بند کریں
جمعرات مارچ

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
شیر میسور سلطان فتح علی ٹیپو شہید
سلطان ٹیپو نے اسلامی ریاست میسور کو صلیبی فرنگیوں کے تسلط سے بچانے کیلئے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور انگریزوں کی اطاعت کرنے کے بجائے ان سے لڑتے ہوئے شہادت کا رتبہ حاصل کرلیا
محسن فارانی:
کچھ عرصہ پہلے ایک منجھے ہوئے عسکری کالم کار(لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ) نے سلطان ٹیپو کے بارے میں لکھ ڈالا کہ جو شکست کھا جائے وہ ہمارا ہیرو نہیں ہوسکتا۔ ان کے ہیرو شپ کے قائم کردہ اس معیار پر سخت حیرت ہوئی۔ انہوں نے یہ سوچنا گوارا نہ کیا کہ اس طرح تو بات سانحہ کربلا (امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور جنگِ جسر( ابو عبید ثقفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ) تک پہنچتی ہے جو اجل صحابی تھے اور شہادت سے سرفراز ہوئے۔
کامیابی کا اصل معیار تو جذبہ جہاد اور جذبہ شہادت ہے جس کے متعلق باری تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں فرمایا ہے کہ ” جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجائے اسے تم مردہ خیال نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اوراپنے رب کے ہاں رزق دئیے جاتے ہیں“۔ سلطان ٹیپو نے اسلامی ریاست میسور کو صلیبی فرنگیوں کے تسلط سے بچانے کیلئے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور انگریزوں کی اطاعت کرنے کے بجائے ان سے لڑتے ہوئے شہادت کا رتبہ حاصل کرلیا۔
ان کے بعد یہ ذوقِ شہادت شہدائے بالا کوٹ اور جنگ آزادی 1857 ء کے شہیدوں کے خون کی سرخی بنا اور اسی سے دو قومی نظریے نے آب و تاب حاصل کی اور قیام پاکستان کے وقت شہدائے 1947ء بھی سفر ہجرت میں جانیں دے کر ابدی فوزو فلاح کے مستحق ٹھہرے۔
سلطان فتح علی ٹیپو1750ء میں دیون ہلی(میسور) میں پیدا ہوئے۔اس وقت ان کے والد ڈنڈی گل کے صوبیدار تھے۔ میسور ایک ہندو ریاست تھی جو سلطنت مغلیہ کی زوال پذیری کے زمانے میں آزاد ریاست کے طور پر وجود میں آئی تھی۔
حیدر علی کے آباوٴ اجداد سولہویں صدی عیسوی میں عرب سے پنجاب آئے تھے اور پھر میسور میں جا بسے تھے۔ ٹیپو کے دادا فتح محمد نے میسور کی ملازمت اختیار کرلی اور والد حیدر علی نے اپنی صلاحیتیوں کے بل بوتے پر میسور کی فوج میں اعلیٰ مقام حاصل کرلیا تھا۔اس زمانے میں ہندو مرہٹوں نے پورے ہندوستان میں لوٹ مار مچا رکھی تھی اور ہر کہیں ان کے جتھے ” چوتھ“ اور ”سردیش مکھی“ کے نام سے جبری ٹیکس وصول کرتے پھرتے تھے۔
حیدر علی نے میسور پر مرہٹوں کے حملے روکنے میں بڑی بہادری دکھائی تھی اسی لئے ہندو راجہ نے انہیں فوجدار( کور کمانڈر) کا منصب دیا تھا۔ ان دنوں کی سیاسی ابتری سے فائدہ اٹھا کر انگریزوں نے مدراس، بمبئی اور کلکتہ میں اپنے فوجی مرکز قائم کرلیے تھے اور جون1757ء میں نواب سراج الدولہ کو شکست دے کر وہ بنگال پر قابض ہوچکے تھے۔ ادھر 1761ء میں شاہ افغانستان احمد شاہ درانی ابدالی نے جنوری 1761ء میں پانی پت کی تیسری جنگ میں تین لاکھ مرہٹوں کوشکست دے کر مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی کے اقتدار کو سہارا دیا تھا۔
اسی سال میسور کے با اثر ہندووٴں نے مہارانی کے ساتھ مل کر حیدر علی کے خلاف سازش کی مگر بروقت اطلاع ہونے پر وہ بچ نکلے۔ان دنوں حیدر علی میسور کے کمانڈر انچیف تھے۔ وہ دارالحکومت سرنگا پٹم سے رات کو نکلے اور دریائے کاویری تیر کرپار کر کے محفوظ جگہ بنگلور پہنچ گئے۔ پھر وفادار فوج کے ساتھ سرنگا پٹم پر قبضہ کرکے انہوں نے ہندو مہاراجہ کو فارغ کیا اور اپنے نواب میسور ہونے کا اعلان کردیا۔

نواب حیدر علی اگرچہ ناخواندہ تھے مگر اپنی لیاقت اورشجاعت سے انہوں نے 1761ء میں میسورکی اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی۔1763ء میں انہوں نے ہندو ریاست کنارا کا الحاق کرلیا۔انگریز اور مرہٹے حیدر علی کے بڑھتے ہوئے اقتدار کو برداشت نہ کرسکے اور 1767ء میں انہوں نے مل کر ریاست میسور پر حملہ کردیا۔یہ میسور کی پہلی جنگ (1767-68ء) تھی جس میں انگریزوں نے شکست کھائی۔
اس جنگ میں سترہ سالہ نوجوان فتح علی ٹیپو نے دادِ شجاعت دی تھی۔ پالیکوٹ کی لڑائی میں شاندار فتح ٹیپو کا پہلا بڑا جنگی معرکہ تھا۔حیدر علی نے ٹیپو کی تعلیم و تربیت کا خاص اہتمام کیا تھا اور اس کیلئے اچھے اچھے اساتذہ کی خدمات حاصل کی تھیں چنانچہ اٹھارہ انیس سال کی عمر میں ٹیپو نے کسی دباوٴ کے بغیر ایک عہد نامہ لکھ کر والد گرامی کو پیش کیا تھا۔
اس میں لکھا تھا :” میں سرکاری امور میں چوری کروں، جھوٹ بولوں یا دغا بازی کروں تو پھانسی کی سزا دی جائے۔ میں بغیر مرضی مبارک( والد گرامی) کے کسی سے نذر یا کوئی اور چیز لوں تو میری ناک کاٹ کر مجھے شہر بدر کردیاجائے۔ میں حضور کے مقرر کردہ مشیروں کی صلاح کے بغیر کوئی کام نہیں کروں گا“۔
1780ء میں انگریزوں نے دوسری جنگ میسور چھیڑ دی جس میں مرہٹوں نے حسب سابق انگریزوں کا ساتھ دیا اس میں حیدر علی اور ٹیپو کی افواج نے دشمن کے چھکے چھڑا دئیے۔
کرنل بیلی اپنی توپیں کنجی ورم کے تالاب میں پھینک کر بھاگ گیا۔ شکست خوردہ انگریز اس قدر مایوس ہوئے کہ وہ مدراس(چنائی) کی بندرگاہ میں جمع تھے کہ بحری جہازوں پر بیٹھ کر برطانیہ کو فرار ہوجائیں لیکن 7دسمبر 1782ء کو نواب حیدر علی سرطان کے عارضے سے اچانک انتقال کرگئے جس سے انگریزوں کو سنبھلنے کا موقع مل گیا، تاہم سلطان ٹیپو نے حکومت کو سنبھالا دیا اور جنگ جاری رکھی۔
ان دنوں انگریز گورنر جنرل لارڈ کارنوالس تھا جس نے 1784ء میں سلطان ٹیپو سے صلح کرلی۔اس سے پہلے امریکہ میں 1783ء میں اسے جارج واشنگٹن کے آگے ہتھیارڈالنے پڑے تھے جو بعد میں آزاد امریکہ کا پہلا صدر بنا۔
سلطان فتح علی ٹیپو کے عہد میں ریاست میسور بہت خوشحال تھی۔ ان کی حکومت اسلامی اصولوں پر استوار تھی جس کے دو اہم اور مضبوط ستون قرآن اور سنت تھے۔
ریاست کی سرکاری زبان فارسی تھی۔ خود سلطان ٹیپو فارسی کے اچھے انشا پردار تھے۔ ریاست میں زرعی پیداوار اور صنعت و تجارت عروج پر تھی۔ دنیا کا بہترین صندل میسور سے حاصل ہوتا تھا۔سلطان نے چین سے ریشم کے کیڑے منگوا کر اس صنعت کو ترقی دی۔بے روزگاری ختم کرنے کیلئے چھوٹی صنعتوں کو فروغ دیا۔ انہوں نے چھوٹے بڑے ڈیم بنوائے اور شاندار مساجد تعمیر کرائیں، مسجدوں کے علاوہ ہندو مندروں کی دیکھ بھال کے اخراجا ت بھی سرکاری خزانے سے ادا ہوتے تھے۔
بے اولاد ہندو مندر میں منت مانتے اور لڑکی پیدا ہوتی تو اسے مندر کی ”خدمت“ کے لئے وقف کردیتے تھے۔ یہ ”دیوداسیاں“ پھر شادی نہیں کرسکتی تھیں۔ سلطان نے اس قبیح رسم کا ریاست میں خاتمہ کردیا۔ مالا بار کی ہندو قوم ” نائر“ کی عورتیں سینہ برہنہ رکھتی تھیں۔ سلطان نے اس رسم کو بھی ہمیشہ کیلئے ختم کردیا۔ سلطان ٹیپو کے سکے احمدی یا اشرفی کہلاتے تھے جو خلفائے راشدین اور اماموں کے نام سے منسوب تھے۔
سلطان کے اسلحہ خانے میں ” میسور راکٹ“ تیار ہوتے تھے جو آج کے جدید ترین خلائی راکٹوں کی بنیاد بنے۔ چنانچہ واشنگٹن( امریکہ) کے جنگی عجائب گھر میں سلطان ٹیپو کا نام راکٹ کے موجود کے طورپر رقم ہے۔ سلطان نے ” فتح المجاہدین“ نامی کتاب بھی لکھی جس میں جنگی حکمت عملی کے رموز بیان کیے تھے۔ریاست میں شراب اور دیگر منشیات پر سخت پابندی تھی۔
سرنگا پٹم کے بڑے بازار میں دو رویہ گھروں کی دیواروں پر نقش بنائے گئے تھے جن میں شیر انگیریزوں کو چیر پھاڑ رہے تھے۔
نواب حیدر علی اور سلطان ٹیپو برصغیر میں انگریزی سامراج کی توسیع کے آگے چالیس برس تک مضبوط دیوار بنے رہے اور بمبئی، مدراس اور بنگال کے علاوہ کوئی اور علاقہ انگریز فتح نہ کرسکے تھے۔اس لئے میسور کی اسلامی ریاست ان کی آنکھوں میں بری طرح کھٹکتی تھی۔
1787ء میں انگریزوں کی حمایت سے مرہٹوں اور نظام حیدرآباد نے میسور پرحملہ کردیا مگر شکست کھائی ، پھر 1789ء میں تینوں نے مل کر میسور پرحملہ کردیا۔یہ میسور کی تیسری جنگ کہلائی جو تین سال جاری رہی۔ انگریزوں کی چالوں اور اپنوں کی غداری اور بے وفائی سے ٹیپو کو انگریزوں سے صلح کرنی پڑی اس کے مطابق میسور نے تین کروڑ روپے تاوان ادا کیا۔ نیز سلطان کو اپنے دو شہزادے عبدالخالق اور معز الدین انگریزوں کے پاس رہن رکھوانے پڑے جو دو سال بعد واپس آئے۔
اس زمانے میں رعایا نے اپنی خون پسینے کی کمائی سلطان کے قدموں میں ڈھیر کردی حتیٰ کہ عورتوں نے طلائی زیورات تک خزانے میں جمع کرادئیے۔
سلطان ٹیپو کو انگریزوں سے اس قدر نفرت تھی کہ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا بنا ہوا نمک استعمال نہیں کرتے تھے۔ وہ انگریزوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرناچاہتے تھے۔ چونکہ اس زمانے میں برطانیہ اور فرانس میں سخت دشمنی تھی لہٰذا ٹیپو نے ایک فرانسیسی دستہ میسور میں تعینات کر رکھا تھا۔
سلطان کی فرانسیسی فاتح نپولین بونا پارٹ سے خط کتابت بھی رہی کہ انگریزوں کے خلاف متحدہ کارروائی کی جائے۔ علاوہ ازیں سلطان نے ترکی، ایرانیوں، افغانیوں اور نظام حیدر آبادسے بھی مدد کی درخواست کی۔ انہوں نے نواب حیدر آباد میر نظام علی خان کے نام خط لکھا: ” اگر مسلمان اب بھی متحد ہوجائیں تو اگلی شان و شوکت پھر آسکتی ہے لہٰذا امیرانِ اسلام کو ایسی کارروائی کرنی چاہئے کہ روز محشر انہیں نبی کے سامنے شرمسار نہ ہونا پڑے۔
“ افسوس کہ مسلم حکمرانوں نے سلطان کی پکار پر کان نہ دھرے۔ افغانستان کا زمان شاہ درانی ضرور فوج لیکر آیا مگر وہ لاہور تک پہنچا تھا کہ پیچھے ایران نے حملہ کردیا تو اسے واپس جانا پڑا۔ آخرکار فروری 1799ء میں انگریزوں، نظام اور مرہٹوں کی متحدہ افواج نے تین اطراف سے میسور پر چڑھائی کی۔ انگریزوں نے میسور کے وزراء میر صادق، میر غلام علی لنگڑا، میر قمر الدین، میر معین الدین اور وزیر مالیات پورنیا( ہندو) کو سازش سے ساتھ ملا لیا تھا ان کی غداری سے دشمن کی افواج نے سرنگا پٹم کا آن محاصرہ کیا۔
سلطان انگریزوں کی شرائط مان کر اپنے آپ کوبچا سکتے تھے۔ ان کے خادم خاص راجہ خان نے جب ایسا کرنے کو کہا تو سلطان نے یہ تاریخی جملہ کہا : ” شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے “ آخرکار 4مئی 1799ء کو مجاہد سلطان قلعہ سرنگا پٹم کے باہر انگریزوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ان کا قطعہ تاریخ ” ٹیپو بوجہ دین محمد شہید شد“ (1213ھ) ہے۔ان کی لاش پر کھڑے ہوکر انگریز جنرل ہیرس نے کہا : ” آج ہندوستان ہمارا ہے ! اس نے ٹھیک کہا تھا۔ چار سال بعد انگریز ہندوستان کے دارالحکومت دہلی پر قابض ہوچکے تھے۔
تاریخ اشاعت: 2014-05-05

(3) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان