بند کریں
جمعرات مارچ

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ٹیلی کام۔۔۔
پاکستانی خزانے پر ڈاکہ۔۔۔۔ ہرماہ غیر قانونی طورپر90فیصد کالیں انٹرنیٹ کے ذریعے کی جا رہی ہیں، قانونی طریقے سے بیرون ملک کال اگر10 روپے فی منٹ ہوتی ہے تو گرے ٹریفک سے دو روپے فی منٹ ہوتی ہے
لیفٹیننٹ کرنل (ر) محمد زمان :
1998 سے پہلے بیرون ملک سے پاکستان کو کال 30 سینٹ فی منٹ کے حساب سے وصول ہوتی تھی جن میں سے 15 سینٹ پاکستان کو پی ٹی سی ایل کی معرفت ملتے تھے اور 15 سینٹ مغربی ممالک کی کمپنیاں اپنے پاس رکھتی تھیں۔ 1998 کے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر بین الاقوامی پابندیاں لگیں تو جنوری 1999 میں حکومت پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر صرف پانچ سو ملین ڈالر تھے۔
دنیا کاکوئی ملک پاکستان کو قرضہ دینے کو تیار نہ تھا پانچ سو ملین ڈالر قرضہ لیا جو مغربی ممالک سے پاکستان کالیں کریں گے وہ مغربی ممالک 15 سینٹ فی منٹ کے حساب سے کاٹ لیں اور اپنا قرضہ واپس لے لیں
امریکہ، برطانیہ نے پاکستان کو بین الاقوامی ٹیلی فون کالوں کے پیسوں سے محروم کرنے کیلئے پاکستان میں غیر قانونی ایکسچینج لگا کر پاکستانی سسٹم کو بائی پاس کرنا شروع کر دیا ۔
اس کیلئے دوہری شہریت والے لوگ شامل ہو گئے اور ایک وقت آیا کہ 90 فیصد کالیں غیر قانونی طریقے سے پاکستان آنا شروع ہو گئیں اور پاکستان 90 فیصد بین الاقوامی کالوں کے زرمبادلہ سے محروم ہونا شروع ہو گیا ۔ پی ٹی سی ایل نے جی ایچ کیو سے مدد مانگی اور چار ریٹائرڈ افسروں کو اس چوری کی پکڑنے کیلئے پی ٹی سی ایل میں بطور ڈائریکٹر لیا گیا۔ اس کے جی ای کرنل عبدالقادر (ستارہ جرات) تھے۔
انہوں نے تین سال کے دوران 22.3 ملین ڈالر ماہانہ کی چوری پکڑی اور حکومت پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافہ کیا۔ بین الاقوامی کالیں جو غیر قانونی طور پر پاکستان آتی ہیں اور ان سے پاکستان کو اپنے حصے کا زرمبادلہ نہیں ملتا اس کو گرے ٹریفک کہتے ہیں۔ اگر پاکستان میں کسی کو امریکہ، برطانیہ، یورپ ، عرب ملکوں سے کوئی کال آئے اور سی ایل آئی پر لوکل نمبر (پی ٹی سی ایل یا کسی موبائیل کمپنی کا نمبر) آئے تو سمجھ لیں یہ غیر قانونی کال ہے اور اس سے پاکستان کو نقصان ہو رہا ہے۔

2000/03 کے دوران غیر قانونی کالوں کا 90 فیصد خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ 2008 تک تقریباََ 10 فیصد غیر قانونی کالیں ہوئی تھیں۔ ایف آئی اے اور پی ٹی سی ایل کا این ایس این محکمہ روزانہ چھاپے مارتے اور غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کو پکڑتے۔ ایک اخبار نے 15 جون2010 کو سابق وزیر داخلہ کا نام خصوصاََ لیا کہ اُس کا یورپ میں گرے ٹریفک کا کاروبار ہے۔
اُس کی کمپنی کے ذریعے پاکستان کو 30 ارب روپے سالانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ قانونی طریقے سے بیرون ملک کال اگر10 روپے فی منٹ ہوتی ہے تو گرے ٹریفک سے دو روپے فی منٹ ہوتی ہے۔ ظاہر ہے لوگ دو روپے فی منٹ والی کال کریں گے۔ ستمبر 2012 میں عوامی حکومت نے انٹرنیشنل کالنگ سسٹم متعارف کرایا جس کے ذریعے تمام بین الا اقوامی کالیں پی ٹی سی ایل کی معرفت آیا کریں گی۔
اسطرح تین سے آٹھ سو فیصد کالیں مہنگی ہو گئیں اور گے ٹریفک کا کاروبار مزید چمک اٹھا۔ستمبر 2012 کے بعد گرے ٹریفک کا کاروبار عروج پر تھا۔ بین الااقوامی کالوں کے جو پیشے ڈالروں میں پاکستان آنے تھے، وہ بیرون ممالک ٹرانسفر ہونا شروع ہو گئے اور پاکستان کو زرمبادلہ بھی بھاری نقصان ہونا شروع ہوگیا۔
آجکل ایک اندازے کے مطابق تین ارب منٹ ماہانہ کی کالیں بیرون ملک سے آتی ہیں۔
ان میں سے تقریباََ 90 فیصد غیر قانونی کاروبار ہو رہا ہے ۔ اس کے علاوہ تقریباََ90 ارب منٹ کی کالیں فیس بک،وائبر،اسکائپ ، ٹینگو، میڈیا رنگ لینگو، What's App ، ٹائم وغیرہ سے ہوتی ہیں۔ یہ کالز انٹرنیٹ کے ذریعے ہوتی ہیں ان پر حکومت پاکستان یا پاکستان کی ٹیلی کام کمپنیوں کو کچھ نہیں ملتا۔البتہ امریکہ اپنے انٹرنیٹ کے ذریعے سالانہ 25 سو ارب ڈالر ضرور کما رہا ہے۔
اس کے علاوہ سی آئی آے ایم آئی سکس، موساد اور را پاکستان کی آسانی سے جاسوسی ضرور کرتی ہیں۔اب این ایس سے متذکرہ بالا ان تمام ذرائع سے پاکستان کے بارے میں 90 فیصد جاسوسی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ہمیں زرمبادلہ سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔
حکومت سے گزارش ہے کہ جس طرح تھری جی اور فور جی کے لائسنس دیئے گئے ہیں اسی طرح ٹینگو ، فیس بک، اسکائپ اور وابئر قسم کی بیسیوں کمپنیوں کو جو اس وقت غیر قانونی کاروبار کر رہی ہیں ،کو لائسنس جاری کئے جائیں تاکہ یہ مقابلے میں آئیں۔
یوں حکومت کو سالانہ اربوں ڈالر کا زرمبادلہ مل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی کاروبار کرنے والوں کے لے کڑی سزا تجویز کی جائے کیونکہ یہ حکومت کے خزانے پر ڈاکہ اور پاکستان کا معاشی قتل ہے۔ اسی طرح بین الا اقوامی کالیں سستی کرے جو اس وقت دس سنیٹ فی منٹ ہے اس ایک سنیٹ فی منٹ کردے۔ اس طرح غیر قانونی یا گرے ٹریفک کا کاروبار کرنے والوں کو نقصان ہو گا۔
2013 میں ٹیلی کام سکیڑ میں پی پی پی کے بارے میں یہ کہا جارہا تھا کہ اگر اس حکومت کے حوالے ریگستان بھی کر دیا جائے تو پانچ سال کے آخر میں ریت کا ایک ذرہ بھی نہیں بچے گا۔ یہ وائٹ کالر کرائم تھا جس کیلئے حکومت پاکستان اور این اے بی کو ایکشن لینا چاہئے جن مجرموں نے یہ جرم کیا ہے اور قومی خزانے کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا ان سے یہ رقم واپس لے کر قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو پاکستان کا معاشی قتل کرنے کی جرات نہ ہو۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-02

(4) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان