تازہ ترین : 1
Gurbat Khoon Thook Rahi Hai Magar

غربت خون تھوک رہی ہے مگر۔۔۔۔۔۔

امیروں کی تعداد دُگنی ھو گئی 2009سے اب تک دنیا کے ارب پتی افراد کی تعداد دوگنا ہو گئی ہے

ابنِ ظفر :
دنیا بھر میں جس طرح غربت بڑھتی چلی جا رہی ہے ، ویسے ہی امیربھی مزید امیر ہوتے جا رہے ہیں ۔بنیادی طور پر دولت بڑھ یا گھٹ نہیں رہی بلکہ ایک طبقے کے ہاتھ سے نکل کر دوسرے کے قبضے میں جارہی ہے ۔ دولت مندوں کی اکثریت کے شوق اور رحجانات بھی ایک سے نظر آتے ہیں جبکہ غربت دو وقت کی روٹی پوری نہ ہونے کی وجہ سے خودکشیوں پر مجبورہیں۔

ہمارے ہاں عموماََ جو رپورٹس اور سروے شائع ہوتے ہیں اُن میں یہی بتایاجاتا ہے کہ دنیا بھر میں غربت بڑھتی جا رہی ہے۔ انسا ن معاشی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے خودکشیاں کر رہے ہیں۔ غریب طبقہ غریب سے غریب ہوتا چلا جا رہا ہے، مہنگائی اور بے روزگاری کی رفتار میں اضافے کی وجہ سے لوگ بُری طرح سے پس رہے ہیں۔ ایسا صرف وطن عزیر میں ہی نہیں ہے بلکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے بھی یہی حالات ہیں۔
یورپ کساد بازاری اور بے روزگاری کی وجہ سے تباہ حال ہو چکاہے ۔ ایک امریکی شہر دیوالیہ ہونے کا اعلان کر چکا ہے اور وہاں کی انتظامیہ نے شہرکی ذمہ داری اٹھانے اور انتظام چلانے سے انکار کر دیا ہے۔ اپوزیشن کی ہٹ دھرمی اور بل منظور نہ کرنے کی وجہ سے خود امریکی صدر کو سرکاری دفاتر کی تالہ بندی کا اعلان کرنا بڑا ۔ بھارت اور پاکستان بھی غربت کے حوالے سے انتہائی سطح پر پہنچ چکے ہیں۔
بھارت میں تو بعض جگہ حالات اس حد تک بگڑ چکے ہیں کہ ایک رپورٹ کے مطابق لوگ پیازلینے کے لئے بھی اپنا خون بیچنے پر مجبور ہیں۔
ہمارے ہاں شائع ہونے والی اکثر رپورٹس بھی ایسی ہی منظر کشی کرتی ہیں ۔ مختلف تنظیموں کے اعداد وشمار بھی ہمارے سامنے موجود ہیں۔ دیکھا جائے تو یہی غلط ہیں۔ غربت نے دنیا بھر کو اپنی سیاہ چادر میں ڈھانپ رکھا ہے۔
بے روزگاری کایہ عالم ہے کہ مغرب میں بھی اکثر پی ایچ ڈی کی ڈگری لینے والے لوگ بطورویٹر کا م کر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی کچھ ایسا ہی ہے لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ دنیا بھی کی معاشی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لیں تویہ لیں تویہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ جس طرح دنیا میں بڑی تیزی سے غربت بڑھی ہے اسی طرح سے امیر طبقے کی دولت میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔
بنیادی طور پر دنیا متضاد سمتوں کی جانب تیزی سے سفر کر رہی ہے۔ سوئٹرز لینڈ اور سنگا پو ر کے دو اداروں نے مل کر ایک سروے کروایا جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ عالمی کساد بزاری کے باوجود 2009 سے اب تک نہ صرف دنیا کے ارب پتی افراد کی تعداد دگنی ہو گئی ہے بلکہ پہلے سے موجود ارب پتی بھی مزید امیر ہو چکے ہیں۔ ان میں سے کئی کھرب پتی بن چکے ہیں۔
ایسا دنیا کے کسی مخصوس حصے میں نہیں ہوا بلکہ دنیا بھر کیارب پتی مختلف ممالک سے وابستہ ہونے کے باوجود اپنی دولت میں اضافہ کرتے رہے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مزید دولت کمانے کے لئے دنیا بھر میں وافر مواقع موجود ہیں اور یہ سلسلہ کسی ایک علاقے یا ملک تک محدود نہیں۔
دنیا کے ارب پتی افراد میں سے زیادہ تر17سال سے زیادہ عمر کے ہیں۔
ان کی دولت اوسط 3ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ ان اورپتی افراد میں خواتین محض13 فیصد ہیں ۔ دنیا کے امیر ترین افراد کے حوالے سے ہونے والے سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ 60فیصد ارب پتی اپنے زور بازو سے اس مقام تک پہنچے ہیں۔ وہ سیلف میڈ ہیں اور انہوں نے یہ دولت اپنی کوشش اور محنت سے بل بوتے پر کمائی ہے لیکن خواتین میں سے صرف 17فیصد سیلف میڈہیں ۔
اس ھوالے سے چائینہ دنیا بھر سرفہرست ہے جہاں 89فیصد ارب پتی سیلف میڈ ہیں۔ دنیا کے امیر ترین افراد میں سے زیادہ تر نیویارک، ہانگ کانگ، ماسکو، لندن اور ممبئی سے تعلق رکھتے ہیں لیکن زیادہ تر افرد کی رہائش امریکہ مین ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ امیروں کے شوق بھی خاصی حد تک ملتے ہیں ۔ ان میں سے اکثر اپنی دولت پُرتعیش اشیا کی خریداری، نجی جہاز، تاریخی تصاویر، کپڑے ، زیور اور مہنگی گاڑیوں پر خرچ کرتے ہیں۔
یہ لوگ باقاعدگی سے غریبوں کی فلاح کیلئے رقم خرچ کرتے ہیں۔
امارت اور غربت کا چولی دامن کا ساتھ چل رہا ہے اس غیر ملکی رپورٹ سے بظاہر لگتا ہے کہ امیروں کے شوق غریبوں کے وہم وگمان میں نہیںآ تے۔ غریب دو وقت کی روٹی کے چکر میں پس رہا ہے جب کہ امیر نجی جہازوں کی خریداری کی فکر میں گھل رہے ہیں۔ بظاہر دنیابھر کی دولت ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ منتقل ہو رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ امیر مزید اجتنا امیر ہوتا چلا جا رہے غریب اتنا ہی اجڑتا چلا جارہا ہے۔ دولت ہی دولت کو کھینچ رہی ہے لین مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ دولت کم دولت کو بھی اپنی جانب کھینچنے میں مصروف ہے ۔ یہ طبقاتی نظام شدت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے اور دولت چند ہاتھوں تک محدود ہوتی چلی جا رہی ہے۔
وقت اشاعت : 2014-02-04

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں