تازہ ترین : 1
Aman Ka Nobel Or Mutbadil Inaam

امن کا نوبل اور متبادل انعام پاکستان کے ماتھے کا جھومر بن گئے

ملالہ اور کیلاش ستیارتھی کو یہ ایوارڈ ان کی ’بچوں اور نوجوانوں کی استحصال کے خلاف جدوجہد اور تمام بچوں کے لیے تعلیم کے حق کے لیے کوششوں پر دیا گیا۔نوبل کی انعامی رقم 12 لاکھ ڈالر کے قریب ہے

رابعہ علی:
پاکستان کے ضلع سوات کی طالبہ ملالہ یوسف زئی کو امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ انھیں بھارت کے کیلاش ستیارتھی کے ساتھ مشترکہ طور پر ملا ہے۔ملالہ اور کیلاش ستیارتھی کو یہ ایوارڈ ان کی ’بچوں اور نوجوانوں کی استحصال کے خلاف جدوجہد اور تمام بچوں کے لیے تعلیم کے حق کے لیے کوششوں پر دیا گیا۔نوبل کی انعامی رقم 12 لاکھ ڈالر کے قریب ہے۔
ملالہ اور کیلاش کو اس کا نصف حصہ ملے گا۔پاکستانی وزیرِ اعظم نواز شریف، صدر ممنون حسین سمیت تمام سیاسی اور سماجی سربراہان نے مبارک باد دی۔ جب کہ پنجاب حکومت نے نئی یونیورسٹی کو ملالہ کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔اس برس نوبیل امن انعام کی دوڑ میں ریکارڈ تعداد میں 278 امیدوار حصہ لے رہے تھے جن میں اطلاعات کے مطابق پوپ فرانسس بھی شامل تھے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے میں گل مکئی کے نام سے سوات سے ڈائریاں لکھ کر عالمی شہرت حاصل کرنے والی ملالہ یوسفزئی 1997ء کو مینگورہ سوات میں پیدا ہوئی۔ وہ وادی سوات میں تعلیم اور حقوق نسواں کے لئے آواز اٹھانے کی وجہ سے مشہور ہوئی۔ سوات میں تحریک طالبان پاکستان 2009ء میں بچیوں کے سکول جانے پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اکتوبر سنہ 2012 میں طالبان نے ملالہ کو حملے کا نشانہ بنایا تھا۔
حملے کے وقت وہ مینگورہ میں ایک سکول وین سکول سے گھر جا رہی تھیں۔اس حملے میں ملالہ سمیت دو اور طالبات بھی زخمی ہوئی تھیں۔ ابتدائی علاج کے بعد انھیں انگلینڈ منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ صحت یاب ہونے کے بعد زیرِ تعلیم ہیں۔ایک کتاب بھی ملالہ کے نام سے انگریزی میں شائع کی گئی، جس کا نام میں ملالہ ہوں رکھا گیا۔ امریکہ کے صدر اوبامہ سے ملاقات رہی۔
اقوام متحدہ میں خطاب کیا۔ ملالہ کو اب تک بے شمار عزازات سے نوازا گیا ہے جن میں
نیشنل یوتھ پیس پرائز، 2011
ستارہ شجاعت، 2012
مدر ٹیریسا میموریل ایوارڈ، 2012
روم پرائز فار پیس، 2012
سیموں دا بوار پرائز، 2013
’ضمیر کی سفیر‘ ایوارڈ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، 2013
کلنٹن گلوبل سٹیزن ایوارڈ، 2013
سخاروف پرائز برائے آزادیِ اظہار، 2013
وومن آف دا ایئر، گلیمر میگزین، 2013
اعزازی ڈاکٹر آف سول لا، کینیڈا، 2014
سکول گلوبل ٹریڑر ایوارڈ، 2014
نوبیل انعام برائے امن، 2014
بعدازاں حکومتِ پاکستان نے انھیں سوات میں طالبان کے عروج کے دور میں بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر نقد انعام اور امن ایوارڈ دیا تھا۔
ملالہ نے اپنی وجہ شہرت بننے والی ڈائری میں سوات میں پیش آنے والے واقعات بیان کیے تھے۔اس ڈائری کو اتنی شہرت حاصل ہوئی کہ ان کی تحریریں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں بھی باقاعدگی سے شائع ہونے لگیں۔ملالہ پر میڈیا کے دو بین الاقوامی اداروں نے دستاویزی فلمیں بھی بنائیں جن میں انھوں نے کھل کر تعلیم پر عائد کردہ پابندیوں کی بھرپور مخالفت کی تھی۔
ل 2014 ء کے امن انعام کے لیے دنیا بھر سے کل 278 نامزدگیاں وصول ہوئیں جس میں انفرادی شخصیات کے علاوہ 47 بین الاقوامی تنظیموں کے نام بھی شامل تھیں۔امن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کمیٹی اوسلو کی جانب سے ہر سال تصدیق شدہ امیدواروں کی ایک فہرست مرتب کی جاتی ہے۔ رواں برس نوبل انعام برائے امن کی اس فہرست کے قابل ذکر ناموں میں ملالہ یوسفزئی کے نام کے ساتھ ساتھ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ایڈورڈ سنوڈن کے علاوہ پوپ فرانسس اور دیگر اہم شخصیات کے ناموں کو شامل کیا گیا تھا۔
انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ لنڈایسٹڈ نے کہا کہ کاغذات نامزدگیوں کی تعداد میں اضافہ اس معتبر انعام میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے جس میں ہر سال اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی نامزدگی کے حوالے سے انھیں ایک مضبوط امیدوار ظاہر کیا جارہا تھا جنھیں روسی عوام کی جانب سے شام کے تنازع میں ان کے کردار، یوکرائن کے واقعات اور سرمائی سوچی اولمپکس کے انعقادکے حوالے سے نامزد کیا گیا۔
ملالہ یوسفزئی کے علاوہ پاکستان کی نامور وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن عاصمہ جہانگیر کو سویڈن میں انسانی حقوق کا ایوارڈ دیا گیا ہے۔عاصمہ جہانگیر 27 جنوری 1952ء لاہور میں پیدا ہوئی۔ پیشہ کے لحاظ سے وکیل اور وجہ شہرت انسانی حقوق کی علمبردار اور بار کی کارکن ہے۔عاصمہ جہانگیر سن2004 ء سے اقوام متحدہ کی "مذہب کی آزادی" روئدادً ہے۔ اس سے پہلے اقوام متحدہ کی ماروائے عدالت قتل کی روئداداً تھی۔
اس ایوارڈ کو کسی زمانے میں 'نوبل کا متبادل ' قرار دیا جاتا تھا، عاصمہ جہانگیر کے علاوہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والوں میں ایڈورڈ سنوڈن اور باسل فرننڈو بھی شامل ہیں۔پاکستان کی عاصمہ جہانگیر 210000 ڈالرز کا انعام ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کے باسل فرننڈو اور ماحولیات کے امریکی ماہر بل مک کیبن کے ساتھ شیئر کریں گی۔ایوارڈ کے بانی جیکب وان ایکل نے 1980 میں سالانہ رائٹ لائیلولی ہڈ ایوارڈ کی شروعات کی تھی۔
عاصمہ جہانگیر کو یہ ایوارڈ دے کر پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے ان کی خدمات کو سراہا گیا ہے۔اس سے پہلے 1979 میں پاکستانی پروفیسر عبدالسلام فزکس کا نوبل انعام حاصل کر چکے ہیں۔پروفیسر عبدالسلام سن 1926 میں پاکستانی صوبہ پنجاب کے شہر جھنگ میں پیدا ہوئے۔ پنجاب یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ پی ایچ ڈی کرنے کے لیے انگلینڈ کی عالمی شہرت یافتہ کیمبرج یونیورسٹی گئے۔
سن 1954 میں وہ واپس انگلینڈ چلے گئے جہاں 1957ء سے وہ لندن کے امپیریل کالج کے ساتھ بطور پروفیسر منسلک رہے۔ وہ سن 1961 سے 1974 کے دوران پاکستانی صدر کے مشیر برائے سائنسی امور بھی رہے۔ڈاکٹر عبداسلام کو طبیعیات میں ان کی خدمات پر 1979ء میں امریکی سائنسدانوں اسٹیون وائنبرگ اور شیلڈن لی گلاشو کے ہمراہ نوبل انعام سے نوازا گیا۔ اس سال کیمسڑی کا انعام امریکی سائنسدانوں ایرک بیٹزگ، ولیم مونیرئر اور جرمنی کے سٹیفن ہیل کو دیا گیا ہے ایوارڈ کمیٹی کے مطابق ان افراد کو کیمیا کے شعبہ میں خورد بینی مائدیمی کے سپر حل کی پیش رفت پر انعام دیا ہے جس کی مالیت 101 ملین ڈالر ہے جب کہ فزکس کا نوبل انعام مشترکہ طور پر تین ایسے جاپانی نڑاد سائنسدانوں کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جنہوں نے نئی طرز کے LED لیمپ ایجاد کر کے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے خلاف جنگ میں ایک بڑی پیش قدمی کو ممکن بنایا۔
سٹاک ہوم میں اس سال کے نوبل انعام برائے فزکس کا اعلان کرنے والی جیوری کے فیصلے کے مطابق اس انعام کے ساتھ ان تینوں ماہرین کی انقلابی ایجاد کی اہمیت کا اعتراف کیا گیا ہے۔طب کا نوبل انعام امریکی محقق جان او کیف اور ناروے کی مے برِٹ موزر اور ایڈورڈ موزر کو دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان محققین کو ان خلیات کی دریافت پر یہ انعام دیا گیا ہے جو کہ دماغ کے پوزیشننگ سسٹم کا تعین کرتے ہیں۔
اس انعام کے ساتھ ان تینوں محققین کو تقریباً آٹھ لاکھ ستر ہزار یورو کے برابر کی رقم بھی دی جائے گی۔ انسانی حقوق کے ایک بڑے اعزاز ’مارٹن اینالز پرائز‘ کو اکثر ’انسانی حقوق کا نوبل انعام‘ بھی کہا جاتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اس انعام کاحقدار میکسیکو کی ایک خاتون اٹارنی الیخاندرا انشیتا کو قرار دیا گیا۔الیخاندرا انشیتا انسانی حقوق کے ادارے ProDESC سے منسلک ہیں۔
انسانی حقوق کے امور سے متعلق ایک اٹارنی کی حیثیت سے الیخاندرا معاشرے کے مردوں کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کی جاتی ہیں۔ معاشرے میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم افراد کو لاحق خطرات کس حد تک سنگین ہو سکتے ہیں، اس کا اندازہ الیخاندرا کو آٹھ سال قبل اس وقت ہوگیا تھا جب انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ان کے والد کی پراسرار موت واقع ہوئی تھی۔
قریب 35 سال کی عمر میں یہ انعام پانے والی الیخاندرا نے غیر ملکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے مسائل کا ذکر کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہیں جس انعام سے نوازا گیا ہے، وہ اُن کی اور اُن کے ساتھ کام کرنے والے افراد کی سلامتی و حفاظت کی صورتحال بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس سال کے انسانی حقوق کے انعام ’مارٹن اینالز پرائز‘ کے لیے الیخاندرا کے علاوہ بنگلہ دیش اور چین سے بھی دو افراد کو بھی نامزد کیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کے لیے سرگرم چینی خاتون چاوٴ شُن لی اس ایوارڈ کے لیے اپنی نامزدگی کے کچھ ہی روز بعد وفات پا گئیں۔ اس انعام کے لیے ہر سال کے اوائل میں دنیا کے انسانی حقوق کے دس اداروں کی طرف سے تین امیدوار نامزد کیے جاتے ہیں۔ ان اداروں میں ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فرنٹ لائن ڈیفنڈرز جیسے ادارے شامل ہیں۔ انعام کے حقدار کا فیصلہ ایک جیوری کرتی ہے، جس کے اراکین انسانی حقوق کے انعام کے حقدار فرد کے انتخاب میں اُس کے ملک اور اُس کی ذاتی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہیں۔
نوبل انعام دنیا کا سب سے بڑا انعام ہے جو کہ کیمیا، طب، طبیعات، ادب اور امن کے حوالے سے کوئی اہم کارنامہ سر انجام کرنے پر ہر سال دیا جاتا ہے۔نوبل انعام کا بانی الفریڈ نوبل تھا۔ الفریڈ سویڈن میں پیدا ہوا لیکن اس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ روس میں گزارا۔ ڈائنامائٹ الفریڈ نوبل ہی نے ایجاد کیا۔ اس کے علاوہ متعدد دوسری ایجادات کا سہرا بھی اسی کے سر ہے۔
اپنی زمینوں اور ڈائنامائٹ سے کمائی گئی دولت کے باعث 1896ء میں اپنے انتقال کے وقت نوبل کے اکاوٴنٹ میں 90 لاکھ ڈالر کی رقم تھی۔موت سے قبل اس نے اپنی وصیت میں لکھ دیا تھا کہ اس کی یہ دولت ہر سال ایسے افراد یا اداروں کو انعام کے طور پر دی جائے جنہوں نے گزشتہ سال کے دوران میں طبیعیات، کیمیا، طب، ادب اور امن کے میدانوں میں کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔
1968ء سے نوبل انعام کے شعبوں میں معاشیات کا بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نوبل فنڈ کے بورڈ کے 6 ڈائریکٹر ہیں جو دو سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں اور ان کا تعلق سویڈن یا ناروے کے علاوہ کسی اور ملک سے نہیں ہو سکتا۔نوبل انعام کی پہلی تقریب الفریڈ کی پانچویں برسی کے دن یعنی 10 دسمبر 1901ء کو منعقد ہوئی تھی۔کیمسٹری اور طبیعیات کا نوبل انعام"رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز" ، نوبل انعام برائے طب "کیرولنسکا انسٹیٹیوٹ" جب کہ ادب کا نوبل انعام "سوئیڈش اکیڈمی " کی جانب سے اس شخص کو دیا جاتا ہے نے ادب کے شعبے میں نمایاں کام کیا ہو۔
جب کہ امن کا "نارویجیئن نوبل کمیٹی" کی جانب سے اس شخص کو دیا جاتا ہے جس نے اقوام کے درمیان دوستی، افواج کے خاتمے یا کمی اور امن عمل تشکیل دینے یا اس میں اضافہ کرنے کے حوالے سے نمایاں خدمات انجام دی ہوں۔اقتصادیات کے نوبل انعام کوباضابطہ طور پر الفریڈ نوبل یادگاری انعام کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی سفارش نوبل نے نہیں کی تھی۔ یہ انعام "رائل سوئیڈش اکیڈمی آف سائنسز" دیتی ہیں۔ نوبل انعام برائے طب امریکی محقق جان او کیف کے ساتھ ناروے کے مے برٹ موزر اور ایڈور موزر کو دینے کا اعلان کیا گیا۔ان تینوں محققین کو ان خلایات کی دریافت پر جو کہ دماغ کے پوزیشننگ سسٹم کا تعین کرتے ہیں یہ انعام دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
وقت اشاعت : 2014-10-13

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں