بند کریں
بدھ مارچ

مزید متفرق مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
تحفظ پاکستان آرڈیننس اور دینی مدارس کے تحفظات
وفاق المدارس العربیہ کے رہنما اس بات کا تو اعتراف کرتے ہیں کہ ملک کی سلامتی اور وطن عزیز کا استحکام ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ وہ یہ بات بھی کہتے نظر آتے ہیں
راو شمیم اصغر:
وفاق المدارس کے زیراہتمام گزشتہ ہفتے ملتان میں ”تحفظ مدارس دینیہ و اسلام کا پیغام امن کانفرنس“ کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس کے نام پر قلعہ کہنہ قاسم باغ پر ایک بہت بڑا جلسہ ہوا۔ گزشتہ کئی ماہ کے دوران یہ پہلا موقع تھا کہ اس قسم کا کوئی بڑا اجتماع ہوا جس سے مذہبی اور سیاسی قائدین نے خطاب کیا۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک بھر میں بڑے بڑے اجتماعات کے انعقاد کا سلسلہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
ایسے وقت میں ایک بڑے اجتماع کا انعقاد عام آدمی کیلئے حیرت کا باعث تھا اور اس کی غرض و غایت سے بھی لوگ ناآشنا تھے۔ وفاق المدارس کے مطابق یہ تو ابتداء ہے انہوں نے ملک کے مختلف حصوں میں اس قسم کے 9 اجتماعات کا پروگرام مرتب کر رکھا ہے۔ عام آدمی کیلئے یہ بات بھی حیران کن تھی کہ وہ سیاسی و مذہبی اکابرین جو عام حالات میں ایک دوسرے کے سیاسی مخالف تصور کئے جاتے ہیں وہ اس پلیٹ فارم پر اکٹھے تھے۔
کانفرنس میں مولانا فضل الرحمٰن‘ مولانا سمیع الحق‘ قاری محمد حنیف جالندھری‘ مولانا احمد لدھیانوی‘ سعودی عرب کے نائب وزیر مذہبی امور شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ العمار کے علاوہ حافظ حسین احمد‘ سید عطاء المومن‘ سید عطاء لمہیمن‘ مفتی رفیع عثمانی‘ مولانا حبیب الرحمٰن درخواستی کے ساتھ مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر عبدالوحید ارائیں بھی شریک تھے۔

کہا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں ”قومی سلامتی تحفظ پاکستان آرڈیننس“ کے نام سے جو مسودہ پیش کیا ہے یہ اجتماعات اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ کے رہنما اس بات کا تو اعتراف کرتے ہیں کہ ملک کی سلامتی اور وطن عزیز کا استحکام ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ وہ یہ بات بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ دہشت گردی‘ بدامنی اور شدت پسندی نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔
اور ملک معاشی طور پر روز بروز کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ مجوزہ آرڈیننس کی آڑ میں ایک مخصوص طبقے کو نشانہ اور ہدف تنقید بنانے والا حصہ قابل اعتراض ہے۔ وفاق المدارس العربیہ کے خیال میں اس آرڈیننس کا ایک حصہ خفیہ ہے جس کے بارے میں اکثر حکومتی رہنما بھی کچھ علم نہیں رکھتے۔دوسرا حصہ اہم اور تیسرا آپریشنل ہے۔
اسی تیسرے حصے کی بعض دفعات جن میں دفعہ نمبر 27,25 اور 36 شامل ہیں کو قابل اعتراض تصور کیا جا رہا ہے۔ دفعہ 25 میں کہا گیا ہے کہ دینی مدارس کی مرکزی قومی دھارے کے تعلیمی فریم ورک میں شمولیت کے علاوہ ان مدارس کے مالیاتی آڈٹ‘ تعلیمی نصاب کی حکومتی منظوری اور قومی تعلیمی نظام میں ضم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ یہ دفعہ صرف دینی مدارس پر ہی لاگو نہیں ہو گی بلکہ نجی تعلیمی اداروں پر بھی اس کا اطلاق ہو گا۔
دفعہ 27 میں قومی سلامتی پالیسی کے نفاذ کیلئے لیگل فریم ورک کا جائزہ لینے اور ایسے قوانین کے تدارک کی بات کی گئی ہے جس کے تحت مساجد اور مدارس کام کر رہے ہیں۔ دفعہ 36 میں واضح طور پر تجویز ہے کہ موجودہ اور نئے مدارس اور نجی تعلیمی اداروں کی تعریف وضع کرنے کے بعد انہیں قومی و صوبائی تعلیمی اداروں میں ضم کیا جائے۔ وفاق المدارس العربیہ کے نزدیک ان تجاویز کا مطلب یہ ہو گا کہ مدارس و جامعات کو قومی اداروں میں ضم کر کے ان کا وجود ختم کر دیا جائے۔
اس اقدام سے ان کی دینی حیثیت و مذہبی تشخص ختم ہو جائے گا۔ وفاق المدارس العربیہ کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ ان اداروں کا نصاب حکومت خود طے کرے۔
کانفرنس کے اختتام پر جو مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس میں نفاذ شریعت کیلئے مسلح جدوجہد کو شرعی اعتبار سے غلط قرار دیا گیا لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے اور مذاکرات مخالف عناصر پر بھی نظر رکھی جائے۔
مولانا سمیع الحق نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ دینی مدارس کو ہاتھ لگایا گیا تو یہ اعلان جنگ ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت امریکی جنگ سے باہر نکل آئے تو خدا کی قسم بغیر مذاکرات امن قائم ہو جائے گا اور اگر آپریشن کیا جاتا ہے اور یہ آپریشن سو سال بھی چلتا رہتا ہے تو ملک کو تباہی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ مقررین نے واضح طور پر حکومت کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ موجودہ جنسی تعلیمی نظام انہیں قبول نہیں۔
ان پر زبردستی یہ نظام تھوپنے کی کوشش کی گئی تو وہ جیلیں بھرنے کیلئے تیار ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی واضح طور پر اعلان کیا کہ دینی مدارس کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ایک ایسے ماحول میں جہاں وفاقی حکومت کی جانب سے آرڈیننس پر دھواں دھار خطابات کے ذریعے بعض شقوں کی شدید مخالفت کی جا رہی تھی وہاں صوبائی وزیر عبدالوحید ارائیں کاکہنا تھا کہ وہ وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم سے اس کانفرنس میں شریک ہو رہے ہیں اور حکومت پنجاب کے ذہن میں ایسی کوئی بات نہیں کہ وہ دینی مدارس پر کسی قسم کی قدغن لگائے۔

اس اجتماع کے بعد وفاقی وزیر داخلہ نے مولانا رفیع عثمانی سے رابطہ بھی کیا اور غالباً وفاق المدارس العربیہ کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کی گئی ہو گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ نے ان کا موٴقف جاننے کی کوشش کی ہو جس کی روشنی میں آرڈیننس کو موجودہ صورت میں یا پھر اس میں ترامیم کا جائزہ لیا جانا ہے۔ اس کانفرنس کے انعقاد کے بعد جماعت اہل سنت میں بھی ہل چل پیدا ہوئی ہے۔
اب انہوں نے بھی ڈویڑنل سطح پر کنونشن منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں صاحبزادہ سید حامد سعید کاظمی کا ابتدائی ردِعمل یہ تھا کہ آئین کے مطابق دہشت گردوں سے مذاکرات نہیں کئے جاسکتے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مزارات پر حملوں کے ملزموں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا۔
اس ساری صورتحال میں یہ بات واضح ہے کہ موجودہ حالات اس بات کے متقاضی نہیں ہو سکتے کہ ازسرنو کسی قسم کی محاذ آرائی کی کیفیت پیدا ہو۔
دونوں مکاتب فکر کا اختلافی معاملات سے اجتناب ہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وفاق المدارس کو بھی چاہئے کہ وہ کوئی ایسی راہ نکالیں کہ جس سے طالب علموں سے طالبان تک کا سفر کا سلسلہ ختم ہو جائے۔ انہیں اپنے موٴقف میں یکسانیت کے ساتھ ساتھ واضح کرنا چاہئے کہ کیا درست ہے کیا غلط ہے؟ ایک ہی فقرے میں مسلح جدوجہد کو غلط قرار دینا اور طالبان کی وکالت دو مختلف معاملات ہیں۔ بہتر ہوتا کہ اس کانفرنس کے ذریعے ایسی تجاویز طے کرکے حکومت کو بھجوائی جاتیں جن کے ذریعے قومی سلامتی تحفظ پاکستان آرڈیننس میں جو ابہام ہیں وہ دور کئے جا سکیں۔ اور ان کے تحفظات بھی دور ہو سکیں۔
تاریخ اشاعت: 2014-03-28

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان