تازہ ترین : 1
Bhoka Piyasa Thar

بھوکا پیاسا قحط زدہ تھر معصوم بچے سسک سسک کر دم توڑ رہے ہیں

کچھ عرصہ پہلے صحرائے تھر میں سینکڑوں موروں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ ابتدا میں تو پتہ ہی نہیں چلا کہ ماجرہ کیا ہے پھر معلوم ہوا کہ ان میں رانی کھیت کی بیماری پھوٹ پڑی ہے۔ موروں کی ہلاکت کا پہلا واقعہ مٹھی میں پیش آیا

غلام زہرا :
صحرائے تھر میں بدترین قحط سالی کے باعث اب تک سینکڑوں بچے جاں بحق ہو چکے ہیں، حکومت سندھ نے ایک بار پھر تھر پارکر کو آفت زدہ قراد دے دیا ہے۔ 2012کو بھی تھر پارکر سمیت چار اضلاع کو آفت زدہ قرار دیا گیا تھا۔ اس صورت حال میں حکوت سندھ نے متعلقہ اداروں کو متاثرہ علاقوں میں امداد پہنچانے کی ہدایت بھی کی تھی مگر انتظامیہ پر کچھ اثر نہ ہوا۔
اب ایک بار پھر تھر میں قیامت کا سا سماں ہے۔ بھوک و افلاس سے بچنے کے لئے لوگوں ن شہروں کی جانب نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ سیاسی نمائندوں اور انتظامی اداروں کی نااہلی کے باعث متاثرین تک امداد نہیں پہنچی ۔ اب ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے پاک فوج صحرائے تھر پہنچ گئی ہے۔
صحرائے تھر میں لوگ قحط سالی کے باعث زندگی اور موت کی لڑائی لڑ رہے ہیں زمین پانی اور بچے دودھ کر ترس گئے ہیں۔
انسانوں کو خوراک میسر ہے نہ ہی جانوروں کو چارہ۔ کچھ عرصہ پہلے صحرائے تھر میں سینکڑوں موروں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ ابتدا میں تو پتہ ہی نہیں چلا کہ ماجرہ کیا ہے پھر معلوم ہوا کہ ان میں رانی کھیت کی بیماری پھوٹ پڑی ہے۔ موروں کی ہلاکت کا پہلا واقعہ مٹھی میں پیش آیا۔ ابھی مٹھی میں معاملہ سنبھلنے نہ پایا تھا کہ دیگر علاقوں میں بھی مورمرنے کی اطلاعات ملنا شروع ہوئیں اورقلیل عرصے میں ہزاروں مور مر گئے۔
اس کے بعد ضلع تھر پارکر میں ہی ماتا نامی بیماری سے سینکڑوں بھیڑیں ہلاک ہوگئی تھیں۔ بیماری کے باعث 7ہزار میں فروخت ہونے والی بھیڑ کی قمیت ایک ہزار روپے ہو گئی تھی۔ قحط کے باعث تھرپارکر میں دیگر جانوروں میں بھی بیماریاں پھیل رہی ہیں تو دوسری جانب بھوک وافلاس سے بچنے کے لئے لوگوں نے شہروں کی جانب نقل مکانی شروع کر دی ہے۔
ماہر امراض اطفال کے مطابق چار سے پانچ دن کے پیدل سفر کے دوران ماوٴں کو خوراک نہ ملنے سے نومولود بچے جاں بحق ہو رہے ہیں۔
تھرکے 95فیصد علاقے میں راستوں کی سہولت موجود نہیں ہے۔ مٹھی کے ہسپتال میں کچھ سہولتیں ہیں جبکہ باقی ہسپتالوں میں کوئی لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے۔ دیگر علاقوں میں بھی مریضوں کو مٹھی ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے ۔ مٹھی ہسپتال کے اعداد وشمار کے مطابق ایک ماہ میں 32بچے غذائی قلت کا شکار ہو کر انتقال کر چکے ہیں۔ اس ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق دو ماہ میں انتقال کرجانے والے بچوں کی تعداد 150 ہے جبکہ دیگر ہسپتالوں اور دہی علاقوں میں مرنے والے بچوں کے اعدادوشمار کا تعین نہیں کیا جا سکا۔
تھر کے بیشتر دیہاتوں میں سفری سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے بھی لوگ اپنے بچون کو علاج کے لئے ہسپتال نہیں لا پارہے ہیں۔ مٹھی سے ننگر پارکا فاصلہ200 کلو میٹر ہے جو دشوار گزار راستہ ہے اور اس راستہ میں 700سے زائد گاوٴں آباد ہیں جہاں سرکاری اورنجی سطح پر علاج کی کوئی سہولت نہیں۔
محکمہ صحت کے ریکارڈمیں جگہ جگہ ڈسپنسری، رورل ہیلتھ سنٹر اور زچہ بچہ کے علاج کی سہولیات کے مراکز ہیں لیکن تھر کے بیشتر علاقوں میں یہ سہولتیں ناپید ہیں۔
اس المناک صورت حال پر وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے بچوں کی ہلاکت کو اپنی غفلت قرار دیا اور ہدایات جاری کیں کہ متاثرین کو امداد کی فراہیمی یقینی بنائی جائے۔
صورت حال کا المناک پہلو یہ ہے کہ حکومت سند ھ نے متاثرین کے لیے گندم کی 60ہزار بوریاں تھ رپہنچائی تھیں لیکن اُنہیں تقسیم نہیں کیا گیا۔بدانتظامی کی وجہ سے بروقت قحط زدگان تک امداد نہ پہنچنے کی وجہ سے صورت حال خراب تر ہو چکی ہے۔
ابھی تک متاثرین کو یہ امداد نہیں مل سکی ۔ کسی طرح انہیں یہ امداد مل بھی جاتی ہے تو 15لاکھ کی آبادی والے ضلع تھرپارکر کے لئے یہ امداد نا کافی ہے۔ ضلع تھر میں دو لاکھ خاندان رجسٹرڈ ہیں۔ فی خاندان ایک ایک بوری بھی تقسیم نہیں ہو پائے گی اور آٹا کے علاوہ دیگر خوردنی اشیاء اور بچوں کے لئے دودھ اور علاج معالجہ جیسی سہولیات کی اشد ضرورت ہے۔

وزیرا عظیم نے سینکڑوں بچوں کی ہلاکتوں پر تشویش کی اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کر لی۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ تھر میں تمام ہلاکتیں قحط سالی سے نہیں بیماریوں سے ہوئی ہیں لیکن انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ بچوں کی ہلاکتوں کے معاملے میں مجرمانہ غفلت ہوئی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ علاقے میں گندم صحیح طریقے سے تقسیم نہیں ہوئی اور ریلیف کے اداروں نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔

ادھر چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے قحط سالی اور بچوں کی موت کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری سمیت متعلقہ اداروں سے رپورٹ طلب کر لی۔چیف جسٹس آف پاکستان حسین جیلانی نے تھرپارکر میں بچوں کی موت ازخود نوٹس لیا ہے۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے چیف جسٹس پاکستان کے نام اپنے خط میں تھرپارکر میں بچو ں کی ہلاکت پر از خود نوٹس لینے کی اپیل کی تھی۔

تھر پارکر میں قحط سالی سے ہر چند سال بعد سابقہ پڑتا ہے لیکن حیرت ہے کہ وہاں آباد لوگوں کی بروقت امداد کی منصوبہ بندی آج تک نہیں کی جا سکی جب غذائی قلت کی وجہ سے لوگ بیمار اورلاچار ہو جاتے ہیں۔ اور مویشی چلنے پھرنے لے قابل نہیں رہتے تو اچانک معلوم ہوتا ہے کہ تھر کے بے بس لوگ فاقوں مر رہے ہیں اور ایسی حالت میں شہروں کا رُخ کرر ہے ہیں کہ ان کے بھوکے پیاسے مویشی راستے میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔ تھر کے لوگوں کا واحد اثاثہ بھی تباہ ہو جاتا ہے۔
وقت اشاعت : 2014-03-23

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں