تازہ ترین : 1
11 Hazar Watt Ki Tar Buss Se Takrane Se Derh Darjan Barati Zinda Jal Gaye

گیارہ ہزار ووٹ کی تار بس سے ٹکرانے سے ڈیڑھ درجن باراتی زندہ جل گئے

دولہا غلام شبیر اور اس کی دلہن سمیت 40 سے زائد مسافر اسی حادثے میں جھلسے ساڑھے تین درجن باراتی اپنا علاج معالجہ کیسے کرائیں گے شدید بیماری اور ہسپتال میں داخلے کے ایام میں گھروں کی کفالت کیسے ہوئی؟ یہ اور بہت سے سوال ہیں

الطاف مجاہد:
وہ ایک ہنستا مسکراتا دن تھا‘ یعنی گزشتہ اتوار جب دادو کے محلہ رکھ پورہ میں شادی کے بعد ہنستے مسکراتے‘ قہقہے لگاتے باراتی شہنائیوں اور شادیانوں کی گونج میں گاؤں اللہ ڈنو ببر روانہ ہوئے تھے۔ دولہا غلام بشیر ببر‘ اس کی والدہ سکینہ بی بی سب خوش تھے۔ اپنے بیٹے کا سہرا اور چاند سی دلہن دیکھ کر صرف والدہ ہی نہیں دیگر اہل خانہ بھی خوش تھے کہ خیرپور ناتھن شاہ کے قریب قیامت ٹوٹ گئی۔
مسرتوں سے بھرا گھر غم و اندوہ میں ڈوب گیا کہ انڈس ہائی وے پر جو جام شورو سے سائیں جی ایم سید کے گاؤں سن اور حضرت لعل شہباز قلندر کی نگری سیہون سے ہوتی ہوئی لاڑکانہ اور پھر آگے جاتی ہے۔ بجلی کی ہائی ٹینشن لائن کے لٹکتے تار جن میں 11 ہزار وولٹ کی برقی رو گزر رہی تھی بس سے ٹکرا گئے۔ بس پر باراتی بیٹھے تھے اور سامان بھی تھا اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ڈرائیور اس وقت موبائل فون پر مصروف گفتگو تھا۔
اس لئے اس نے تاروں پر توجہ دی نہ چیختے چلاتے خوفزدہ باراتیوں کی آوازوں کو سنا۔ نتیجتاً وہ المیہ رونما ہوا جو سوادرجن عورتوں‘ بچوں اور بڑوں کی زندگیاں لے گیا۔خوشیوں کی جگہ غم و اندوہ نے لے لی۔ گیتوں کی جگہ نوحے اور مرثیے پڑھے جانے لگے اور باراتیوں کے استقبال کیلئے لگے شامیانے میں تعزیت کی جا رہی تھی۔ سندھ میں جہاں پسماندگان سے اظہار افسوس کیا جائے‘ اسے ”تڈا“ کہتے ہیں۔
تین دن تک دکھ درد سمیٹنے اور فاتحہ خوانی کے بعد روایت کے تحت لپیٹ دیا گیا‘ لیکن ایسا نہیں نوبیاہتا دولہا اور دلہن ہر سال شادی کی سالگرہ پر اپنے پیاروں کو تڑپتے‘ سسکتے اور چیخیں مارتے تصور میں دیکھا کریں گے کہ انہوں نے اتوار 3 مئی کو یہی کچھ دیکھا اور محسوس کیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق بجلی کے تار 17‘ 18 فٹ نیچے لٹک رہے تھے حالانکہ انہیں 25 فٹ کی بلندی پر ہونا چاہئے تھا۔
کراچی کے الیکٹرک ہو یا اندرون سندھ حیپکو اور پیپکو‘ سب کا مقصد صارفین سے رقم اینٹھنا رہ گیا ہے۔ سہولتوں کی فراہمی ان کا ایشو نہیں۔ آئے روز حادثات رونما ہوتے ہیں۔ ایک ہفتہ قبل بھی ایک بس کا کنڈیکٹر اور مسافر اسی نوع کے حادثے میں اندرون سندھ چل بسے تھے کہ پنکچر بس روڈ کنارے کھڑی کرکے ڈرائیور نے چھت پر رکھی فولادی راڈ منگوائی تاکہ وہیل کھولا جا سکے تو سلاخ لٹکتے بجلی کے تاروں سے ٹکرا گئی تھی۔

حادثات دنیا بھر میں ہوتے ہیں‘ لیکن ان کی شرح دیکھی جاتی ہے۔ ہمارے یہاں اداروں کی نااہلی سانحات اور المیوں کا سبب ہی نہیں بنتی بلکہ محض حادثوں کی راہ بھی ہموار کرتی ہے کہ متعلقہ محکمے ان سے سبق سیکھنے اور تدارک کرنے کی بجائے تاویلات اور وضاحتوں کے ذریعے ذمہ داری کسی اور پر ڈالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور ایسا ہی اس بار ہوا جب غلام شبیر ببر کی بارات کے حادثے کی تحقیقات شروع ہوئی تو کہا گیا کہ بس پر سامان لدا تھا۔
درست مگر ہائی وے پولیس کیا کر رہی تھی اس نے اوور لوڈبس کو کیوں ٹرک پر دوڑنے دیا پھر 25 فٹ کی بجائے تاروں کے 17 فٹ نیچے آنے کے باوجود بجلی کی فراہمی کا ادارہ چپ کی چادر تانے کیوں سویا رہا؟ اداروں کی کوتاہی اور نا اہلی مہم ان کا احتساب نہ ہو تو ان کے حوصلے بڑھتے ہیں اور وہ مزید کام چور بن جاتے ہیں۔
دولہا غلام شبیر اور اس کی دلہن سمیت 40 سے زائد مسافر اسی حادثے میں جھلسے ساڑھے تین درجن باراتی اپنا علاج معالجہ کیسے کرائیں گے شدید بیماری اور ہسپتال میں داخلے کے ایام میں گھروں کی کفالت کیسے ہوئی؟ یہ اور بہت سے سوال ہیں جو جواب چاہتے ہیں حکومت نہ صرف ہلاک شدگان کے لئے مالی امداد کی فراہمی یقینی بنائے بلکہ زخمیوں کے لئے بھی معاونت کا اعلان کرے اور جو اس سانحے کے نتیجے میں معذور ہو چکے ہیں ان کو معذور کوٹے پر ملازمت دے اور یہ محض اعلانات نہ ہوں ان پر عملدرآمد کو واپڈا، حکومت سندھ اور ضلعی حکام مانیٹر بھی کریں حادثات بلاشبہ لمحوں میں ہوتے ہیں لیکن ان کے اثرات مدتوں بھگتنے پڑتے ہیں ایسا ہی غلام شبیر ببر کے اہل خانہ، احباب اور اسی حادثے میں متاثرہ افراد کے ساتھ ہو گا ادارے دیانتداری کے ساتھ فرائض انجام نہ دیں تو ایسے دیگر سانحے اور المیے بھی پیش آئیں گے۔
ماضی کے بہت سے دیگر سانحات اور حادثات کی طرح اس بار بھی حکومتی عمائدین نے محض اظہار افسوس پر اکتفا کیا کسی امداد یا گرانٹ کا اعلان سامنے نہیں آیا نہ ہی اخباری اطلاعات کے مطابق صوبائی حکام یا ضلعی عملداروں نے وہاں پہنچ کر تدفین یا دیگر امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا کسی گھر سے اس کے پیارے جدا ہوں اور ریاستی اہلکار یوں بے حسی پر اتر آئیں تو اظہار افسوس کے سوا کیا بھی کیا جا سکتا ہے۔

آصف علی زرداری ، فریال تالپور، وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے زخمیوں کو بہتر طبی امداد دینے کی ہدایت کی ہے اور حادثے کی تحقیقات کا حکم بھی دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے دوسری طرف متاثرہ افراد کے ورثاء سے خیرپور ناتھن شاہ میں مظاہرہ کرتے ہوئے سیپکو کی نااہلی کو مورد الزام ٹھہرایا اور مطالبہ کیا کہ حکومت طفل تسلیاں نہ دے عملی اقدامات کرے تاکہ ریلیف ملے اور تباہ حال خاندان کسی مشکل سے دوچار نہ ہو۔
کیونکہ یہ نہ تو پہلا حادثہ ہے کہ تشویش ظاہر کی جائے یہاں اسے آخری حادثہ ضرور ینایا جا سکتا ہے اس طرح کہ مثبت اقدامات اور موثر انتظامات کے ذریعے پیش کی جا سکے حکومت کو اس حادثے کا ذمہ دار کسی محکمے، ادارے یا فرد کو قرار تودینا ہی پڑے گا تاکہ اس کے خلاف انضباطی کارروائی کر کے آئندہ کے لئے ایسے المیوں کو رونما ہونے سے روکا جا سکے۔ اسی طرح ہنستے مسکراتے مسافر اپنی منزل پر پہنچ سکیں گے۔
وقت اشاعت : 2015-05-13

(0) ووٹ وصول ہوئے

متعلقہ عنوان :

اپنی رائے کا اظہار کریں