تازہ ترین : 1
Pakistani FootBall World Cup Main

پاکستانی فٹبال ورلڈ کپ میں

اس صنعت کا آغاز ایک موچی نے کیا تھا!۔۔۔۔۔اگرچہ پاکستان کی فٹبال ٹیم اس ٹورنامنٹ میں شریک نہیں مگر پاکستان ایک طرح اس اس ورلڈ کپ کا حصہ ہے

کامران امجد خان:
کھیلوں کی دنیا کا سب سے بڑ ااور مقبول ترین ایونٹ یعنی فٹ بال ورلڈ کپ 12جون 2014ء سے برازیل میں شروع ہونے جارہا ہے۔ پوری دنیا کی نظریں اس ٹورنامنٹ پر لگی ہیں۔ا گرچہ پاکستان کی فٹ بال ٹیم اس ٹورنامنٹ میں شریک نہیں مگر پاکستان ایک طرح اس اس ورلڈ کپ کا حصہ ہے۔ اور وہ اس طرح کہ فٹ بال ورلڈ کپ 2014ء میں پاکستان کے شہر سیالکوٹ کی فیکٹری میں تیار کئے گئے فٹ بال استعمال کئے جائیں گے۔
یہ یقیناََ بڑے اعزاز کی بات ہے مگر اس ااعزاز کے پسِ پردہ ایک طویل کہانی پوشیدہ یہ۔
یہ انگریز دور کی بات ہے ۔ سیالکوٹ کا ایک غریب موچی برطانوی فوجی کے پھٹے ہوئے فٹ بال کی مرمت کرتا تھا۔ اس زمانے میں انگریز فوجی جو کھیل کھیلتے تھے ان میں فٹ بال خاصا مقبول تھا۔ اس موچی کی مہارت دیکھ کر انگریز فوجیوں نے فٹ بال کی مرمت کاکام ہمیشہ اسی سے کروانا شروع کر دیا۔
رفتہ رفتہ اس موچی نے فٹ بال بنانے کا فن سیکھ لیا۔ اس نے برطانوی فوجیوں کو مقامی سطح ر فٹ بال فراہم کرنے اک کاراوبار شروع کردیا اور اس کا یہ کاروبار چمکنے لگا۔ پورے ہندوستان سے برطانوی فوجیوں نے اسی غریب موچی سے فٹ بل خریدنے شروع کردئیے جو اب غریب نہیں رہا تھا بلکہ ایک کامیاب کاروباری شخص بن گیا تھا۔
اس موچی نے سیالکوٹ میں اپنے ذاتی کاروبار کی بنیاد ہی نہ رکھی تھی بلکہ ایک کامیاب صنعت کا آغاز کیا تھا۔
دیکھے ہی دیکھتے سیالکوٹ کھیلوں کو سامان بنانے کا بہترین مرکز بن گیا۔ یورپ سمیت دنیا بھر میں کھیلوں کا سامان یہاں سے بن کر جانے لگا۔ بالخصوص فٹ بال اور چمڑے سے بنی دوسری کھیلوں کی اشیاء کا تو ساری دنیا میں کوئی جواب نہ تھا۔ لیکن پھر کچھ عرصہ قبل بچوں سے مشقت کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا۔ یورپی ممالک کے نمائندوں وار مقامی این جی اوز نے اس قدر شور مچایا کہ اسے باقاعدہ ایک ”سکینڈل“ کی شکل دے دی گئی۔
ایک طرف بڑھتے ہوئے سکینڈلز تھے اور دوسری طرف ٹیکنالوجی میں جدت اور تیزی سے ترقی، جس کا مقابلہ کرنا سیالکوٹ کی صنعت کیلئے انتہائی دشوار بنادیا گیا۔ چنانچہ بہت سے صنعتی یونٹ بند ہوگئے اور جو باقی بچے انہیں اپنا طریقہ کار تبدیل کرنا پڑا۔ یہ صورت حال مقامی صنعت کیلئے بڑی ہی تشویشناک تھی، مگر سیالکوٹ کے صنعت کاروں نے ہمت نہ ہاری اور اپنی شبانہ روز محنت سے ثابت کیا کہ ٹیکنالوجی اور جدت میں یورپ سے پیچھے ہونے کے باوجود وہ مہارت اور قابلیت میں کسی طرح کمتر نہیں۔
چمڑے کی مقامی صنعت نے بھی کھیلوں کے سامان بنانے والے اداروں کی مدد کی اور سیالکوٹ ایک بار پھر کھیلوں کا سامان بنانے والا کامیاب ترین مرکز بنا گیا۔ مقامی صنعت کاروں نے جدید مشینری منگوائی ، فیکٹریوں میں اصلاحات کیں اور خود کو عالمی معیار کے مطابق ڈھال لیا۔ یورپ اور ایشیا کے بے شمار ممالک میں کھیلوں کا سامان سیالکوٹ کی فیکٹریوں سے ہی تیار ہو کر جانے لگا۔
فٹ بال کی صنعت نے بھی خوب ترقی کی ، یورپی لیگ اور بے شمار اہم عالمی مقابلوں میں سیالکوٹ کے ہنرمندوں کے تیار کردہ فٹ بال استعمال ہوئے اور اب یہ اعزاز بھی پاکستان کے حصے میں آیا ہے کہ عالمی کپ 2014ء کے مقابلوں میں بھی پاکستان میں تیار کئے گئے فٹ بال استعمال ہونگے۔
سیالکوٹ میں اب ایسی فٹ بال فیکٹریاں قائم ہیں جنہیں دیکھنے کیلئے دنیا کے مشہور برانڈ کی کمپنیاں سیالکوٹ آتی ہیں اور مشاہدہ کرتی ہیں کہ یہاں فٹ بال کیسے بنائے جاتے ہیں۔
یہ مقامی صنعت کاروں کیلئے انتہائی فخر کی بات ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ مقامی صنعت کاروں نے ”چائلڈ لیبر“ کے الزامات سے بچنے کیلئے بھی خاصے اہم اقدامات کئے ہیں۔ بڑی فیکٹریوں کے باہر بڑے نمایاں انداز میں لکھ کر لگایا گیا ہے کہ بچوں سے مشقت لینا منع ہے اور فیکٹری میں مزدوروں کو تنظیم سازی کا حق حاصل ہے۔ یہ اقدامات یقیناََ یورپ اور دیگر عالمی ممالک سے آرڈرز حاصل کرنے کی راہ میں حائل رکاوٹیں دُور کرنے کیلئے کئے گئے ہیں اور ان کی وجہ سے مقامی فیکٹریوں کا کاروبار بھی خاصا بہتر ہوا ہے۔

فیکٹریوں میں کام کرنے الے ہنر مندوں کی فلاح و بہبودکیلئے بھی مناسب اقدمات کئے گئے ہیں۔ سیالکوٹ کی فٹ بال فیکٹریوں میں مرد و خواتین دونوں فٹ بال بنانے کا کام انجام دیتے ہین اور انہیں قریب 100ڈالر ماہانہ تنخواہ ملتی ہے۔ سوشل سکیورٹی، لائف انشورنس، اور ٹرانسپورٹ کی سہولتیں بھی انہیں دی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ بعض بڑی فیکٹریوں کے اندر ہی ہسپتال بھی قائم ہیں جہاں فیکٹری ملازمین کو مفت علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔
ایک بڑی کمپنی میں قریب 1400ملازم کام کرتے ہیں جن میں ایک چوتھائی تعداد عورتوں کی ہے۔ اعلیٰ سہولتیں اور مناسب معاوضہ ملنے کی وجہ سے مردوخواتین ان فیکٹریوں میں بخوشی کام کرتے ہیں۔
فٹ بال فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ اس صنعت کی کامیابی میں جہاں مقامی ہنرمندوں نے اہم کردار ادا کیا ہے وہاں عالمی معیار کے مطابق کام کا ماحول فراہم کرنے اور معیار پر سمجھوتہ نہ کرنے جیسے اصولوں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔
عالمی سطح پر مقابلہ اس قدر سخت ہے کہ معمولی غلطی یا معیار میں کمی آپ کو ہمیشہ کیلئے کاروباری معاہدوں سے محروم کرسکتی ہے۔ نیز جدید ٹیکنالوجی اور دنیا میں ہونے والی نئی ترقی سے خود کو ہم آہنگ کرنا بھی ضروری ہے۔
ورلڈ کپ مقابلے فٹ بال جیسے مقبول ترین کھیل کے سب سے بڑے اور اہم مقابلے ہیں۔ دنیا بھر کی بڑی کمپنیاں اس ورلڈکپ کا کسی نہ کسی طرح حصہ بننے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہیں۔
اس بار بھی بے شمار کمپنیوں نے سپانسر شپ کھلاڑیوں کے یونیفارم، ریفریز کی وردیوں اور چھوٹی سے چھوٹی چیز کے ذریعے اپنی خدمات پیش کرنے کیلئے تگ و دو کی۔ فٹ بال تیار کرنے والی بے شمار عالمی کمپنیوں نے بھی بھرپورزور لگایا کہ ورلڈ کپ میں ان کے تیار کردہ فٹ بال استعمال ہوں۔ ان میں دنیا کے مشہور اور بڑے برانڈز کی حامل کمپنیاں بھی شامل تھی۔
مگر قرعہ فال پاکستانی کمپنی کے نام نکلا اور سیالکوٹ کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اس کی فیکٹری میں تیار کردہ فٹ بال ہی ورلڈ کپ 2014ء میں استعمال کئے جائیں گے۔ ایک غریب موچی کی لگائی صنعت آج مقامی صنعت کاروں اور ہنرمندوں کی محنت سے ملک و قوم کا نا روشن کرنے کا سبب بن گئی ہے۔ اگر حکومت سرپرستی کرے اور ہنررمندوں صنعت کاروں کو مواقع فراہم کرے اور ہنرمندوں صنعت کاروں کو مواقع فراہم کرے ان کی مدد کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان کو فٹ بال کی طرح دیگر تمام کھیلوں اور شعبوں میں بھی ایسی کامیابیاں نہ ملیں۔

یہ بھی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ 2006ء کے فٹ بال ورلڈ کپ میں پاکستانی صنعت کار خواجہ اختر نے یہ خواب دیکھا تھا کہ پاکستان کے بنائے فٹ بال ورلڈ کپ مقابلوں میں استعمال کئے جائیں۔ سیالکوٹ میں قائم ان کی فیکٹری ”فارورڈ“ اس سے قبل یورپی لیگ اور فرانسیسی لیگ کیلئے فٹ بال فراہم کرچکی تھی مگر فٹ بال ورلڈکپ کیلئے انہیں کبھی ٹھیکہ نہیں ملا تھا۔
اس بار انہیں یہ موقع مل گیا مگر اپنے خواب کو پور اکرنے کیلئے انہیں صرف 33دن ملے۔ ہوا کچھ یوں کہ مشہور زمانہ عالمی برانڈ ”ایڈیڈاس“ نے چین کی کمپنی کے ساتھ مل کر فٹ بال تیار کرنے تھے مگر چینی کمپنی نے مقررہ وقت تک آرڈر تیار کرنے سے معزور ظاہر کردی تو خواجہ اختر نے فوراََ ایڈیڈاس کمپنی کے نمائندوں کو سیالکوٹ آکر ان کی فیکٹری کا دورہ کرنے کی دعوت دے ڈالی۔
کمپنی کے نمائندوں کا پہلا دورہ ان کیلئے کچھ اچھا ثابت نہ ہوا کیونکہ کمپنی کے نمائندوں نے ان کی مشینوں کو زمانہ قدیم کی مشینیں قرار دیتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا تھا۔
اس ابتدائی دھچکے کے باوجود خواجہ اختر نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے تمام ملازمین کو جمع کر کے کہا کہ ”ہمارے پاس یہ آخری موقع ہے کہ ہم انہیں دکھا دیں ، ہم یہ کرسکتے ہیں۔
ہمیں دوسرا موقع نہیں ملے گا۔“ خواجہ اختر نے اس چیلنج کو بہر حال پورا کرنے کا تہیہ کرلیا تھا۔ کسی بھی فیکٹری میں ایسی بڑی پروڈکشن لائن کو بنانے میں کم از کم چھ ماہ کا عرصہ لگتا ہے مگر ان کے پاس صرف ایک ماہ کا وقت تھا۔ کھیلوں کا سامان بنانے والی جرمن کمپنی ایڈیڈاس بہت جلدی میں تھی۔ خواجہ اختر نے ڈیزائن تیار کیا اور تمام آلات بھی مطلوبہ معیار کے مطابق نصب کروالیے۔ ہر چیز کو نئے سرے سے تیار کیا گیا اور مقررہ وقت میں کمپنی کی تمام شرائط پوری کردیں۔ بالآخر انہیں کامیابی حاصل ہوگئی اور ان کے ساتھ ملک کے حصے میں بھی یہ اعزاز آیا کہ ورلڈ کپ میں اب پاکستانی فٹ بال ”گول“ کریں گے۔
وقت اشاعت : 2014-06-05

(0) ووٹ وصول ہوئے

اپنی رائے کا اظہار کریں