تازہ ترین : 1
Bewa Per Kutte Chorne Ka Waqia

بیوہ پر کُتے چھوڑنے کا واقعہ ،حقیقت کیا افسانہ کیا؟

مذکورہ خاتون داماد کے خلاف تین مقدمے درج کراچکی ہے۔۔۔۔تفتیش کے دوران مبینہ مغویہ ثناء بی بی نے بیان دیا کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے خاوند کے ساتھ خوش وخرم کی زندگی گزار رہی ہے جس پر عدالت نے نذیر وغیرہ کو رہا کر دیا

محمد طارق سعید وہاڑی:
اس وقت ہمارا معاشرہ کس قدر بھیانک صورتحال کا شکار ہے کہ ہم ذاتی صفاد کے حصول یا ذاتی عناد کی خاطر اپنا ضمیر قتل کرنے کے ساتھ ساتھ حقائق کو بھی مسنح کر ڈالتے ہیں جس کا اظہار نواحی گاوٴں چک نمبر 159/W.Bوہاڑی میں پیش آنے والے ایک واقعہ سے ہوتا ہے۔ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے مطابق ایک بیوہ خاتون پروین بی بی اپنی لے پالک اور نابالغ بیٹی جسے گاوٴں کے کچھ لوگوں نے اغواء کر لیا تھا جس کی واپسی کے لیے پروین بی بی ان کے پاس گئی تو ان لوگوں نے اس پرکتے چھوڑ دیئے جس سے خاتون شدید زخمی ہوئی ۔
اس واقعہ کی خبریں پرنٹ اور الیکٹرونک میڈا میں آنے پر مقامی پولیس اور صوبائی حکومت متحرک ہو گئی پولیس جب مقامی میڈیا کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچی تو یہ تمامواقع ذاتی عنا کا شاخسانہ ثابت ہوا۔ میڈیا کی موجودگی میں پولیس نے علاقہ کے معززین سے واقع کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو انہوں نے بتایا کہ مسماة پروین بی بی نے مبینہ مغویہ بیٹی ثناء بی بی کو پالا تھا اور ثناء بی بی نے بالغ ہونے کے بعد اپنی مرضی سے اپنے ہمسائے نذیر احمد سے شادی کر لی تو پروین بی بی نے اپنے داماد نذیر اور اس کے دیگر رشتہ داروں کے خلاف تھانہ ٹھینگی میں اغوا کا مقدمہ درج کر وایا۔
جس کی تفتیش کے دوران مبینہ مغویہ ثناء بی بی نے بیان دیا کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے خاوند کے ساتھ خوش وخرم کی زندگی گزار رہی ہے جس پر عدالت نے نذیر وغیرہ کو رہا کر دیا تو خاتون خانہ زیادہ اشتعال میں آگئی اور اس نے اپنے داماد وغیرہ کے خلاف چوری کا دوسرا مقدمہ 393/15 تھانہ ٹھینگی میں درج کروا دیا جو کہ پولیس نے تفتیش کے دوران غلط ثابت ہونے پر خارج کر دیا تو خاتون کی آتش انتقام مزید بھڑک اٹھی اور اتفاق سے گاوٴں میں ایک آوارہ کتے نے اسے کاٹ لیا تو اس نے بعدض شرپسند عناصر کے کہنے پر اپنے داماد پر ہی کتے چھوڑنے کا جھوٹا واقعہ بنا کر تھانہ ٹھینگی میں مقدمہ نمبر 409/15 زیر دفعہ 324,289,34 کے تحت درج کروایا جس کی رپورٹنگ ذرائع ابلاغ میں ہونے پر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی نوٹس لے لیا اور ڈپی او وہاڑی کو کارروائی کا ح کم دیا۔
ڈی پی او صادق علی ڈوگر نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ واقعہ من گھڑت ہے تاہم پولیس مقدمہ کے تمام پہلوں پر تفتیش کر رہی ہے اور اس میں جو بھی ملوث پایا گیا اس کے خلاف کاررائی ہو گئی اور کسی کو نہیں بخشا جائے گا۔ اس طرح یہ واقعہ ہمارے معاشرے کی آئینہ کشی کر رہا ہے کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کس قدر ذہنی پستی کا شکار ہیں جب تک ہم خود احتسابی نہیں کرینگے نہ تو معاشرہ میں امن قائم ہو گا اورنہ ہی معاشرہ برائیوں سے پاک ہو گایہ واقعہ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دے رہا ہے ۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ خاتون خانہ کو کتا کاٹنے کا زخم میڈیکل رپورٹ 337/F-1 میں دس روز قبل پرانا ثابت ہوا ہے۔
وقت اشاعت : 2015-11-12

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں