے بتایا کہ یہ اسلحہ بس نمائشی ہے۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ ہسپتال انتظامیہ جان بوجھ کر اس حساس ایشو کو نظر انداز کر رہی ہے۔ یا پھر ان کے علم میں نہیں کہ کیسے ہسپتال سکیورٹی رسک بن چکے ہیں۔ کم عمر لڑکوں کو جب گنیں تھمادی جائیں گی اور ان کو چلانا بھی نہیں آتا تو کسی بھی دہشت گردی کی کارروائی میں وہ کیسے ان حالات کو کنٹرول کریں گے۔ اس کے علاوہ اسلحہ سے نا بلد سکیورٹی گارڈز انجانے میں اسلحہ چلا بیٹھے تو کتنے لوگوں کی جانیں چلی جائیں گی۔
سب سے اہم ایشو یہ ہے کہ ذرائع کے مطابق اکثر دوردراز کے علاقوں کے اشتہاری ان پرائیوٹ سکیورٹی کمپنیوں میں بھرتی ہو گئے ہیں۔ کیونکہ ان سکیورٹی کمنپیوں پر کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے۔ یہ کمپنیاں زیادہ تر ریٹائرڈ حساس اداروں کے افسران کی ہیں جس کی وجہ سے کوئی ان سے پوچھ گچھ نہیں کرسکتا۔کچھ کمپنیاں بغیر رجسٹریشن کے بھی کام کر رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ہسپتالوں میں ڈیوٹی دینے والے اکثر سکیورٹی گارڈز مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ اکثر یہاں پر روپوش کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان پر کئی مقدمات درج ہیں۔ذرائع کے مطابق ہسپتالوں میں یہ سکیورٹی گارڈز بچوں کے اغواء میڈیسن و آلات چوری سمیت کئی خطرناک جرائم میں ملوث ہیں۔ حکومت شعبہ صحت اور ہسپتال انتظامیہ کی عدم توجہی کی بدولت یہ گارڈز ہسپتالوں میں دندناتے پھرتے ہیں۔
یہ گارڈز جذباتی ہوتے ہیں ، مریضوں اور ان کے اہلخانہ کو تنگ کرنا اور ان کیساتھ بدتمیزی کیساتھ پیش آنا ان کا مقصد ہوتا ہے۔ذرائع کے مطابق ہسپتال ایڈمنسٹریشن اور سکیورٹی کمپنیاں کمیشن کے چکر میں اس حساس ایشو سے پہلو تہی کیے ہوئے ہیں۔جب اس حوالے سے گنگارام ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر وقار نبی باجوہ سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا ہم اس حوالے سے احتیاط برتتے ہیں اگر کوئی کوتاہی سامنے آئی تو کاروائی کریں گے۔
تاریخ اشاعت: 2015-06-24

(1) ووٹ وصول ہوئے