بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ٹیپو سلطان جیسا ایک حکمران بھی نہیں
ٹیپو سلطان کے بارے میں اپنے حالیہ مضمون کا آغاز ولیم نے ایک ایسے خط سے کیا ہے جو ایک مندر کے پروہت نے اسے لکھا تھا۔ اس مضمون میں ٹیپو کو بتایا گیا کہ مرہٹوں نے جنوبی ہند کے ایک قدیمی مندر کو تباہ وبرباد کردیا ہے
نصرت جاوید:
بہت دنوں سے یہ سوچ کر پریشان ہوئے چلا جارہا ہوں کہ اپنے ذہن میں ہر وقت اُبلتے سوالات میں سے کسی ایک کو چن کر اس کا مناسب جواب ڈھونڈنے کی لگن سے ہم بحیثیت قوم محروم ہوچکے ہیں۔ انٹرنیٹ ایک حوالے سے تحقیقی انہماک کا قاتل بھی ثابت ہوا ہے۔ اس کے سرچ بٹن کو دباکر جو کچھ ملتا ہے اس پر ایمان لاکر ہم مطمئن ہوجاتے ہیں۔ اپنے تئیں کچھ تحقیق کی زحمت ہی نہیں کرتے۔
سوالات اٹھانے کی قوت سے محروم ہوئے ذہنوں کا احساس مجھے اس وقت بہت شدت سے محسوس ہوتا ہے جب ولیم ڈال ریمپلWilliam Dalrympleکالکھا کوئی مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوجاتا ہے۔
ولیم کا تعلق سکاٹ لینڈ سے ہے۔ 1990ء کے آغاز میں بہت سارے یورپی نوجوانوں کی طرح وہ بھی صرف سیر سپاٹے کی خاطر بھارت گیا تھا۔ نئی دلی کے ”اثار الصنادید“ جنہوں نے سرسید کو کئی برس تک پریشان کئے رکھا تھا اس کے ذہن پر بھی کسی سحر کی طرح حاوی ہوگئے۔
نئی دلی میں اپنے قیام کے دنوں میں اپنے تجربات اور مشاہدات کو اس نے ایک کتاب ”دلی-جنّوں کا شہر“ میں بیان کیا۔
برصغیر پاک وہند کی تاریخ سے اس کے عشق کا آغاز اس کتاب سے ہوا۔ تاریخ کا ایک باقاعدہ طالب علم نہ ہوتے ہوئے بھی اس نے چند سوالات کے جواب تحقیقی لگن سے ڈھونڈ کر آسان زبان میں بیان کرنے کا ہنر سیکھ لیا۔
ایک نسلی گورا ہوتے ہوئے انگریز کی برصغیر آمد اور اس کو اپنا محکوم بنانے کا عمل ولیم کا بنیادی مضمون رہا ہے۔
اس پورے عمل کو بیان کرتے ہوئے وہ ہمیشہ ایسے پہلو ڈھونڈ نکالتا ہے جو قوم پرستی کے دعوے دار لکھاری بھی دریافت نہیں کر پائے۔
بھارت میں ہندوانتہاء پسندی کا نشانہ حالیہ دنوں میں ٹیپو سلطان کی ذات بھی رہی۔ مجھے حسرت رہی کہ پاکستان یا بھارت کا کوئی لکھاری ٹیپو کو ٹھوس تاریخی تناظر میں رکھ کر کوئی چشم کشا مضمون لکھے۔ ٹیپو کے حامی اور مخالفین کے درمیان فقط جاہلانہ تعصب پر مبنی کلمات کا تبادلہ ہی ہوتا رہا۔

میں ٹیپو کی ذات اور عہد کو سمجھنا چاہ رہا تھا۔ اس خواہش کی تسکین کے لئے اسلام آباد میں کتابوں کی دْکانوں پر کافی وقت بھی لگایا مگر کوئی ایک بھرپور کتاب بھی ڈھونڈ نہیں پایا۔ ہمیں ٹیپو کے بارے میں علم ہے تو صرف اتنا کہ وہ شیر کی ایک دن کی زندگی کو گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے زیادہ بہتر ٹھہراتا تھا۔ اس کے والد کا نام حیدر علی تھا۔ انگریز اس کے خلاف تھے اور ٹیپو کا ایک مشیرِ خاص ہوتا تھا میر صادق۔
اس نے غداری کی۔ دشمن کے ساتھ مل گیا اور ٹیپو کو قتل کرکے انگریز میسور پر قابض ہوگئے۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے لوگوں کی اکثریت اس کے علاوہ ٹیپو کے بارے میں اور کچھ نہیں جانتی۔
ولیم کا شکریہ جس نے حال ہی میں ایک رسالے کے لئے ایک طویل مضمون لکھا اور تاریخی ماخذوں سے ٹھوس معلومات کو یک جاکرکے کم از کم مجھے حیران تو کردیا۔ولیم کا اصل دعویٰ یہ ہے کہ 1947ء کے بعد پروان چڑھی نسلوں نے ابھی تک اپنی تاریخ کو نئے زاویوں سے دیکھنے کا تردد ہی نہیں کیا۔
ٹیپو کی ذات سے نفرت کرنے والے درحقیقت انحصار اس ”تاریخ‘’‘ پر کرتے ہیں جو انگریزوں نے اپنے سامراجی مفادات کی خاطر بیان کی۔ ٹیپو کو اس ”تاریخ“ نے ایک متعصب مسلمان کے طورپر پیش کیا ہے۔
ولیم کا اصرار ہے کہ کسی بھی شخصیت کو اپنا شکار بنانے سے پہلے سامراجی ذہن Dossiers لکھ کر اسے ایک ویلن کی صورت دْنیا کے سامنے بیان کرتے ہیں۔
عراق پر قبضہ کرنے سے پہلے امریکی اور برطانوی حکومت نے ایسے ہی Dossiers صدام حسین کے بارے میں تواتر کے ساتھ دْنیا کے سامنے رکھے تھے۔
ٹیپو سلطان کے بارے میں اپنے حالیہ مضمون کا آغاز ولیم نے ایک ایسے خط سے کیا ہے جو ایک مندر کے پروہت نے اسے لکھا تھا۔ اس مضمون میں ٹیپو کو بتایا گیا کہ مرہٹوں نے جنوبی ہند کے ایک قدیمی مندر کو تباہ وبرباد کردیا ہے۔
وہاں موجود بتوں کی وحشیانہ ”بے حرمتی“ ہوئی اور وہاں کے پروہتوں اور دیوداسیوں کو بے پناہ ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ خط ملتے ہی ٹیپو سلطان نے اس مندر کی بحالی کے لئے بے پناہ سرمایہ خرچ کیا اور ہاتھیوں پر مشتمل ایک فوجی دستہ بھی اس مندر کی حفاظت پر مامور کردیا۔ ٹیپو کا وزیر اعظم ہمیشہ ایک ہندو رہا اور اس کی انتظامیہ میں مالیہ کے معاملات زیادہ تر برہمن ہی دیکھتے رہے۔

ولیم کا اصرار ہے کہ برطانوی سامراج مرہٹوں اور نظام حیدر آباد کے مقابلے میں ٹیپو سلطان کو اپنا سب سے خطرناک دشمن تصور کرتے تھے۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ ٹیپو اپنے دور کے سیاسی اور دفاعی تقاضوں کو پوری طرح جان چکا تھا۔ برطانیہ کا مقابلہ کرنے کے لئے اس نے دوررس حکمت عملی کے تحت نپولین بونا پارٹ کے فرانس سے گہرے روابط استوار کئے۔
اس کی فوج کی تربیت فرانسیسی مشیروں کے سپرد رہی۔ انہوں نے فوج کو محض ایک منظم قوت ہی نہیں بنایا بلکہ اسے ایسے اسلحے سے بھی لیس کیا جو کئی حوالوں سے برطانوی فوج کو میسر اسلحے سے بھی جدید تر تھا۔
ٹیپو سلطان برصغیر کا پہلا حکمران تھا جس نے دفاع سے کہیں زیادہ تجارت کی اہمیت کو سمجھا اور تجارت کے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی جیسی ایک سرکاری تنظیم بھی بنائی۔
اپنے ریاستی کاروبار کی وسعت کے لئے ٹیپو سلطان کو پورا احساس تھا کہ محفوظ تجارت کے لئے ریاستوں کو نوآبادیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ نوآبادی کی اس ضرورت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ٹیپو سلطان نے ترکی میں بیٹھے خلیفہ سے طویل خط وکتابت کی اور اپنے سفیروں کے ذریعے انہیں قائل کرتا رہا کہ عراق کے سمندری تجارت کے حوالے سے اہم ترین شہر بصرہ میں کچھ رقبہ اس کو ”اجارہ“ پر دیا جائے۔
اس رقبے میں ٹیپو اپنی ریاست کے شہریوں کو بسانے کا مصمم ارادہ کئے ہوئے تھا۔
ٹیپو سلطان کے خلاف تخت یا تختہ والی جنگ پر مجبور دراصل بصرہ پر اجارے کی یہ خواہش تھی جو پوری ہوجاتی تو انگریز کے برصغیر پاک وہند کے ساتھ سمندری راستوں کے ذریعے تجارت کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے۔
ہمارے ہاں کم لوگوں کوعلم ہے کہ بصرہ سلطان ٹیپو کے بعد بھی دلی پر قابض وائسرائے کے لئے بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے۔
پہلی جنگ عظیم کے دنوں میں یہاں کا وائسرائے لندن سے التجائیں کرتا رہا کہ اسے بصرہ میں پنجابی مسلمان کاشتکاروں کو بسانے کی اجازت دی جائے۔ لندن اس کی درخواستوں کونظرانداز کرتا رہا کیونکہ لارنس آف عریبیہ خلافت عثمانیہ کا توڑ عرب قوم پرستی میں ڈھونڈ چکا تھا۔
ولیم کا طویل مضمون پڑھنے کے بعد مجھے شدید دْکھ یہ جان کو ہورہا ہے کہ آج کے دور میں ”مسلم اْمہ“ کے نام پر نعرے بازی کرنے والے تو بہت ہیں مگر ٹیپو سلطان جیسا کوئی ایک حکمران بھی نظر نہیں آرہا جو 2015ء کے تقاضوں کو پوری طرح سمجھتے ہوئے ہمیں ایک بہتر اور مستحکم مستقبل کی طرف لے جاسکے۔
تاریخ اشاعت: 2015-12-02

(2) ووٹ وصول ہوئے