بند کریں
ہفتہ مارچ

مزید تحقیقاتی فیچرز

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سزائے موت اورعالمی قوانین
کئی ممالک میں پرانے طریقوں کو سزاء کے نئے انداز سے تبدیل کر دیا گیا،چین دنیا کا ایسا ملک ہے جہاں کرپشن ثابت ہونے پر مجرم کو موت کی سزادی جاتی ہے۔
مصنف : عبدالرحمن
جرائم کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی پرانی معلوم انسانی تاریخ ہے۔تاریخ کے سفر اور انسانی معاشرے کی ترویج و ترقی کے ساتھ ساتھ جرائم کے طور اطوار بھی تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ہر دور میں معاشرے میں توازن برقرار رکھنے اور جرائم کنٹرول کرنے کے لئے قوانین متعارف کرائے گئے اور ان پر عمل بھی کیا گیا۔ریاست سے غداری کا معاملہ ہو یا انسانی جان کے قتل جیسا قبیحہ فعل ،معاشرتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے بڑے بڑے مجرموں کو سزائے موت دینے کا طریقہ صدیوں پرانا ہے۔
پہلے وقتوں میں خطرناک مجرموں کو بدترین طریقوں سے انجام تک پہنچایا جاتا تھا۔مجرموں کو ابلتے ہوئے تیل کے کڑاہے میں ڈالنا، بھوکے شیروں کے سامنے پھینکنا، آگ میں زندہ جلانا،تختے پرلٹا کر کیلیں ٹھونکنا،توپوں کے گولے داغ کر مارناعام تھا۔دنیا کے کئی ممالک اوربرصغیر پا ک و ہند میں مجرموں کوتختہ دار پر لٹکانے کا طریقہ صدیوں سے رائج ہے۔
مجرموں کو سنائی گئی موت کی سزا دینے کا طریقہ کیا ہونا چاہئیے دورجدید میں اس مسئلے پر کھل کر بحثیں ہوئیں اورکئی ممالک میں پرانے طریقوں کو سزاء کے نئے انداز سے تبدیل کر دیا گیا ۔ان ممالک میں مجرم کوتختہ دار پر لٹکانے کے طریقہ کو غیر موثر قرار دیتے ہوئے برقی کرسی متعارف کرائی گئی اور بجلی کے جھٹکے دے کر مجرموں کو موت کی نیند سلایا جانے لگا۔
تاہم پاکستان اور بھارت میں اب بھی مجرموں کو تختہ دار پر لٹکانے کا روائتی طریقہ اختیار کیا جاتا ہے،سعودی عرب میں مجرم کے ہاتھ پاوں پیچھے باندھ کر تلوار سے گردن اڑائی جاتی ہے۔امریکہ کی زیادہ تر ریاستوں میں برقی کرسی کی جگہ زہر سے بھرے ٹیکوں نے لے لی ہے۔چین دنیا کا ایسا ملک ہے جہاں کرپشن ثابت ہونے پر مجرم کو موت کی سزادی جاتی ہے۔سعودی عرب میں منشیات اور سنگین جرائم کے مرتکب افراد کے سر تن سے جدا کئے جاتے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق سال 2013میں ایران،سعودی عرب،شمالی کوریا،صومالیہ سمیت دنیا کے بائیس ممالک میں مختلف جرائم میں ملوث 778قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔آئین پاکستان کے تحت ریاست سے غداری کی سزاء موت ہے جبکہ تعزیرات پاکستان کے علاوہ ملکی خصوصی قوانین کے تحت قتل،دہشت گردی اور سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کو سزائے موت دی جاتی ہے۔
دنیا کے جن ممالک میں مجرموں کو موت کی سزا دی جاتی ہے ان میں تفتیش کے جدید ذرائع کے استعمال اور ڈی این اے ٹیسٹ پر انحصار کی بناء پربے گناہوں کو ملنے والی سزاوں میں واضح کمی دیکھنے میں نظر آ رہی ہے۔ عدالتیں سزائے موت کا حکم سنانے سے قبل ایک بے گناہ کو پھانسی پر لٹکانے سے ایک ہزار گناہگاروں کو چھوڑنے کو ترجیح دیتی ہیں۔عدالتیں شک کی بناء پر کئی مجرموں کومعمولی قید یا جرمانے کی سزائیں سنا کر رہاء کر دیتی ہیں ۔
دیت کے اسلامی قانون کے تحت مقتول کے قانونی ورثاء کی رضا مندی سے مجرم خون بہا ادا کر کے رہائی حاصل کر سکتاہے۔دیت کے اسلامی قانون کا اطلاق مسلم اور غیر مسلم دونوں کے لئے یکساں طور پر کیا جاتا ہے۔ایف بی آئی کے امریکی ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس نے دیت کے اسلامی قانون کی اسی رعائت کا فائدہ اٹھا کر رہائی حاصل کی تھی۔جدید دور میں مجرم کو جیل میں کار آمد شہری بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں جیلوں کے نظام میں بہتری آنے کے بعد مجرموں کو سزائیں دینے کی بجائے انکی اصلاح کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔مجرموں کی اصلاح کے لئے جیلوں میں خصوصی کلاسیں شروع کی جاتی ہیں اور انہیں اخلاقی تربیت کے علاوہ فنی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشل کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی ایک سو پچانوے آزاد ریاستوں میں سے ایک سو کے قریب ریاستوں میں سزائے موت کو جزوی طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
یورپی یونین کے ستائیس ممالک کے علاوہ امریکہ کی بیس سے زائد ریاستوں میں سزائے موت کو بالکل ختم کر دیا گیا ہے۔امریکہ کی ریاست مشی گن میں 1860سے سزائے موت کاقانون ختم کر دیا گیا ہے۔سپریم کورٹ آف انڈیا کے 1986کو سنائے گئے فیصلے کی روشنی میں کسی ایسے قیدی کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی جسے سزائے موت سنائے جانے کا حکم ہونے کے باجود دو سال تک قانونی جواز کے بغیر قید رکھا گیا ہو،بھارتی اعلی عدلیہ کے اس فیصلے کی روشنی میں بھارت میں بھی سزائے موت جزوی طور پرمعطل ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت میں گذشتہ سات سالوں میں اجمل قصاب سمیت گنے چنے مجرموں کو ہی تختہ دار پر لٹکایا گیا۔
ترکی،ملائیشیا اور انڈونیشیاکے قوانین کے تحت عدالتیں مجرموں کو سزائے موت تو سناتی ہیں مگر عملی طور پر اس سزاء پر عمل درآمد معطل رکھا گیا ہے۔
پاکستان نے یورپ کی تجارتی منڈیوں تک رسائی اور جی ایس پی پلس کا درجہ حاصل کرنے کے لئے گذشتہ سات سالوں سے سزائے موت کے قانون پر عمل درآمد نہیں کیا جسکی وجہ سے پنجاب کی ٹرائل کورٹس سے سزائے موت پانے والے 4981،سندھ کی عدالتوں سے سزائے موت پانے والے 266،خیبر پختونخواہ کی ٹرائل کورٹ سے سزائے موت پانے والے 102 اور بلوچستان کی ٹرائل عدالتوں سے سزائے موت پانے والے 29قیدی جیلوں میں گل سٹر رہے ہیں ۔
مجموعی طور پر ملکی جیلو ں میں پانچ ہزار تین سو 78مجرم سزائے موت کے منتظر ہیں۔سزائے موت کے منتظر اکیس قیدیوں نے ٹرائل عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔عدالت عالیہ سے اپیلیں خارج ہونے کے بعد ایک ہزار 38قیدیوں کی اپیلیں عدالت عظمی میں زیر التواء ہیں جبکہ ملٹری عدالتوں کے فیصلے کے خلاف چھ اپیلیں جی ایچ کیو میں زیر التواء ہیں۔

آئین پاکستان کے آرٹیکل پینتالیس کے تحت صدر مملکت کو پاکستانی عدالت ،ٹربیونل یا دیگر ہئیت مجاز کی دی ہوئی سزاء کو معاف کرنے،تخفیف کرنے،ملتوی کرنے یا کچھ عرصے کے لئے روکنے ،معطل یا تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔صدر مملکت کے اسی اختیار کے پیش نظر عدالت عظمی سے اپیلیں مسترد ہونے کے بعد پنجاب،خیبر پختونخواہ،سندھ اور بلوچستان سے مجموعی طور پرپانچ سو74 قیدیوں نے صدر مملکت سے رحم کی اپیل کر رکھی ہے ۔
سزائے موت کے 76قیدیوں کی اپیلوں پرصدر کی جانب سے سزائے موت پر تاحکم ثانی عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔یوں تو ٹیرف کے بغیر زیادہ تجارت اور کم امداد کے اصول پریورپی منڈیوں تک رسائی کیلئے پاکستان اپنی جدوجہد میں کسی حد تک کامیاب رہا اور سال 2017تک کے لئے مشروط طور پرجی ایس پی پلس کا درجہ حاصل کر لیا۔جی ایس پی پلس کا مستقل درجہ حاصل کرنے کے لئے پاکستان کو دستخط کردہ ستائیس عالمی کنونشز پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بناناہو گا،ترجیحی تجارتی سہولیات برقرار رکھنے کے لئے زیادہ سنجیدگی دکھانی ہو گی ورنہ سال 2016میں جی ایس پی پلس کی پہلی جائزہ رپورٹ میں پاکستان کے لئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
اس جائزہ رپورٹ سے قبل حکومت کے سامنے بہت بڑا سوال آن پڑا ہے کہ کیا جی ایس پی پلس کا درجہ برقرار رکھنا ہے یا جیلوں میں سزائے موت کے منتظر قیدیوں کی قسمت کا فیصلہ کرنا ہے ۔مجرموں کو سزائے موت دی جائے یا اس پر عمل درآمد روک دیا جائے اس وقت ملک میں یہ بحث زوروں پر ہے ۔اس حوالے سے بات کرتے ہوئے آئینی اور قانونی ماہر عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سزائے موت ختم ہو رہی ہے میرے نزدیک سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل ہونا چاہئیے۔
عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ پاکستان میں سزائے موت صرف اس شخص کو دی جاتی ہے جو اچھا وکیل کرنے یادیت کے قانون کے مطابق خون بہا کی رقم ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔آئینی ماہر شفقت محمود چوہان کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت ملکی قوانین پر عمل درآمد کرنااور کرانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔سپریم کورٹ سزائے موت سے متعلقہ آئینی درخواستوں کی جلد سماعت کرکے فیصلہ سنائے تاکہ اس فیصلے کی روشنی میں عمل درآمدیقینی بنایا جا سکے۔
قانونی ماہر شاہد خان کاکہنا ہے کہ قصاص کے قانون پر عمل نہ کرنے سے جرائم کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، قصاص سے متعلقہ قوانین کی وضاحت تعزیرات پاکستان میں موجود ہے۔فساد فی الارض کو روکنے کے لئے قصاص کے قانون پر عمل درآمد نہائت ضروری ہے،اس حوالے سے آئین کا آرٹیکل 227بالکل واضح ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تمام موجودہ قوانین کو قرآن پاک اورسنت میں منضبط اسلامی احکام کے مطابق بنایا جائے گا،جن کا اس حصے میں بطور اسلامی احکام حوالہ دیا گیا ہے،اور ایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گاجو مذکورہ احکام کے منافی ہو۔
علامہ مولاناراغب نعیمی کا کہنا ہے کہ کوئی فرد یا حکومت اسلامی سزاوں کومعطل یا ختم کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔قرآن میں اللہ پاک نے قصاص کو زندگی قرار دیا ہے۔ قانون قصاص کے حوالے سے قرآن مجید کی سورہ البقرہ کی آئت 178اور 179میں احکام الہی پر عمل کرنا ہر صورت لازم ہے۔ان دو آیات کا ترجمعہ یہ ہے " مومنو تم کومقتولوں کے بارے میں قصاص یعنی خون کے بدلے خون کا حکم دیا جاتا ہے۔
اس طرح پر کہ آزاد کے بدلے آزاد مارا جائے اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت۔اور اگر قاتل کو اسکے مقتول بھائی کے قصاص میں سے کچھ معاف کر دیا جائے تو وارث مقتول کوپسندیدہ طریق سے قرار داد کی پیروی یعنی مطالبہ خون بہا کرنااور قاتل کو خوش خوئی کے ساتھ ادا کرنا چاہئیے۔یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے لئے آسانی اور مہربانی ہے۔
اب جو اس کے بعد زیادتی کرئے اس کے لئے دکھ کا عذاب ہے۔اور اے اہل عقل حکم قصاص میں تمہاری زندگانی ہے کہ تم قتل و خون ریزی سے بچو"۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل نو اورتیرہ کو بنیاد بنا کر ممتاز آئینی ماہربئیرسٹر ظفراللہ خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئینی پٹیشن دائر کر رکھی ہے کہ سزائے موت کے منتظر قیدیوں کی سزاء پر کئی سال سے عمل درآمد نہیں کیا گیا لہذا ان کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جائے۔
دستور پاکستان کے آرٹیکل نو کے تحت کسی بھی شخص کواسکی زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جاسکتاماسوائے اسکے کہ قانون ایسا کرنے کی اجازت دے۔آئین کے آرٹیکل تیرہ کے تحت کسی شخص سے ایک جرم سرزد ہونے کی بناء پر ایک بار سے زیادہ نہ تو مقدمہ چلایا جاسکتا ہے اور نہ ہی سزاء سنائی جا سکتی ہے۔اس آئینی پٹیشن کے علاوہ بیرسٹر ظفراللہ نے ایک اورآئینی پٹیشن دائر کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے سزائے موت کے قانون کو ہی ختم کرنے کی استدعا کی ہے۔
اس پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں سزائے موت کا قانون ختم کیا جا رہا ہے لہذا پاکستان سے بھی سزائے موت کے قانون کو ختم کیا جائے۔سپریم کورٹ کا پٹیشن بنچ اہم نکات کی بناء پر اس معاملے پر لارجر بنچ بنانے کی سفارش کر چکا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان ناصرالملک ان آئینی پٹیشنز کی سماعت کے لئے لارجر بنچ بھی تشکیل دے چکے ہیں۔ان آئینی درخواستوں کی سماعت اور تمام پہلووں کا جائزہ لینے کے بعد سپریم کورٹ کے فیصلے سے آنے والے دنوں میں دوررس نتائج برآمد ہونے کی توقع ہے۔
تاریخ اشاعت: 2014-12-11

(2) ووٹ وصول ہوئے

مصنف کا نام     :     عبدالرحمن

عبدالرحمن کے مزید کالم پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے-

: متعلقہ عنوان